Saturday, June 6, 2015

Mushawarat President disassociates from the pro-Israeli lobbying in Delhi

New Delhi, 4 June, 2015: Dr. Zafarul-Islam Khan, President of the Indian Muslim apex body, the All India Muslim Majlis-e Mushawarat, has disassociated himself from a pro-Israeli lobbying activity organised in a Delhi hotel today in which the organisers declared their opposition to the imminent US agreement with Iran over the latter's peaceful nuclear programme. Dr Khan said in a message to the organisers, "Please delete my name forthwith from this list. I do not support such a blatant pro-Israel move. Israel is the only country having nuclear arms in the Middle East and it shamefully refuses to sign NPT while Iran has signed NPT, has opened its nuclear facilities to IAEA inspection and has declared at the highest level that it does not intend to make nuclear arms. It is Israel which should be pressurised to destroy its nuclear arsenal consisting of around 1000 nuclear devices. It is Israel which has been blackmailing and threatening its neighbours with nuclear arms and it is Israel which wants to be the sole nuclear power in the Middle East in order to continue its occupation, expansion and blackmailing. I condemn this attempt in Gandhi's India to so blatantly support Israel. I further doubt that GCC and Sudan have anything to do with this dubious initiative. Mr NK Sharma contacted me on 28 May saying that they are organising an 'all religion peace summit for ME region' There was no mention of Iran. I had only agreed to attend this meeting. Now that I know the purpose, I totally disassociate myself with this shameful lobbying for the occupier-expansionist Israel."

Dr. Khan said categorically that he is opposed to any such movement whose sole purpose is to safeguard the Israeli supremacy, occupation and expansion in the Middle East.
[end] 


صدر مشاورت کا دلی میں اسرائیل نواز میٹنگ سے لاتعلقی کا اظہار 

نئی دلی، ۴ جون ۲۰۱۵: صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے آج یہاں ایک صحافتی بیان میں اعلان کیا کہ دلی کے ایک ہوٹل میں آج ہونے والی اسرائیل نواز کانفرنس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مذکورہ کانفرنس کا واحد مقصد امریکہ کی ایران سے ایٹمی مسئلے پر ہونے والے متوقعہ سمجھوتے کے خلاف رائے عامہ تیارکرناہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے مذکورہ کانفرنس کے منتظمین کو آج ایک ایمیل کے ذریعہ مطلع کیا کہ ’’میں اس جیسے واضح طور پر اسرائیل نواز عمل کی تایید نہیں کر سکتا ہوں۔ اسرائیل مشرق وسطی کا واحد ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے اور وہ بے شرمی کے ساتھ ایٹمی اسلحہ کے پھیلاؤ سے متعلق معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کرتا رہا ہے جبکہ ایران نے اس معاہدہ پر دستخط کر رکھے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایران نے اپنی ایٹمی سہولتوں کو بین الاقوامی ایجنسی برائے ایٹمی امور کے ماہرین کے سامنے کھول رکھی ہیں اور اعلی ترین سطح پر اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بناناچاہتا ہے۔ حقیقت یہ کہ ہے کہ اسرائیل پر دباؤ بنایاجانا چاہئے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیار تباہ کرے جس میں تقریبا ایک ہزار ایٹم بم شامل ہیں اور جس کے بل پر اسرائیل اپنے پڑوسیوں کو ایٹم بم سے حملے کی دھمکی دیتا رہا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ بلا شرکت غیرے صرف وہ مشرق وسطی میں ایٹمی طاقت کا حامل رہے تاکہ وہ غیر قانونی قبضہ، توسع اور بلیک میلنگ آسانی سے کرسکے۔ میں گاندھی کے ملک میں اس طرح کی کوشش کی مذمت کرتاہوں جو اتنی بے شرمی کے ساتھ اسرائیل کی طرف داری کررہی ہے۔ مجھے یہ بھی شک ہے کہ سوڈان اور خلیجی تعاون کونسل کا اس مشکوک لابینگ سے کوئی تعلق ہے۔ مسٹر این کے شرما نے ۲۸ مئی کو مجھ سے رابطہ قائم کرکے بتا یا تھا کہ وہ ’مشرق وسطی میں امن کے بارے میں تمام مذاہب کی ایک کانفرنس‘ منعقد کررہے ہیں۔ اس اطلاع نامہ میں ایران کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ مزید برآں میں نے صرف کانفرنس میں شرکت کی رضامندی دی تھی۔ اور اب جبکہ مجھے اس کانفرنس کا مقصد معلوم ہوگیا ہے، میں خود کو اس بے شرم لابینگ سے مکمل طورسے الگ کرتا ہوں جو کہ غاصب اور توسع پسند اسرائیل کے لئے کی جارہی ہے‘‘ 
ڈاکٹر ظفرالاسلام نے واضح طریقے سے کہا کہ وہ ایسی کسی بھی تحریک کی مخالفت کرتے ہیں جو مشرق وسطی میں اسرائیل کی بالادستی قائم رکھنے کے لئے کی جارہی ہو۔ 
(ختم)

No comments: