Friday, May 22, 2015

Ravish Kumar writes to Narendra Modi on first anniversary of his (mis)rule as PM

محترم وزیر اعظم!
آج 16 مئی ہے۔ بہت سوچا کہ آپ کو کچھ لکھوں لیکن لکھوں تو کچھ نیا لکھوں۔ ایک ہفتے سے آپ کی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر مضمون شائع ہو رہے ہیں۔ آپ نے اچھا کیا چین چلے گئے۔ یہاں بزنس اخباروں میں تو باقاعدہ سانپ ، سیڑھی والے گرافکس سے بتایا جا رہا ہے کہ آپ نے کیا کیا اور کیا نہیں۔ جس مضمون میں صرف تعریف ہے اس کے آخر میں بڑبولے لیڈروں کے فرقہ وارانہ بیان کا ذکر ہے تاکہ توازن بنا رہے، جس مضمون میں بہت تنقید ہے اس کے آخر میں آپ کی لگن کا ذکر ہے تاکہ آپ ناراض نہ ہو جائیں۔ مجھے ان تمام مضامین کو پڑھتے ہوئے پتہ چل گیا ہے کہ آپ کے کنٹرول میں کون ہے اور آپ کس کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جناب والا ، جو پہلے کے وزرائے اعظم کی سالگرہ پر لکھا کرتے تھے۔ ان کی عادت ہے اس لیے لکھے جا رہے ہیں۔ اتنا تو لکھ ہی دیا ہے کہ سارے مضامین کو پڑھتے۔پڑھتے آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کب 16 مئی 2016 کا دن پھرآ گیا۔
میرے بھائیوں نے مجھے لکھنے کے لئے کچھ نہیں چھوڑا ہے جس کے بہانے میں آپ کی حکومت کی تنقید یا تعریف کروں۔ اگلی بار جناب والا میں جنوری میں ہی مئی والا مضمون لکھ دوں گا۔ جو بھی ہو، میں 16 مئی کی یاد پر شائع ان تمام مضامین سے گزرتے ہوئے محسوس کر رہا ہوں کہ آپ نے انتخابات کے دوران توقعات کا جو پہاڑ کھڑا کیا تھا اس کے نیچے آپ نہیں بلکہ یہ سب تجزیہ کار دبے ہوئے ہیں۔ آپ کا فرض بنتا ہے کہ توقعات کے پہاڑوں کے نیچے دبے ان با شعورشہریوں کو باہر نکالیں۔ انہیں بتائیے کہ آپ کس طرح نکل گئے ہیں۔ اس معاملے میں یوگا سے انہیں مدد مل سکتی ہے۔ میں ان کی جگہ ہوتا تو اس بات کا شکریہ ادا کرتا کہ آپ کی وجہ سے کم سے کم ایک سال تو توقعات اور خوش فہمیوں میں گزرا۔ تمام لوگ مایوس نہیں ہیں لیکن ایک بھی تجزیہ کار ایسا نہیں ملا جو مکمل طور پر خوش ہو یا پوری طرح ناراض گلاس آدھا خالی آدھا بھرا والا معاملہ لگتا ہے۔
آپ کا وقت نہ برباد ہو اس لئے میں نے کئی مضامین کا خلاصہ آپ کو بتا دیا ہے۔ جناب والا ، میں ان مضامین کو پڑھتے ہوئے یہ سمجھ گیا کہ کچھ بھی بن جاؤں لیکن وزیر اعظم تو نہیں بنوں گا۔ آپ نے صحیح کیا ہے کہ کسی میڈیا مشیر کو نہیں رکھا ہے ورنہ وہ روز اخبار کے خبروں کی فائلیں لے کر آ جاتا اور پڑھنے کے لئے مجبور کرتا۔ کیا پتا مشیر نہ رکھنا بھی ان صلاحو ں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک وجہ ہو۔ جو بھی ہو جناب والا ، میں اپنے اوپر لکھے گئے اتنے آرٹیکل نہیں پڑھ سکتا۔ مقبولیت رہے یا جائے لیکن اتنا پڑھنا پڑے تو اچھا ہے کہ پروفیسر ہی بن جائیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان لکھنے والوں نے آپ کو گزشتہ ایک سال کے ہی چشمے سے دیکھا ہے۔ یہاں شیشے کا ذکر میں آپ کے سامنے چھتیس گڑھ کے کلکٹر کے دھوپ کا چشمہ لگانے پر پھٹکار والی بات کے لئے نہیں کر رہا ہوں۔
تو میں ایک سال مکمل ہونے پر کیا لکھوں۔ ویسے بھی 16 مئی کی تاریخ آپ کے لئے عام ہو چکی ہے۔ آپ اس سے بہت دور جا چکے ہیں۔ چین کے دورے پر ہوینسانگ کے گاؤں میں جو اپنے گاؤں سے آپ کے گاؤں آیا تھا۔ آپ لٹینس دہلی سے نارمل ہو چکے ہیں۔ صحافیوں کو بلا کر چائے پی لیتے ہیں تو اچانک ان کے درمیان چلے جاتے ہیں۔ غیر ل?ٹ?ن صحافی ہونے کے ناطے میں یہ سب سن کر محسوس کر رہا ہوں کہ آپ بھی اپنے طریقے سے ل?ٹ?ن دہلی کو نارمل کر رہے ہیں۔ سیلفی کو آپ نے قومی ثقافت کا حصہ بنا کر اس کو جو ہندوستانی ثقافت کا حصہ بنا دیا ہے اس سے آنے والی نسلیں فخر محسوس کریں گی۔ بشرطیکہ کوئی کوئی وید۔پران سے سیلفی کے ہونے کا ثبوت نہ لے آئے۔
آپ کی سیلفی کو بڑی بڑی میگزینس پاور سیلفی کہتی ہیں۔ یہ ہوتی ہے بات۔ آپ ہمیشہ پروٹوکول میں نہیں رہتے ہیں۔ آپ پروٹوکول سے آزاد وزیر اعظم ہیں۔ کسی بچے کی کان پکڑ سکتے ہیں تو مورتی کے ساتھ عام سیاحوں کی طرح تصویر ?ھچا سکتے ہیں۔ وہاٹس ایپ اور فیس بک پر ٹیری?وٹا والی مورتیوں کو دیکھتے ہوئے آپ کی بہت تصاویر شائع ہوئی ہیں۔ ان تصاویر کے ٹیگ لائن پڑھتے ہوئے آپ کو بھی خوب ہنسی آئے گی۔ اس سے ایک بات تو صاف ہے کہ آپ کو لے کر لوگوں میں خوف کم ہوتا جا رہا ہے۔ وہ اپنے وزیر اعظم کا احترام کرتے ہیں تو تنقید بھی کر سکتے ہیں۔ مذمت کر سکتے ہیں تو مذاق بھی کر سکتے ہیں۔ بس بیچ بیچ میں یہ تیل کے دام والے پرانے ٹویٹ مزہ خراب کر دیتے ہیں۔ اب دام تو بڑھنے ہی ہیں تو کیوں نہ آپ ان ٹویٹ کو ڈلیٹ ہی کرا دیں۔ آل اکاؤنٹ ڈلیٹ۔
ایک سال گزر جانے کے بعد بھی سوشل میڈیا میں آپ پر توجہ کم نہیں ہوئی ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر اور وہاٹس ایپ کا آغاز آپ ہی سے ہوتا ہے۔ روز کوئی نہ کوئی کچھ نہ کچھ نیا پیش کرتا رہتا ہے۔ آپ کو بہت سے لوگوں کے لیے مزاح کا ممبع بنے ہوئے ہیں۔ آپ نے دینک جاگرن کو دیئے انٹرویو میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں مزاح کو بہت مس کرتا ہوں۔ یہ صحیح بات ہے جناب۔ ہر بات پر تنازعات سے مجھے بھی دشواری ہوتی ہے۔ آپ کی اس کمی کو سوشل میڈیا نے صحیح سے پوری کرد یا ہے۔ اتنے لط?فے اور کارٹون بنتے ہیں کہ پوچھ?ے مت۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ مقبول ہیں۔ آپ کی مقبولیت کم ہوئی ہوتی تو کارٹون نہیں بنتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ آپ کو لے کر نارمل ہونے لگے ہیں۔ جناب والا ، یہ والا پوائنٹ بھی میرا اوریجنل ہے۔
کوئی آپ کی ہر تحریر کو ملا کر دیکھ رہا ہے کہ آپ ہی لکھ رہے ہیں یا کوئی اور لکھ رہا ہے۔ آپ جہاں جہاں لکھتے ہیں وہاں کی تصویر کھینچ لیتے ہیں۔ وہ راہل گاندھی کی اس تصویر کے بعد کنفیوز ہو گئے ہیں جس میں وہ فون سے وزیٹرس بک پر پیغامات کاپی کر رہے ہیں۔ خطاطی ہینڈرائٹگ تو ختم ہی ہو گئی ہے۔ جناب والا ، ہر کوئی ٹیبلیٹ اور فون پر لکھ رہا ہے۔ آپ اب بھی قلم سے لکھ سکتے ہیں۔ ایک دن رجسٹر کو بھی آن لائن کر دے دیجیئے گا۔ بڑے بڑے لیڈر آئی پیڈ پر ٹائپ کر یا ٹائپ کروا کر میوزیم یا آشرم کو سیندڈ کر دیں گے۔ آئیے، دیکھئے اور ہوٹل جاکر ای میل کر دیجئے۔ایز آف راٹگ بھی تو ہو سکتی ہے۔
ایک اور بات جناب والا، آپ سے پہلے کے وزرائے اعظم کو ٹی وی پر دیکھتا تھا تو یہی سوچتا رہتا تھا کہ کوئی ارجینٹ کام ہو، بھاں جا۔بھتیجا بات ہی کرنا چاہتا ہو تو کس طرح بات کرتا ہوگا۔ دس سال میں منموہن سنگھ جی کو بغیر فون کے دیکھا جبکہ ان کی حکومت ہر ہاتھ میں فون پہنچانے کا دعوی کرتی ہے۔ کم سے کم آپ کے ہاتھ میں فون دیکھ کر میرا یہ والا ٹیں شن کم ہو گیا ہے۔ میرا یہ والا پوائنٹ ایک دم اوریجنل ہے
جناب والا والا۔ کسی لٹٹینس تجزیہ کار نے اس کا ذکر نہیں کیا۔
جناب والا ، ہر کسی کا سال اچھا برا ہوتا ہے۔ آپ لوگوں کا اکاؤنٹ ?ھلوا رہے ہیں اور لوگ ہیں کہ آپ بہی کھاتا کھول رہے ہیں۔ یہاں تعریف شائع ہوتی ہے تو وہاں اس تعریف کی پول کھلتی ہے۔ کوئی بات بغیر دو بات کے ہوتی ہی نہیں ہے۔ اچھا ہے اس سے باتوں کو تنہائی نہیں ہوتی ہوگی۔ ایک پہلو میں کچھ اور دوسرے پہلو میں کچھ اور ہوتا ہو گا۔ باتیں بھی آپس میں بات کرتی ہوں گی۔ سن ری تو ایسی ہے، نہیں ری میں ایسی ہوں۔
میں جانتا ہوں آج 16 مئی ہے۔ پارٹی ٹائم ہے۔ آپ نے بھی صحیح ٹویٹ کیا ہے۔ ان تصاویر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کل گزرا ہی نہیں بلکہ آج سے گزرنا شروع ہوا ہے۔ اتنے دنوں میں آپ تو ایک نارمل سیاستداں اور وزیر اعظم ہو گئے ہیں۔ لوگ بھی آپ کے لیے نارمل ہو رہے ہیں۔ کچھ بھی نہیں بدلا ہے کہنے والوں کو یہ تبدیلی نظر آنی چاہئے۔ امید ہے یہ لوگ اگلے سال تک آپ کے لیے مزید نارمل ہو جائیں گے۔ اعداد و شمار کے نئے سروے پہاڑ کے آگے مسائل کے وجود کو مسترد کرنے لگیں گے۔ اقتدار سب کو عام بنائے اور عام اقتدار کے لئے عام ہی رہیں یہی دعا ہے۔ میری مبارکباد قبول کریں۔ صحافی کے طور پر نہیں، ایک شہری کے طور پر۔(بصیرت فیچرس)
( مضمون مشہور صحافی اور این ڈی ٹی وی کے اینکر ہیں )

http://baseeratonline.com/2015/05/17/%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85-%D9%85%D9%88%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4-%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7/

No comments: