Monday, February 9, 2015

Management of Life Style key to mental and physical health and social relations: Prof. Dr. Masood Ahmad

دولت، منصب اوراعلاڈگریاں ذہنی آسودگی کی ضامن نہیں
صبروتحمل، شاہ راہ اعتدال اوردولتِ ایمان سے ہی صحت اورسکون کا حصول ہوتا ہے۔ پروفیسرمسعود احمد
تصویر میں: پروفیسرڈاکٹرمسعود احمد اور پروفیسرسرینواسن آچاریہ
نئی دہلی۔ ہند اور بیرون ہند ایک سو سے زیادہ منجمنٹ انسٹی ٹیوٹس اور یونیورسٹیوں میں گیسٹ پروفیسرعالمی شہرت یافتہ دانشور پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد (حیدرآباد) نے ایک پرمغز لیکچر میں کہا کہ ذہنی آسودگی نہ تو زر وجواہر سے حاصل ہوتی ہے نہ مراتب و مناصب سے اور نہ اعلا ڈگریوں سے۔ ذہنی سکون صبروتحمل کے ساتھ زندگی کے ہرشعبہ میں شاہ راہ اعتدال سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی معاملہ صحت و تندرستی اور خوشگوار خانگی و معاشرتی زندگی کا ہے۔ وہ کل یہاں ابوالفضل انکلیو میں ’لائف اسٹائل منجمنٹ:روڈ ٹو ہیلتھ ایند ہیپی نیس‘ عنوان سے ’اسلامک ڈولپمنٹ بنک‘ سے اسکالرشپ یافتہ طلباء کو خطاب کر رہے تھے۔ اس لیکچرکا اہتمام ’مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ‘ نے کیا تھا جس کے جناب سید حامد مرحوم بانی چیرمین تھے۔
موضوع کا تعارف کراتے ہوئے وشوانی انسٹی ٹیوٹ آف منجمنٹ کے بانی پروفیسر سرینواسن آچاریہ نے کہا کہ علم تو گھربیٹھے کتابوں، انٹرنیٹ اور دوسرے زرائع سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس کے باوجود کالجوں اور دیگر اداروں کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ حصول علم کے ساتھ زندگی جینے کا سلیقہ بھی آجائے۔ لیکن اکثراداروں میں اس پر توجہ نہیں دی جاتی۔ چنانچہ اعلا ڈگری یافتہ نوجوان بھی ذہنی آسودگی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کی گھریلوزندگی بھی بے لطف ہوجاتی ہے، یہاں تک بعض لوگ خود کشی کرلیتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد نے، جو منجمنٹ کے پانچ موضوعات میں پی جی ہیں، امریکا اوربرطانیہ میں رہ چکے ہیں،طرززندگی کے موضوع پر گہری نظررکھتے ہیں۔
پروفیسر مسعوداحمد نے ذہنی سکون اورجسمانی صحت کے لئے زندگی گزارنے کے طریقے کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ہمارے 66 فیصدامراض کا سبب ہماراطرز حیات ہے۔ اگرسونا جاگنا،جسمانی سرگرمیاں درست ہوں اورغذا میں احتیاط برتی جائے تو 66فیصدامراض سے بچے رہیں گے۔ امراض قلب، بلڈ پریشر، موٹاپا اور شوگرجیسے مہلک امراض کی اہم وجہ غیر صحت مند عادتیں ہیں۔ آپ کیا اورکیسے کھاتے پیتے ہیں، آپ کی جسمانی سرگرمیاں کس طرح کی ہیں، صرف بیٹھے رہتے ہیں یا کچھ چلتے پھرتے اورمحنت و مشقت بھی کرتے ہیں، کیسی نیند سوتے ہیں اورکب جاگتے ہیں، آپ حقیقت پسندی سے کام لیتے ہیں، اپنی توقعات کو دائرہ امکانات تک محدود رکھا ہے  یا خود کو توقعات کا اسیر بنالیا اور جب توقعات پوری نہیں ہوتیں، مسائل پیدا ہوتے ہیں تو ذہنی تناؤ میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا راہ اعتدال نکال لیتے ہیں؟ ان سب باتوں کا تعلق طرز حیات سے ہے۔ ان پر ہی ذہنی سکون وراحت اورصحت کا دارومدار ہے۔
ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ گھر، دفتر، بازاراور گردوپیش لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں؟ آپسی رشتوں میں رواداری، لچک اور احترام نہ ہوگا،تو پریشانیاں آپ کو گھیرے رہیں گی۔ نوجوان طلباء کو خوشگوار ازدواجی زندگی کے گربتاتے ہوئے ڈاکٹر مسعود نے کہا کہ غصہ آجانا ایک فطری امر ہے۔ لیکن اگر شوہر یا زوجہ میں کسی کو غصہ آئے تو سمجھداری اس میں ہے کہ دوسرا فوری طور سے اس پر ردعمل ظاہر نہ کرے اورایک گھنٹہ اس طرح گزاردے جیسے بولنا ہی بھول گیا ہو۔ ماہرین کا مشاہدہ ہے کہ غصہ کا زور ایک آدھ گھنٹہ ہوتا ہے، اس کے بعدنرمی سے معاملہ صاف کرلیجئے۔ ’سوری‘ کا بروقت استعمال بہت کارگر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جب کہ عموما میاں اوربیوی دونوں تعلیم یافتہ اور بعض معاملات میں خودکفیل بھی ہوتے ہیں، چنانچہ یہ نظریہ کارگر نہیں کہ ہرمعاملہ میں شوہر کی ہی چلے۔دونوں میں ایک دوسرے کے لئے گنجائش ہونی چاہئے۔ ’ایڈجسٹ منٹ‘ ضروری ہے۔ سب سے پہلے والدین کے ساتھ اورگھر کے دیگر افراد کے ساتھ صبروتحمل اورباہمی احترام کی عادت ڈالنی چاہئے۔ پڑوسیوں کے ساتھ بھی سلوک اچھا ہونا چاہئے۔ تھوڑا سا برداشت کرلینا انسان کو بہت سی الجھنوں سے بچاتا ہے۔
اعلا تعلیم یافتہ اور اونچے مناصب پر فائز افراد میں طلاق اورخودکشی کے رجحان اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب توقعات زیادہ باندھ لی جائیں اور وہ پوری نہ ہوں تو ڈپریشن ہوتا ہے، یہاں تک کہ جان بھی گنوادیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کیرالہ اور تمل ناڈو وغیرہ ریاستوں میں جہاں تعلیم کا معیاربلند ہے، طلاق اورخودکشی کی شرح دیگر معاشروں سے بہت زیادہ ہے۔یوروپی معاشروں کی صورت حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ امریکا، جہاں صحت خدمات کا معیار انتہائی بلند ہے، ایسے امراض جن سے بچاسکتا ہے، ایک بڑی آبادی کو ہرسال اسپتال میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ذاتی زندگی، خاندانی زندگی، معاشرتی زندگی اوردفتری زندگی کے ساتھ سلیقہ زندگی کا ایک اہم شعبہ روحانی یا مذہبی زندگی کا بھی ہے۔ مثلاً نماز،روزہ، دھیان اور یوگاکی پابندی سے نظم وضبط اور نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی صلاحیت پید ا ہوتی ہے۔ پریشانی کی صورت میں چند منٹ گہرے سانس لینا بھی کارگر ہوتا ہے۔ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ آپ مخالفت یا نکتہ چینی پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں؟ نبی کریم صلعم کی حیات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ مخالفین اورمعاندین کے شدید ترین حملوں کی صورت میں بھی صبر و تحمل سے کام لیتے۔یہی حکمت کا تقاضا ہے۔ صبروضبط کی سطح جتنی بلند ہوگی آپ کا ذہن اسی قدر تناؤ سے محفوظ رہے گا۔
پروفیسر مسعود نے کہا کہ اللہ نے انسان کو بہترین صفات کے ساتھ پیدا کیا ہے، ان صفات کا بہترین استعمال ہمیں سیکھنا چاہئے۔ ہرشعبہ میں اعتدال کی راہ ہی کامیابی اورکامرانی کی ضمانت ہے جس کی تلقین اسلام نے کی ہے۔ تقریباً تین گھنٹے کے لیکچر کو طلباء نے دلچسپی سے سنا اور سوال وجواب کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ شمالی ہند کے ایک ہفتہ کے دورے پرآئے ہیں اس دوران علی گڑھ، متھرا، پھولپور، بلریا گنج (اعظم گڑھ)، بنارس وغیرہ میں ان کے مختلف اداروں میں لیکچر ہونگے۔



No comments: