Thursday, June 18, 2015

مسلمانوں کی تعلیم اورمودی کے خوش کن وعدےMuslim Education and Modi''s welcome assurances

مسلمانوںکی تعلیم اورمودی کے خوش کن وعدے
سید منصورآغا
وزیراعظم نریندرمودی نے 15جون ،پیرکی شام اپنی سرکاری رہائش گاہ پرہندستان میں مسلمانوں کی تعلیم کے موضوع پر نوبل ایجوکیشن فاؤنڈیش کی کتاب ’مسلم ایجوکیشن ان انڈیا‘ کا اجرا کرتے ہو ئے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی حکومت ’مسلمانوں کوتمام ترتعلیمی مواقع فراہم کرانے کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔‘ اور یہ کہ ابھی تک’مسلمانوں کو تعلیمی مواقع فراہم نہیں کئے گئے‘’ اب وقت آگیا ہے کہ انہیں تعلیم کی ہر منزل سر کرنے کے لئے آگے بڑھایا جائے۔‘ 
وزیراعظم نے کوئی ڈھائی درجن مسلم دانشوروں اور تقریبادو درجن مسلم ممالک کے سفارتکاروں کے درمیان یہ یقین دہائی بھی کرائی، ’ ہماری حکومت ہر طبقہ کی ترقی کا عز م کئے ہوئے ہے اور کسی کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ ۔۔۔ مسلمانوں کو تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لئے تمام تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔‘ 
ہم وزیراعظم کی ان یقین دہانیوں خیرمقدم کرتے ہیں۔ ملک کے 17 کروڑ 60لاکھ کی مسلم آبادی کے تعلیمی مسائل پر وزیراعظم کو براہ راست توجہ دلانے کا کام اہمیت کا حامل ہے۔ چنانچہ 15 دانشوروں کے مقالات پر مشتمل اس کتاب کی تیاری، اشاعت اوراس تقریب کے انعقاد میں جناب سراج قریشی کی مساعی بھی مستحق تحسین ہیں۔
کتاب کے اجراء کے بعد وزیراعظم نے قرآ ن کے حوالے سے علم کی فضیلت کے باب میں بڑی اچھی اچھی باتیں کہی ہیں۔ اہم بات یہ کہ یہ یقین دہانیاں اسی شخص نے کرائی ہیں جس نے گجرات کے وزیراعلا کی حیثیت سے مسلم اقلیت کے لئے مرکز کی تعلیمی وظیفوں کی اسکیم کو نافذ نہیں ہونے دیا تھا۔ اب وزیراعظم کے منصب پرسرفرازی کے بعداگران کا نظریہ بدل گیا ہے (جس پرانگشت نمائی غیرمطلوب ہے) تو پہلے قدم کے طور پر کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ تعلیمی وظائف کی اسکیم کو مزید بہتر کیا جائے اوراس کو تمام ریاستوں میں موثرطور پر نافذ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں؟ اس اسکیم کے موجودہ محدود دائرہ کو وسیع کیا جانا بھی ضروری ہے۔ مثلاً سردست آمدنی کی مقررہ حد (بعض اسکیموں میں صرف ایک لاکھ روپیہ) نہایت حقیر اورغیرحقیقی ہے۔ ان اسکیموں کا فائدہ (جن میں فیس کا ’ری امبرسمنٹ‘ بھی شامل ہے) ان تمام طلباء کو ملنا چاہئے جن کے ورثا ء کی آمدنی وسیع نہیں ہے۔ آمدنی کی حد کا تعین خاندان کے کل افراداوراس میں طلباء کی تعداد کا لحاظ رکھ کر کیا جانا چاہئے۔لڑکیوں کے کیسوں میں مزید رعایت مطلوب ہے۔
اسکالرشپ اسکیم میں خامیوں اوربڑی مسلم آبادی والے اضلاع اور بلاکس کے لئے مخصوص تعلیمی اسکیموں کے نفاذ کے طویل مطالعہ کے بعد آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ نے اس میں خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔ایک محضرنامہ سابق مرکزی وزیر کے رحمٰن خان کو سونپا گیا تھا، مگربدقسمتی سے اس پر ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی گئی، یہاں تک وہ ملاقات کا موقع بھی نہیں دے سکے۔ اس پر توجہ دی جانی چاہئے۔
ایک اہم مسئلہ اقلیتوں کے قائم کردہ عصری تعلیمی اداروں کی منظوری اور ان کے اقلیتی درجہ سے متعلق بھی ہے۔وزیراعظم نے تسلیم کیا ہے کہ’ مسلمانوں کو تعلیم کے کافی مواقع نہیں دئے گئے ۔‘، اس ضمن میں خصوصا مسلم تعلیمی این جی اوزکی ایک بڑی شکایت یہ رہی ہے کہ سرکاری انتظامیہ ہمارے تعلیمی اداروں کو اقلیتی تعلیمی ادارہ کا سرٹی فکیٹ جاری کرنے میں اناکانی کرتا ہے۔ اس کی ضرورت ختم کی جانی چاہئے اوراس کی جگہ اسکول انتظامیہ کا یہ حلفیہ بیان اوراشتہارکافی سمجھا جانا چاہئے کہ ان کا ادارہ اقلیتی ادارہ ہے۔ 
یوپی اے حکومت نے اس طرح کی شکایات کے ازالہ کے لئے ایک ادارہ ’نیشنل کمیشن فار مائنرٹی انسٹی ٹیوشنس‘ قائم کیا تھا، جس نے جسٹس سہیل احمد صدیقی کی سربراہی میں سنہ1198ء سے دسمبر 2014تک اپنی آٹھ سالہ مدت کار میں بیش قیمت خدمات انجام دیں ۔ ہزاروں تعلیمی اداروں کو (جن میں مسلم ادارے کم ہی تھے) اقلیتی سرٹی فکیٹ جاری کئے گئے۔ مگر دسمبر 2014میں جسٹس صدیقی کی مدت کار مکمل ہونے کے بعد سے آج تک کمیشن تعطل میں پڑا ہے۔ اس کوفوراً بحال کیا جانا اس ارادے کے عین مطابق ہوگا جس کا اظہار وزیراعظم نے کیا ہے۔ 
مسلمانوں کی ایک دیرینہ شکایت یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں اکثریتی فرقہ کے مراسم عبادات اورعقائد کو مسلط کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا اگراخلاقی تربیت کے لئے کچھ تعلیم مذہب کے حوالے سے دی جائے مگراس میں کسی خاص مذہب کی تبلیغ اوردیگر کی تحقیر قطعی نامناسب ہے۔ حال ہی میں سوریہ نمسکار اور سرسوتی وندنا جیسی خالص مذہبی چیزوں کو طلباء پرمسلط کرنے کا کام ان کی پارٹی کی سرکاروں نے کیا ہے۔ ان وجوہات سے مسلم طلباء کا خوش دلی کے ساتھ ان اسکولوں میں پڑھنا دشوارہوگیا ہے۔ اپنے بچوں کے عقیدے کی حفاظت کے پیش نظر بہت سے والدین سرکاری اسکولوں میں بچوں کو نہیں بھیجتے۔ اس مسئلہ پر توجہ دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلم تعلیم کی راہ کی ایک بڑی رکاوٹ دورہو جائے۔
سابق میں ہماری حکومت کو مدارس کی جدید کاری کی تو بڑی فکررہی، لیکن اس کی نیت پر شک کی ہمیشہ گنجائش رہی۔ خصوصاً اس لئے کہ اس نے مسلمانوں کی عصری تعلیم کے تقاضوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے متعلق شکایتوں پر کبھی کان نہیں دھرا۔ حال ہی میں مسلم یونیورسٹی نے مدارس سے فارغین کے لئے برج کورس شروع کیا ہے جس کے نہایت حوصلہ افزا ء نتائج سامنے آرہے ہیں۔ مرکزی وزارت تعلیم اوریوجی سی کو اس اسکیم کے لئے فراخدلی سے فنڈ فراہم کرانے چاہئیں اور دیگر یونیورسٹیوں میں بھی اس طرح کے کورس جاری ہونے چاہئیں۔
مسلم تعلیم کے اوربھی بہت سے پہلو ہیں جن پر حکومت کی ہمدردانہ توجہ بڑاکام کرسکتی ہے۔ ہم یہ کوشش کریں گے تمام این جی اوز کے مشورے سے اس پر ایک جامع محضرنامہ جلد حکومت کو پیش کردیا جائے۔ بیشک مسٹرمودی کی یقین دہانیاں بڑی دلکش ہیں لیکن ہمیں انتظاررہیگا کہ ان یقین دیانیوں کو جو انہوں نے غیرملکی سفارتی نمائندوں اورہندستانی ممتاز دانشوروں کے جلسہ میں کرائی ہیں ، عمل کس طرح اورکتنا ہوتا ہے

No comments: