Thursday, March 19, 2015

Destiny may change only by Education and Training: Message of "India Education Conclave" Moradabad-1

تقدیرتعلیم وتربیت سے بدلتی ہے
سید منصورآغا،نئی دہلی
کانفرنس کے روح رواں ڈاکٹر مخرالدین محمد حیرداباد

شمالی ہند میں خوشحالی، بااختیاری اورفرقہ ورانہ تشدد سے نجات کا وہ خواب ہماراابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوا، جس کے لئے ہم گزشتہ ڈیرھ صدی سے سیاسی جدو جہد کر رہے ہیں۔ حالیہ پارلیمانی چناؤ جس طرح ملک بھر میں مسلم ووٹ بے وزن ہوگیا ہے، اس نے واضح کردیا ہے کہ سیاسی حربہ غیریقینی ہوگیا ہے۔ اس لئے اب توجہ دوسرے متبادل کی طرف دی جانی چاہئے جس کا کامیاب تجربہ جنوبی ہند میں کیا گیا ہے ۔ وہ ہے:’’ پڑھو اورپڑھاؤ‘‘؛’’ تعلیمی ادارہ سازی میں سرمایہ لگاؤ اور دین ودنیا کی بھلائی پاؤ‘‘۔ یہی وہ پیغام ہے جو جنوبی ہند کے چنددیدہ وروں نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر گزشتہ اتوار (15 مارچ) شمالی ہند کے بڑے صنعتی شہر مرادآباد میں ’انڈیا ایجوکیشن کانکلیو‘ میں دیا اورجس پر اہل مرادآباد نے والہانہ انداز میں لبیک بھی کہا۔
اس حقیقت سے کون انکارکرسکتا ہے کہ دنیا میں اس وقت تک کوئی قوم انقلاب برپا نہیں کرسکی جب تک کہ اس نے عصری علوم وفنون میں دوسروں پرسبقت حاصل نہ کرلی ہو اور علمی فتوحات کو اپنی شناخت نہ بنا لیا ہو۔ تاریخ کے اوراق الٹ کردیکھ لیجئے ، جب عرب کے بدوؤں نے اپنا رشتہ ایمان کے ساتھ انسانیت کے لئے نافع علوم وفنون طب و جراحت، طبیعات اور مادوں کی کیمیائی صفات (علم کیمیا)، تاریخ و جغرافیہ، ستارہ شناسی اور جہازرانی وغیرہ سے جوڑ لیا تو ان کے لئے مغرب تا مشرق، شمال تا جنوب فتوحات کی دروازے کھلتے چلے گئے۔وہ جہاں بھی گئے، اپنے علم وفضل اوراخلاق کی بدولت دلوں میں گھر کر گئے۔ لیکن جب علوم وفنون کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا، اخلاق میں گراوٹ اور کردار میں کمزوری آنے لگی، پوری دنیا میں مسلمان بلندی سے پستی کی طرف گرتے چلے گئے۔ 
خداکا قانون یہ ہے کہ جب ایک قوم مٹتی ہے تودوسری اس کی جگہ لینے کے لئے اٹھتی ہے۔ چنانچہ دوربدلا۔ قدیم زمانے سے عقائد کی بیجا تاویلات ،پر تشددنظریات، گوناگوں توہمات اورہزار خرافات میں مبتلا اہل یوروپ نے جب انہی علوم وفنون سے خوشہ چینی کی، جن کا اولین سہرا مسلم حکماء اوردانشوروں کے سر تھا،تو ہرمیدان میں آگے بڑھتے چلے گئے۔مسلمانوں کے دوبڑے بڑے امپائر خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور اہل یوروپ کی طوطی بولنے لگی۔
زوال  کے اس تاریک دور میں ہماری دلچسپیاں شعر و سخن  کی سرمستیوں اور فقہ کی باریکیوں میں سمٹ کر رہ گئیں۔بات یہاں تک پہنچی کہ اہل مغرب نے بھاپ کی طاقت سے ریل ایجاد کی توہم نے اس میں سفر کے خلاف فتوا دیا۔ لاؤڈاسپیکر بنا تواس کوصوتِ شیطانی قرار دیکر، ممنوع ٹھہرادیا۔ارشاد نبوی ؐتو ہے:’یسرولاتعسر‘اور ہم دعا بھی کرتے ہیں: ’اللھم یسرولا تعسر‘ اے اللہ چیزوں کو ہمارے لئے آسان فرمادے ، ان کو مشکل نہ کر‘‘ لیکن ہم نے دین فطرت کو، جواس کے اولین مخاطبین کے لئے سہل تھا،آج مشکل بنادیا۔وہ کلمہ پڑھا کرلوگوں کوایمان میں داخل کرتے تھے اورہم کلمہ گوبھائیوں کے دل کے حال پر، جس کو خداکے سواکوئی نہیں جانتا، فتوٰی لگاکر کافر قراردیتے ہیں۔اللہ نے تو قرآن پاک میں جابجا فرمایا، مظاہرقدرت اورمیری نشانیوں میں غورفکر کرو، ایمان کی دولت پاؤگے اورہم نے کہا، جو لوگ اس راہ پر چل پڑے، وہ ایمان سے بھٹک گئے، اس لئے اس غور و فکر سے بچو، ورنہ ایمان جاتا رہیگا۔استغفراللہ۔ غرض یہ کہ ہمیں جملہ علوم نافع سے وحشت ہونے لگی اور ہم ان سے دورہوتے ہوتے زوال کا شکار ہوگئے۔
آج موبائل فون ہرایک کے ہاتھ میں ہے، کمپیوٹر کے بغیر کسی کا گزارہ نہیں، بجلی نہ ہو، یہ گوارانہیں،بیمارپڑے تو ڈاکٹر کے بنا چارہ نہیں۔ یہ فون کی گھنٹی، بجلی کی روشنی، یہ طبابت اورجراحت ،سب انہی علوم کی فتوحات ہیں، جن کی بدولت انسانیت کا بھلا ہورہا ہے ، مگران کو ہم نے دنیاوی ٹھہرایا، حقیر جانا اور چھوڑ دیا، حالانکہ دنیا کی کسی دوسری چیز سے کنارہ نہیں کیا ۔ ان کے اولین نقوش بیشک ہم نے ابھارے، مگر ان کے فروغ میں ہمارا کوئی کردار نہیں رہا۔ان کا استعمال اگر انسانیت کی بہبود کے لئے ہے، تو آخرت میں اجر خیرسے ناامید کیسے ہوا جاسکتا ہے ؟ لیکن اس کو کیا کہا جائے کہ ہمارے لائق صد احترم فقہا اور علمائے کرام نے ان علوم میں ہاتھ بٹانا تودورکی بات ، ان کے حاصل کرنے کو بھی روک دیا۔بیشک یہ قصور دین اور اصول دین کا نہیں،ہماری فہم اور فراست میں کجی کا ہے۔ کوئی وجہ نہیں اللہ کا دین انسانیت کے لئے نفع بخش علوم سے روکے۔ الحمدلللہ اب ماحول بدل رہا ہے اور علمائے کرام بھی عصری علوم کی طرف متوجہ ہیں۔ مگرمسلکی عصبیتں اورباہمی رقابتیں قوم کی راہ روکے کھڑی ہیں(جاری)
۔

No comments: