Saturday, March 21, 2015

The tragedy of the books and the book lovers and our public libraries

کتاب اورجھاڑن والی خالہ
تحریر : جناب وسعت اللہ خان
مرحوم حکیم محمد سعید نے جب کراچی کے مضافات میں مدینتہ الحکمت کے نام سے ایک علمی شہر بسایا تو سب سے زیادہ توجہ اس شہرِ علم کے کتب خانے ’’ بیت الحکمت ’’ پر دی۔ میں حکیم صاحب کے جمع کردہ کتابوں کے اس عظیم الشان ذخیرے کو دیکھ کے خاصا متاثر ہوا تو حکیم صاحب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ کہنے لگے پیرزادہ میں اتنا بڑا کتب خانہ صرف کچھ لوگوں کی علم سے بے بہرہ ناخلف اولاد کی مہربانیوں سے ہی بنا پایا ہوں۔
میں نے حکیم سعید کی جانب تکتے ہوئے پوچھا کیا مطلب ؟ کہنے لگے کہ پیرزادہ جب میں نے سنا کہ فلاں فلاں صاحب کے مرتے ہی ان کے اہلِ خانہ نے پہلے تو ان کے کتابوں کے ذخیرے کو اپنے گیرج ، بیسمنٹ ، انیکسی یا سرونٹ کوارٹر میں منتقل کردیا اور پھر ایک دن کوئی پرانی کتابوں کا سوداگر انھیں تول کر بیس پچیس ہزار میں لے گیا اور پھر پورا کتب خانہ ریگل کے فٹ پاتھ پر کتاب در کتاب بکنے کے لیے رکھ دیا گیا تو میں نے فیصلہ کیا کہ ایسے تمام عاشقانِ کتب کی فہرست بنوائی جائے جن کی عمر ساٹھ پینسٹھ برس سے زائد ہے۔اور پھر چند علمی جاسوسوں کی ڈیوٹی لگائی کہ جونہی ان میں سے کوئی اس جہان سے کوچ کرے اس کا کتب خانہ منہ مانگے داموں خرید لیا جائے اس سے پہلے کہ وہ ٹھیلوں اور فٹ پاتھوں پر منتقل ہوجائے۔ چنانچہ تم جس کتب خانے کو میرا کارنامہ سمجھ رہے ہو بخدا اس میں میرا حصہ اتنا ہے کہ میں نے ان یتیم و بے سہارا کتابوں کو ایک چھت فراہم کردی ہے اور بس۔۔۔
( یہ واقعہ ضیا الدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے دو روز قبل نیشنل بک فاؤنڈیشن کراچی کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب کے دوران سنایا )۔
اس واقعے سے مجھے یاد آیا کہ آوازوں کے عاشق لطف اللہ خان جنہوں نے ساٹھ ستر برس کی عرق ریزی سے پاکستان کی سب سے بڑی نجی صوتی لائبریری میں ادب و فن و موسیقی و سیاست سے منسلک بیسویں صدی کی ہزاروں نایاب آوازوں کا خزانہ جمع کر دیا۔ان کی وفات کے بعد یہ صوتی لائبریری کسی ایسے قدر دان کی منتظر ہے جو اسے گود لے کر بہت پیار سے رکھے۔مگر اب تک لطف اللہ خان صاحب کی بیوہ کو اس بارے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔خریدار آ تے ضرور ہیں مگر پورے ذخیرے کے نہیں اپنی اپنی پسند کے ٹکڑے خریدنے کے لیے۔لہذا بات اب تک بنی نہیں ہے۔
بات کتابوں کی کرتے کرتے میں بھی جانے کہاں نکل گیا۔بطور کتابی کیڑا مجھے یہ جان کے خوشی ہوئی کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن اپنی شایع کردہ کتابوں پر پچاس سے پچپن فیصد رعایت دیتی ہے۔چنانچہ گذشتہ مالی سال کے دوران ادارے کے سربراہ انعام الحق جاوید کے بقول فاؤنڈیشن کو کتابوں کی فروخت سے لگ بھگ ستائیس کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ یعنی اگر یہی کتابیں پوری قیمت پر فروخت ہوتیں تو ان کی ویلیو چون کروڑ روپے بنتی ہے۔
ایک ایسے سماج میں جہاں عمومی تاثر یہی ہے کہ لوگ کتاب کے بجائے چکن تکہ خریدنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اتنی کتابیں فروخت کردینا قابلِ ستائش ہے۔اور اگر نیشنل بک فاؤنڈیشن فرمائشی ، سفارشی اور یار دوست ٹائپ مصنفین کو زیادہ چھاپنے کے بجائے وہ کتابیں چھاپے جنھیں واقعی عام لوگ اور طلبا پڑھنا اور خریدنا چاہتے ہیں مگر کمرشل مفادات کے اسیر اشاعت گھروں کی مسلط کردہ غیر منطقی قیمت کے سبب نہیں خرید سکتے تو اصل خدمت یہی ہوگی کہ جس کے لیے نیشنل بک فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا تھا۔
اس سے بھی اہم ضرورت کسی ایسے ادارے کی ہے جس کا کام صرف یہ ہو کہ وہ غیر اردو میں شایع تعلیمی و سائنسی و ادبی کتابوں اور تحقیق کو اردو میں شایع کرے۔اس باب میں ہمارے بزرگ جامعہ عثمانیہ کے دارالترجمے کے قصے آہیں بھر بھر کے سناتے ہیںجہاں جوش صاحب اور مولانا مودودی جیسے اکابرین نے بھی وقت گذارا۔سلطنتِ عثمانیہ کے اس دارالترجمہ کی شہرت یہ تھی کہ اس دور میں جو بھی دستیاب اہم سائنسی و غیر سائنسی لٹریچر باقی دنیا بالخصوص یورپ میں شایع ہوتا تھا اس کا اردو ترجمہ حیدرآباد دکن کے اس دارالترجمہ میں فوراً کرکے کتابی شکل میں شایع کیا جاتا۔یوں عثمانیہ یونیورسٹی برصغیر کا واحد علمی ادارہ تھا جہاں جدید سائنسی علوم کی تدریس بھی اردو میں ہوتی تھی۔
ویسے بھی ترجمے کا فن مسلمانوں کی میراث ہے۔مغرب کے دورِ جہالت میں دبے قدیم یونانی لٹریچر کو اگر آٹھویں ، نویں اور دسویں صدی کے عرب مترجم دستیاب نہ ہوتے تو شائد یونان کا علمی چہرہ سامنے ہی نہ آتا اور پھر جانے پھر مغرب کا علمی انقلاب اور کتنی صدیاں آگے کھسک جاتا۔
میری نسل کو اگر ماسکو اور بیجنگ کے غیر ملکی زبانوں کے اشاعت گھروں میں ترجمہ شدہ روسی و چینی لٹریچر سستے داموں میسر نہ آتا تو شائد ہم لوگ کنوئیں کے مینڈکوں کی طرح برِصغیری ادب کے گرد ہی گول گول گھوم رہے ہوتے۔
سن دو ہزار دس میں پراگ میں چار ماہ گذارنے کے سبب مجھے احساس ہوا کہ کسی بھی معاشرے کو ذوقِ مطالعہ میں جکڑنے اور اسے باقی دنیا کے علمی رجحانات سے جوڑنے کے لیے فوری اور معیاری ترجمہ کتنا اہم ہے۔مجھے بتایا گیا کہ چیک ری پبلک کی آبادی سوا کروڑ کے لگ بھگ اور خواندگی کا تناسب ننانوے فیصد ہے۔
صرف پراگ میں کتابوں کی اسی سے زائد بڑی دکانیں ہیں اور ان میں نصف کتابیں وہ ہیں جو پچھلے ایک برس کے دوران دنیا کی مختلف زبانوں میں شایع ہوئیں اور اب چیک زبان میں دستیاب ہیں۔ایسی ہی ایک دکان پر مجھے محمد حنیف کا ناول ’’ اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز’’ بھی چیک زبان میں نظر آگیا۔جسے اس وقت تک انگریزی میں شایع ہوئے شائد سال بھی پورا نہیں ہوا تھا۔
پاکستان میں لوگ بھلا ایک دوسرے کو کیسے جانیں جب کہ بین الاقوامی علمی کام تو رہا ایک طرف علاقائی زبانوں کا نوے فیصد لٹریچر نہ تو قومی زبان میں اور نہ ہی کسی دوسری علاقائی زبان میں منتقل ہو پایا ہے۔اگر کسی نے اپنے طور پر اکا دکا چیزوں کا ترجمہ کربھی دیا ہے تو اس کی یہ کوشش اونٹ کے منہ میں زیرے سے زیادہ کچھ نہیں۔بہت اچھی بات ہے کہ یہاں اقبالیات پر ایک پورا ادارہ کام کررہا ہے، مقتدرہ قومی زبان میں ڈکشنری کے ایک ایک لفظ پر پسینہ بہہ رہا ہے۔
اردو سائنس بورڈ غیر سائنسی متروک کتابیں نکال کے لا رہا ہے۔مجلسِ ترقی ادب اپنی بقا کے جواز کے لیے چھوٹی موٹی تقریبات کرتی رہتی ہے۔پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز بھی کلاسیکل ادب کو ری سائیکل کرنے میں دلچسپی لیتی ہے۔لیکن اگر نہیں ہے تو قومی دارالترجمہ نہیں جو پاکستان کے علاقائی ادب اور خود پاکستان کو بین الاقوامی علمی و مطالعاتی نقشے میں رکھ سکتا ہے۔
عام لوگ بالخصوص نئی نسل مطالعے کی پیاسی ضرور ہے لیکن اردو میں اسے زیادہ تر ری سائکلڈ یا مذہبی و فرقئی لٹریچر ہی دستیاب ہے۔یقین نہ آئے تو کسی بھی کتابی نمائش میں چلے جائیے۔ہاں انگریزی کی کتابیں مہنگی ہونے کے باوجود فروخت ہو رہی ہیں۔کیونکہ اچھے انگریزی میڈیم اسکولوں اور مطالعہ دوست مڈل کلاس اقلیت میں اپنے بچوں کو جدید لٹریچر سے جوڑنے کا رجحان معاشی آسودگی کے سبب پہلے کی نسبت زیادہ فروغ پا رہا ہے۔اور کتابی میلوں کے فیشن اور ان میلوں میں معروف مصنفوں کی شرکت اور انھیں سننے اور ملنے کا گلیمر اس رجحان کو بڑھانے میں خاصا کردار نبھا رہا ہے۔
لیکن جو بچے اردو میڈیم اسکولوں میں پڑھنے پر مجبور ہیں اور جن کے والدین کے معاشی حالات بھی زیادہ بہتر نہیں۔ان کے لیے زنگ آلود گرد سے اٹے شیلفوں والی اسکولی و پبلک لائبریریاں ہیں۔جہاں آخری کتاب شائد انیس سو اڑسٹھ میں خریدی گئی ہو۔آپ نے کراچی کا فرئیر ہال یا اس کی تصویر تو دیکھی ہوگی۔کیسی شاندار عمارت ہے۔اس کے گراؤنڈ فلور پر ایک بڑے سے ہال میں پبلک لائبریری بھی ہے۔جہاں ساٹھ ساٹھ واٹ کے تین بلب دائمی تاریکی سے کشتم کشتا رہتے ہیں۔
کتابوں کے شیلف آخری مرتبہ شائد جانے کب جھاڑے گئے ہوں گے۔لاچار لائبریرین نے بتایا کہ جھاڑن والی خالہ کہ جن کی عمر ستر سے اوپر ہے طبیعت کی خرابی کے سبب کبھی کبھار ہی آتی ہیں۔یہ صرف ایک پبلک لائبریری کا احوال نہیں۔لگ بھگ ہر سرکاری لائبریری پر جھاڑن والی خالہ ہی کا راج ہے۔ہاں مگر لاڑکانہ کی سر شاہ نواز بھٹو لائبریری میں آج بھی صبح دروازہ کھلنے سے پہلے طلبا اور سینئر سٹیزنز کھڑے ہوتے ہیں کہ کب دروازہ کھلے اور کب وہ اندر جا کے کرسیوں پر قبضہ کریں تاکہ دن بھر مطالعے کے لیے بیٹھنے کی جگہ مل سکے۔یہی حال بہاولپور کی پبلک لائبریری کا بھی دیکھا اور جی خوش ہوگیا۔مگر یہ جی ہر نجی اشاعت گھر اور ہر پبلک لائبریری میں جا کر کب خوش ہوگا ؟
سردار جی کی سالگرہ پر کوئی دوست وہسکی کی بوتل لایا تو کوئی کرتہ سوٹ لے کر آیا تو کوئی مٹھائی سے لدا پھندا آیا۔ ایک دوست کتاب کا تحفہ لائے۔سردار جی نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا یار اس کی کیا ضرورت تھی میرے پاس پہلے ہی تین ہیں۔
کتابوں کے بارے میں ہمارا حال و خیال کیا سردار جی سے مختلف ہے ؟

No comments: