Thursday, March 19, 2015

Destiny may change only by Education and Training: Message of India Education conclave, Moradabad

Mansoor Agha addressing
(دوسراحصہ)
ہمارے ملک میں ڈیڑھ صدی قبل سیاسی بساط الٹ گئی۔ وہ جیالے جو گھوڑوں کی پشت پرسوارہوکردرہ خیبر کے اس پار سے  آئے تھے، ان کے ہاتھ سے تلوار چھن گئی اور سپہ گری کا جلال ختم ہوا۔ حکمرانی ہاتھ سے نکل گئی ،مگراس کی خو بو نہیں گئی۔ بہت کم لوگوں نے صنعت اور تجارت کی طرف رخ کیا ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہزار آفتوں کے باوجود آج بہتر حال میں ہیں۔
محرومی کے اس سیلاب میں ہم نے سیاست کا سہارا لیا۔ ہمارے اسلاف نے غیر معمولی قربانیاں دیں۔ ہم ان کے جذبہ حریت کو سلام کرتے ہیں، مگر ہمارے ہاتھ کیا لگا؟ صرف محرومی! تقدیر تو کیا چمکتی، تباہی وبربادی اور خانہ بدری ہم پر مسلط ہوگئی ۔حالیہ پارلیمانی اوراسمبلی انتخابات نے ہمارے سارے کس بل نکال دئے۔ سارے سیاسی اندازے الٹ گئے۔وقت پکار پکار کر کہہ رہا ہے مسلمانوں مسلکی تنگ نظریوں اور بندسیاسی گلیاروں سے باہرنکلو، اگر اپنی قوم کی بہبود درکار ہے توپھر علوم کی فتوحات کی طرف پلٹو۔ ’’خود پڑھواوردوسروں کو پڑھاؤ‘‘ کے عزم کے ساتھ ادارہ سازی کرو۔یہی فرقہ ورانہ ہم آہنگی کا نسخہ کیمیا بھی ہے کہ آپ اپنے اداروں کے دروازے سب کے لئے کھول دیں اور معیار اسقدربلند رکھیں کہ غیرفرقہ کے لوگ بھی آپ کے اسکولوں کو ترجیح دینے لگیں۔ سب کے بھلے میں ہمارا اپنا بھلا ہوگا۔ مشاہدہ یہ ہے کہ جن افراد نے اپنی جدوجہد سے علم وہنر حاصل کیا،کوئی کمال حاصل کیا، خوشحالی نے ان کے دروازوں پر دستک دی ہے اور جنہوں نے اپنے اداروں کے دروازے دوسروں کے لئے کھولدئے ان کے وقارواحترام میں اضافہ ہوا۔
جناب کلیم الحفیط خطاب کرتے ہوئے۔

جب ہم زوال کے دور میں داخل ہورہے تھے، ایک آواز سرسید احمد خان کی گونجی تھی۔ کہابااختیاری سیاست اور قدامت کی طرف پلٹنے سے نہیں، جدیدعلوم وفنون کی طرف پیش رفت سے حاصل ہوگی۔ جو لوگ متوجہ ہوئے، ان کے حالات بیشک بدلے۔ لیکن بعض وجوہ سے، جن کے ذکر کا یہ موقع نہیں، ان کی یہ تحریک قوم کا رخ پوری طرح تعلیم کی طرف نہیں موڑ سکی۔سیاست سے دلچسپی کم نہ ہوسکی۔ ان کے اس جدید ماڈل میں تعلیمی اداروں کی خود کفالت کے بجائے توجہ اہل خیر کے داد و دہش پر رہی۔ مزاج یہ بن گیا کہ تعلیم کا فروغ محض ایک کار خیر ہے۔ جس کی بدولت ادارے چلانے میں دشواریاں آئین۔
ملک کے جن خطوں میں توجہ تجارت اورتعلیم پر دی گئی، وہاں خوشحالی کا دورآیا۔ان کو نظام حکومت میں بھی حصہ داری ملی۔ چند علم دوستوں کی پہل کی بدولت یہ خطے ایک نئے دور میں داخل ہوگئے۔ان میں اولین نام ڈاکٹرممتازاحمد خان کا ہے جو خود مسلم یونیورسٹی کے فیض یافتہ ہیں۔انہوں نے نوجوانی میں اپنا کلینک بند کیا اوربنگلور میں ایک شمع جلائی،نتیجہ یہ کہ پورے خطے میں تعلیمی تحریک کے مضبوط مراکز قائم ہوتے چلے گئے۔ ان میں ایک بڑا نام’ ’مسلم ایجوکیشنل سوشل کلچرل آرگنائزیشن‘‘ (میسکو)کا ہے، جس کے روح رواں تعلیمی تحریک کی ایک قدآور شخصیت ڈاکٹر فخرالدین محمد ہیں۔جنوبی ہند کے ان روشن دماغ افرادنے ادار ے بنائے اور نئی نسل کو باختیاری، خود مختیاری اور خوشحالی سے روبروکرایا ۔ یہ ادارے فلاحی خدمات تو انجام دے رہے ہیں ، مگر خیرات اور صدقات پر تکیہ نہیں کرتے۔ہرادارہ صنعتی اصولوں پر قائم ہے۔ نظام جتنا چست و درست ہوگا، کارکن جتنے لائق، سرگرم اورمطمئن ہونگے،کوالٹی کنٹرول پر جتنی توجہ ہوگی، پروڈکٹ بھی اتنی ہی اعلا ہوگی۔ مارکیٹ میں مانگ اورنتیجہ میں منفعت بڑھے گی۔ یہ سب کہنے کی باتیں نہیں، کی جارہی ہیں اور کامیاب ہیں۔
جہاں تک فنڈز کی فراہمی کا تعلق ہے، ہم بے خبر ہیں، ورنہ اقلیتی تعلیم کے لئے سرکاری امداد کے اتنے راستے کھلے ہیں کہ اگر شفافیت برتی جائے، ادارے واقعی کچھ کردکھانے کے قابل ہیں اور ’حکمت‘ سے کام لیا جائے ،توپیسہ کی کمی نہیں رہتی۔البتہ سینہ کوبی کا مزاج ترک کرنا ہوگا۔ جنوب کے ادارے سرکاری اسکیموں سے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہیں۔ معیار بلندرکھتے ہیں اور اہل ثروت سے معقول فیس وصول کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی اپنی یافت کا بڑا حصہ مالی اعتبار سے کمزور بچوں کی خبرگیری پرخرچ کرتے ہیں۔خیرات کے لئے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں مگر جو مستحق ہوتے ہیں ان کو مایوس ومحروم نہیں رہنے دیتے۔ ان کی دست گیری انہیں اداروں کی آمدنی سے کرتے ہیں۔
مسلم اقلیت کے زیرانتظام ان اداروں کی ایک بڑی خوبی ،ان کا جامع نصاب ہے۔جدید علوم وفنون کے ساتھ اخلاقی اور دینی تعلیم و تربیت کی خاص اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے ان کے طلباء کامیاب ہیں اور فراغت کے بعد بسہولت اچھے روزگار سے لگ جاتے ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے ایک فلاحی انڈسٹری کی طرح پھل پھول رہے ہیں۔
الامین ایجوکیشن اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ‘، اور’ میسکو‘کی دعوت پر ایس آر گروپ اور چند دیگر صنعتکاروں اور چند تعلیمی اداروں کے تعاون سے زیر تبصرہ کانکلیو میں بتایا گیا کہ جنوب میں جو کامیاب تجربہ جاری ہے اس کو شمالی ہند کے اہل ثروت مسلمان اختیارکرلیں توتعلیمی انقلاب آسکتا ہے۔ عزم وحوصلہ درکار ہے۔رہنمائی پوری پوری کی جائیگی جس میں مالی وسائل کی تنگی آڑے نہیں آئے گے۔ ہر تقدیر کودرست تدبیر سے بدلا جاسکتا ہے۔ جب مسافر سفر پر نکل پڑتا ہے تو راستہ بتانے والے بھی مل جاتے ہیں۔ 
جناب سبحان شریف، 
اس بات کا تفصیل سے ذکر آیا کہ نئے ادارے کے قیام میں کن چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اوران کو کس طرح حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ کالم نویس غوروفکر کی اس مجلس میں شریک رہا، جس میں تجربہ کی دولت سے مالا مال دانشوروں نے کئی اہم نکات بیان کئے۔ مثلاپدم شری پروفیسر اقبال حسنین، سابق وی سی کالی کٹ یونیورسٹی نے روائتی تعلیم پر پیشہ ورانہ اور تکنکی تعلیم کو ترجیج دینے کا مشورہ دیا۔ سچر کمیٹی کے ممبر سیکریٹری ابوصالح شریف نے پتہ کی بات کہی کہ زبان کی بڑی اہمیت ہے۔ آج سب سے زیادہ اہمیت کمپیوٹر کی زبان کی ہے۔ انہوں نے اعداد وشمار دیکر بتایا کہ ملک میں نوجوان آبادی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ان کے ہاتھ میں اگر ہنر آجائے تو وہ دولت بن جاتے ہیں۔نامور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کمال فاروقی نے ادارے کے لئے زمین کے مسئلہ کا آسان حل بیان کیا اورادارہ سازی کے ایسے گر بتائے جن کا ذکر پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ ڈاکٹر فخرالدین نے شراکت اورتعاون کی صورتوں کے خاکہ کے ساتھ ادارہ سازی اوران کو چلانے کا ایک جامع چارٹر پیش کیا ۔ (ان دونوں صاحبان نے جو نکات بیان کئے ان کا خلاصہ آئند ہ پیش ہوگا۔ انشاء اللہ ) ۔دہلی میں الامین ڈاکٹر ممتاز احمد خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کا تو قیام ہی اس مقصد سے ہوا ہے کہ شمالی اور مشرقی ریاستوں میں جہاں بھی کوئی ادارہ سازی کا عزم کرے اوررہنمائی یا مدد کا طالب ہو، اس کی معاونت کی جائے۔ اس کے سربراہ انجنئر کلیم الحفیظ ہی اس کانکلیو کے نگراں وآرگنائزر تھے۔
اس ایک روزہ غوروفکرکے اختتام پر مرادآباد میں چھ اداروں کی تجاویز فوری طور سے آگئیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ آئندہ چند ماہ میں عملی شکل بھی نکل آئیگی۔جناب سید حامد کی پیشوائی میں آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ نے فروغ تعلیم کی جوتحریک چند دہائی قبل شروع کی تھی، (جس کا یہ کالم نویس بھی کارکن ہے) ،وہ بارآور ہوتی نظرآتی ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے میں تعلیم کی تحریک اب ترغیب اورتلقین کے مرحلے سے گزرکر ترتیب اورتنظیم کے دور میں داخل ہورہی ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ سوچ بدلی ہے۔ سرکار پر تکیہ کرنے کے بجائے خود قدم بڑھایا جائیگا ۔ جوادارے ہم قائم کریں گے، ان کا فیض برادران وطن کے بچوں کو بھی پہنچے گا۔ اس طرح ہم خیرامت کا فریضہ ادا کرسکیں گے جس کوہم عرصہ سے بھولے ہوئے ہیں۔ اس تاریخی لمحے میں آپ کہاں کھڑے ہیں۔ غورکیجئے کیا وقت نہیں آگیا ہے کہ آپ بھی اس مہم میں شامل ہوجائیں۔
جناب کمال فاروقی خطاب کرتے ہوئے۔

No comments: