Thursday, March 26, 2015

Hashimpura mass killing was a political game, over turned on planners years ago


ہاشم پورہ کا سانحہ: سزا تو ملی مگر۔۔۔
سید منصورآغا، نئی دہلی
وہ قیامت کی رات تھی۔مئی کی شدید گرمی میں چھوٹے چھوٹے گھروں کے رہنے والے اکثر لوگ اپنی گلیوں میں چارپائی ڈال کر پڑرہتے ہیں۔ مگر شہر میں کرفیو تھا۔کیا بچے کیا بوڑھے، کیا عورت کیا مرد، سب گھروں میں بند تھے۔ غیرمسلم محلوں میں حال پھر غنیمت تھا۔بجلی کے بلب ٹمٹمارہے تھے۔ لوگ گلیوں میںآزادی سے آ جا رہے تھے۔ محلے کی دوکانوں کے شٹر بھی آدھے تہائی کھلے تھے۔ مگر مسلم محلوں میں حال یہ تھا کہ بجلی گل۔ دروازہ تو دور،کسی نے کھڑکی بھی کھولی تو تڑ سے گولی چلی اور کھڑکی بند ہوگئی۔
یہ واقعہ رمضان کے آخری جمعہ و ہفتہ، 22 اور 23 مئی1987 کی درمیانی رات کا ہے ۔ اس سے چندروز پہلے بابری مسجد کا دروازہ چور دروازے سے پوجا پاٹھ کے لئے کھلوا دیا گیا تھا۔ جس پر ایک فرقہ میں سخت غم وغصہ تھا۔ سراپا احتجاج لوگ عالم بے بسی میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔پولیس نے پہلے للکارا۔ مرعوب نہیں ہوئے تو ڈنڈے برسائے، گولیاں چلائیں۔ جواب میں چند اینٹ پتھر اچھالے گئے ۔ اسی کا نام ’فرقہ ورانہ فساد‘ رکھ دیا گیا۔ حالانکہ نہ ہندوحملہ آور ہوئے تھے اورنہ مسلمان ہندوؤں سے ٹکرائے تھے۔ہاں نعرے دونوں طرف سے ضرور لگائے گئے تھے۔ 
صورتحال قابو میں نہیں آئی توریاست کے وزیراعلا ویر بہادر سنگھ خود میرٹھ کے سرکٹ ہاؤس میں ڈیرہ ڈال کر بیٹھ گئے۔ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ جو کام عدالت کی آڑ لیکر کروایا گیا ہے اس پر عوام برہم کیوں ہیں؟ ان کا تعلق گورکھپورسے تھا۔ علاقے میں گورکھ ناتھ مندر کے مہنت اویدیہ ناتھ اور ان کے چیلے آدتیہ ناتھ کا سیاسی اثر رسوخ تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ ویر بہادرسنگھ کو فکر یہ تھی کہ پوروانچل میں ان کی سیاسی جاگیر نہ چھن جائے۔ ان کو سیکولرزم کا دامن تنگ نظر آیا۔وہ کانگریس میں بیشک تھے مگرمہنت کے ہی انداز میں اپنا اثرورسوخ بڑھاناچاہتے تھے۔ راجیو گاندھی نے بغیر استحقاق کے ان کو وزیر اعلا بنا دیا تھا۔ انہوں نے فرقہ پرست ذہنوں کورام کرنے کے لئے مسلم احتجاج کو کچلنے کی ٹھانی۔ ان کو ’سبق سکھانے ‘کا ارادہ کیا۔ گمان یہ ہے کہ ان کو مرکز کی پشت پناہی حاصل تھی جو کچھ ہی عرصہ قبل سکھ بھائیوں کو ’سبق ‘ سکھا نے کا گناہ کرچکی تھی۔ چنانچہ’ سیاں بھئے کوتوال، تجھے ڈر کس کا؟‘کی مصداق وزیراعلا بے خوف تھے اور پورے جلال میں تھے۔ 
ایک دن صبح سویرے جب وہ اعلا پولیس اور سول حکام کے ساتھ میٹنگ میں تھے ، مقامی ایم پی صاحبہ ان نے ملنے وہاں آ پہنچیں۔ مگروزیراعلا نے ان کو وہاں ٹکنے نہیں دیا۔ بند کمرے میں ایک فیصلہ کر لیا گیا۔ اس کونافذ کرنے کی ہمت دن میں تو نہیں ہوئی، چوروں کی طرح رات کی تاریکی میں مسلم محلہ ’ہاشم پورہ‘ پر یلغار کی گئی۔آج پوری دنیا بے بسوں کی اس بستی کے نام سے واقف ہے۔ مگراس کو یہ شہرت اور شناخت وزیر اعلا کی ’بہادری‘ سے نہیں ،بلکہ سرکار کی سفاکی اور انسانی حقوق کی بد ترین پامالی کی بدولت ملی۔ جو جرم پی اے سی سے کروایا گیا،اس پر پردہ نہیں پڑسکا۔بے یار و مددگار انسانوں کے قتل کی ہٹلری واردات کا داغ ایک نام نہاد سیکولرجمہوری حکومت پرلگ کررہا۔یہ واقعہ جب پیش آیا، دنیاتب تک دہشت گردی کے نام سے واقف نہیں تھی۔ ہاں ہٹلر کا نام ضرور سنا تھا۔
رات ہوئی تو پی اے سی کے جوان ٹرکوں میں سوار ہو کر آئے۔ ساتھ میں پولیس تھی۔ دروازوں پر دستک دی۔ جو نہیں کھلا ،اس کو توڑ دیا ۔ وحشیوں کی طرح اندرگھسے۔ توڑ پھوڑ کی، لوٹ کھسوٹ کی۔ کوئی 45ہٹے کٹے لوگوں کو بندوق کی نوک پر گھروں سے نکالا، ٹرکوں میں ڈالا اور چند کلومیٹر دور مکند پور گاؤں کے پاس لے جاکر ان کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ لاشیں گنگ نہر میں اچھال دی گئیں۔
تھوڑے ہی فاصلہ پر پولیس پوسٹ تھی۔ انجارج بی بی سنگھ نے گولیوں کی آواز سنی تو سمجھے گاؤں میں ڈاکہ پڑ گیا ہے۔ فوراً اپنے دوماتحتوں کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر دوڑے۔ تنگ راستے میں ادھرسے آتا ہواپی اے سی کا ٹرک ملا، جس پر41 ویں بٹالین لکھا تھا۔ کچھ دورآگے چلے۔ وہاں جو منظردیکھا ،اسے دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔ فوراً ایس ایس پی تربھون نارائن سنگھ کی کوٹھی پر پہنچے۔ صورتحال سے باخبر کیا۔ انہوں نے ضلع کلکٹر نسیم زیدی کو مطلع کیا اورچند منٹ میں ضلع کے اعلا افسران اس جگہ پہنچ گئے جہاں ابھی تک خون ٹپک رہا تھا اور چند لاشیں جھاڑیوں میں پڑی تھیں۔ ان کے حکم پر لاشیں پانی سے نکالی گئیں۔ مگر ریاستی حکومت کو ان کی یہ مستعدی پسند نہیں آئی۔چنانچہ نہ وہ ٹرک تحویل میں لیا جا سکا ،جو ارتکاب جرم کے لئے استعمال ہوا تھا، نہ جر میں استعمال اسلحہ ضبط ہوا۔ نہ کوئی گرفتاری ہوئی۔ بعد از خرابی بسیار 9 برس بعد سی بی سی آئی ڈی نے انکواری کی خانہ پوری مکمل کی۔ ایف آئی آر درج ہوئی۔ کچھ لوگ گرفتارکئے گئے۔ معطل بھی ہوئے اور چند ماہ بعد ایک ایک کرکے رہا بھی ہوگئے۔ سبھی ڈیوٹی پر بحال ہوگئے۔ ترقیاں مل گئیں ۔ پی اے سی پولیس میں بھیجے گئے۔ کئی سرکاری نوکری پوری کرکے شان سے ریٹائر ہوگئے۔ البتہ مقدمہ کی رسمی کاروائی جاری رہی۔
میں نے ایک ملاقات کے دوران میرٹھ کے نامور وکیل سید عاصم علی سبزواری مرحوم سے پوچھا، کیا کسی کو سزا ہوگی؟‘‘ فرمایا، ’ہاں ہوگی، مگریہ پوچھو کسے ہوگی؟‘ میں نے کہا،’ فرمائیے‘۔ بولے:’ مقتولین کے لواحقین کو ہوگی۔ ان کے گھٹنے عدالتوں کے چکر کاٹتے کاٹتے جواب دے جائیں گے۔ اپنی مزدوری کاایک حصہ اپنا اور بچوں کا پیٹ کاٹ کرمقدمہ پر خرچ کرتے رہیں گے، مگر ہاتھ کچھ نہیں آئیگا۔‘‘ بیس برس بعد ان کا یہ کہنا درست ثابت ہوگیا۔
ایف آئی آراورچارج شیٹ سے لیکر مقدمہ کی پیروی تک ساری کاروائی اس طور پر کی گئی کہ ملزم آخرکار چھوٹ جائیں۔ عدالت نے بھی اس کی نشاندہی کی ہے۔ عدالت میں ملزمان کی شناخت بھی نہیں ہو سکی۔ رات کی تاریکی میں پولیس کی ایک جیسی خاکی وردی میں ، ہلمٹ پہنے ہوئے ہر ملزم کی شناخت اور وہ بھی بیس برس بعد کیونکر ممکن تھی؟ اس کے لئے تو پی اے سی کا ریکارڈ کافی تھا۔مگر وہ نہ جانے کیا ہوا؟ شہادت کے طورپراخباروں سے فوٹو پیش کئے گئے۔ لیکن ان سے یہ کہاں پتہ چلا کہ گولی کس نے چلائی؟ کس کے حکم سے چلائی؟کتنوں پر چلائی؟ یہ ثبوت تو عدالت میں تب مہیا کرائے جاتے جب نیت سزادلانے کی ہوتی۔
یہ تو بڑی واردات تھی، اس کی شہرت ہوگئی۔ وارداتیں اوربھی ہوئیں۔ مثلاکرفیو کے دوران اکثر گھروں میں گھس کر پولیس نے زیادتیاں کیں۔ اسی خانہ تلاشی میں ماسٹر محمد حنیف ، جو میرا کرایہ دار تھا،زد میں آگیا۔ اس رات اس کو تیز بخار تھا۔ دروازہ کھولنے میں دیر ہوئی، چارپائی سے کھڑا نہ ہوا گیا تو ڈنڈا برسا۔فطری طور سے اسے روکنے کیلئے ہاتھ اٹھا، توکلائی کی ہڈی توڑدی گئی۔شدید بخار کی حالت میں اٹھا کر لے گئے۔ چند روز بعد عید تھی۔ عین چاند رات کو پولیس اس کے گھرآئی۔ اس کی بیوی اوربچوں کو عید ملانے کا کہہ کر کوتوالی لے گئی۔ مگر وہاں ان کی ملاقات سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی لاش سے ہوئی۔ بیوی نے کہا چہرہ دیکھنے ددو۔ اجازت نہیں ملی۔مکرر کہا توبچوں کے سامنے اس بدنصیب خاتون کو اس کے جسم کا جوحصہ دکھانے کی پیش کش کی گئی ،اس کا بیان بھی تہذیب کے دائرے سے باہر ہے۔ صبح سے پہلے پولیس کی نگرانی میں اس کی تدفین اس طرح کردی گئی کہ گھرکے افراد کے سواکوئی نہیں تھا۔ غسل بھی دینے نہیں دیا۔ اگلی صبح چند لوگوں نے قبر پر جاکر نمازجنازہ پڑھی۔
واردات کے28برس بعد مقدمہ کا فیصلہ آیاتو ایک شوراٹھا۔ اخباروں میں مذمتی بیان آنے لگے۔حالانکہ وقتافوقتا بیانات کے زریعہ خبروں میں رہنے کے رسیا برساتی لیڈروں کو یہ تک پتہ نہیں کہ عدالتی کاروائی کس طرح ہوئی؟ کسی نے دوران سماعت مظلومین کی داد رسی نہیں کی۔ مقدمے کی پیروی کیا ہوتی، واردات کے فوراً بعد رلیف کے نام پر جو پیسہ قوم نے دیا،اس کو پوری طرح خرچ نہیں کیاگیا۔ ایف ڈی کرالی گئی۔ رلیف کا مطلب اتنا ہی نہیں کہ چند روز کیلئے دال روٹی کا بندو بست کردیا جائے۔ متاثرین کوروزگار بھی چاہئے۔ ان کی بیواؤں اور کم سن بچوں کی خبرگیری بھی طویل مدتی عمل ہے۔ کتنی ہی بیوائیں بے سہارا ہوگئیں۔ کتنی بچیوں کی شادی کے لئے دو جوڑے کپڑوں کے بھی لالے پڑ گئے۔کتنے بچے تھے، جن کی تعلیم ادھوری رہ گئی۔ کتنے ہی اسکول کامنھ تک نہیں دیکھ سکے۔ آج وہ سب ہمدردی جتارہے ہیں اور اخباروں میں فوٹو کے ساتھ بیانات چھپوارہے ہیں۔
اس وقت مرکز میں راجیوگاندھی کی سرکار تھی۔ ان کے ہی خاندان کے فرد ارون نہرو وزیر داخلی سلامتی، ان کے مشیرخاص تھے۔ مسجد کا تالا کھولے جانے سے اقلیتی فرقہ کو سبق سکھانے تک کا یہ گھناؤنا کھیل سیکولرزم کی راہ چھوڑ کر نرم ہندتووا پر عمل پیرا ہونے کے لئے کیا جارہا تھا۔ لیکن جس طرح اچھے اوربرے عسکریت پسند نہیں ہوسکتے اسی طرح نرم اورگرم فرقہ پرست بھی نہیں ہوسکتے۔ پی اے سی کے جن جوانوں پر قتل کے الزام میں مقدمہ چلا، بیشک گولیاں انہی میں سے کسی نے چلائیں، مگر کیا پی اے سی کے ایک انسپکٹر کی یہ مجال ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی بٹالین کو لیکر اتنی بڑی واردات کرگزرے ؟ ہرگز نہیں۔ میں نے ایک مرتبہ مسٹر بی پی سنگھل سے، جو میرٹھ میں ڈی آئی جی رہ چکے تھے اور یوپی میں آئی جی پولیس کے منصب سے ریٹائر ہوئے، پوچھا کہ یہ سب کیونکر ہوا؟ انہوں نے صاف کہا: دیکھوآغا، جب تک اوپرسے اشارہ نہیں ہوتا، پولیس ایک بدمعاش کاانکاؤنٹر تک نہیں کرسکتی۔ 
اس واردات کے بعد راجیو گاندھی میرٹھ گئے۔ پیدل شہر میں گھومے۔مگرہاشم پورہ کے اندر نہیں گئے۔ برابر کی سڑک سے گزررہے تھے کہ وہاں کا ایک باشندہ کسی طرح ان تک پہنچ گیا۔ استدعا کی کہ چل کر ہمارا حال تو دیکھ لو۔ مگروزیراعظم ہند نے سنی ان سنی کردی۔ البتہ جب چند برس بعد ویربہادر سنگھ کی پیرس میں مشکوک حالات میں موت ہوئی تولاش انڈیا آتے ہی وہ ان کو شردھانجلی دینے لکھنؤ پہنچ گئے۔
ایک مظلوم کولیکر محترمہ محسنہ قدوائی، ایم پی راجیو کے پاس گئیں۔ اس نے اپنا حال بیان کیا۔ عرض کیا، مقتولین کے ورثا کی کچھ مالی امداد تو کروادیجئے، مگر ہاشم پورہ کے کسی مظلوم کو ایک دھیلا نہیں ملا۔سچ بتائیں انصاف کا خون کس نے کیا؟ اصل ذمہ دار کون تھا؟اور مقدمہ میں ملزمان کن کو بنایا گیا تھا؟مقدس دربارصاحب کی پامالی سے مضطرب سکھ بھائیوں کو تو دہلی میں سبق سکھادیا اور میرٹھ میں بابری مسجد کے عقیدت مندوں کو بھی، مگران حماقتوں سے کانگریس کو کیا ملا؟ اس نے کیا سبق لیا؟ سکھوں میں دم تھا، دہائیوں بعد ان سے معافی بھی مانگ لی گئی۔ کچھ مالی امداد بھی دیدی گئی۔ مگر ظلم کے زخم آج بھی ہرے ہیں۔ مقتولین کا بھوت اب تک کانگریس کا پیچھا کر رہا ہے۔ حالانکہ کانگریس نے ایک سکھ کو وزیراعظم تک بنادیا۔ مسلم قیادت نے کیا کارنامہ کرکے دکھایا؟ صرف اخباروں میں بیان بازی یا کچھ اور؟
مقدمہ کا فیصلہ بظاہر اب آیا ۔ مگرقدرت کا فیصلہ تو کب کاآچکا ہے۔ نرم ہندتووا کی چال، جو راجیو سرکار نے چلی، جس کو نرسمہا راؤ نے آگے بڑھایا، الٹی پڑگئی۔راجیوکی حکومت میں پہلے تالا کھلوایا گیا۔ پھر شلانیاس کروایا گیا۔ مگراقتدار ہاتھ سے جاتا رہا۔ اترپردیش کی سرکار ہمیشہ کے لئے نکل گئی۔ میرٹھ کی اسمبلی اور پارلیمنٹ کی سیٹ جو ہمیشہ کانگریس جیتاکرتی تھی، اس کے لئے اب ایک حسرت بن کررہ گئی۔ سیاسی غلطیوں کی یہ سیاسی سزائیں ہیں۔ تو یہ نہ کہئے کہ سزا نہیں ملی۔ رہے وہ بیچارے پیادے جنہوں نے جرم کا ارتکاب اپنے ارادے سے نہیں کیا، ان کو کیا سزا ملتی؟ ان جو حکم ملا وہی کیا۔آپریشن بلو اسٹار کے کمانڈنٹ برگیڈیر(ر)آئی آرخان نے ایک مرتبہ غیررسمی گفتگو کے دوران بجا کہا، مسلح سیکیورٹی دستوں کو سکھایا ہی یہ جاتا ہے، جو حکم ملے اس کی تعمیل کرو۔اس لئے اصل مجرم وہ کب تھے جن کو اب عدالت نے بری کیا؟وہ توجرم کی سازش کے صرف آلہ کار تھے۔ کلیم عاجز مرحوم نے کیا خوب ترجمانی کی ہے: 
میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو
دن ایک ستم، ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو، دشمن کو بھی مات کرو ہو
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
اس واقعہ کے اس پہلو کو ابھارنا اس لئے ضروری ہے کہ کانگریس میں 2014 اور اس کے بعد کی پے درپہ شکستوں کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ رو بہہ رہی ہے کہ شکست کی وجہ اکثریتی فرقہ میں کانگریس کی اقلیت نوازی بن گئی ہے۔ بیشک یہ الزام بھاجپا لگاتی ہے، اورجھوٹ لگاتی ہے۔ مگر مشورہ یہ دیا جارہا ہے کہ اس غیرحقیقی داغ سے نجات پانے کے لئے ہندتووا کی راہ پر چلا جائے۔ پارٹی اس راہ پر چل بھی پڑی ہے۔ کانگریس میں ہمیشہ ایسے کھدر دھاری رہے ہیں جو اندر سے سنگھیوں سے بھی دوقدم آگے اکثریتی فرقہ پرستی کرتے ہیں ۔ اب پھرایسے لوگ پارٹی میں زور مار رہے ہیں۔ اسی لئے سونیا گاندھی کو ہٹانے اورراہل کو لانے کی مہم چل رہی ہے کہ اس نوسکھیا کوراجیو کی طرح شیشے میں اتارنا آسان ہوگا۔
ہاشم پورہ سازش میں شریک سیاست دانوں کو قدرت سے سزائیں تواور بھی ملیں۔ مگران کو قلم پر لانا مناسب نہیں۔ البتہ جو لوگ اس فیصلے کے بعد ماتمی دھن بجا رہے ہیں، وہ اپنا جائزہ ضرور لیں کہ مقدمہ کی 28 سالہ سماعت کے دوران وہ کہاں تھے؟ اللہ غریق رحمت کرے بھائی یامین صاحب کو،جوہزارمشکلات کے باوجود تادم آخر پیروی میں لگے رہے حالانکہ لیڈروں سے نہایت دل برداشتہ رہے۔ انتقال سے چندماہ قبل گھنٹہ گھر (میرٹھ) پر ملاقات ہوگئی۔ چائے کی دوکان پر دیر تک اپنا درد بیان کرتے رہے۔ لیکن اکیلا چنا کیا بھاڑ پھوڑتا؟
بات ہے تو غیرمتعلق مگرمظلومین کے مقدموں کی پیروی کے ضمن میں اگر مہارشٹرا کے حوالے سے اعتراف حق نہ کیا جائے تو زیادتی ہوگی۔ جو کام ہاشم پورہ کے مظلومین کے لئے نہیں ہوسکا، اب مولانا گلزار قاسمی اور ان کی ٹیم دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار مظلومین کے لئے خوب کام کررہی ہے۔ کئی لوگ جیلوں سے باہر نکل آئے ہیں۔ اللہ ان کو، ان کے معاونین کو ،جمعیۃ علماء میں ان کے شرکائے کارکو اوران کے وکلاء کو مزید ہمت وحوصلہ دے اور خدمات کو قبول کرے۔ آمین۔

No comments: