Wednesday, May 13, 2015

ٓإAMU Aligarh, Minority Character; Muslims Identity: National Main Stream and Kuldip Nayar

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ؛اقلیتی کردار؛مسلم تشخص؛ قومی دھارا اور کلدیپ نائر
سید منصورآغا   ،(علیگ
کلدیپ نائر صاحب کی شخصیت کسی تعارف کہ محتاج نہیں۔ گزشتہ ہفتہ وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں مدعو تھے۔وہاں جوکچھ فرمایا اس کو پڑھ کر اچھا نہیں لگا۔ لیکن یہ سوچ کر خاموش رہے کہ ممکن ہے رپورٹر سے سہو ہوا ہو۔ لیکن بدھ ۱۳؍ مئی کو ان کا جو ہفتہ وار کالم شائع ہوا ہے، اس کا افتتاحی جملہ ملاحظہ فرمائیں:’’ میں اے ایم یو کے حالات دیکھ کر اورجان کر پریشان ہوں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے طلبہ مرکزی دھارے میں شامل ہوتے نظرنہیں آرہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے مطالبہ پراوربحیثیت مسلمان اپنے تشخص کی حفاظت کے لئے ہماری فکرمندی پر سوال اٹھائے ہیں اور ایک گمراہ کن مفروضہ پیش فرمایا ہے کہ ’تمام ہندستانیوں کی غالب شناخت ہندستانی ہے۔‘
اپنے مختصرکالم میں موصوف نے آزادی سے قبل کے اس ناخوشگوار واقعہ کا ذکر بھی ضروری سمجھا جو مولانا آزاد کے ساتھ علی گڑھ اسٹیشن پر پیش آیا تھااورجس میں مسلم لیگ کے ہم نوا ملوث تھے۔ بیشک ان میں یونیورسٹی کے چند طلباء بھی تھے۔لیکن اس کا کوئی تعلق بحیثیت مجموعی نہ تو یونیورسٹی سے تھا اوریونیورسٹی کے طلباء کی اکثریت سے۔دوسرے یہ کہ وہ سیاست کا ایک ایسا پرآشوب دور تھا، اس کے کسی واقعہ کو 2015کی مسلم یونیورسٹی پرہرگز چسپاں نہیں کیا جاسکتا۔ ہم حیران ہیں کہ سینئر صحافی اور سابق سفیر ہند برائے برطانیہ جناب نائراپنے ان تاثرات سے مودی سرکار کو کیا ترغیب دلانا چاہتے ہیں؟
پورے مضمون کا تجزیہ توطوالت کاباعث ہوگا، ہم اپنے بزرگ صحافی سے صرف وہ سوال پوچھنا چاہتے ہیں جو قومی یک جہتی کے موضوع پر ایک میٹنگ کے دورا ن محترمہ اندرا گاندھی سے اس وقت کیا گیا جب وزیراعظم ہند نے مسلم قائدین سے یہی شکایت کی تھی کہ مسلمان قومی دھارے سے الگ رہتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا تھا:’میڈم یہ بتادیجئے کہ وہ قومی دھارا کیا ہے، کہاں بہتاہے کہ ہم اس میں شامل ہوجائیں ۔ ‘ اس سوال کا جواب پچھلے 45سال میں ہمیں نہیں ملا ہے۔
اتفاق سے یہ کالم نویس مسلم یونیورسٹی کا طالب علم رہا ہے۔اس کی چاربیٹیوں اور ایک داماد نے بھی اسی یونیورسٹی میں تعلیم پائی ہے۔ اس لئے یہ حق بجانب ہوگا کہ نائر صاحب کے ان اشکالات پربصداحترم اپنی معروضات پیش کی جائیں۔ سنئے،بحیثیت ہندستانی مسلمان، ہم بغیر سوچے سمجھے کسی دانشوریا سیاست داں کے مفرضوں پر خود کوڈھالنے کے پابندعہد نہیں ہیں۔اندرا جی سے لیکر (جن کے نائر صاحب قبل ایمرجنسی قریب رہے)کوئی اس سوال کا جواب نہیں دے سکا کہ مسلمانوں کو جس قومی دھارے کی نصیحت دی جاتی ہے، وہ ہے کیا؟ لیکن ہم عرض کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک قومی دھارا وہ ہے جس کا تعین ہمارا آئین کرتا ہے۔ یہ آئین ہرمذہب اورفرقہ کے باشندگان ہند کو اپنی تہذیبی، لسانی، مذہبی اوررواجی خصوصیات کی حفاظت کا حق دیتا ہے، جس کو ہم مختصراپنا’ملی تشخص‘ کہتے ہیں۔ یہ آئین ہمیں اپنی پسند کے ادارے قائم کرنے اورچلانے کا حق دیتا ہے۔ یہ آئین ہمیں اپنے ملی اورقومی ورثوں کی حفاظت کا حق دیتا ہے۔مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار ہو یا اپنے ملی ومذہبی شعائر پر قائم رہ کراپنے تشخص کی حفاظت کی فکرمندی، ہماراقانونی اورآئینی حق ہے اور اس حق پر اصرار سے ہماری ہندستانیت مکدر نہیں ہوتی۔یہ خیال فاسد ہے کہ ہندستانیت اورمسلمانیت میں کوئی ٹکراؤ اورتضاد ہے۔ہم اپنی وضع وقطع، مراسم عبادات، نکاح وطلاق کے ضوابط ، ورثے کی تقسیم جیسے شعائر پر، جو ہمارے دین وایمان کا حصہ ہیں،قائم رہتے ہوئے بیک وقت ہندستانی بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ ہماری شناخت صرف ہندستانی نہیں بلکہ ہندستانی مسلمان کی ہے۔ یہ فساد تو آرایس ایس کا پھیلایا ہوا ہے کہ ملک کی ساری کلچریں ایک مخصوص کلچر میں ضم ہو جائیں۔ہمیں حیرت ہے نائر صاحب کہاں اس رو میں بہہ گئے؟ یہ نظریہ آئین کے سیکولر رزم کے اصول کے منافی ہے اس لئے ہمارے لئے قابل قبول نہیں۔ ہم نہایت ادب کے ساتھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری روش عین آئین کے مطابق ہے ۔ہم پوری قوم کو بھی قولاً اورعملاً اسی روش میں ڈھل جانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہندواچھا ہندو بنے، مسلمان اچھا مسلمان بنے ، وغیرہ اورہم سب مل کر اچھے ہندستانی بنیں۔ 
دوباتیں بالکل صاف ہیں۔ہم ہندستانی ہیں اورمسلمان ہیں۔پیداہوئے تو قومیت ہندستانی قرار پائی۔ شعورآیا تواسلام پر قائم ہوئے۔ہم اکثریت کی کلچر کا احترام کرتے ہیں۔لیکن اگروہ اچھوت کے ہاتھ کا پانی نہیں پیتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی پیروی میں ہم بھی ان کا چھوا ہوا پانی نہ پئیں۔ ہمارے نزدیک سب کا کسی ایک طرز معاشرت میں رنگ جانا ہندستانیت نہیں۔کسی بھی مذہب و کلچر کا پیروکارہو، یہاں تک کہ چاہے ناستک ہو،سب یکساں طورپرہندستانی ہیں۔ ان سے اپنی شناخت کسی غالب اکثریت والی شناخت میں ضم کرنے کا مطالبہ غیرآئینی، غیر جمہوری،غیردانشمندانہ اورفسطائی ذہنیت کا پتہ دیتا ہے۔ ہم نے اس کے سامنے سینہ سپر ہونا توسیکھا ہے، سپرانداز ہونا ہماری سرشت میں نہیں، کیونکہ ہم سیکولر آئین کے پابند ہندستانی ہیں۔

No comments: