Monday, May 11, 2015

Tablighi worker thrashed in UP Train, violent reaction in Kandhla-Part I

تبلیغی کارکن کی ٹرین میں پٹائی اور قصبہ کاندھلہ میں ردعمل 
تحریر سید منصورآغا
گزشتہ جمعہ ، یکم مئی کوایک اورناخوشگوارواقعہ پیش آیا جس پر ردعمل اور جوابی ردعمل نے اس کو مزید ناخوشگوار اور ماحول کو کشیدہ، کبیدہ اور فساد رسیدہ بنادیا۔ہوا یہ کہ فرخ آباد۔سہارنپور جنتا ایکسپریس میں قصبہ چخلی، ضلع بلڈھانہ، مہاراشٹرا کے ایک مسافر فرخ علی خان کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی ، داڑھی بھی نوچ لی گئی۔ فرخ خان چاردیگرافراد کے ساتھ مہاراشٹرا سے دہلی آئے تھے۔ارادہ غالبا تبلیغی جماعت میں بھی جانے کا تھا مگر جماعت کے مرکز نظام الدین جانے کے بجائے کسی سے ملنے کے لئے سہارنپورکا رخ کیا۔ فرخ خان کے ساتھ ہاتھاپائی اس وقت ہوئی جب وہ ٹرین میں بیت الخلا جا رہے تھے۔ ٹائلٹ کے راستہ میں چند لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ان سے کچھ کہا سنی ہوگئی اورنوبت ہاتھا پائی تک پہنچی۔ خود فرخ نے بتایا کہ یہ لوگ غالباً شراب کے نشے میں بھی تھے۔ ایک خاتون مسافراورچند دیگر مسافروں نے معاملہ کورفع دفع کرایا۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا ،فرخ علی کے دیگر چار ساتھی ڈبے کے دوسرے حصے میں تھے۔مارپیٹ صرف فرخ علی خاں کے ساتھ ہوئی۔ لیکن کاندھلہ اورقرب وجور میں خبریہ پھیلی کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ مارپیٹ ہوئی۔ 
یہ ٹرین تقریبا ساڑھے چھ بجے بڑوت پہنچی ۔ فرخ کے ساتھ مارپیٹ کرنے والے مسافروہیں اترگئے۔یہ وقت ڈیلی پسنجروں کے گھر لوٹنے کا ہوتا ہے۔ گمان یہ ہے کہ یہ حرکت ایسے ہی مسافروں نے کی۔ ٹرین تقریباً سات بجے کاندھلہ پہنچتی ہے۔ یہ حضرات سہارنپور جانے کے بجائے کاندھلہ اترگئے اورشکایت درج کرانے تھانہ پہنچ گئے۔ تھانہ قصبہ میں ہے اور اسٹیشن سے قصبہ کوئی دوتین کلو میٹر دور ہے۔کاندھلہ میں تبلیغی تحریک کے متوسلین کی اچھی خاصی تعدادہے۔ تحریک کے بانی مولوی الیاسؒ اصلاًاسی قصبہ کے باشندہ تھے۔
اتفاق سے یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب کچھ لوگ کئی د ن سے تھانے کے سامنے دھرنے پر بیٹھے تھے اورشہر میں کوئی ایک ہفتہ سے اس لئے ہیجان تھا کہ چند لفنگے ذہنی طور سے معذورایک نوجوان مسلم لڑکی کواٹھا کرلے گئے ۔ بظاہر اس کی آبروریزی کی گئی تھی ۔وہ نیم برہنہ حالت میں شہر سے باہر کھیتوں میں ملی تھی۔ مگرپولیس اس سنگین معاملہ میں کوئی کاروائی نہیں کررہی تھی۔ چنانچہ بی ایس پی لیڈر اورسابق چیرمین حاجی اسلام اور چند دیگر افراد پولیس پر دباؤ ڈالنے کے لئے مہم چلارہے تھے۔ اس واردات کوانجام دینے کا شبہ جن دبنگوں پر ہے، الزام ہے کہ پولیس ان کو نظرانداز کر رہی ہے۔ چنانچہ تھانے کے باہر کئی دن سے دھرنا جاری تھا اورفضا پہلے سے مکدرتھی۔یہ صورت پہلے سے تھی کہ آناً فاناً یہ خبرپھیل گئی کی ٹرین میں تبلیغی جماعت کے ساتھ مارپیٹ ہوئی۔
عام قاعدہ یہ ہے کہ جب اس طرح کا واقعہ پیش آتا ہے تواس کی اطلاع ایک سے دوسرے کو پہنچتے پہنچتے مبالغہ بہت ہوجاتا ہے۔ چنانچہ یہاں بھی یہی ہوا۔ دوسری صبح کاندھلہ بڈھانہ روڈ پر ریلوے کراسنگ پر ہزاروں افراد جمع ہوگئے۔ کیرانہ حلقے سے سماجوادی رکن اسمبلی ناہید حسن اور کاندھلہ سے حاجی اسلام اورچند دیگر معززین بھی پہنچ گئے۔ اطلاع ملتے ہی ضلع کلکٹراورپولیس کے اعلا حکام بھی آگئے ۔ ان سے پرسکون ماحول میں خاطیوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ضلع حکام نے پہلے دس دن میں اور پھر لوگوں کے اصرار پر دو دن میں کاروائی کی یقین دہائی کرائی، جس کے بعد اکثر لوگ منتشر ہوگئے ۔مگر چند ناعاقبت اندیش افراد کے ورغلائے میں چالیس پچاس سر پھرے وہیں جمے رہے اور فوری کاروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ انہی لوگوں نے ریل روکی، پتھراؤ کیا اورریل کی املاک کو بھی کچھ نقصان پہنچایا۔ کہا جاتا ہے اکہ یک شخص نے کلکٹر کومارنے کے لئے ہاتھ بھی اٹھایا(مارا نہیں)۔ جس پر حکام ضبط کھو بیٹھے۔ لاٹھی چارچ ہوا۔ کسی نے گولی بھی چلائی، جس میں ایک نوجوان دین محمد زخمی ہوگیا ۔ مگر شہر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ فائرنگ میں دو، تین افراد مارے گئے ۔چنانچہ ہزاروں کی بھیڑ تھانے پر جمع ہوگئی۔کچھ شرپسندوں نے تھانے میں کھڑی ہوئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
اس ہنگامہ کا اثر یہ ہوا کہ اصل معاملہ پس پشت چلا گیا اورپولیس نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اوربلوہ کے الزام میں پانچ افراد کو نامزد کرکے دو ہزارنامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کرلیا ہے۔ اب اندیشہ یہ ہے کہ پولیس جس کوچاہے گی پکڑے گی، رگڑے گی اوروصولی کرے گی۔ آپس کی رنجش نکالنے کے لئے خود اپنے ہی بھائی ایک دوسرے کے خلاف پولیس سے شکائتیں کریں گے، مخبری کریں گے اور پکڑوائیں گے۔پولیس نے رپورٹ میں ناہید حسن، ایم ایل اے ، سابق چیرمین حاجی اسلام کے علاوہ میرجنگ، نصیر اورمذکورہ مظلوم لڑکی کے والد سلیم کو بھی نامزد کرلیا ہے۔نصیرغالباً سلیم کے ہی کوئی عزیز ہیں۔سلیم (اورنصیر) کو نامزد کرنے کی وجہ صاف ہے کہ وہ گھبراکر لڑکی کی عصمت دری کے معاملہ میں خاموش ہوجائیں اور خاطی دبنگ اورشیر ہوجائیں۔
ڈیلی پسنجروں کی زیادتی
ٹرین میں مسافروں کے ساتھ دھینگا مشتی کا یہ جو معاملہ پیش آیا، اس میں کچھ اثر توفرخ خان کی داڑھی، ٹوپی اورلباس سے اس کد اور نفرت کا بھی ہوگا جس کا انجکشن عوام میں لگاتار لگایا جارہا ہے۔اس طرح کی نازیبا حرکتیں اس روٹ کی ٹرینوں میں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زیادتی کرنے والے جب زیادتی پر آتے ہیں تو اپنے ہم مذہبوں کو بھی نہیں بخشتے۔عموماً یہ حرکتیں ڈیلی پسنجر کرتے ہیں جن کے غول کے غول چلتے ہیں ۔ مسافروں کو زور زبردستی سے ہٹا کر خود سیٹوں پرجم جاتے ہیں اور چوکڑی بنا کر تاش کھیلتے ہیں۔ جوا بھی چلتا ہے۔ بعض ٹرینوں میں ان کی ٹولیاں ڈھول، جھانجن اور ٹالیوں کے ساتھ اونچی آواز سے بھجن گاتی ہوئی چلتی ہیں۔ان میں چند ہی کے پاس سیزنل ٹکٹ ہوتے ہیں ۔اکثریت بغیر ٹکٹ ہوتی ہے۔ٹکٹ چیکنگ ہوتی ہی نہیں۔نئی نسل میں عموماً دھینگا مشتی اورماردھاڑ کو ہی لیاقت اور شان سمجھا جانے لگا ہے ۔ مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات کی ایک بڑی وجہ ماحول کا وہ بگاڑ ہے جو سنگھی تحریک نے پیدا کردیا ہے۔ (جاری۔ ملاحظہ فرمائیں حصہ دو)

No comments: