Thursday, April 2, 2015

No politics, Integrated Education is the only way out for Indian Muslim

ملت کے لئے مطلوب انقلاب کی راہ
سید منصورآغا، نئی دہلی
حال ہی میں ہاشم پورہ اجتماعی حراستی قتل کیس میں فیصلے سے مسلمانان ہند میں مایوسی اوربڑھی ہے اوران کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ اپنے وقار رفتہ کو کس طرح بحال کریں۔ اس میں شک نہیں سفاکیت کی یہ واردات ایک سیاسی حربہ تھا جس کا ’قومی مقصد‘ یہ تھا کہ مسلم اقلیت کو ڈرا، دھمکا اوردباکر رکھا جائے۔ میں نے اس کو ’قومی مقصد‘ اس لئے کہا کہ وہ پارٹیاں جو کسی بھی ریاست میں برسراقتداررہی ہیں،ان کارویہ الا ماشاء اللہ یہی رہا ہے۔ اس لئے یہ فیصلہ آنے پرساری پارٹیوں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ آزادی کے بعد مسلمانوں کی بربادی کے لئے ملک بھر میں سینکڑوں فساد برپا کرائے گئے ،اقلیت کی قتل گاہیں برپا کی گئیں۔ کئی ’فسادات‘ کی جانچ رپورٹوں سے یہ ثابت ہوگیاکہ نقصان سرکاری عملے کی شرارت نے پہنچایا۔مگرآج تک کسی قصوروار کوکہیں سزا نہیں ہوئی۔ البتہ بھاگلپور کافساد ضرورایک استثناء ہے، جس میں ملوّث چند مقامی باشندوں کو ایک طویل مدت کے بعد نتیش سرکار میں سزا ملی۔سرکاری افسراس میں بھی بچ گئے۔
سوال یہ ہے کہ ہماری قوم اس گرداب سے نکلے کیسے؟ یہ بات ہم کئی بارعرض کرچکے ہیں اورپھرعرض ہے کہ اپنے مسائل کا حل جب بھی سیاست میں تلاش کرنے کی کوشش کی ،بری طرح ناکامی ہوئی۔ہاشم پورہ کے بعد بھی جو شوراٹھا ہے اس میں زور سیاسی اقدام پر دیا جارہا ہے۔حالانکہ ہماری نظر میں اس کا علاج جذباتی فرقہ ورانہ سیاست سے کنارہ کشی اختیارکرنے اور خاموشی سے تعلیم وتربیت پر توجہ میں ہے۔
رابطہ مدارس اجلاس
ابھی حال ہی میں دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس کا ایک اجلاس ہوا، جس میں ایک فیصلہ تو یہ کیا گیا کہ مدارس جدید کاری کے نام پرمالی امداد کے سرکاری جال میں نہیں پھنسیں گے اور اپنی خودمختاری اورخود انحصاری کی حفاظت کریں گے۔ یہ عزم قابل مبارکباد ہے۔دینی تعلیم ہو چاہے عصری ،ہمیں سرکاری بیساکھیوں کے بجائے اپنے بل بوطے کھڑا ہونا چاہئے۔ ہرچند کہ مدارس میں بھی اکثر کا معیار اور نظام بیحد ناقص ہے، ان کی آمد و خرچ کا کوئی لیکھا جوکھا نہیں رکھا جاتا، بیشتر مدارس ذاتی ملکیت کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن ہمارایہ مشاہدہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں مدارس بورڈ کے راستے یا کسی اورطریقے سے مدرسہ تعلیم میں سرکاری مداخلت ہوئی، ان میں مدارس کا کردار بدل گیا۔ کلکتہ کا مدرسہ عالیہ(اب یونیورسٹی ) اس کی مثال ہے۔ رام پور کا مدرسہ عالیہ تو سرکاری انتظام میں تباہ ہی ہوگیا ہے۔ مدرسہ بورڈ کے زیرانتظام مدارس کا معیار بد سے بدتر ہو گیا۔ مدرسہ بورڈ کو جو رقم سرکار سے ملتی ہے اس کو مافیالے اڑتے ہیں اورفرضی مدرسے دکھاکر انتظامیہ سے رقم کی بندر بانٹ کرلیتے ہیں۔
مدارس اورعصری علوم
دیوبند کے اسی اجلاس میں ایک فیصلہ یہ ہوا کہ مدارس جدید طریقہ تعلیم اور عصری علوم کے پاس بھی نہیں پھٹکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مدارس کے فارغین اگر چاہیں بھی توعصری علوم سے استفادہ حاصل نہیں کرسکیں گے حالانکہ دارالعلوم کے بانی حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کی تلقین یہ ہے کہ مدارس سے فارغین عصری علوم کے طرف جائیں۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ دیوبندی نے بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے عصری علوم کے حق میں اپنا وزن ڈالا تھا۔مولانا رابع حسنی ندوی، صدر مسلم پرسنل بورڈ، ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے بھی آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کی پہلی کل ہند تعلیمی کانفرنس منعقدہ دہلی میں علوم دینیہ کے ساتھ عصری علوم کی اہمیت پر زوردیا تھا۔ ملت کی موجودہ زبوں حالی کا حل بھی یہی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کا فکروذہن قرآن اورسنت کے سانچے میں ڈھلا ہو اوران کے ہاتھ میں وہ ہنر ہو جس سے دنیا کو زیر کیا جاسکے۔ جیسا کہ ہم نے اپنے ایک سابقہ کالم،’تقدیرتعلیم اورتربیت سے بدلتی ہے ‘ میں اس طرح کی مربوط جامع تعلیم کے جنوبی ہند میں کامیاب تجربات کا ذکر کیا تھا، کوئی وجہ نہیں کہ ملک کے دوسرے خطوں میں اس تجربہ سے فائدہ نہ اٹھائیں اورمدارس دینیہ عصری علوم کو قابل نفریں قراردیں۔
مربوط تعلیمی نظام
جامع یا مربوط تعلیم ‘ (integrated education)کا تصور نیا نہیں۔ یہی نظام دورقدیم میں اسلامی حکومتوں میں رائج تھا ۔ہندستان کے مدارس میں بھی جدید علوم شامل نصاب رہے ہیں اورانہوں نے اعلا ترین دماغ پیدا کئے ہیں۔تاج محل اور جامع مسجد جیسی عظیم الشان عمارتیں بناتے والے ماہرین فن مدارس کی ہی پیداوار تھے۔ اجمال اس نظام کا یہ ہے کہ بچے کی تعلیم قرآن سے شروع کی جائے، جیسا کہ چند دہائی قبل تک مسلمانوں میں عام تھا۔یہی طریقہ فی الوقت جنوبی ہند کے اکثراسکولوں میں رائج ہے۔اسکولی نصاب میں ہرمسلم بچے کے لئے تجوید سے قرآن اور عربی زبان لازمی مضمون کے طور پرشامل ہیں۔ عربی قرآن کی زبان ہے اور دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔جن خطوں کی زبان عربی ہے ان میں معاش کے مواقع بہت زیادہ ہیں ۔ کیرالہ میں خوشحالی کا راز عربی کی تعلیم کا عام ہونا ہے۔ وہاں غیرمسلم بھی عربی پڑھتے ہیں اور خلیجی ممالک سے دولت کماکر لاتے ہیں۔ان اسکولوں میں مسلم طلباء کے لئے ایک لازمی مضمون اسلامیات کا ہے جس میں مبادیات دین ، نماز، روزہ وغیرہ فرض عبادات کے بنیادی مسائل، سیرت النبیؐ، تاریخ اسلام ، جس میں نبیوں کے حالات، دورنبوی ؐسے خلافت کے خاتمہ تک کی تاریخ کے اہم واقعات شامل ہیں۔بعض اداروں میں حفظ قرآن کا شعبہ بھی ہے اورتجربہ یہ کہتا ہے جو بچے حفظ قرآن کے بعد عصری تعلیم میں آتے ہیں وہ زیادہ محنتی ہوتے ہیں، ان کو یاد رکھنے کا ملکہ زیادہ ہوتا ہے اور تھوڑی سی کوشش سے دوسرے بچوں سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اہم موضوع طب و سائنس میں مسلم حکماء اور دانشوروں کی فتوحات کا بھی ہے۔
مسلمانوں کے زیرانتظام ان اسکولوں کے دروازے غیر مسلم بچوں کے لئے کھلے ہیں۔ ان کے لئے بھی ان کے مذہب کی رعایت سے اخلاقیات کانصاب پڑھانا ضروری ہے تاکہ جہاں ہمارے بچے اچھے باکردار مسلمان بنیں، وہیں ان کے ہم جماعت ہندو بچے ملک کے اچھے ہندوشہری بنیں۔
عصری نصاب
ہائی اسکول کے بعد مدرسہ تعلیم اورجدید تعلیم الگ الگ ہوجاتی ہیں۔مثلاًکالی کٹ کا جامعہ مرکز ثقافتہ السنیہ میں تفسیر قرآن، فقہ، حدیث ، افتاء جیسے اعلا نصاب کے ساتھ طب سائنس، آرٹس وغیرہ کے موضوعات بھی ڈگری کورس تک پڑھائے جانے کا نظم ہے۔ عصری تعلیم اور دینی تعلیم کے لئے نظام الگ الگ ہیں مگر سب ایک ہی مرکزی نظام کے تحت ۔ ہائی اسکول کے بعد جو بچے علوم دینیہ میں شغف رکھتے ہیں ان کے لئے عالم اورفاضل کا کورس ہے۔ جو جدید علوم پڑھنا چاہیں ان کے لئے الگ نظام و نصاب ہے۔اس ادارے کے تحت فی الوقت بیس ہزار سے زیادہ بچے زیرتعلیم ہیں۔ کیا حرج ہے کہ ہمارے مدارس بھی اس نہج پر غور کریں ، ان میں بھی اس طرح کورس ترتیب دیا جائے قرآن حفظ یا ناظرہ، عربی اورمبادیات اسلام کے بعد جو بچے جدید تعلیم کی طرف جانا چاہیں ادھر چلے جائیں۔آپ کالج نہیں چلانا چاہتے نہ چلائیں، جامعہ ملیہ، مسلم یونیورسٹی اوردیگر بہت سے ادارے ان کی جدید تعلیم کے لئے دستیاب ہیں۔
تعلیمی ادارے کا قیام
تعلیمی ادارہ قائم کرنے کے لئے پہلا اور سب سے بڑا مسئلہ زمین کا ہوتا ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً اگرگنجائش ہے توزمین خریدی جائے۔ اگرآپ کی ذاتی زمین ہے تواسکو 30 سالہ پٹے پراسکول کو دی جاسکتی ہے یا کسی سے لی جاسکتی ہے۔ اس سے کم خرچ پر ’لینڈ یوز‘ تبدیل ہوجاتا ہے اورادارے کی منظوری کے لئے قانونی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔زمین یا عمارت کرایہ پر بھی لی جا سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ زمین جس کی ہے وہ اسکول میں شریک بن جائے۔
ادارہ سازی منظوری اورسرکاری اسکیموں سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے اسکول کسی رجسٹرڈ انجمن کے تحت قائم کیا جائے۔ آپ چاہیں تو ادارہ لمٹیڈ کمپنی کے تحت قائم کریں اور اس میں شیر ہولڈر بنالیں۔ کوئی کمپنی بنائیں، یا ٹرسٹ بنائیں۔ سب سے محفوظ صورت ٹرسٹ کی ہے جس کو ایک اکیلا آدمی بناسکتا ہے۔ اسی کے تحت اسکول قائم کیا جائے۔ اس کے بغیر اگراسکول قائم کیا جائیگا تو سرکاری منظوری اورسرمایہ کا مسئلہ ہوگا۔آپ جو بھی صورت اختیارکریں اس میں مقاصد میں’ اقلیتی تعلیمی اداروں کا قیام اورچلانا‘ صاف طور پر درج کرائیں۔ تاکہ ادارے کو اقلیتی درجہ مل جائے ۔ بہت سی سرکاری اسکیموں کے فوائد اسی کے ساتھ مشروط ہیں کہ ادارہ اقلیتی ہو۔
سرمایہ کی فراہمی
سرمایہ فراہمی کی بھی کئی صورتیں ہیں۔گنجائش ہے توانفرادی طور سے سرمایہ لگائیں ورنہ کئی لوگ مل کر سرمایہ کاری کریںیا قرض لیں۔ ان کے علاوہ بھی کئی راستے ہیں جن سے فنڈ مل جاتا ہے۔ مثلا اسلامک ڈولپمنٹ بنک سے قرض، امداد یا وظائف مل سکتے ہیں۔ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن، وزارت اقلیتی امور، وزارت فروغ انسانی وسائل اوروقف کونسل سے بعض شرائط اورضوابط کے تحت رقم مل جاتی ہے۔ ان سب کے اپنے ضوابط ہیں مگر شفافیت اور درست ریکارڈ سب میں بنیادی شرط ہے۔ ہیرا پھیری سے کام بگڑ جاتا ہے۔
معیار تعلیم
اسکولوں کے لئے ایک اہم مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ تعلیم وتربیت کا معیار کس طرح بلند رکھا جائے۔ اس کے کئی حل ہیں۔ مثلا جنوب کے بعض ادارے رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں، جس کو کنسل ٹنسی کہا جاتا ہے۔ تعلیم اب اعلا ٹکنالوجی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ٹکنالوجی بھی ان سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ آپ کے ادارے میں وہ شراکت بھی کرسکتے ہیں ۔ اگر آپ شراکت نہ چاہیں توفرنچائی لے سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس اعلا معیارادارے کا نام آپ استعمال کرسکتے ہیں جیسا کہ ڈی پی ایس کا ہوتا ہے۔ البتہ اسکول کا معیار اسی ادارے کی طرح اس کی نگرانی میں برقراررکھنا ہوگا جس کی فرنچائی لی گئی ہے۔
ادارے کے قیام سے لے کر کامیابی سے چلانے تک ہر پہلو سے میں ماہرانہ مشوروں کے لئے ڈاکٹرممتاز احمد خاں کی تحریک پر ایک ٹرسٹ دہلی میں قائم ہوگیا ہے، جس کے ذمہ دار جناب کلیم الحفیظ عرف ہلال ملک ہیں۔ میسکو، حیدرآباد کے ڈاکٹر فخرالدین محمد بھی آمادہ ہیں اور جنوبی ہند کے دیگرادارے مثلا ایم ایس حیدرآباد کے جناب عبدالطیف اوردیگر صاحبان فکر و نظر بھی چشم براہ ہیں۔ تکنیکی مشورہ کی پیش کش جناب کمال فاروقی نے بھی کی ہے جو دہلی اورامروہہ میں تعلیمی ادارے چلارہے ہیں۔ آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کے جنرل سیکریٹری جناب عبدالرشید انصاری بھی معاون بن سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ جو بھی اسکول قائم ہو اس کا معیار بلند ہو۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب اسٹاف اچھا ہوگا اوراسٹاف اچھا اچھی تنخواہ سے ملے گا۔ ادارے کا خرچ چلانے کے لئے فیس معقول رکھنی ہوگی لیکن اس کا مقصد اپنی جیب بھرنا نہیں بلکہ ادارے کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہونا چاہئے۔نفع میں اسٹاف کو شریک کیجئے۔ ان کو حسن کارکردگی پر انعام دیجئے اورتہواروں کے موقع یا ایمرجنسی میں خاموشی سے مدد کیجئے۔ بیشک نفع کا ایک حصہ ان لوگوں میں تقسیم کریں جنہوں نے سرمایہ یا زمین اسکول کے لئے دی ہے۔ لیکن ضررت مند بچوں کو خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ کچھ رقم ان کے وظائف کے لئے مختص کیجئے۔ کچھ بچے ایسے بھی آئیں گے جن کا کل خرچہ اسکول اٹھائے گا۔ یہ کارخیر ہیں۔ اس میں زکوٰۃ اورصدقات سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔
اسکول کا معیار بلند رکھنے کے لئے ان کے والدین کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ ان کے ساتھ ٹیچرس کا مسلسل رابطہ ضروری ہے۔ایک اندازہ یہ ہے جو اسکول اعلا معیار کے ہوتے ہیں ان میں داخلے کے لئے آسودہ حال گھرانوں کے بچے بہت مل جاتے ہیں۔ آپ ان سے بھرپور فیس وصول کرسکتے ہیں اورمالی طور سے کمزور بچوں کو راحت پہنچاسکتے ہیں۔ جنوب میں ایسی مثالیں بہت ہیں کہ غیر مسلم بھی اپنے بچوں کو مسلم انتظامیہ والے اسکولوں میں داخلہ دلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے آپ کے زیرانتظام اسکول میں بچوں کو وہی ماحول مل جاتا ہے جس سے ان کو عملی زندگی میں واسطہ پڑیگا۔
ادارہ کیسا کھولا جائے
ایک مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کو کس اسٹریم میں ڈالا جائے اور کس طرح کا ادارہ کھولا جائے۔ میڈیکل، انجئرنگ، پیرامیڈیکل ، ایروناٹکس، آئی ٹی سی اور ٹیچنگ لائن، وغیرہ یہ، بہت سے اسٹریم ہیں جن پر علاقہ اورضرورت کے مطابق بات کی جاسکتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹرحسنین اورڈاکٹر منظر جمال کمپیوٹر ایجوکیشن کو ترجیح دیتے ہیں۔ ابوصالح شریف نے پتے کی بات کہی ہے کہ ہنرمند نوجوان کے لئے دنیا کے دروازے کھلے ہیں۔ لیکن کام پہلی منزل سے شروع ہونا چاہئے۔ ہماری فوری اوربنیادی ضرورت یہ ہے کہ ہربستی میں ہائی اسکول تک کی تعلیم کے ادارے بڑی تعداد میں قائم کئے جائیں۔ ان میں مسابقت ہوگی تو معیار بھی بلند ہوگا۔اعلا تعلیم کے لئے باصلاحیت بچے بھی ملیں گے۔ اعلا تعلیم کے ادارے جنوب میں بہت ہیں لیکن داخلہ کے لئے اہل امیدوارکافی تعداد میں نہیں ملتے اوراکثر میں سیٹیں خالی رہتی ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے تعلیم اب ایک انڈسٹری کی صورت لے چکی ہے۔ ہزاروں طلباء اسی لئے غیرممالک کا رخ کرتے ہیں کہ ان کا نظام تعلیم بہتر ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے باحوصلہ اہل ثروت برادران ملت ان جیسا کارنامہ انجام دینے کے لئے تیار نہ ہو سکیں۔
)نوٹ: اس کالم میں مختصراً جو معلومات فراہم کی گئی ہیں ان کے لئے ڈاکٹر فخرالدین محمد (میسکو، حیدرآباد)،جناب عبدالطیف، ایم ایس حیدرآباد ،جناب کمال فاروقی،  جناب عبدالرشید انصاری اور اپنے باحوصلہ رفیق کار کلیم الحفیظ کے خاص طور سے شکر گزار ہیں۔ مزید تفصیلی معلومات بھی ان اصحاب سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ رابطہ: 9818678677 پر بھی کیا جاسکتا ہے۔(
email: syyedagha@hotmail.com


No comments: