Monday, May 11, 2015

Tablighi Worker thrashed in UP Train and violent protest in Kandhla

قسط دو
ٹرین میں مسلم مسافر کی پٹائی کا معاملہ اور قصبہ کاندھلہ
دوسرا پہلو
ہرچند کہ واقعہ ناخوشگوارہے مگر اس کا عجلت میں جو شدید رد عمل ہوا، سینکڑوں لوگ احتجاج کرنے گھروں سے نکل پڑے، اس کو اگرچہ فرقہ ورانہ زاویہ سے ہی دیکھا جارہا ہے اور فرقہ ورانہ رنگ دیا جارہاہے، لیکن اس کے کچھ دوسرے پہلو بھی ہیں۔یہ صرف فرقہ ورانہ امن و قانون کا مسئلہ نہیں، بلکہ سرکار کی مجموعی ناکامی ، نااہلی اورناعاقبت اندیشی کا معاملہ ہے۔ سرکارکی سرپرستی میں ناانصافیوں کا بول بالا ہو رہا ہے۔کہنے کو تو حکومتیں عوامی نمائندوں کی ہوتی ہیں، لیکن عوامی شکایات کے معاملہ میں اس قدر بے حس ہوگئی ہیں کہ جب تک ہنگامہ نہ ہو ،کان پر جوں نہیں رینگتی۔ ہنگامہ کو شانت کرنے کے لئے جو وعدے کئے جاتے ہیں، ہنگامہ دبتے ہی پہلی فرصت میں ان کو بھلادیا جاتا ہے۔یوں تو اس ناانصافی کا شکار ملک کے سبھی دبے کچلے باشندے ہیں، مگرعیسائی اور مسلم اقلیت کے ساتھ ناانصافیوں میں تعصب اورفرقہ پرستی کا زہر بھی گھل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں یہ دونوں اقلتیں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ سرکاروں کی سرپرستی میں مسلسل اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن کی بدولت عدم تحفظ اور زیادتی کا یہ احساس بڑھتا جاتا ہے۔ کاندھلہ کا یہ ردعمل اسی احساس بے بسی کا اظہار ہے۔مثل مشہور ہے مرتا، کیا نہ کرتا۔
سرکار کی نظر میں شفافیت کے ساتھ نفاذ قانون کی کوئی اہمیت ہی نہیں ۔ جو لوگ چن کرآتے ہیں اورسرکار بناتے ہیں ان کے بھی ذہنوں میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ پولیس اور سول انتظامیہ کا استعمال دولت کی کشید کے لئے اس قدر عام اوربرہنہ ہوگیا ہے کہ کوئی پارٹی اس سے پاک صاف نہیں رہی ہے۔
اس ناانصافی کی ایک مثال تھوک میں فرضی انکاؤنٹر کے واقعات ہیں۔ دہشت گردی جیسے سنگین الزام میں بغیر ادنیٰ ثبوت گرفتاریاں ہوتی ہیں۔جس کو چاہا پکڑا اور سالہا سال جیلوں میں ایڑیاں رگڑنے پر مجبور کردیا۔ اب تک سینکڑوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی زندگیوں کوتباہ کیا جاچکا ہے۔دوسری طرف کھلی اشتعال انگیزی اور دھرم کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں کو اعزار واکرام سے نوازا جاتا ہے۔ اگر قانون کی عملداری ہوتی، ناانصافیوں کی بھر مار نہ ہوتی تو پھراس طرح کے ردعمل نہ ہوتا۔
فرقہ پرستوں کا کھیل 
کاندھلہ کا یہ واقعہ پیش آتے ہی فرقہ پرستی کا کھیل شروع ہوگیا۔ جھوٹ پھیلانے اورعوام کو گمراہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا کھل کر استعمال ہورہا ہے۔ وہاٹس ایپ اورٹوئیٹر پر افواہیں گشت کررہی ہے۔ لیڈروں کے بیانات آرہے ہیں۔ فرقہ ورانہ طور پر پرامن قصبہ کاندھلہ کی فضا کو مکدرکرنے کے لئے لیڈروں کا آنا جانا شروع ہوگیا ہے۔ اخباروں میں غیرمحتاط رپورٹیں آرہی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ مسلم فرقہ گودھرا جیسا ماحول پیدا کررہا ہے۔وہاٹس ایپ پر یہ جھوٹ پھیلایا جارہا ہے کہ ہندو مسافروں کے ساتھ مسلمانوں نے بدسلوکی۔ حالانکہ کسی مسافر کیساتھ کوئی بدسلوکی نہیں ہوئی۔ مگرسنگھی تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے قومی سیکریٹری روہت چہل نے وہاٹس ایپ پر لکھا: شاملی معاملہ پر میڈیا خاموش کیوں ہے؟ کیا وہ گودھرا سے بھی کسی بڑے واقعہ کا انتظار کررہاہے؟‘مطلب یہ کہ ٹی وی چینلوں پر ان کی من مطلب مسلسل اسٹوریاں کیوں نہیں چل رہیں؟ سب نیپال پر کیوں لگے پڑے ہیں؟ ایک وہاٹس ایپ میں کہا گیا ہے:کاندھلہ میں ہزاروں مسلمانوں نے بیکانیر ہردوار ایکسپریس کو روکا، بہت سے ہندوؤں کو جبراروکا ۔ میڈیا اور سیاسی لیڈر کہاں ہیں؟‘‘ دوسرے نے لکھا:’ مسلم دنگائی دہلی سہارنپور روٹ پر ٹرینوں کو لوٹ رہے ہیں۔‘
بی جے پی کے سینئر لیڈر ویریندرسنگھ نے ایک بیان میں ساراالزام مسلمانوں کے سردھرتے ہوئے کہا ہے کاندھلہ ریلوے اسٹیشن پر مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ زیادتی کی اورپولیس ریاستی حکومت کی کھلی ہدایت پرخاموش ہے۔ اگرتم جماعتیوں کے ساتھ انصاف چاہتے ہو تو ان کو بھی گرفتار کرو جنہوں نے اسٹیشن پر ہندوؤں کے ساتھ زیادتی کی۔‘ صاف ظاہر ہے کہ ریل میں مسافروں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو پیغام دیا جارہا ہے کہ بھاجپا غنڈہ گردی کرنے والوں کی پشت پر ہے۔مسٹر بیرندرسنگھ نے ہندوؤں اورخصوصاً جاٹوں کواشتعال دلاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ریاستی سرکارمسلمانوں کی طرفداری اورہندوؤں کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ اس سے مسلمانوں کے خلاف غصہ بڑھتا ہے اور جب برداشت کی حد ہوجائیگی تووہ غصہ زبردست انتقام کی صورت میں ظاہر ہوگا۔‘ یہ مسلمانوں کے خلاف تشدد برپا کرنے کا کھلا الٹی میٹم ہے۔
لکھنؤ سے میل ٹوڈے میں سنجیوسریواستو نے یہ بے پر کی اڑائی کہ ’تبلیغی کارکنوں کوکاندھلہ اسٹیشن پر اس لئے مارا پیٹا گیا کہ وہ کھلے عام تبلیغ کررہے تھے۔ ‘یہ واقعہ ٹرین میں ہوا، بڑوت سے پہلے ہوا، کاندھلہ اسٹیشن پر نہیں ہوا اور دنیا جانتی ہے کہ تبلیغی جماعتیں غیرمسلموں میں اسلام کی دعوت نہیں دیتیں۔یہ اصلاحی تحریک ہے اوردیوبندی مسلمانوں تک محدود ہے۔
ایک اطلاع یہ ہے کہ مظفرنگردنگوں کی بدولت سرخیوں میں آنے والے تھانہ بھون سے بھاجپا رکن اسمبلی سریش رانا نے خاموشی سے کاندھلہ کا دورہ کیا۔ وہاں استھانک کی جین دھرم شالہ میں بند کمرے میں میٹنگ ہوئی ۔اس کی جوچند کلپنگ وہاٹس ایپ پرآئی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقہ میں فرقہ پرستی کے شعلے پھربھڑکانے کی سازش رچی جارہی ہے۔
یہ تفصیل اس لئے بیان کردی گئی کہ اس جریدہ کے موقر قارئین کو اندازہ ہوجائے کہ ٹرین میں ایک پردیسی مسافر کے ساتھ جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، اس پر جوفوری ردعمل ہوااور اس پر جو سیاست شروع ہوئی ہے ،اس کے ملک گیر اثرات کوسمجھا جاسکے۔ ہماری مشکل یہ ہے سارے فیصلے سڑکوں پرہوتے ہیں ۔ اگرتھانے جانے سے پہلے سنجیدہ صلاح مشورہ ہوجاتا، معاملہ کی چھان بین ہو جاتی اورسوچ سمجھ کر اقدام کیا جاتا تو فرقہ پرستوں کو ملک بھر میں زہرگھولنے کا یہ موقع نہ ملتا۔ اگر تبلیغی جماعت کے یہ محترم کارکن صبرو تحمل سے کام لے لیتے ، گھر سے جس کام کے لئے نکلے تھے، اس کا بھی یہی تقاضا تھا کہ شیطان اگرراستہ روک رہا ہے، تو بچ کر نکل جائیں، تو علاقے کی صورت حال میں یہ کشیدگی، کبیدگی اورفسادرسیدگی نہ پھیلتی۔ مگر مقدرات الٰہی کو کون ٹال سکتا ہے۔ یہ حضرات تو الٹے پیر مہاراشٹرلوٹ گئے۔ مگر یہاں کتنے لوگوں کو اب پریشان کیا جائیگا ، اندازہ مشکل ہے۔
بڑوت میں فرخ خان کے ساتھ زیادتی کے لئے پانچ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آردرج کی گئی ہے۔ 9 مئی کوجی آرپی ایف نے ان میں سے گاؤں باؤلی کے ایک 22سالہ ملزم سنیل کمار کوبڑوت اسٹیشن پر گرفتار کرلیا ہے۔ افسر تفتیش سنیل دت کے مطابق باقی چاروں کی بھی شناخت کرلی گئی ہے۔ لکھنؤ میں ڈی جی پی آفس کی پریس رلیز کے مطابق ان پر گنگسٹرایکٹ لگانے کی تیار ی ہے۔ہرچند کہ یہ گرفتاریاں حق بجانب ہونگیں اوراس کا مثبت اثر بھی ہوگا، غندہ گردی کم ہوگی،لیکن اندیشہ یہ بھی ہے کہ اس پر بھی سیاست ہوگی۔ادھر فرخ نے اپنے بیان میں کہہ دیا ہے ان کو کسی کا حلیہ اورشکل یاد نہیں۔ ان کے باقی چاروں ساتھیوں نے کہہ دیا کہ ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوا۔ایسی صورت میں یہ امید نہیں کہ عدالت میں مقامی گواہ مل جائیں گے اور سزا ہوجائیگی۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ مقدمہ کے دوران مہاراشٹرا سے ان صاحبان کے لئے عدالتوں میں حاضری اور ان حاضریو ں کے دوران مقامی عناصر سے ان کا محفوظ رہ جانا کیا آسان ہوگا؟ سوال یہ بھی ہے جس نظام میں ہاشم پورہ کے ملزم چھوٹ گئے، اس میں یہ توقع کون کرسکتا ہے کہ دیگرریاست کے ایک فرد کے ساتھ ریل میں مارپیٹ پرکسی کو سزا ہوگی؟ یہ اوربہت سارے سوال ہیں جو جواب چاہتے ہیں۔ 
اس خطے میں ابھی دوسال پہلے ایک گہری سازش کے تحت اکثریتی ہندو جاٹ آبادی کو غریب مزدور پیشہ مسلم اقلیت کے خلاف اکسا کر سیاسی بساط بچھائی گئی تھی جس کا فائدہ چناؤ میں بھاجپا نے اٹھایا۔ اب پھر اسمبلی الیکشن نزدیک ہیں۔ درایں اثنا تجزیہ نگاروں کا قیاس ہے کہ گزشتہ ایک سال میں بھاجپا کا کرشمہ کم ہوا ہے۔ یہی کیرانہ کی سیٹ جس پر 1996سے بھاجپا کے سینئر لیڈر حکم سنگھ کا قبضہ تھا، ضمنی چناؤ میں ناہید حسن (ایس پی ) نے جیت لی ۔ اس سیٹ کوحکم سنگھ نے اسی حلقہ سے ایم پی چنے جانے کے بعد خالی کیا تھا اوراپنے ایک قریبی کو اپنی جگہ ٹکٹ دلوایا تھا۔ چنانچہ اس واقعہ کوہوا دیکر ایک مرتبہ پھر وہی ماحول پیدا کیا جارہا ہے جس کا فائدہ اسمبلی چناؤ میں اٹھایا جاسکے۔
ہم پھرکہتے ہیں کہ ٹرین میں پردیسی مسافر کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ اس کا مداواچاہنا حق بجانب۔ مگر اب جو تدبیراختیار کی گئی،جس میں ایس پی اوربی ایس پی کے دولیڈرنمایاں ہونے کی جنگ لڑتے نظرآتے ہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کے نتائج من پسند نہیں نکلیں گے۔ یہ ہمارا جوش ہے جو دودھ کے ابال کی طرح آتا ہے اوربیٹھ جاتا ہے۔ اس ساری صورتحال پر غوروفکرکرنے اورسماج کے صالح عناصرکوساتھ لیکر جدوجہد کی جانی چاہئے۔ اس کی پہل جمعیۃ علماء ہند نے کی تھی، مگراس میں اتنا زور نہیں پیدا کیا جاسکا جتنا مطلوب ہے۔ اس واقعہ کے پس منظر میں ہمیں مطالبہ کرنا چاہئے کہ ٹرینوں میں ڈیلی پسنجروں کی دھینگا مشتی کو سختی سے دبایا جائے۔ اس کے لئے ریلوے کی مستعدی کے علاوہ پولیس کی غیر جانب داری اور سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ ہرچند کہ مسٹرمودی کرپشن کا خاتمہ کرنے کے وعدے وعید کے ساتھ آئے تھے، مگرپچھلے ایک سال میں اس جانب ان کا ایک بھی قدم نہیں اٹھا ہے۔ اٹھے گا بھی کیسے،ان کا خمیر جس مٹی سے اٹھا ہے اس میں سیاسی، سماجی، دھارمک ہرطرح کا کرپشن شامل ہے۔ (ختم)

No comments: