Wednesday, September 23, 2015

ڈاکٹرماجد دیوبندی کو استقبالیہ، ایم بٹا، گلزار دہلوی ڈاکٹرسید سجاد، ڈاکٹر سید فاروق کاخطاب Dr. Majid Deobandi Facilitated, Bitta, Gulzar, Dr. Sajjad, Dr. Farroq address



فوٹو: (دائیں سے بائیں)جناب گلزارزتشی دہلوی، ڈاکٹرسجاد سید، ایم ایس بٹا، ڈاکٹرماجد دیوبندی ، ڈاکٹرسید فاروق اورسید منصورآغا
قوم کوعظیم ہستیوں کی خدمات سے آگاہ کرانے کی ضرورت:ایم ایس بٹا

ہرزبان کی اپنی اہمیت ہے۔ اردوکی شیرینی دلوں کو جوڑتی ہے۔ ڈاکٹرفاروق

نئی دہلی۔ آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کے زیراہتما م کل یہاں ایک پروقار استقبالیہ’ محفل شعروسخن ‘کا انعقاد زیر صدارت ڈاکٹرسجاد سید (سعودی عرب) عمل میں آیا۔ مسٹرایم ایس بٹا، سابق صدر یوتھ کانگریس و چیرمین دہشت گردی مخالف کل ہند محاذ اور بزرگ شاعر ، دہلی کی نامورشخصیت ڈاکٹرگلزارزتشی دہلوی نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔موومنٹ کے سرپرست، تقریب کے روح رواں ڈاکٹرسید فاروق اورمتعدد دیگر ممتاز شخصیات نے اردواکادمی کے وائس چیرمین ڈاکٹرماجد دیوبندی کو اپنی دعاؤں سے سرفراز کیا۔
مسٹربٹا نے بڑے پرسوز انداز میں ملک کی موجودہ صورت حال کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ملک کو زبان، خطہ اورمذہب کے نام پر تقسیم کیا جارہا ہے۔ ہم سب کو مل کر اس قدیم روایت کو بچانا ہوگا جس کو ہم سیکولرزم کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پنجا ب میں خالستانی تحریک چلی تو ہم نے اس کا ڈٹ کرمقابلہ کیاتاکہ ملک کو زبان کے اورمذہب کے نام پرتوڑنے کی سازش کامیاب نہ ہوسکے۔ہماری کوشش کامیاب ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی ان شخصیات کی خدمات کو قوم کے سامنے لانے کی ضرورت ہے جنہوں نے ملک کیلئے قربانیاں دیں۔
جناب گلزاردہلوی نے اردو کے ذریعہ قومی اتحاد اوریگانگت کو فروغ دینے والی ادبی شخصیات کووالہانہ انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا اردو کے فروغ میں ہندو، مسلمان اور سکھ سبھی فرقوں کے اہل قلم حضرات نے کردارادا کیا ہے۔ یہ ہماری تہذیب وتمدن کی علامت ہے۔ اسی آبیاری سے قومی اتحاد کا شجرپروان چڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹرسید فارق نے اپنے مخصوص انداز میں محبت کا وہ پیغام سنایا جو اردو کی شناخت ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی حوصلہ مند اورنوجوان وائس چیرمین ڈاکٹرماجد دیوبندی کی سربراہی میں اکادمی یقیناًکچھ اچھوتے کام کریگی۔ اشعار سے مرصع اپنی اختتامی تقریر میں انہوں نے تمام شرکا ء کا شکریہ ادا کیا۔ جناب عبدالرشید ، جنرل سیکریٹری آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ نے ادارہ کے مقاصد اورکارگزاری کا مختصرتعارف کرایا اورموومنٹ کی جانب سے ڈاکٹرماجد کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ موومنٹ فروغ تعلیم کے لئے متحرک ہے ۔ اس کے منصوبے میں پرائمری اوراپرپرائمری کلاسوں کے ذہین طلبا ء کی نشاندہی (ٹیلنٹ ہنٹ) شامل ہے۔ ضرورت مندبچوں کی مدد بھی کرنا چاہتے ہیں اورنرسری وپرائمری اسکولوں کی ٹیچرس کے لئے مفت تربیتی پروگرام بھی چلا رہے ہیں۔ جناب سہیل انجم نے ماجددیوبندی کا تعارف کراتے ہوئے ان کی ادبی فتوحات کے حوالے سے ان کی عالمی مقبولیت کا ذکرکیا اورامید ظاہر کی کہ ان کی حوصلہ مندی رنگ لائیگے جس سے اکادمی کے کاموں کی معنویت میں اضافہ ہوگا۔
جناب ماجد دیوبندی نے اپنی جوابی تقریر میں جہاد آزادی کے پہلے شہید صحافی مولوی باقر کا ذکرکیا اورکہا کہ لوگوں کو جلیان والا باغ تو یاد ہے لیکن یہ یاد نہیں کہ تحریک آزادی کی ایک ممتاز شخصیت سیف الدین کچلو کی بیجا گرفتار ی کے خلاف وہ لوگ جلیان والا باغ میں پرامن جلسہ کررہے تھے جن پرگولیاں برسائی گئیں۔ یہ جلسہ قومی اتحاد کی علامت تھا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ایسی تمام شخصیات کے کارناموں کو اکادمی سامنے لائیگی جن کو بھلادیا گیا ہے۔
صدرجلسہ سجادسید نے ڈاکٹرماجد سے اپنے قدیم ادبی رشتے کے حوالہ دیا اوران کی اس نئی پروقارتقرری پر دلی مسر ت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ان کے تازہ مجموعہ کلام ’’کچھ کارسخن اور‘‘ کی رسم اجراء بھی عمل میں آئی۔ انہوں نے اپنے کلام سے بھی نوازا۔ ڈاکٹرتابش مہدی، گلزارزتشی دہلوی، قیس رام پوری، معین شاداب، ابوالفیض عزم، اسرار جامعی اور ناصرعزیر نے بھی کلام سنایا۔ریاضت علی شائق نے منظم ہدیہ تہنیت پیش کیا۔ نظامت موومنٹ کے نائب صدر سیدمنصورآغا نے کی۔ انہوں نے ماجددیوبندی سے اپنے دودہائی سے زیادہ پرانی رسم وراہ کے حوالہ سے کہا کہ ماجد دیوبندی ہمارے لئے گھرکے فرد ہیں اورجب گھر کا کوئی فرد کامیابی حاصل کرتا ہے یاکوئی منصب پاتا ہے توخوشی فطری امر ہے۔ آج یہاں ہم ایک خاندان کے افراد کی طرح اس خوشی میں شریک ہیں۔حسن اتفاق کہ ڈائس اردو کی پوری پوری ترجمانی کررہا ہے جس پر شیخ بھی جلوہ افروزہیں، سید بھی برہمن بھی اورسکھ بھی۔ ڈاکٹرفاروق صاحب نے ’اپنے گھرآئے عزیر وں‘ کی پرتکلف ضیافت کی۔ جلسہ کا کامیاب نظم جناب فرخ صدیقی نے انجام دیا۔



No comments: