Tuesday, April 14, 2015

Text of Resolutions passed by All India Muslim Majlis-e-Mushawrat on various issues




آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت
(ہندستانی مسلم تنظیموں کا  وفاق(
ڈی۔ 250، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی۔110025
Phone-011-26946780, 9990966660, Fax- 011-26947346
email: mushawrat@muhawrat.com, web: www.mushawrat.com

مشاور ت کی مرکزی مجلس منعقدہ 4اپریل 2015
میں ملی، قومی، عالمی مسائل پرغور و فکر اور منظور شدہ قرادادیں

فرقہ ورانہ تشددکی کم شدت والی وارداتیں
مسلم مجلس مشاورت ملک بھر میں مسلمانوں، عیسائیوں ، دلتوں اورآدی باسیوں کے خلاف لگاتار تشدد کی وارداتوں پر سرکار کی خاموشی کی مذمت کرتی ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں چھوٹے پیمانے پر کم شدت والی واراتیں تقریبا روز ہورہی ہیں۔ مساجد، چرچ اورقبرستانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دلتوں کو ماراپیٹا اورہراساں کیا جارہا ہے اورمرکزی حکومت ، وزیراعظم اوروزیر داخلہ ان سے نظریں چرارہے ہیں۔ مشاورت آگاہ کرتی ہے کہ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی وارداتوں کو نظرانداز کرنے کے نتیجہ میں کسی نہ کسی وقت کہیں کوئی بڑے پیمانے پر تشدد ہوسکتا ہے۔ ہندتووا کی علمبردار تنظیموں کی غیرقانونی سرگرمیوں اوران پر مرکزی حکومت کی سردمہری کی بدولت ایک ایسا ماحول بن گیا ہے جس میں پونا اوردیماپور میں زودوکوب کرکے مسلمانوں کو قتل کرنے جیسی سنگین واراتوں کے لئے راستہ کھل گیاہے۔ مسلم مجلس مشاورت حکومت کو متوجہ کرتی ہے کہ فرقہ ورانہ تشدد کے ان واقعات سے یہ اوربھی ضروری ہوگیا ہے کہ ٹھنڈے بستے میں پڑے ہوئے انسداد فرقہ ورانہ قانون کو پاس کرکے خطاکاروں کے خلاف کاروائی کا واضح قانونی راستہ کھولا جائے، جن میں سے بعض اب مرکزی کابینہ اورپارلیمنٹ سمیت اختیارواقتدار کے اعلا منصبوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

تحفظ گاؤ
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بی جے پی کی زیرحکومت ریاستوں میں تحفظ گاؤ قانون کا دائرہ وسیع کرکے ذبیحہ کے لئے ممنوعہ مویشیوں میں بجاروں، بیلوں اور بچھڑوں تک کو شامل کئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ اس وقت ملک کے اکثر حصوں میں ذبیحہ گاؤ ممنوع ہے۔ مغلوں کے دورحکومت سے مسلمانوں نے اپنے ہندو بھائیوں کے مذہبی جذبات کے احترام میں ذبیحہ گاؤ سے پرہیز کیا ہے۔ لیکن تحفظ یافتہ مویشیوں کی فہرست میں دیگر جانوروں کو شامل کرنا اور جرمانہ وسزا کو بڑھانا ، یہاں تک کہ ان کا گوشت رکھنے اورکھانے تک کو جرم قراردیا جانا، قطعی نامناسب ہے اورکھانے پینے کی پسند کے معاملے میں آبادی کے ایک طبقہ پر اپنے نظریات مسلط کرنے کی فاشسٹ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ بھاجپا سرکار مرکز میں بھی ایسا ہی قانون لانے کامنصوبہ بنارہی ہے۔ ایسی کوشش مسلمانوں، عیسائیوں دلتوں ، آدی واسیوں ، کمزور طبقوں اور بہت سے دیگر لوگوں کے خلاف جارحیت ہے۔ ایسی مکمل پابندی سے کروڑوں لوگوں کا روزگار متاثر ہوگا جو گوشت اورچمڑے کا کاروبار کرتے ہیں۔

ہاشم پورہ اجتماعی قتل
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میرٹھ کے ہاشم پورہ محلے میں مئی 1987کے اجتماعی حراستی قتل معاملے میں پی اے سی کے تمام ملزم عملے کے بری کئے جانے کی مذمت کرتی ہے اورگزشتہ 27سال میں یوپی میں برسراقتدار آنے والی تمام سرکاروں کو شہادتیں تلف کرنے اورعدالتوں کو گمراہ کرنے کی ذمہ دارقراردیتی ہیں۔مشاورت یوپی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ یوپی میں آزادی کے بعد رونما ہونے والی سرکاری دہشت گردی کے اس سب سے بڑے کیس میں اعلا عدالت میں اپیل کے پیشگی اقدام کے طور پر کیس کی تمام شہادتوں اور حقائق کی چھان بین کے لئے ایک اعلا اختیاراتی جانچ کمیٹی بٹھائے۔

گھرواپسی
مرکز میں بھاجپا سرکار کے برسراقتدارآنے کے بعد سے ہندتووا کی علمبردار تنظیموں نے ملک بھر میں کمزور عیسائی اور مسلمان طبقوں کو دھوکہ دہی ،دھمکی ، لالچ اور سرکاری مراعات کا جھانسہ دیکر ہندو بنانے کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ برسراقتدار پارٹی کے لیڈروں نے ان غیرقانونی سرگرمیوں پر احتجاج کے جواب میں یہ تجویز کیا ہے کہ ملک بھر میں مذہب کی تبدیلی پر کلی پابندی لگانے کا قانون لایا جائے۔ مسلم مجلس مشاورت کا واضح موقف یہ ہے کہ گھرواپسی کے نام پرجاری سرگرمیاں نیز اپنا مذہب تبدیل کرنے کے اختیار پر کلی پاپندی ، دونوں ہی یکساں طور پر غیر قانونی اورغیرآئینی ہیں۔ مشاورت ہر ہندستانی شہری کے اس حق کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ بغیر کسی زورزبردستی، اپنی مرضی اورپسند سے چاہے جس مذہب کو اختیار کرے اوراس پر عمل کرے۔

بابری مسجد انہدام کیس
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بابری مسجد انہدام سازش کیس کو ، جو تکنیکی بنیادوں پر خارج کردیا تھا، اورجس میں بی جے پی لیڈر لال کرشن آڈوانی جیسے لوگ ملزم تھے، دوبارہ کھولے جانے کے سپریم کورٹ کی کاروائی کا خیرمقدم کرتی ہے اورامید کرتی ہے کہ گزشتہ صدی کے اس سنگین ترین جرم میں آخر کارانصاف ہوسکے گا، جس نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو بدل دیا اور نفرت کی سیاست کو ہندستان میں قابل قبول بنادیا۔

سچر اسکیموں میں تخفیف
احتجاجات کے باوجود مودی سرکار مسلسل سچررپورٹ کے نتیجہ میں شروع کی گئی اقلیتی فلاحی اسکیموں میں تخفیف کرنے اوران کو غیرموثرکرنے کے اقدامات کررہی ہے۔ قومی اقلیتی مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن کوتقریباً منجمد کردیا گیا ہے۔ مولانا آزاد ایجوکیشنل فاؤنڈیشن بھی تقریباً بستر مرگ پر ہے۔ مودی حکومت کو اپنی حقیقی ارادوں کو صاف کرنا چاہئے۔وہ یا تو ان اداروں کا موثرانداز میں احیاء کے اقدام کرے یا باقاعدہ طور سے بند کردینے کا اعلان کردے۔

گجرات کا نیا ٹاڈا
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ٹاڈا اورپوٹا کے طرز پر گجرات میں ایک نیا قانون ’’گج کوکا‘‘ لانے کی بی جے پی سرکار کی کوشش کی مذمت کرتی ہے جس کے تحت کسی پولیس افسر کے سامنے جبری ’اقرار جرم‘ عدالت میں قابل قبول شہادت تسلیم کیا جائیگا۔ یہ انصاف کے منافی ہے اور خاص طور سے گجرات جیسی ریاست میں نہایت قابل اعتراض ہے جہاں کی پولیس فورس عموماًانتہائی فرقہ پرست ذہنیت رکھتی ہے اور جس کے 16اعلا پولیس افسران ابھی حال تک اقلیتی فرقے کے افراد کے فرضی انکاؤنٹر معاملوں میں جیلوں میں تھے۔ ایسا قانون متعصب پولیس افسران کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار بن جائیگا جس کا استعما ل وہ بے قصورلوگوں کے خلاف کھل کر کرسکیں گے جیسا کہ ماضی میں باربار ہوتا رہا ہے۔ اکشردھام کیس اس کی ایک مثال ہے ۔ مشاورت صدرجمہوریہ سے درخواست کرتی ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی اس غیرآئینی قانون کو مستردکردیں۔

کاشتکاراوران کی زمینیں
مسلم مجلس مشاورت آراضی قانون مین مجوزہ تبدیلیوں کو اوردوبارہ آراضی آرڈی ننس جاری کرنے کی غرض سے راجیہ سبھا کے اجلاس کی مقررہ مدت سے پہلے خاتمہ کے مودی سرکار کے اقدام کو، جو جمہوریت کی روح کے صریحاً خلاف ہے ، مستردکرتی ہے۔ یہ جمہوریت کا کھلا قتل ہے جوملک کوایمرجنسی جیسی صورتحال کی طرف لیجائیگا جس میں حکمراں خود کو قانون سے بالاترتصور کرتے ہیں۔

انسانوں کی تجارت
ہندستان میں نوجوان خواتین ،خصوصاً مسلم خواتین ،کی تجارت ایک وبا کی صورت اختیار کرگئی ہے۔ ہزاروں غریب عورتیں مسلسل اغوا کی جارہی ہے یا ان کو لالچ دیا جاتا ہے یا خریدا جاتا ہے اور پھران علاقوں میں بیچ دیا جاتا ہے،جن میں نومولود بچیوں کی ہلاکت یا مادررحم میں ہی قتل کردیئے جانے کی بدولت مردوں کی بہ نسبت خواتین کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔ یہ مسئلہ پولیس اورانتظامیہ کے ڈھل مل رویہ کی وجہ سے بہت سنگین ہوگیا ہے۔ مسلم مجلس مشاورت حکومت اورعوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں اور اس کے دونوں پہلوؤں، قتل نسواں جنین اورعورتوں کی خرید فروخت کی برائی، کو روکیں۔

سہ لسانی فارمولہ
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت حکومت اورعوام کو یاد دلانا چاہتی ہے کہ سہ لسانی فارمولہ اردوکے لئے طویل احتجاجات کی بدولت 1968میں وضع کیا گیا تھا۔ اس فارمولے کے تحت یہ طے پایا تھا کہ ہندی کے ساتھ ایک جدید ہندستانی زبان اورایک غیرملکی زبان اسکولوں میں داخل نصاب ہوگی۔جن علاقوں میں لوگ اپنے بچوں کو اردوپڑھانا چاہیں، ان کے لئے اختیاری ہوگا کہ وہ تیسری زبان کے طور اردولے لیں۔ لیکن اس اسکیم کے روح کے خلاف بعض ریاستوں میں سنسکرت مسلط کردی گئی۔ یہ بات اب منظرعام پر آئی ہے کہ بعض اسکولوں میں دوسری زبان کے طور پر جرمن بھی پڑھائی جارہی ہے۔وزارت فروغ انسانی وسائل کو کسی دباؤ میں نہیں آنا چاہئے اور سہ لسانی فارمولے کی اسپرٹ کو بحال کرنا چاہئے۔
ملزمان کی ضمانتیں اوررہائی
مسٹر نریندر مودی کے وزیراعظم بن جانے کے بعد سے گجرات میں انکاؤنٹر اور دیگر جرائم میں ماخوذمجرموں بشمول درجنوں پولیس افسران کی ضمانت پر رہائی یا مقدموں میں بری کردیئے جانے اورسرکاری ڈیوٹی پر بحال کئے جانے کے سلسلے کی مسلم مجلس مشاورت مذمت کرتی ہے۔ امت شاہ کے خلاف سنگین الزامات تکنیکی بنیاد پر خارج کردئے گئے ہیں اورسی بی آئی نے اس کے خلاف اپیل تک نہیں کی۔ یہ سب قانون اورانصاف کا خون ہے ۔ اس کی بدولت قانون کی پامالیاں اوربڑھیں گی اوراس اطمینان کے ساتھ کہ اعلا عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد اپنے نفوذ کی بدولت قانون کے شکنجے سے بچ جائیں گے، لوگ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیں گے۔

جموں وکشمیر
جموں وکشمیر میں بھاجپا۔ پی ڈی پی اتحاد ایک سیاسی موقع پرستی کا گٹھ جوڑ ہے جس کا واحد مقصد اقتدار ہتھیانا ہے۔ مسلم مجلس مشاورت اس نظریہ کی حامل ہے کہ وادی کے رائے دہندگان نے بڑی تعداد میں پی ڈی پی کو صرف اس لئے ووٹ دیاتھا کہ بی جے پی کو ریاست میں اقتدار سے باہر رکھا جائے۔ لیکن انتخابات کے بعد پی ڈی پی قیادت نے اس کو درست سمجھا کہ ایک ایسی پارٹی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جائے جس نے ہمیشہ ریاست جموں و کشمیر کو نقصان پہنچایا اور جو ہمیشہ یہ چاہتی رہی کہ دفعہ 370کے تحت ریاست کو حاصل خصوصی درجہ ختم ہو اوروہ ریاست میں مسلح افواج خصوصی اختیارات ایکٹ کو اس کے باوجود بحال رکھنے پرہمیشہ اصرار کرتی رہی ہے کہ ریاست میں مسلح عسکریت پسندی کب کی مندمل ہوچکی ہے۔ مشاورت سمجھتی ہے کہ پی ڈی پی۔ بھاجپا گٹھ جوڑ کشمیری عوام کے طویل مدتی مفادات کے منافی ہے۔چنانچہ پی ڈی پی جتنا جلد بھاجپا سے دورہوجائے اتنا ہی بہتر ہے۔

ریاست سے باہر کشمیر طلباء پر ظلم زیادتی
مشاورت ریاست سے باہر کالجوں اوریونیورسٹیوں میں کشمیر ی طلباء کے ساتھ لگاتار زیادتیوں پرفکرمندی کا اظہار کرتی ہے اور اپنے معاشرے اوراداروں کے ذمہ داران کو خبردار کرتی ہے کہ تعلیمی اداروں میں کشمیری طلباء کے ساتھ بدسلوکی قومی مفاد کے خلاف ایک جرم ہے۔ اس سے اس اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے جو کشمیر کو ہند میں ایک منصفانہ مقام دلانے کیلئے ضروری ہے۔

دہشت گردی
مشاورت وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے اس حقیقت کے اعتراف کا، جس کا اظہار بار بار کیا جاچکا ہے، خیر مقدم کرتی ہے کہ ہندستانی مسلمان دہشت گردی کی تائید نہیں کرتے۔ لیکن یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اس کے باوجود سیکورٹی فورسز بغیر ذرہ بھر بھی ثبوت کے مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں برابرکیوں جاری رکھے ہوئے ہیں اور پورے پورے علاقہ کو دہشت گردی سے متاثرہ کیوں کہتے ہیں ۔ اگر وزیرداخلہ اپنے بیان میں سنجیدہ ہیں، تو ان کو چاہئے کہ سیکیورٹی فورسز کو ،جوان کے زیراختیار ہیں ،قائل کریں اور روکیں جنہوں نے مسلم نوجوانوں کو اغواکرنے اوران پر سنگین الزامات عاید کرنے کوایک معمول بنالیا ہے ،حالانکہ برسوں بعد ان کے الزامات عدالتوں میں باطل ثابت ہوجاتے ہیں۔

یمن
مسلم مجلس مشاورت یمن میں ، جو ایک زمانہ میں پرامن ملک تھا، روزافزوں بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتی ہے، جو تیزی کے ساتھ دوسرا لیبیا ، شام اورعراق بنتا جارہا ہے۔ مشاورت ایک مسلح ملیشیا کے اقتدار پر قبضہ جمالینے کو مسترد کرتی ہے ، لیکن ساتھ ہی بیرونی مداخلت کے خلاف بھی متنبہ کرتی ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگی، ملک تباہ ہوگا اور تنازعہ کے فریقوں کے درمیان جمہوری سیاسی تصفیہ مزید دشوار ہوجائیگا۔

شام
شام میں ایک پارٹی اورایک خاندان کی حکومت اورساتھ ہی وہاں کے معاملات میں غیرملکی مداخلت کو مسلم مجلس مشاورت اپنے سابق موقف کے مطابق مستردکرتی ہے۔ ملک کے اندر جاری طویل خانہ جنگی نے پورے ملک کو تباہ کردیا ہے اورداعش جیسی زیادہ خطرناک طاقت کے لئے مداخلت کا راستہ کھول دیا ہے جس سے وہاں کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائیگی اور کسی پرامن حل کے امکانات اورمعدوم ہوجائیں گے۔ مشاورت کو یقین ہے کہ وہاں خانہ جنگی کے تمام فریقوں کے لئے قابل قبول حل کی راہ اسی صورت میں کھل سکتی ہے جب شام پہلی جنیوا کانفرنس کے معاہدے کو نافذ کرے جس سے ملک میں جمہوری نظام قائم ہو اور جلد منصفانہ انتخاب کرائے جاسکیں۔ داعش ، جو علاقائی اور عالمی امن کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے،کے خطرے کا مقابلہ مشترکہ کوششوں سے کیا جاسکتا ہے۔

فلسطین
کل ہند مسلم مجلس مشاورت اسرائیلی وزیراعظم کی حرکتوں، فلسطین تنازعہ کے تصفیہ کو مستردکردینے اور اپنے قریب ترین غیرملکی اتحادی ملک کے اندرونی معاملامات میں ٹانگ اڑانے کو مستردکرتے ہوئے ،بشمول بین اقوامی عدالت انصاف، کئی عالمی اداروں میں فلسطین کی رکنیت وشمولیت کا خیر مقدم کرتی ہے، جس سے بے بس فلسطین کو اسرائیلی غنڈہ گردی کو روکنے اورمن مانے ڈھنگ سے فلسطینوں پر حملہ کرکے ان کو ہلاک و تباہ کرنے کی آزادی کے خلاف کاروائی کی تھوڑی گنجائش مل جائیگی ۔ فلسطینی اتھارٹی کو مقبوضہ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی شراکت ختم کرنی چاہئے اور غرب اردن، غزہ پٹی اور یروشلم میں اسرائیلی جبر کے خلاف جاری تحریک مزاحمت کی تائید کرنی چاہئے تاکہ اسرائیل کے قبضہ سے کم از کم وہ علاقے تو بحال ہوسکیں جن پر اس نے 1967 میں حملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا۔ مشاورت اپنے اس موقف کو پھر دوہراتی ہے کہ فلسطین اسرائیل تنازعہ کا واحد حل یہ ہے کہ اس خطے کو صہیونیت سے پاک کیا جائے اور پورے خطے میں عربوں اوریہودیوں کی ایک مشترکہ جمہوری ریاست قائم ہو، جس میں دونوں فریق امن سے رہ سکیں۔

قرارداد تعزیت
مسلم مجلس مشاورت کے اجلاس میں درج ذیل اہم شخصیات کی وفات پردعائے مغفرت کے ساتھ اظہار تعزیت کیا گیا:
جناب سید حامد، مفکر، مدبر، اصلاح معاشرہ اور فروغ تعلیم کے علم بردار ، دور اندیش قائد اور مشاورت کے قدآور رکن کا نئی دہلی میں 29دسمبر کو بعمر 94سال انتقال ہوگیا؛ کامیاب تاجر اور عوامی خدمت گار بی ایس عبدالرحمان کا 7جنوری کو چنئی میں انتقال ہوگیا؛ لوک سبھا کے سابق رکن اوربہار کے سابق وزیر فیاض الاعظم بعمر 82 سال یکم دسمبر کو وفات پاگئے؛ کرتپور، ضلع نجیب آباد کے معروف سماجی کارکن اور یوپی کے سابق وزیر راجہ غضنفرعلی خان کا 30دسمبر کو بعمر 80سال انتقال ہوگیا؛ بابری مسجد کیس میں سب سے پرانے مدعی محمد فاروق کا مختصرعلالت کے بعد 24دسمبر کو بعمر ایک سو سال انتقال ہوگیا؛ مولانا محمد قاسم ،میوات ہریانہ کے معروف عالم دین اوررہنما، مدرسہ دارلعلوم انوارالقرآن کے مہتمم کا، جو ’’شیرپنجاب‘‘ کے نام سے معروف تھے، مختصر علالت کے بعد بعمر 74سال 12جنوری کو انتقال ہوگیا؛ ڈاکٹراوصاف احمد، ماہر اقتصادیات، چیرمین انڈین سینٹر فار اسلامک فائننس کا بعمر ستر سال 22جنوری کو نوئیڈا میں انتقال ہوگیا؛ یوپی عربی فارسی بورڈ کے سابق چیرمین مولاناخلیل اطہر اشرفی (رام پور) کا 8فروری کو انتقال ہوگیا؛ مشاورت کی مغربی بنگال شاخ کے نائب صدر حاجی منصوراحمد کا فروری میں کلکتہ میں انتقال ہوگیا؛جناب کلیم عاجز، معروف اردو ادیب و شاعر کا 95سال کی عمر میں ان کے وطن ہزاری باغ، بہار میں انتقال ہوگیا؛ نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر شیخ نذیر احمد کا بعمر78سال 24 فروری کو جموں میں انتقال ہوگیا؛ بزرگ سنی عالم سمستھا کیرالاجمعیۃ العلما کے صدر مولاناایم اے عبدالقادر موسلیار کا تریکاکاری پور ضلع کاسرگوڈ، کیرالا میں 17فروری کو بعمر 91سال انتقال ہوگیا؛ حکیم عبدالمعید، چیف ٹرسٹی ہمدرددواخانہ اور چیرمین ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن کا 20مارچ کو 80 سال کی عمر میں نئی دہلی میں انتقال ہوگیا؛ جماعت اسلامی ہند کے سابق نائب امیر مولانا عبدالعزیز کا 16مارچ کو 91سال کی عمر میں حیدرآباد میں انتقال ہوگیا؛ خواجہ حسن ثانی نظامی، سجادہ نشین درگاہ حضرت نظام الدین اولیا، اور معروف اسکالر وادیب کا 15مارچ کو 83سال کی عمر میں نئی دہلی میں انتقال ہوگیا۔

No comments: