Thursday, May 21, 2015

The Human Crises created in Myanmar, Rohingya plight and our response

میانمارکا انسانی بحران اورہماری بے خبری
سید منصورآغا،نئی دہلی
ابھی چند ہفتہ قبل ہمارے پڑوسی ملک نیپال میں ایک قدرتی آفت نازل ہوئی جس پر ہماری حکومت سے لے کر میڈیا تک سب انتہائی متحرک اورمتفکر ہوگئے اورمصیبت زدگان کی امداد کے لئے دوڑ پڑے ۔ انسانی ہمدردی کا یہ جذبہ یقیناًقابل قدر ہے۔لیکن اس سے بھی بڑی آفت ہمارے دوسرے پڑوسی ملک میانمارکے غریب روہنگیا باشندوں پرآئی ہوئی ہے، جس میں اب تک نیپال زلزلے سے کئی گنا زیادہ افرادہلاک اور بے گھر ہوچکے ہیں ۔ تقریبا آٹھ ہزارافراد اس وقت عالم بے بسی میں سمندرمیں بھٹک رہے ہیں اورکوئی ان کا پرسان حال نہیں۔ نہ انسانی ہمدردی کا وہ جذبہ نظرآیاجو نیپالی باشندوں کے تئیں ابل پڑاتھااورنہ اتنی بڑی مصیبت میں میڈیا کو کوئی خبر نظر آرہی ہے ۔ فرق یہ ہے نیپال میں یہ مصیبت قدرتی تھی جبکہ روہنگیا باشندوں پر ظلم وہاں کے حکمرانوں اوربودھ مہنتوں کا ڈھایا ہوا ہے۔
ہمارے وزیراعظم ابھی تین پڑوسی ممالک چین، منگولیا اورکوریا کے دورے سے لوٹ کرآئے ہیں۔ ان کو کوریاکااجودھیا سے لاکھوں سال پرانا سسرالی رشتہ یادہے۔ ایک تقریر میں فرمایا ،اجودھیا کی شہزادی بیاہ کرکوریا گئی تھیں۔ مگر پڑوسی ملک میانمار کے ان باشندوں سے کوئی رشتہ نظر نہیں آتا، جن میں بڑی تعداد معلوم تاریخ کے دور کی ہندستانی نسل کی ہے۔16مئی کو شنگھائی میں چین کے صدر زی جن پنگ کے ساتھ ایک مشترکہ خطاب میں وزیر اعظم نریندرمودی نے اعلان کیا:’’ یہ چین اورہند کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ہمیں پوری دنیا کی مدد کرنے کے لئے ساتھ چلنا ہوگا۔‘‘دوسرے ہی دن چین کے سرکاری اخبار’پیپلز ڈیلی‘ میں ایک مضمون شائع ہوا،جس میں ایک ایسی عالمی برادری کے تصوردیا گیا ہے جس کی قسمت ، غم وخوشی میں اور خوشحالی میں مشترکہ ہو گی۔چین کے سرکاری اخبار میں یہ مضمون یقیناًصدرکے دفتر سے آیا ہوگا، جس میں صدرزی کے حوالے سے کہا گیا ہے: ’’ہمارے مقدر خوشی اورغمی میں باہم شریک ہیں،اورہمارے خواب بھی مشترکہ ہیں۔‘‘
یہ عالمی سطح پرابھرتی ہوئی دو بڑی طاقتوں اور ایشیا کی دو انتہائی بااثرمملکتوں کے رہنماؤں کے عالمی قیادت کے لئے عزائم اورعالمی برادری سے یگانگت کے انتہائی قابل توجہ اورپرجوش ارادوں کا اظہا ر ہے۔ لیکن جس وقت ان کے یہ ولولہ انگیز بیانات نشر ہورہے تھے،اس وقت عالمی میڈیا پر یہ رپورٹیں بھی آرہی تھیں کہ چین اورہندستان کے پڑوسی ملک برما سے گھر بدرتقریباً آٹھ ہزارافراد، بغیر ملاحوں کی کشتیوں میں بحرانڈمان میں بھٹک رہے ہیں۔ ان کو کوئی سہارادینے والا نہیں۔ان میں اکثرنحیف ونزارافراد کی ہے۔ ان کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں۔ اکثرکے جسم میں پانی کی شدید قلت پیداہوگئی ہے ۔ سینکڑوں افراد مرچکے ہیں۔ اگرکوئی کشتی ملیشیا یا تھائی لینڈ کے ساحل کے قریب پہنچ جاتی ہے تو سمندر میں دھکیل دی جاتی ہے۔ایک صحافی نے ان کشتیوں کو ’’زندہ افراد کے تابوت‘‘ قرار دیا ہے۔
یہ روہنگیا صدیوں سے برما میں رہتے چلے آئے ہیں۔ لیکن وہاں کی فوجی سرکار نے عالمی قوانین کے خلاف ان کی شہریت کوسلب کرلیا ہے۔ ان میں سے بہت سوں پر یہ الزام یہ ہے یہ اصلاً بنگالی ہیں۔ غیر منقسم بنگال سے آ کر برما کی حدود میں بس گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو بھی آکر بسا وہ صدیوں سے وہاں رہ رہا ہے۔ اس کے اباواجداد کو وہاں کی شہریت حاصل تھی۔ دوسرے یہ کہ برما کی سرحد بنگال سے ملی ہوئی ہے۔ صدیوں سے آنے جانے کی کوئی قید نہیں۔ اگران کی بولی اور رہن سہن بنگالیوں جیسے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ۔ دنیا میں ہرجگہ یہی صورت پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے مغربی قبائلی علاقوں کی تہذیب وتمدن اوررسم ورواج سب افغانیوں سے ملتے ہیں۔ ہندستان کی دور مشرقی ریاستوں ناگالینڈ، اروناچل پردیش اورسکم وغیرہ کے باشندوں کے نقش ونگار اور رہن سہن چینیوں سے ملتے جلتے ہیں ۔اسی طرح برما کے سرحدی علاقوں میں چھوٹی چھوٹی بستیوں میں آباد کچھ روہنگیا باشندوں میں بولی وغیرہ میں بنگالیوں سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ لیکن ان کا سب سے بڑا قصورشائد یہ ہے کہ ان کے نام مسلمانوں جیسے ہیں اوران میں سے تھوڑے بہت نمازروزہ کے بھی پابند ہیں۔اسی لئے نہ چین کی جبیں پر کوئی شکن ہے اورنہ مودی کو کوئی ملال ہے۔
مودی کے اس تازہ سہ ملکی دورے کے دوران الیکٹرانک میڈیا پررات دن مودی کی شعبدہ سامانیوں پر تالیاں بجاتے چیرلیڈرس کی لائیو کلپنگ دکھلائی جارہی تھیں۔ لیکن برمی روہنگیا مسئلہ کو پوری طرح نظرانداز کردیا گیا۔ اب مودی اورزی نے عالمی قیادت اورعالمی برادری کے دکھ درد میں شرکت کے جس حوصلہ مندانہ عزم کا اظہار کیا ہے ، کیا اس کا منطقی تقاضا یہ نہیں کہ اس کی پہل اپنے پڑوس سے کی جائے اورہماری ناک کے نیچے سمندرمیں جو اتنا بڑا انسانی المیہ روز شدید ترہوتا جا رہا ، کچھ اس کو حل کی فکر کی جائے۔
بیشک ہندستان اورچین کو پوری دنیا کے دکھ درد میں شرکت کے اعلان کے ساتھ ہی پہلا مشترکہ عملی قدم برما کے روہنگیا باشندوں کی شہریت کے مسئلہ کو سلجھانے کے لئے اٹھانا چاہئے۔ افسوس کہ اس معاملے میں موجودہ مرکزی سرکار اورسابق یوپی اے سرکار کی سردمہری میں کوئی فرق نہیں ، حالانکہ یہ دونوں سرکاریں پاکستان میں ہندو اقلیت پر مبینہ مظالم کے خلاف خوب بلبلاتی رہی ہیں۔ان کو بھی برما کے ان مظلوموں سے ہمدردی شائد اس لئے نہیں کہ وہ ہندو نہیں ہیں اور ان پر ظلم وہاں کی غیرآئینی سرکار عدم تشدد کے نام لیوا بودھ بھکشوؤں کی شہ پر ڈھا تی رہی ہے۔ 
یہ ظلم اس لئے بہت نمایاں ہے کہ برما پر قابض انگریزوں نے جنگ عظیم کے دوران ریاست ارکان کے برما میں شامل کرلیا تھا، جو روہنگیا مسلم اکثریت والا خطہ تھا۔ اب اس کا نام ’رِکھنی‘ کردیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش سے متصل اس خطے میں چین اورہندستان آئندہ چند سالوں میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والے ہیں۔ مگران دونوں ممالک نے حقوق انسانی کی اس شدید پامالی سے آنکھیں بند کررکھی ہیں جس کا ارتکاب فوجی حکومت کررہی ہے۔ 
تاریخی پس منظر
ریاست ارکان میں مسلمانوں کی آمدبرمی ریاست کے قیام سے بھی قبل نویں صدی عیسوی میں شروع ہوئی۔ان میں عرب، ترک، فارس، مور، چین اورملایشیا کے تاجرپیشہ خاندانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ کچھ لوگ فوجی پیشہ بھی تھے جو محافظ کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔ انہوں نے سامان تجارت کے لئے بڑے بڑے بحری جہاز بنائے اوربرمی خطے کو عالمی تہذیب وتمدن سے روشناس کرایا۔ انہوں نے اپنی لیاقت اور صلاحیت سے برماکومالا مال کیا اورخوب نام کمایا۔بودھ حکمرانوں نے مسلم عالموں کو اعزاردیا۔ ان کو اپنے شہزادوں کا اتالیق مقرر کیا۔ بڑے بڑے منصب دئے ۔گھروں اورمساجد کی تعمیر کے لئے بڑی بڑی زمینیں دیں۔ 1923میں پہلی جنگ عظیم کے دوران اس خطے پر انگریزوں کا تسلط قایم ہوگیا۔ سرکاری نظام کو چلانے کے لئے انگریزبھی خاصی بڑی تعداد میں ہندستان سے تعلیم یافتہ افراد کوارکان لائے ۔یہ خطہ کیوں کہ بنگال سے متصل تھا، اس لئے قدرتی طور پر ان میں خاصی تعداد بنگالی مسلمانوں کی بھی تھی۔ان سب مسلمانوں کو جو روہنگیا کہلاتے ہیں، روزاول سے برما کی مکمل شہریت حاصل رہی۔ 1948میں برما کی آزادی کے بعد بھی ان کی شہریت پر کوئی سوال نہیں اٹھا۔
یہ فساد 1950کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب ارکان کو جبراً’آزاد جمہوریہ برما‘‘ کا حصہ بنالیا گیا۔ اس وقت ارکان کی 42فیصد آبادی مسلم تھی اورریاست کے دروبست میں ان کا عمل دخل تھا، جو جمہوریہ برما میں ضم کئے جانے کے بعد ختم ہوگیا۔ چنانچہ فطری طور سے مسلم آبادی نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور ارکان کی آزادی کی بحالی کے لئے ایک سیاسی تحریک شروع ہوگئی۔ اس تحریک کو کچلنے کے لئے جنرل نے ون کی فوجی حکومت نے 1974 کے بعد تین اقدامات کئے۔ سب سے پہلے ارکان کی سرحدوں کو بدل کراس کا نام وہاں غالب بودھ قبیلہ کے نام پر ’رِکھنی ریاست ‘ کردیا، جس سے بودھ شدت پسند مذہبی لیڈروں کے حوصلے اوربلند ہوگئے اورفوج کی شہ پر مسلم مخالف فسادات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان کو گھروں سے نکال دیا گیا اور وہ جنگلوں میں جان چھپاتے پھرے۔ اب ان کی آبادیاں صرف ناقابل رہائش جھگی جھونپڑیوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
جنرل نے ون کی سرکار نے دوسرا کام یہ کہا کہ 1982میں ایک قانون نافذ کرکے بیک جنبش قلم سارے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت سے محروم کردیا ۔ کہا یہ گیا کہ یہ سب ریاست ارکان پر انگریزی قبضہ کے دوران باہر سے لاکر بسائے گئے۔ اگر 1923سے قبل یہاں رہنے کو کوئی ثبوت ہو تو لاؤ ، شہریت مل جائیگی۔ ظاہر ہے اس طرح کا ثبوت عوام کے پاس تو کیا خواص کے پاس بھی نہیں ملا کرتا۔ جنرل نے ون کی سرکار نے تیسرا کام یہ کیا کہ مسلم آبادی کا عرصہ حیات تنگ کرنے کے لئے ان کے خلاف ناانصافی اورمظالم کو قومی سرکاری پالیسی کا حصہ بنالیا۔ارکان کی آزادی کے بحالی کی تحریک کو کچلنے کے لئے آٹھ لاکھ باشندوں کو شہریت کے حقوق سے محروم کردیا گیا۔ ان کو ہراساں کرنے کے لئے فسادات اب بھی ہوتے ہیں جن میں بودھ بھکشو پیش پیش رہتے ہیں۔اس دوران عصمت دری کی بھی کچھ خبریں آئیں۔ غرض ان مظالم سے یہ بڑی آبادی بے حدعاجزآچکی ہے۔ برمی حکومت کی شہ پر کچھ مافیا وہاں سرگرم ہیں ، جو اچھے دنوں کو خواب دکھا کر ان کو کسی دوسرے ملک پہنچانے کے لئے کشتیوں میں بھرتے ہیں۔ کبھی کسی پڑوسی ملک کے ساحل تک پہنچا دیتے ہیں اورکبھی ان کو سمندر کے درمیان چھوڑ کر فرار ہوجاتے ہیں۔ تازہ بحران اسی طرح کا ہے۔
عالم اسلام کی خاموشی
اگر عیسائیوں پرزرا سی بھی آنچ آتی ہے، سارا عیسائی جگت بول اٹھتا ہے،جیسا کہ حال ہی میں ہم نے دیکھا۔ لیکن دنیا میں کہیں بھی مسلم اقلیت پر آفت آتی ہے،عالم اسلام عموماً بے خبررہتا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اہل مغرب نے عالم اسلام کو خود ان کے مسائل میں اس قدرالجھا دیا ہے کہ وہ مضبوطی سے کوئی آواز اٹھانے کے موقف میں ہی نہیں۔ اگر یہ مسلم ممالک برما کے روہنگیا مسلمانوں پربرمی حکومت اورترکستان شرقیہ (زن جیانگ) کے قدیم’ اؤیغور‘ مسلم باشندوں پر چینی حکومت کے مظالم پر اقوام متحدہ کے ادار ہ برا ئے انسانی حقوق کو بھی مضبوطی سے توجہ دلائیں تو صورتحال میں کچھ بہتری آسکتی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی شہریت کے معاملے کو تو عالمی عدالت میں بھی اٹھایا جانا چاہئے۔ برما کے انتہائی قریبی پڑوسی ہونے اورروہنگیا مسلمانوں میں ہندستان اور چینی نسل کے لوگوں کی شمولیت اس بات کی متقاضی ہے یہ دونوں ملک ،جو عالمی قیادت کا خواب دیکھ رہے ہیں، اپنے پڑوس سے انسانیت کی خدمت کا عمل شروع کریں تاکہ ان کے عزم کو ایک حقیقت پسندی اورآواز میں توانائی پیدا ہو

No comments: