Thursday, August 20, 2015

Mandir, Masjid and Modi on Communalism مندر، مسجد اور مودی کا پیغام قوم کے نام

احوال عالم
 مندر، مسجد اور مودی کا پیغام قوم کے نام
سید منصورآغا،نئی دہلی
برطانوی سامراج سے ملک کو نجات ملنے کی سالگرہ پر وزیراعظم کا لال قلعہ سے خطاب اہم ہوتا ہے۔اس د ن کو ہم یوم ازادی کے طور پر مناتے ہیں۔لیکن کیا واقعی 15 اگست 1947کوہمیں حقیقی آزادی مل گئی تھی؟ نہیں یہ صرف حکمرانی میں خودمختاری تھی ۔اس پر بھی ایک طبقہ کی اجارہ داری قائم ہوگئی اورملک کے سبھی باشندوں کو بلاتفریق مذہب و ملت انصاف نہیں ملا۔ انگریزی حکومت ختم ہوئے 68 سال گزرچکے ہیں، مگر حقیقی آزادی کا خواب  شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ملک کو توہمات، فرقہ ورانہ فسادات، ظلمت پسندی، اکثریت کی دھونس دھمکی، بلکہ سیاسی غنڈہ گردی سے نجات کہاں ملی؟ الٹے  ان کا سایہ اور مہیب ہوتا چلاگیا۔حال تو پس پردہ سابقہ سرکاروں کا بھی یہی حال تھا، مگراب تو حکمرانی ایک ایسی گروہ کے ہاتھ میں آگئی ہے جس کے خمیرمیں اقلیت دشمنی، اکثریتی جبروظلم اور فرقہ پرستی شامل ہے۔ اس پس منظر میں اس سال 15اگست کا وزیراعظم کا خطاب خاص معنویت رکھتا ہے۔ اس میں جومثبت پیغام دیا گیا ہے وہ موجودہ سیاسی ماحول سے متصادم ہے۔ مگر اس کو سن کر سب دم بخود ہیں۔کہیں کوئی آواز اس کے خلا ف سنائی نہیں دی۔
لال قلعہ کی فصیل سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نریندرمودی نے فرقہ پرستی اورذات پرستی کے خاتمہ اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کی ضرورت زوردیا ہے۔ ان کا یہ پیغام اس لئے اہم اورخاص ہے کہ یہ اس پریوارکے نظریہ سے ٹکراتاہے جس کا وہ خود ایک فعال حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا:
’’ہمارااتحاد، ہماری سادگی، ہمارابھائی چارہ، ہماری خیرسگالی ہماری بہت بڑی پونجی ہیں۔ اس پونجی کو کبھی داغ نہیں لگنا چاہئے، کبھی چوٹ نہیں پہنچنی چاہئے۔ اگردیش کی ایکتا بکھرگئی توسارے خواب چکنا چورہوجائیں گے۔ اوراس لئے چاہے ذات پات کا زہر ہو، فرقہ پرستی کا جنون ہو، اسے ہمیں کسی بھی شکل میں جگہ نہیں دینی ہے، پنپنے نہیں دینا ہے۔ اسے ہمیں وکاس کے امرت سے مٹانا ہے۔‘‘
انہوں نے ہندستان کے سواکروڑ باشندوں کو ایک ’’ٹیم انڈیا‘‘ کے طور پرپروجیکٹ کیااورکہا کہ اگرملک کے یہ سواکروڑ باشندے متحد ہوکر کام کریں گے تو ملک کو نئی بلندیوں تک پہنچاسکتے ہیں۔تفرقہ پڑیگا تو ناکام ہونگے۔
 مودی کی زبان سے ان باتوں کو سننے کی کس کو توقع تھی؟ دیر تک یقین نہیں آیا کہ یہ وہی مودی بول رہے ہیں جو سنہ 2002میں گجرات کے وزیر اعلا تھے۔ جنہوں نے ’’گجراتی اسمیتا‘‘ کے نام پرگجراتی ذات پرستی اور علاقائیت کا زہر گھولا۔جن کی سیاست نے ریاست میں اقلیتوںکو جینا حرام کردیا۔جو اپنے انہی کارناموں اورطویل سنگھی پس منظر کی بدولت پارلیمانی الیکشن میں ہندواکثریت پسندی کی علامت بن کر ابھرے۔ اقتدارحاصل کرنے کیلئے ان کی پارٹی نے جا بجافرقہ پرستی کے شعلے بھڑکائے۔ اکثریت کو اقلیت کے خلاف ورغلایا۔ مظفرنگر جیسے کانڈ کئے۔ انسانیت کے قاتلوں کو اعزازات بخشے،اپنی کابینہ میں جگہ دی۔ پارلیمنٹ میں قومی ہم آہنگی کے موضوع پربحث ہوئی تو پارٹی کی طرف سے جواب دینے کی زمہ داری گورکھپور کے اس دریدہ دہن لیڈر کو دی، جس کی زبان ہمیشہ فرقہ پرستی کا زہراگلتی ہے۔
یہ داستان طویل ہے۔ جس شخص کا ماضی اس قدرمہیب اورتاریک رہا، جس کی ٹیم کو فرقہ پرستی کے جنون کو ہوادینے اوراس سے سیاسی فائدہ اٹھانے میں کوئی تکلیف نہ ہو، جو خوداس عفریت کے میدان کا شہ سواررہا ہو، اس کو اچانک فرقہ ورانہ ہم آہنگی اورقومی اتحاد کا خیال آجانا بیشک حیران کن ہے۔ ہزارشکوے شکایات اوراندیشوں کے باوجود بحیثیت مسلمان ہم ان کے اس نئے رنگ وآہنگ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ تالیف قلب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔آخر ہلاکوخان کے پوتے کا دل بھی تویونہی بدل گیاتھا، ورنہ کون کہہ سکتا کہ اسلام اورمسلمانوں کا سفاک قاتل ،اس کی تلوار بن جائیگا۔لیکن ہم کسی معجزہ کا انتظارنہیں کرسکتے۔ ہمیں ان کو یاد دلانا ہوگا کہ اس عزم کو عمل کی دنیا میں اتارنے کیلئے، اقلیت میں اعتماد پیدا کرنے اورایک بہتر ماحول سازی کیلئے علامتوں سے الگ ہٹ کر ان کو کیا کچھ کرنا ہوگا۔مثا ل کے طور پر چندباتیں عرض ہیں۔
جس زمانہ میںوہ گجرات کے وزیراعلا تھے، اقلیتی طلباء کیلئے مرکزی وظائف کا نفاذ انہوں نے نہیں ہونے دیا تھا۔ اب اس کی تلافی اس طرح کی جاسکتی ہے کہ نہ صرف گجرات میں بلکہ پورے ملک میں تعلیمی اوراقتصادی طور سے پچھڑے ہوئے اقلیتی طلباء تک مجوزہ سہولت پہنچے۔ انتظامی سطح پر بھی کئی دشواریاں ہیں۔ ان سے متعلق ایک میمورنڈم آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ نے سابق حکومت میں وزیراقلیتی امور کوپیش کیا تھا۔ اس کو زیر غورلایا جائے ۔ دیگراین جی اوز یا تعلیمی اداروں نے اس نظام میں اصلاحات کی جوتجاویز پیش کی ہیں، ان پر بھی مثبت انداز میں غور ہو اوران کا نفاذ دیانتداری سے عمل میں لایا جائے۔ ملک کی ترقی کیلئے یہ ضروری ہے کہ تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کی مدد کی جائے۔
ایس سی ؍ایس ٹی ریزرویشن میں غیرہندو طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک اور مذہب کی بنیاد پر ان کو محروم رکھنا ، سرکاری فرقہ پرستی ہے۔ اس کو فوری طور سے ختم کیا جائے۔ابھی حال ہی میں مہاراشٹرا کی حکومت نے اقلیتی تعلیمی اداروں کے خلاف کچھ نامنصفانہ اقدامات کئے ہیں ، جس سے سرکاری فرقہ پرستی کی بوآرہی ہے۔مودی جی ان پر بھی توجہ دیں۔
اقلیتی تعلیمی اداروں کو اقلیتی ادارہ ہونے کاسرکاری سرٹی فکیٹ حاصل کرنے کی شرط ختم کی جائے اور ان کے حلفیہ بیان کو ہی کافی سمجھا جائے۔
تعلیمی نصاب میں بھی ریاستی سرکاریں ہندوفرقہ پرستی کو فروغ دینے کی تدابیر کر رہی ہیں۔جس سے فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو ہی نہیں تعلیم کے فروغ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہم اخلاقی تعلیم کے خلاف نہیں، چاہے گیتا کے حوالے سے ہی کیوں ہو۔لیکن یہ کوشش کہ شرک اور بت پرستی کا بول بالا ہوجائے اورساری کلچرس ایک کلچر میں ضم ہوجائیں، فرقہ ورانہ اتحاد اورہم آہنگی کیلئے زہر ہیں۔جو چاہے ہزاروں دیوی دیوتاؤں کے آگے سر جھکائے،  ہمارے لئے بس ایک معبودکافی ہے۔
سنہ 2002میں گجرات کی جن مساجد اوردیگرمذہبی مقامات کو نقصان پہنچا تھا، ان کی مرمت سے ریاست نے انکار کردیا تھا ۔ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تھا۔ اس وقت ریاستی سرکار نے کہا تھا کہ یہ کام اس کا نہیں ہے۔ اب جب مودی احمدآباد سے نئی دہلی آگئے ہیں، مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ یہ کام ریاستی سرکار کو کرنا چاہئے۔ مسٹرمودی کو اپنی نامزد وزیراعلا کو ہدایت دینی چاہئے کہ اب اس کام کوبلا تاخیر کیا جائے۔علاوہ ازیں فسادات کے متاثرین کی معقول انداز میں بازآباد کاری کی جائے۔ یہ اقدامات ریاست میں فرقہ ورانہ منافرت کے موجودہ زہرآلودماحول کو ختم کرنے میں معاون ہونگے۔مسٹرمودی نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ اس زہر کو وکاس کے امرت سے مٹانا ہے۔ گجرات گواہ ہے کہ وکاس کے امرت سے یہ زہر نہیں مٹا ہے۔ اس کیلئے سیاسی اورانتظامی تدابیر کرنی ہونگیں۔ صرف علامتی بیانات کافی نہیں۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھی ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پریوار اور پارٹی کے جو لوگ ماحول کو بگاڑتے ہیں، ان کی سختی سے سرزنش کیجئے تاکہ کیڈرتک بات پہنچے۔فرقہ پرستی سے پاک ماحول اقلیت نوازی نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ اس میں جو رخنہ ڈالے وہ اقلیت کا نہیں، قوم کا دشمن اورباغی ہے ۔یہ مت دیکھئے کہ اس کے سرپر سبزصافہ ہے  یاوہ بھگوا لباس میں رہتا ہے۔ 
ایک اہم کام یہ ہونا چاہئے کہ گزشتہ دودہائیوںمیں دہشت گردی کے الزامات میں جن بے قصورنوجوانوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے، ان کے مقدمات فاسٹ ٹریک کورٹ میں نمٹائے جائیں۔ کیا وجہ ہے کہ نیسلے کمپنی کی نوڈلس کا کیس تو ہائی کورٹ سے دو ماہ میں ہی نمٹ گیااوردہشت گردی کے ملزمان کے مقدمات کی سماعت بھی برسوں شروع نہیںہوتی۔ مالیگائوں کے کیس میں اگرچہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ایس ٹی ایف نے ابتدا میں جن نوجوانوں کو گرفتارکیا تھا، وہ بے قصورہیں ، مگر مرکزی تفتیش ایجنسی ان کو عدالت سے بری کئے جانے میںرکاوٹ ڈال رہی ہے،اس کو بھی دیکھیں۔  فرقہ ورانہ ہم آہنگی اس کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی ہے عدل وانصاف میں فرقہ ورانہ بنیاد پر تفریق نہ برتی جائے۔
ہرچند کہ سنگھ پریوار نے گھرواپسی اورلوو جہاد جیسی نامعقول مہمات کو فی الحال موخر کر دیا ہے، لیکن ابھی پریوار سے منسلک’دھرم جاگرن سمنوے سمیتی‘ نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ مسلم آبادیوںمیں تو گھرواپسی پروگرام 2020تک ملتوی رہیگا، مگر عیسائیوں میں جاری رہیگا۔ عیسائی تو ایک بہت چھوٹا سافرقہ ہے۔ ہماراآئین ہر شخص کا اپنی پسند کا دین اختیارکرنے اوراس کی تبلیغ کا حق دیتا ہے۔تبدیلی مذہب کے معاملے ہتھ کنڈے اوربھیڑ کی دہشت کے استعمال کی اجازت کسی کو نہیں ہونی چاہئے۔تبلیغ دین کے کام سے سنگھیوں کوجو تکلیف ہوتی ہے وہ اس لئے ہے کہ ان کی نظرمیں آئین کا کوئی احترام نہیں۔ اس کے برخلاف انہوں ہندستان کوجبراًمخصوص کلچرمیں رنگنے کی مہم چلارکھی ہے۔یہ تو کسی کی ڈکٹیٹری میں بھی نہیں ہوسکا۔ جمہوریت میں کیا ہوگا۔ ہاں قومی اتحاد کو نقصان ضرورپہنچتا ہے۔ اسی زورزبردستی کی بدولت ایک طبقہ نے یوگا مہم کی بھی مخالفت کی ۔ اگراس میں سے ہندوتووا کے فروغ کی بو نہ آتی تو صحت کی خاطر سبھی فرقے اورسبھی طبقے اس کا خیرمقدم کرتے۔
عرب امارات کا دورہ
یوم آزادی تقریب کے فوراً بعد مسٹرمودی نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ۔وہاں  وہ شیخ زاید مسجد بھی گئے۔ ’’زائرین کی کتاب‘‘ میں انہوں نے لکھا: ’’ مجھے یقین ہے کہ یہ عبادت گاہ امن،تقوی، رحم دلی، غربہ پروری، خیرسگالی اورجامعیت کی علامت بن گی۔ یہ خوبیاں اسلام کے مزاج میں سموئی ہوئی ہیں۔‘‘ 
اسلام کے بارے میں ان کا یہ مثبت تبصرہ یقینا خوش کن ہے۔ زبان پر جو بات آتی ہے وہ دل میں بھی اترجاتی ہے۔ اسی لئے وظائف میں ورد کا اہتمام ہوتا ہے۔ خداکرے مودی صاحب نے جو بات زبان سے ادا کی ہے وہ ان کے دل میں بھی اتری ہو۔ یہ بات خاص طور سے سنگھ پریوار کے لوگں کیلئے لائق توجہ ہے جو اسلام اورمسلمانوں کے خلاف عوام کو ورغلاتے اورغلط فہمیاں پھیلاتے رہتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ بات امارات کی مسجد کے بجائے مودی جی کو اپنی پارلیمنٹ میں یا وی ایچ پی کی دھرم سنسد میں بھی کہنی چاہئے۔
ہم ان کے ان بیانات پر شک کا اظہارنہیں کریں گے۔ یہ باتیں کہہ کرانہوں نے جرأت مندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مودی کے ان بیانات پر ہم نے سنگھ پریوار کے ایک واقف حال صحافی کا رد عمل معلوم کیا تو ان کا دوٹوک جواب تھا، ’’آج کسی میں ہمت نہیں ،یہاں تک کہ موہن بھاگوت میں بھی نہیں کہ مودی کے خلاف بولیں۔‘‘ ہم حیران ہیں کہ اس صورتحال کی کیا تعبیر کی جائے؟ اگر یہ بیانات صرف سیاسی نوعیت کے ہیں تب بھی لازم ہے کہ ان پرتنقید میں احتیاط سے کام لیا جائے اورکوئی سیاسی ناعاقبت اندیشی ایسی نہ کی جائے کہ اقلیتوں کے مخالفین کو کھل کھیلنے کا موقع ملے۔ یہ موقع ہرگز حکومت سے براہ راست ٹکرانے کا نہیں، جس کی تیاری بہار کے ایک خود ساختہ مفکر اسلام اوران کے گماشتے کررہے ہیں۔
مودی کے دورہ عرب امارات پر سہاراگروپ کے مدیراعلا سید فیصل علی نے دوبئی سے اپنے تاثرات میں کہا ہے: مودی نے دبئی میں یہ ثابت کردیا کہ وہ اپنا کام بخوبی انجام دینا جانتے ہیں۔ جہاں کانگریس کا کوئی وزیراعظم 34سال تک نہیں پہنچا، وہاں مودی پہنچ گئے اوراپنے مشن کو بخوبی پورا کیا۔امارات میں ان کی مصروفیات کا ایک اہم حصہ لیبرکیمپ کا دورہ بھی تھا جس کو میڈیا نے نظرانداز کردیا۔ اس کی زیادہ دلچسپی ان کے مسجد کے دورے سے رہی۔ یا پھر داؤد ابراہیم سے۔مودی نے اسرائیل کے دورے سے قبل یہ دورہ کرکے مسلم دنیا کے ساتھ ہند کے روابط میں توازن قائم کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔اکتوبر میں وہ سعودی عرب بھی جائیں گے۔ان کا یہ دورہ بھی اہم ہوگا۔‘‘
مودی نے وہاں جو کچھ کیا اورکہا ، یقینا اس میں مسلم دنیا کے ساتھ توازن پیداکرنے کی کوشش بھی ہے اورباشندگان ہند کیلئے ایک مثبت پیغام بھی ہے۔ مودی کے آستین پر ابھی تک خون کے دھبے صاف نظرآتے ہیں ۔ ان بیانات سے انہوں نے خود کو ایک صاف ذہن اورسیکولر حکمراں ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ خداکرے اس میں ان کی نیک نیتی بھی شامل ہے۔ لیکن اس موقع پر عرب امارات کے حکمرانوں نے ان کو جو تحفہ پیش کیا وہ نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں مودی کو سیکولرہندستان کا وزیراعظم نہیں بلکہ کسی ہندوراشٹرا کا نمائندہ جان کر غلطی کی ہے۔اسی لئے تحفہ میں ایک جگہ مندر کیلئے پیش کردی ہے ۔ مودی جہاں جاتے ہیں گیتا پیش کرتے ہیں۔ ایک مسلم ملک کو تحفہ میںکوئی ایسی چیز پیش کرنے میں کیا قباحت تھی جو شرک کے بجائے توحید کی علامت ہو؟ہمارے صحافی دوست ودود ساجد نے اپنی ایک پوسٹ میں اس پر سخت کوفت اور اذیت کا اظہارکیا ہے اور اس کودینی حمیت کے خلاف اقدام بتایا ہے۔ ہمارے خیال سے اپنے مقامی باشندوں کو ان کی عبادت گاہ کیلئے سہولت فراہم کرنا ایک بات ہے، لیکن وزیراعظم کی آمد کے موقع پربطورتحفہ اس کااعلان بیشک تکلیف دہ ہے۔ہندستان کے مسلم حکمرانوں میں اورنگزیب عالم گیر ؒ اورشیرمیسور ٹیپوسلطان شہیدنے غیرمسلموں کی عبادگاہوں کو فراخ دلی سے جاگیریں دیں۔ ان کا کہنا بجاتھا کہ ملک ہندئوں کا ہے۔ قومی آمدنی اوراثاثوںمیں ان کا حق بھی ہے۔ہم صرف حکمراں ہیں۔ اورہم عدل سے کام لیتے ہیں۔ لیکن عرب امارا ت میں یہ صورتحال نہیں۔
ایک سبق آموز لطیفہ 
ایک صاحب نے فیس بک پر لکھا ہے ، ہمارے ملک کا بھی عجیب حال ہے۔ ہندستان کے مسلمان چلاچلاکر کہتے ہیں ، ہم ہندستانی ہیں، ہمارے بزرگوں نے اس ملک کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ یہ ملک ہمارا بھی ہے، صرف تمہارا نہیں۔ لیکن ان سے کہا جاتا ہے نہیں تمہارا دل ودماغ پاکستانی ہے۔ پاکستان جاؤ یا سمندر میں ڈوب جائو۔ اس کے برخلاف کشمیر میں جب کوئی پاکستان کا نعرہ لگاتا ہے تواسے ڈنڈے مارمار کر کہا جاتا ہے نہیں تم ہندستانی ہو۔(ختم)
Cell: 9818678677, 
email: syyedagha@hotmail.com

No comments: