Friday, May 22, 2015

Muzaffar Husain Ghazali takes stock of Communalists design in "targeting Tableeghi Jamat"

تبلیغی جماعت پر حملوں کی خبریں: ’’انتشار کا موقع فساد کو دعوت ‘‘

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
صحیح یا غلط، تبلیغی جماعتوں فرقہ پرستوں کے حملوں کی خبریں برابرآرہی ہیں جو بڑی حد تک تشویشناک ہیں۔اس طرح کے واقعات سے ملک کا ماحول خراب ہوتاہے ۔جس کاسیاسی فائدہ اٹھا یاجاتا ہے ۔فرقہ پرست اس کا بار بارتجربہ کرچکے ہیں ۔ مظفر نگر کے فساد کا بھی انہوں نے فائدہ اٹھایا تھا۔ مولانا عبد الحمید نعمانی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغیوں کو تبدیلی مذہب کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے ۔ایسے ملک میں جہاں سب کو مذہبی آزادی حاصل ہے ،اس طرح کے حملے شرمناک ہیں ۔ ملک کی مختلف مذہبی و سماجی شخصیات نے ان حملو ں پر تشویش کا اظہار اور مذمت کی ہے ۔
بظاہر تبلیغی جماعت ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔ اس کا دائرہ کئی ملکوں میں پھیلا ہوا ہے ۔افرادی جوڑ یا لوگوں کی پسند کے اعتبار سے اس وقت یہ سب سے بڑی تحریک ہے ۔یہ چھ باتوں سے لوگو ں کو جڑنے کی دعوت دیتی ہے کلمہ ، نماز ، علم و زکر ، اخلاق ، دعوت و تبلیغ اور اکرام مسلم۔ ان کا تصور ہے کہ جو بھی پریشانی آتی ہے وہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے لہذا اعمال کو درست کرنے کے لئے دین کی محنت ضروری ہے ۔
یہاں یہ بتاتے چلیں کہ مولانا الیاس کاندھلوی ؒ نے یہ سلسلہ ہریانہ کے میوات علاقے سے شروع کیا تھا، جہاں علم کی بڑی کمی تھی اوربڑی تعداد میں مسلمان مرتد ہورہے تھے۔مولانا اس زمانے میں بنگلہ والی مسجد میں مدرسہ کاشف العلوم میں پڑھاتے تھے۔ ہرجمعرات کو اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ میوات نکل جاتے اوروہا ں گھر گھر جاکر مسلمانوں کو کلمہ کی دعوت دیتے۔ ان کو یہ دعوت بھی دیتے کہ وہ نظام الدین آئیں جہاں ان کو دین کی باتیں سکھائی جاتیں۔
مولانا نے جن چھ باتوں کو لیکر دعوت کا کام شروع کیا ان میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جسے عام آدمی سمجھ نہ سکے یا اسے دین پر چلنا مشکل لگے مولانا کا ماننا تھا کہ جب کوئی شخص کلمہ سے جڑ جائے گا ، نماز کے لئے مسجد تک آجائے گا ۔علم و ذکر کی فکر کرنے لگے گا اخلاق درست کرنے کے بارے میں سوچنے لگے گا ، جو اس نے سیکھا ہے دوسروں کو سکھانے کی ذمہ داری محسوس کریگا تو اکرام مسلم خود بخود پیدا ہو جائے گا ۔پھر اسے دین کے دوسرے احکام و معاملات سے جوڑنا آسان ہو گا اس کی اسلامی بنیادوں پر شخصیت کی تعمیر کی جا سکے گی ۔ شاید اسی لئے انہوں نے دین کی محنت پر زور دیا ۔
مولانا الیاس ؒ اوران کے صاحبزادے مولانا یوسفؒ کی فرمائش پرمولوی زکریا صاحب نے، جو ان کے عزیز تھے اورمدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور میں حدیث کا درس دیتے تھے مختلف موضوعات پر رسائل مرتب کئے جن کو بعد میں تبلیغی نصاب کہا گیا اور پھر نام بدل کر’ فضائل اعمال‘ کردیا گیا۔ بانی تبلیغی جماعت کے بعد مولانا یوسف اوران کے بعد مولانا انعام الحسن امیرجماعت بنے ۔ یہ دونوں صاحبان مولوی زکریا کے داماد تھے۔ ان دونوں کے زمانے میں اس کتاب کو تبلغی تحریک میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ۔ اس جماعت سے جڑنے والو ں میں کم پڑھے لکھے ، غیر تعلیم یافتہ یا محنت کشو ں کی تعداد زیادہ ہے ۔ ہر جماعت میں کسی عالم دین کی موجودگی ممکن نہیں ہوگی۔ کوئی پڑھا لکھا ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ احادیث پڑھ کر سنانے یا قرآن کی تفسیر بیان کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ اس لئے فضائل اعمال جماعتیو ں کے ہاتھ میں تھما دی گئی ۔ جسے پڑھ کر جماعت کے لوگ مصلے پر کھڑے ہوکر بیان کرنے لگے ۔حضرت قاری طیب صاحب نے اس صورتحال پر فرمایا تھا کہ مقتدی مقتدیٰ بننے کی کوشش نہ کریںیا پھر اپنے اندر مقتدیٰ بننے کی صلاحیت پیدا کریں ۔ورنہ سماج میں علماء کی وقعت کم ہو جائے گی جو مسلمانوں اور دین کے حق میں نہیں ہے ۔
قاری صاحب کو جو خدشہ تھا وہ صحیح ثابت ہوا۔ تبلیغی جماعت کے حلقہ میں فضائل اعمال کو قرآن پر فوقیت حاصل ہو گئی ۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ قرآن کی تفسیر کے پروگرام کو اس لئے روک دیا گیا کہ فضائل اعمال کی تعلیم ہونی تھی ۔جن ائمہ مساجد نے فضائل اعمال پڑھنے سے منع کیا یا قرآن کی تفسیر و احادیث پڑھنے پر زور دیا ،ان ائمہ کو مساجد سے نکال دیا گیا۔ مولانا سعد صاحب نے منتخب احادیث اور قرآن کی تفسیر کو تبلیغی حلقہ میں رائج کرنے کی کوشش کی۔ اس سے جماعت میں دو گروپ بن گئے ہیں۔ ایک مولانا سعد کا حامی جس کی تعداد بہت کم ہے ۔وہ منتخب احادیث پڑھتا ہے دوسرا فضائل اعمال پڑھنے والا گروپ ۔جس کی اکثریت ہے ۔کچھ دن قبل اس بات کو لیکر مرکزتبلیغی جماعت میں ٹکراؤ کی صورت بھی پیدا ہوئی تھی ۔
سرکار یا اہل وطن کی جانب سے جماعت پر کبھی شک نہیں کیا گیا تبلیغی جماعت کے بارے میں عام رائے یہ رہی ہے کہ یہ سرکار یا سیاست کے کاموں میں دخل اندازی نہیں کرتے ۔یہ کل کی بات کرتے ہیں جس کا آج سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔یہاں تک کہ ایمرجنسی میں جب تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی تھی ،اس وقت بھی اس جماعت کو الگ رکھا گیا تھا ۔سرکار کی خفیہ ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو زمین کے نیچے اور آسمان کے اوپر کی بات کرتے ہیںْ انہیں دنیا کے معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ ملک کے بدلے ہوئے حالات میں کونسی جماعت کہاں سے آئی ، کہاں گئی ، کون شخص جماعت میں شامل ہوا ، کتنے دن کے لئے جماعت میں گیا ، اس کی بیک گراؤنڈ کیا ہے ۔ جماعت ان سوالوں کے جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے اس کے جواب میں جماعت کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ کسی کا ریکارڈ نہیں رکھتے کون آیا ، کہاں سے آیا ، کہاں گیا ،وغیرہ ۔ان کا کہنا ہے کہ لوگ اللہ کے لئے اللہ کے کام سے گھر سے نکلے ہیں ایسی صورت میں اس بات کا خدشہ ہے کہ کوئی مجرم جرم کرکے چالس دن ، چار ماہ ، یا ایک سال کی جماعت میں چلا جائے ، قانون اسے کہاں تلاش کریگا ۔
باہر سے آنے والی جماعتوں کو سرکار نے غیر قانونی قرار دیکر انہیں فورا واپس بھیجنے کا حکم جاری کیا ہے۔ جماعت کے حلقہ میں اس بات کو لیکر ناراضگی ہے ۔باہر سے آنے والی جماعتیں ایک ماہ میں سڑک کے زریعہ نیپال چلی جاتی تھیں وہاں سے ویزے میں توسیع کراکر پھر بھارت آجاتی تھیں ۔اس حکم کے آنے کے بعد نیپال سرکار نے جماعتوں کے سڑک کے زریعہ آنے پر پابندی لگا دی اور کہا کہ وہ ہوائی سفر کریں ۔ بھارت سے باہر جانے یا باہر سے بھارت آنے والی جماعتوں سے موجودہ حالات میں کئی طرح کے خطرات کی گنجائش ہے۔ مثلا کسی بھی ملک کی خفیہ ایجنسی کا کوئی بھی شخص جماعت میں شامل ہو کر آسانی سے بھارت آسکتا ہے یا بھارت سے باہر جا سکتا ہے ۔ کبوتر بازی کا راستہ بھی کھلتا ہے ، باہر سے آنے والی جماعتوں کی بدولت مرکز کے آس پاس غیر ملکی کرنسی کی تبدیلی اور ٹریول ایجنسی کا کاروبار پھلا پھولا ہے ۔
انسانی فطرت ہے کہ وہ جس نظریہ کو مانتاہے اسے سب سے بہتر سمجھتا ہے اور اپنے نظریہ کو فروغ بھی دینا چاہتا ہے تبلیغی جماعت کے لوگ اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے ساری حدیں پار کر دیتے ہیں ۔مسجد پر قبضہ کرنے کے لئے گالم گلوچ ، مارپیٹ اور لڑائی جھگڑے سے بھی انہیں پرہیز نہیں ہے ۔ انہوں نے مساجد کو سرائے میں تبدیل کر دیا ہے جبکہ تبلیغی جماعت کے پرانے لوگوں کو ہم نے یہ کہتے سنا ہے کہ طعام و قیام کے لئے مسجد سے متصل کسی الگ جگہ پر انتظام ہونا چاہئے۔ مسجد ذکر عبادت کے لئے استعمال ہو اعتکاف کے علاوہ مسجد میں قیام ممنوع ہے ۔ مساجد پر غلط طریقوں سے قبضہ کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان بھی فساد کی گنجائش پنپ رہی ہے ۔کئی مساجد میں جماعت کے لوگوں کے داخلہ پر پابندی ہے جبکہ یہ تو دین کی دعوت ہی دے رہے ہیں ۔
تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں خاص طور پر دعا میں شریک ہونے کے لئے لاکھوں لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے ابھی بلند شہر کے اجتماع کی دعا میں دس لاکھ لوگوں کے شریک ہونے کی بات کہی گئی ۔ایک طرف جماعتوں کے گروپ بنا کر ادھر سے ادھر آنے جانے کو اہل وطن شک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔اس میں حالات کا بھی بڑا دخل ہے کیونکہ کچھ فرقہ پرست عناصر اہل وطن میں جماعت کے تعلق سے غلط فہمیاں پھیلانے کا کام کررہے ہیں ۔ دوسری طرف مسلمانوں کے جماعت، اجتماع ، دعا ، میں شریک ہونے سے لاکھوں گھنٹے اور کروڑوں روپے برباد ہو رہے ہیں ۔کتنے ہی نو جوان ایسے ہیں جنہوں نے جماعت کا چسکا لگنے کی وجہ سے گھر اور خاندان کی ذمہ داریوں سے منھ موڑ لیا ہے اور یہ پورا وقت جماعت میں لگاتے ہیں ۔اس سے کیا حاصل ہوگا ؟اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے دنیا میں ٹینشن اور قوت برداشت کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا ہونا عام بات بن گئی ہے اسلام تو صبر کی تلقین کرتا ہے ایمان کا کام کرنے والے تو اس کی مثال ہونی چاہئے ۔ اس بات پرتوجہ دی جانی چاہئے کہ سفر کے دوران جماعت کے حضرات سے کوئی ایسی غلطی نہ ہو جس سے فرقہ پرست عناصر کو ماحول خراب کرنے کا موقع مل جائے ۔ 
کاش لاکھوں کے اجتماع کی جگہ 313لوگوں کا اجتماع ہو اور اجتماع پرخرچ ہونے والا کروڑوں روپیہ اس علاقہ کے غریبوں، مسکینوں ، بیواؤں ، بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے اور بیروزگاروں کو روزگار فراہم کرانے پر خرچ کیا جائے ۔تو اس شہر کی کایا پلٹ ہو جائے گی اور ہر علاقہ کے لوگ خواہش کریں گے کہ کاش ایسا اجتماع ان کے علاقہ میں بھی ہو ۔اہل وطن کے شک و شبہات نہ صرف دور ہوں گے بلکہ وہ ایسے نیک لوگوں پرحملہ کرنے کے بارے میں دس بار سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔کہ ایسے لوگوں کو کیونکر ستایا جائے اس میں ان کے لئے عبرت بھی ہوگی اور دین کی خاموش دعوت بھی ۔( یو این این)

No comments: