Saturday, June 13, 2015

Modi ka pajame, Vijya Laxmi kee Dhotee aur Gandhi Capمودی کا پاجامہ، وجے لکشمی پنڈت کی دھوتی اور کاندھی کیپ

سوئی دھاگہ اول ، شمشیر سنا ں آخر 
                                                    تحریر : انتظار حسین
ہمارے انگریزی اخباروں میں کالموں کی صورت جو گل پھول بکھرے نظر آتے ہیں، ان میں ایک کالم ایسا ہے جو ان کالموں سے الگ رنگ رکھتا ہے۔ اس کالم کے لکھنے والے ہیں جاوید نقوی صاحب جو دلی میں بیٹھے بیٹھے شگوفے چھوڑتے رہتے ہیں۔ تازہ ترین کالم میں انھوں نے کتنی خوب معلومات فراہم کی ہے کہ کچھ مولوی صاحبان نے اپنے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک ٹوپی نذر کی کہ حضور یہ ٹوپی پہنئے۔ آپ کے سر مبارک پر خوب سجے گی۔ انھوں نے وہ ٹوپی پہننے سے انکار کر دیا۔
جاوید نقوی صاحب نے اس پر ٹکڑا لگایا ہے کہ جب ہم نے گاندھی جی اور پنڈت نہرو کو کبھی مسلمانوں والی ٹوپی پہنے نہیں دیکھا تو نریندر مودی جی سے کیوں یہ توقع رکھی جائے کہ وہ مولوی ملاؤں والی ٹوپی پہنیں گے۔ ہاں ان کے لباس میں کوئی ایسی شے ہے جو مسلمانوں سے براہ راست مستعار ہے وہ تو ان کا پائجامہ ہے۔ اگر ان کے لباس پر انگشت نمائی کی جا سکتی ہے تو وہ ان کا پائجامہ ہے۔
جاوید نقوی نے صحیح کہا کہ پائجامہ تو سوئی دھاگہ کا مرہون منت ہے۔ اسے سئے گا کون۔ درزی۔ جاوید نقوی صاحب کہتے ہیں کہ سنسکرت زبان میں درزی کے لیے کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔ تو یہ جو نقوی صاحب سلے ہوئے ملبوسات میں سارا زور پائجامہ پر دے رہے ہیں اس کا کیا مطلب ہے۔ یہ کہ بنیادی چیز پائجامہ ہے۔
یعنی ہندوستان کے سلے ہوئے ملبوسات میں پائجامہ کا وہی مقام ہے جو روسی فکشن کی تاریخ میں گوگول کے ’اوور کوٹ‘ کا مقام ہے جس کے متعلق دوستو فسکی نے کہا کہ ہم سب روسی فکشن نگار گوگول کے ’اوور کوٹ‘ سے برآمد ہوئے ہیں۔ لیجیے اس پر ہمیں ڈاکٹر ذاکر حسین کا ایک بیان یاد آیا۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ مسلمانوں نے ہندوستان کو تین قیمتی چیزیں عطا کی ہیں۔ تاج محل‘ غالب اور اردو۔ اب پتہ چلا کہ ایک چوتھی چیز بھی تھی پائجامہ۔ تاج محل‘ غالب‘ اردو زبان‘ اور پائجامہ۔
مگر ایک چیز ہم بھول جاتے ہیں۔ لیجیے علامہ اقبال نے کتنی سچی بات کہی ہے ع
مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
مسلمانوں کی تیغ و سناں نے بھی کمال دکھایا ہو گا۔ مگر اس سے بڑھ کر ان کی سوئی نے کمال دکھایا۔ مسلمانوں کی آمد کے بعد ہندوستان میں جو تہذیبی انقلاب آیا وہ تو سوئی کے زور پر آیا۔ اسی کے فیض سے ہندوستان ایک نئی ملبوساتی تہذیب سے شناسا ہوا۔ سوئی دھاگہ نے ایسا کرشمہ دکھایا کہ اہل ہند کا لباس سر سے پیر تک کچھ سے کچھ ہو گیا۔ گویا جسے ہم گنگا جمنی تہذیب کہتے ہیں یا ہند اسلامی تہذیب وہ تیغ و سناں کی مرہون منت نہیں ہے۔ ایک ننھی سی سوئی نے یہ جادو جگایا ہے۔ ٹوپی سے لے کر پائجامہ تک ملبوساتی شان کیا سے کیا ہو گئی۔
ہاں یاد آیا۔ اب سے تھوڑا عرصہ پہلے ڈاکٹر ایوب مرزا نے فیض صاحب کی یادیں قلمبند کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میرے پاس فیض صاحب کا ایک پائجامہ محفوظ ہے۔ اسے میں نے فیض صاحب کی یادگار کے طور پر سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ اس پر ہم بہت ہنسے کہ ظالم تجھے فیض صاحب کے سارے لباس میں سے ایک پائجامہ ہی ان کی سب سے بامعنی یاد گار  نظر آئی تھی یہ تو اب جاوید نقوی نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا ہے کہ اصل اور بنیادی چیز تو پائجامہ ہے کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پائجامہ کی اگر نمود نہ ہوتی تو ہندوستان دھوتی سے آگے کچھ دیکھ ہی نہ پاتا۔
اچھا ہاں وہ جو ٹوپی کے متعلق جاوید نقوی صاحب نے ارشاد فرمایا ہے وہ ذرا محل نظر ہے۔ گاندھی جی اور پنڈت نہرو کی ٹوپیوں کی طرف انھوں نے کچھ اس انداز سے اشارہ کیا ہے کہ وہ جو گاندھی کیپ ہے۔ مسلمانوں کی ٹوپیوں سے اس کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے۔ یاد آیا کہ جب ہم حکیم اجمل خاں کی سوانح لکھ رہے تھے تو ہم نے ان کے پوتے حکیم محمد نبی خاں سے ان کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے کے بارے میں بھی ان سے بہت کچھ پوچھا۔ حکیم صاحب کی ٹوپی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گاندھی کیپ کا ماخذ تو اجمل کیپ ہے۔
تفصیل اس کی یوں بیان کی کہ کانگریس کمیٹی کی ایک میٹنگ میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ کانگریس والوں کی ٹوپی دوسری ٹوپیوں سے الگ ایک امتیازی شان کی حامل ہونی چاہیے۔ پھر وہ کیسی ٹوپی ہو۔ اس بحث کے بیچ گاندھی جی کی نظر حکیم اجمل خاں کے سر کی طرف گئی اور وہیں جم کر رہ گئی۔ تھوڑی دیر بعد سوچ کر بولے کہ حکیم صاحب کے سر پر جو ٹوپی سجی ہے اس وضع کو سامنے رکھیں تو مناسب ہو گا۔ کمیٹی نے ایسا ہی کیا۔ اور منظور شدہ ٹوپی کا نام رکھا گیا‘ گاندھی کیپ۔
اچھا خیر یہ سب کچھ تو ہوا۔ سوئی کی کرشمہ سازی مسلّم۔ لیکن ہندوستان کی قدیم تہذیب بھی اتنی کچی نہیں تھی۔ ایک کمزوری اس تہذیب نے ضرور دکھائی۔ اس کے عالی دماغوں نے صفر تو دریافت کر لیا۔ مگر سوئی ان کی گرفت میں نہیں آئی۔ پھر بھی ایک محاذ پر اس نے ڈٹ کر مزاحمت کی۔
یہ تھا نسوانی محاذ۔ مطلب یہ کہ اس تہذیبی آویزش میں دھوتی کے بل کھل گئے مگر ساڑھی کی چنٹیں جوں کی توں رہیں۔ یعنی پنڈت نہرو نے علی گڑھ کٹ‘ لکھنؤ کٹ‘ اور ٹخنوں والے پائجامے سے ہٹ کر اپنی الگ وضع کے پائجامے کو اپنایا۔ شیروانی اس پر مستزاد۔ مگر وجے لکشمی پنڈت نے ساڑھی اتنی کس کر باندھی تھی کہ اس کی چنٹیں نہیں کھلیں۔ ساڑھی ہندی تہذیب سے اتنی پیوست رہی کہ مسلم خواتین کے غراروں‘ شلواروں‘ تنگ موری کے پائجاموں کی ساری کشش بے اثر رہی۔ ہندی عورت نے اپنی ساڑھی نہیں چھوڑی۔ خود مسلم خواتین نے ساڑھی کے حسن و زیبائش کو جانا اور اپنے ملبوسات میں اسے شامل کر لیا۔ سوئی دھاگہ سے آزاد ساڑھی ہندوستان کی قدیم ملبوساتی تہذیب کی کتنی سچی یاد گار ہے

No comments: