Thursday, July 30, 2015

کوہ نورِ ہند ڈاکٹرکلام کی خاموشی بھی بولتی ہے Kohnoor-e-Hind Dr. Kalam's silences speaks

کوہ نورِ ہند ڈاکٹرکلام کی خاموشی بھی بولتی ہے
سید منصورآغا
27جولائی، پیر کی شام جب یہ خبر آئی کہ اس دور کے کوہ نور ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام کا اچانک انتقال ہوگیا توطبیعت کی بے کیفی اس قدر بڑھی کہ خیال ہواجس طرح پارلیمانی اجلاس ملتوی ہوا ہے، میں بھی اس ہفتہ کا کالم موقوف کردوں۔ کچھ ان کو پڑھوں کچھ ان کی وفات پر سردھنوں۔ لیکن دورکسی دریچے سے ڈاکٹرکلام کا مسکراتا ہوا چہرہ عالم تصور میں ابھرا ۔گویا کہہ رہا ہے:’’ نقصان سے غمزدہ نہ ہونا چاہئے۔ اس کی تلافی کیلئے دوگنی محنت اورلگن سے کام کرنا چاہئے۔‘‘ پھرکلام کا یہ قول یاد آیا:’’ میری وفات پر چھٹی نہ کرنابلکہ زیادہ کام کرنا۔‘‘ 
ڈاکٹرکلام کرم یوگی تھے۔ ان کی پہچان ’’ہرحال میں کام ‘‘ سے ہوتی تھی۔ اس خیال سے حوصلہ ملا اوریہ چندسطوراس ہستی کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے لکھنے بیٹھ گیا جس نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا اور پیرانہ سالی کے باوجود تادم آخراپنے مشن میں لگا رہا۔ وہ شیلانگ میں طلباء سے مخاطب تھے جب دل کا دورہ پڑا اوروہ چل بسے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
یہ دل بھی اللہ نے انسان کے جسم میں کیا چیز بنائی ہے۔ دل ٹھیک تو زندگی میں قرار، دنیا میں بہاراور آخرت بھی سرفراز۔ ساخت میں کچھ خرابی ہوئی توزندگی ڈانواڈول۔حرکت رکی اور زندگی ختم ۔ اوراگرفکروخیال، سوزوساز میں خرابی پیدا ہوگئی توسمجھو پھردوجہان کی خرابی مقدرہوگئی۔
ڈاکٹرکلام اس دورمیں لیاقت و عزیمت، انسانیت و شرافت اورقوم کیلئے بے لوث فکرمندی کا ایک استعارہ تھے۔ہم بڑی ہستیوں کو چاند اورستارے کی تشبیہ سے یاد کرتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹرکلام کی حیثیت چاند،ستارے سے بڑھ کرسورج جیسی تھی، جو خود کا جلاکرسارے جہان کوزندگی کا پیغام دیتا ہے۔نوجوانوں سے انہوں نے کہا تھا: ’اگر چاہتے ہو کہ دنیا میں سورج کی طرح چمکو ،تو خود کو سورج کی طرح جلاؤ۔‘
آج ہم جب ان کو ان کی وفات پر یاد کررہے ہیں تو صرف دعائے مغفرت کافی نہیں ۔ ان جواہر پاروں کو اپنی پلکوں پرسجانا ہوگا جن کی بدولت وہ ہمارے اورہماری نوجوان نسل کے دلوں میں بس گئے۔دہلی میں بھی اوررامیشورم میں بھی ان کے آخری دیدار کیلئے ہزاروں لڑکے اور لڑکیاں گھنٹوں قطار میں انتظارکرتے رہے۔ٹی وی چینلزپر گھنٹوں ان کا ذکرہوتا رہا۔ اورلوگ توجہ سے سنتے رہے۔ ہم بھی ان اعلا اقدار کوسلام کرتے ہیں جن کوانہوں کے اپنایا اور آبیاری کی۔
یہ جواہر پارے ان کی تقریروں اورتحریروں میں بھی ملیں گے اوراس زندگی میں بھی جو وہ جئے اور جس طرح جئے۔ان کے ہاتھ کے نیچے کام کرنے والوں کا ان سے والہانہ تعلق کوئی معمہ نہیں۔ ان کے رویہ میں ان تعلیمات کا پرتو نظرآتا ہے جو اپنے زیردستوں کے ساتھ آقائے نامدارﷺ نے ڈیرھ ہزارسال قبل اپنے رویہ سے امت کودیں۔ جن کے ذکر پر ہم جھوم جھوم تو جاتے ہیں مگرجن کو اپنی زندگی میں اختیارکرنے پرہمارانفس رکاوٹ بن جاتا۔
آگے بڑھنے سے پہلے ان کی زندگی کی ایک جھلک۔ وہ تمل ناڈو میں ساحل کے قریب ایک چھوٹے سے ٹاپو پرآباد قصبہ رامیشورم میں سنہ1931ء میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والداپنی کشتیوں میں مسافروں کو لانے لیجانے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ والد اوروالدہ دونوں ناخواندہ تھے ،لیکن اعلاقدروں کے حامل تھے ۔ڈاکٹرکلام میں بہت ساری خوبیاں ان کے نیک دل صاحب ایمان و ایقان والدین کی تربیت کا ہی نتیجہ تھیں۔اندازہ ہوتا ہے کہ خود تعلیم سے محروم رہنے کے باوجود ان کو تعلیم کی قدروقیمت معلوم تھی، اسی لئے ان میں کلام کو پڑھانے کی گہری لگن تھی۔ان کی والدہ کمسن کلام کو صبح چاربجے جگادیتیں ۔ تعلیم کا سلسلہ صبح پانچ بجے استاد کے گھرسے شروع ہوتا۔ایک گھنٹہ بعد مدرسہ جاتے اورقرآن پڑھتے۔ پھراسکول جاتے۔ اس درمیان اپنے بھائی کا ہاتھ بٹاتے جو رامیشورم میں اخباروں کے ایجنٹ تھے ۔ان کی زندگی کا یہ دورمشکلات سے پر رہا۔ مگر مددگاربھی ملے۔ جب بی ایس سی میں داخلہ کا مرحلہ آیا اورفیس کا بندوبست نہیں ہوسکا تو بڑی بہن زہرہ نے اپنے سونے کے کڑے بیچ کر فیس بھری۔ وہ بہت ذہین طالب علم تونہیں تھے، لیکن اپنی لگن ،محنت اوربلند اخلاق کی وجہ سے اپنے اساتذہ کی نظروں میں بسے رہے اورآخر بلندیوں کو سرکرلیا۔یہ کم اہم بات نہیں کہ ایک ملاح کا بیٹا ایروناٹیکل انجنئر بن گیا۔ میزایل سازی میں نمایاں خدمات انجام دیں ۔ میزائل مین کہلایا۔ سرکار نے ان کی خدمات کے اعتراف میں پدم بھوشن اورپدم وبھوشن سے سرفراز کیا ۔ملک کا سب سے بڑا عزار ’بھارت رتن‘ بھی ملا۔انہوں نے انتہائی حساس شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ وہ خوش عقیدہ اورباعمل مسلمان تھے۔ لیکن کسی بھی مرحلہ پر تعصب کا شکارنہیں ہوئے۔ ان کو ان کی لیاقت اور خدمت کے جذبہ نے ہمیشہ آگے ہی بڑھایا اور قصر صدارت تک پہنچایا۔ان کوایک امتیاز یہ حاصل ہوا کہ وہ ڈاکٹر رادھا کرشنن اور ڈاکٹرذاکرحسین خان کے بعد تیسرے ایسے صدرجمہوریہ بنے جس کواس منصب پر پہنچے سے پہلے ہی بھارت رتن کا اعزاز مل چکا تھا۔ ملک اوربیرون ملک کی 30 یونیورسٹیوں نے ان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں تفویض کیں۔بڑی بات یہ ہے کہ اتنے اعزازات مل جانے کے باوجودان میں بڑبولا پن نہیں تھا۔ انکی انکساری ، خوش اخلاقی اوراپنے گرد لوگوں کے ساتھ حسن سلوک نے ان کی شخصیت میں چارچاند لگادئے۔ نوجوانوں کیلئے ان کو مینارہ نور بنادیا۔ان کو ہردل عزیزبنادیا ۔اٹھے تو وہ بھی زمین سے ہی تھے۔اخبارفروشی بھی کی۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ کس نے زندگی کی شروعات اخبار فروشی سے کی، یا چائے فروشی سے کی ۔بلکہ یہ ہے کہ جب وہ بلند مرتبہ پرپہچا تواس کی ذہنی سطح کتنی بلند ی پر پہنچی؟ وہ علم وفضل اوراختیار مل جانے کے باوجود انکساری، شرافت اور انسانیت کا نمونہ بنا رہا ،اس کے بازو پھل داردرخت کی ٹہنیوں کی طرح جھکے رہے۔یا اس کی گردن اکڑ گئی ،اس کا سینہ کبر وغرورسے بھر گیا ۔ وہ مطلق العنان حاکم بن گیا اورببول کے پیڑ کی طرح ہرکسی کی تواضع کانٹوں سے کرنے لگا ؟
وہ قصرصدارت میں بھی رہے تومعمولی شہری کی سی زندگی جئے۔اپنا بہت سا کام خود کرلیتے تھے۔ راشٹرپتی بھون میں تین سو سے زیادہ کمرے ہیں۔لائبریری اورریڈنگ روم ہیں۔ لیکن وہ لان میں اپنی پھونس کی چھتری میں بیٹھ کر کام کرتے، اخبار اور کتابیں پڑھتے۔ ان کواے سی کمروں کے بجائے، فطرت کی اسی گود میں راحت ملتی جس میں ان کا بچپن گزرا تھا۔طالب علمی کے زمانے میں بھی وہ سمندرکے کنارے بیٹھ کر گھنٹوں پڑھتے، مظاہرقدرت پر غوروفکر کرتے۔ یقیناًبجلی کی روشنی سے سورج کی روشنی افضل ہے۔میسرہو توانسان کیوں محروم رہے؟کچھ نہ کچھ بجلی بھی بچتی ہوگی جو ملک کی ضرورت ہے۔
آجکل جب کہ ہرطرف سیاست دانوں کی بے ایمانیاں اوربداعمالیاں عیاں ہو رہی ہیں، ڈاکٹرکلام ہرطرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔ وہ اختیاراوراقتدار کے اہم منصبوں پرفائز رہے، مگران کی طرف کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملا۔ وہ ایک سفری چھوٹی اٹیچی اورکپڑوں کی ایک بڑی اٹیچی کے ساتھ راشٹرپتی بھون میں داخل ہوئے اورپانچ سال بعد وہی دواٹیچیاں لے کر وہاں سے چلے گئے۔اس دوران ہزاروں تحفے ملے۔ کسی پردل نہیں للچایا۔کچھ بھی ساتھ لیکر نہیں گئے۔ وہ سرکاری املاک کے بارے میں کس قدرمحتاط تھے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے ایک مرتبہ ان کے بھائی اور دوسرے عزیر دہلی آئے۔ راشٹرپتی بھون میں ان کے ساتھ رہے مگران کا کھانا، ناشتہ ڈاکٹرکلام نے اپنی جیب سے پیسہ دیکر باہر سے منگوایا۔چائے کے لئے تقریباً تین لاکھ جمع کرائے۔ ان کے آنے جانے کیلئے ٹیکسیاں منگوائیں۔ سرکاری گاڑیاں استعمال نہیں کیں۔ اپنے ذاتی مہمانوں کا کوئی خرچہ سرکاری خزانہ پر نہیں ڈالا۔ ضرورت کے وقت وہ اپنی جیب سے اپنے اسٹاف کی مدد سے بھی گریز نہیں کرتے تھے ۔ازخودان کی خبرگیری رکھتے۔ 
جب وہ میزایل پروجیکٹ پر کام کررہے تھے ،ان کے تحت ایک اسٹاف کا بیان ہے کہ اس کابیٹا ممبئی میں سخت بیمارہوگیا۔کئی دن تک فون نہیں ملا۔ وہ سخت پریشان تھا۔ کام ٹھیک سے نہیں کرپارہا تھا۔ ڈاکٹرکلام جواس وقت پروجیکٹ کے افسراعلا تھے، بھانپ گئے اور احوال معلوم کرنے خود اس کے گھر پہنچ گئے ۔ان کی ہدایت پر فون آپریٹرنے فوراً بیمارلڑکے سے بات کرائی۔ڈاکٹر کلام نے اس سے کہا اگرپروجیکٹ میں شامل کوئی شخص ایک دن بھی کام نہ کرے توپورے پروجیکٹ کا نقصان ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈسپلن، سختی اورظلم میں فرق کرنا چاہئے۔
انہوں نے چاردہائیوں تک بحیثیت سائنسداں خدمات انجام دیں اورکئی ایسی پروجیٹکوں پر کام کیا، جن کی بدولت آج ملک کا نام دنیا میں بلند ہے۔ ان میں سب سے اہم خلامیں سیارچے بھیجنے والی گاڑی پی ایس ایل وی ہے، جس سے آج دنیا بھر کے چھوٹے بڑے سیارے داغے جارہے ہیں۔ انہوں نے ہرشعبہ میں، ہرپروجیکٹ میں اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔ اورجب نہایت پیچیدہ قومی سیاسی حالات میں ان کا انتخاب صدر جمہوریہ کے منصب پر کیا گیا تواس حیثیت میں بھی انہوں نے اپنی چھاپ چھوڑی۔وہ مثالی صدربنے۔
ان کی صدارت کا پس منظریہ ہے کہ باجپئی کے دورحکومت میں گجرات کے فسادات سے ایک غلط پیغام پوری دنیا میں گیا۔اس مرحلہ پر یہ جتانے کیلئے کہ گجرات میں جوکچھ ہوا ،اس کے باوجود حکمرانِ وقت سیکولراقدار سے منحرف نہیں ہوئے ہیں، این ڈی اے کی نظرانتخاب صدرجمہوریہ کے منصب کیلئے ڈاکٹرکلام پرپڑی۔ منصب سنبھالنے کے ایک ہی ماہ کے اندر انہوں نے یہ بھی جتادیا کہ وہ محض ربڑ کی مہر نہیں ۔ حکومت کی منشاء کے خلاف انہوں نے گجرات کا نجی دورہ کیا۔ انہوں نے عوام سے اورخصوصاً نوجوانوں سے اورطلباء سے رابطے کے ہرموقع کا فائدہ اٹھایا اوران کو فکرانگیزنصیحتوں سے نوازا۔ ان کا یہ نظریہ درست ہے کہ ملک کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ وہ لائق اورباکردار ہونگے تو ملک ترقی کریگا ،ورنہ عافیت خطرے میں ہے۔
وہ نوجوانوں سے کہتے تھے۔’کسی کوہرانا بہت آسان ہوسکتا ہے، مگرکسی کو جیتا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘انہوں نے اس مشکل کوخود آسان کردکھایا ۔کتنے دلوں کو جیتا، کوئی گنتی نہیں۔ ملک کے طول و عرض میں، ہرمذہب اورفرقے میں ان کے مداحوں کے بڑی تعداد ہے۔خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے مسلمان ہونے اوراپنے عقائد پر کبھی سبکی محسوس نہیں کی۔کبھی جدید یت کا بھوت ان پر سوار نہیں ہوا۔وہ کرداروعمل میں سچائی کے قائل تھے۔وہ مشکلات سے نہیں گھبراتے تھے۔ کہتے تھے: ’’مشکلات تو کامیابی کا جوہر ہیں۔ اگرفیل ہوجاؤ تو حوصلہ مت ہارجاؤ۔ ناکامی کو کامیابی کی پہلی سیڑھی جانو۔‘‘
انگریزی لفظ ENDبمعنی ختم کی وہ تشریح یوں کرتے: ای سے ایفرٹ(کوشش)، این سے نیور(کبھی نہیں) ڈی سے ڈائی (مرتی) ۔ یعنی امید ختم نہیں ہونی چاہئے کیونکہ کوشش کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ ایک مرتبہ ناکام ہوگئے تو پھرکوشش کرو۔ اورNOیعنی نہیں کو وہ ’نیکسٹ اپورچونٹی‘یعنی ’اگلا موقع‘ کہتے۔ 
ایک مرتبہ انہوں نے بڑی ہی پتہ کی بات کہی۔’’ خواب وہ نہیں ہوتا جورات کو سوتے میں دیکھتے ہیں۔ خوا ب وہ ہوتاہے جو دن میں سونے نہ دے۔ خواب، خواب اورخواب۔ خوب خواب دیکھو ۔ اپنے خواب کوتصورمیں تبدیل کرلو اورعزم اورحوصلے کے ساتھ اس تصور کو عملی جامہ پہنانے میں لگ جاؤ، ایک دن کامیاب ہوگے۔‘
ایک مباحثہ کے دوران انہوں نے کہا تھا آپ ترقی کا کوئی بھی ماڈل اپنائیں ، لیکن جب تک ملک کے غریب اوپرنہیں اٹھیں گے، ترقی بے معنیٰ ہے۔ ان کو معاشرے کے دبے کچلے اورمحروم طبقہ سے کتنی ہمدردی تھی، اس کا اندازہ ان کے اس تاثرہوتا ہے جو انہوں نے پھانسی کی سزایافتہ مجرموں کے بارے میں ظاہر کیاتھا۔انہوں نے آنکھ بند کرکے رحم کی درخواستیں مسترد کرنے کی فائلوں پر دستخط نہیں کئے بلکہ کہا تھا:’’ایک مشکل کام جو بحیثیت صدرمیرے سامنے آیا وہ موت کی ان سزاؤں کی توثیق تھی جو عدالتوں نے سنائی تھیں۔ مجھے سخت حیرت ہوئی کہ جتنے بھی کیس عدالت کے حکم کی تعمیل کیلئے میرے زیرغورلائے گئے، ان سب میں سماجی اور اقتصادی تعصب صاف نظرآتا تھا۔جس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جن لوگوں کو ہم سزادے رہے ہیں ،وہ ایسے لوگ ہیں جو دشمنی اورجرم کے ارتکاب میں از خود ملوّث نہیں۔‘‘ یعنی وہ حالا ت کے مارے ہیں اورکیونکہ وہ رسوخ دارلوگ نہیں، اس لئے ان کو پھانسی کے پھندے پرلٹکادیا جاتا ہے۔ جب کہ رسوخ داربچ جاتے ہیں۔یہ مشاہدہ عام ہے۔ تعصب کی بناء پراور سیاسی فائدے کیلئے کسی بے بس انسان سے جینے کا حق چھین لینا انصاف کے تقاضے کی تکمیل نہیں بلکہ عرف عام میں اسی طرح کا ’’عدالتی قتل‘‘ ہے جیسا ہمارے پڑوسی ملک میں اور عراق میں سابق حکمرانوں کا ہوا اورجس کی نقل بنگلہ دیش میں کی جارہی ہے۔ ہمارے ملک میں جس طرح گزشتہ چند سالوں میں اس سزا کا سلیکٹیو(مخصوص نظریہ سے انتخابی )نفاذ ہورہا ہے ،اس سے یہ تاثربہرحال پیدا ہوتا ہے کہ پیش نظر انصاف کے تقاضے پورے کرنا نہیں ہے بلکہ کچھ اورمقاصداس کے محرک ہیں۔
آخری بات : سنہ 2007میں جب ڈاکٹرکلام کی مدت صدارت پوری ہورہی تھی تب متعدد پارٹیاں اس حق میں تھیں کہ ان کو ہی ایک اورمدت کیلئے صدرچن لیا جائے۔ مگر کانگریس آمادہ نہیں ہوئی۔ ڈاکٹرکلام کے لائق وفائق مفکر، دانشورہونے میں کس کو شک ہوسکتا ہے! ان کی امانت و دیانت اورسوجھ بوجھ پر کبھی کوئی داغ دھبہ نہیں لگا۔ ان کا فکری افق ہی وسیع نہیں تھا بلکہ مطالعہ اور تاریخ اورسماجیات کا شعور بھی امتیازی شان رکھتا تھا۔ بیشک وہ ایک غریب پس منظر سے آئے تھے،نام سے ہی نہیں اپنے برتاؤ اورعمل سے بھی مسلمان تھے، انہوں نے ان اقدارکو اختیارکیا جن کی اسلام تعلیم دیتا ہے۔جن کی بدولت وہ سربلند ہوئے۔پہلے انتخاب کے وقت ڈاکٹرکلام پرایک الزام یہ لگا تھا کہ وہ ہندتووادیوں کی پسند ہیں۔لیکن وہ کیا ذہن تھا جو کانگریس کی امیدوار کی زبان سے بولاتھا؟ فرمایا: ہندوؤں میں پردہ مسلم غازیوں کے ڈرسے رائج ہوا۔ اب وہ ڈر ختم ہوا، ہندوعورتیں پلے اورگھونگھٹ سے باہر آجائیں۔‘‘ ہم کوئی موازنہ نہیں کررہے ہیں۔ لیکن بہرحال تاریخ یہ سوال ضرورکانگریس سے پوچھے گی کہ اس نے ڈاکٹرکلام کو قبول کرنے سے کیوں انکارکیا؟ اوراس کی اپنی پسند کس پہلو سے ڈاکٹرکلام سے وزنی اس کو نظرآئی؟
چلتے چلتے ساجد اقبال مرحوم کی ایک غزل کا مطلع اورمعمولی تحریف کے ساتھ دومصرعے:
سورج ہوں، زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا
ہر سو چلیں گے مجھ سے صداقت کے سلسلے
جینے کا اس جہاں میں ہنر چھوڑ جاؤں گا
دعا ہے کہ اللہ ڈاکٹرکلام کی حسنات سے سبق لینے کی توفیق دے اوراس کے صلے میں ان کو اپنی مغفرت سے نوازے۔ آمین۔

No comments: