Tuesday, February 10, 2015

Lessons from Delhi Assembly Elections Results

دہلی اسمبلی انتخابات: یہ کیسی ہوا چلی کہ پہاڑ بھی اکھڑ گئے
لامحدود ، حد امکان سے باہر توقعات  کہیں مایوسی میں نہ بدل جائیں
سید منصورآغا
دہلی اسمبلی انتخابات کے جونتائج آرہے ہیں، ان پر مختلف انداز سے رائے زنی ہورہی ہے۔ ایک صاحب نے فیس بک پر وہ اشعار لکھ بھیجے یہں جو محترمہ سشما سوراج نے یوپی اے۔۲کے دوران وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کو خطاب کرتے پڑھے تھے:
توادھرادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں کا گلہ نہیں،تری رہبری کا سوال ہے
مودی صاحب نے انتخابی مہم کے دوران کیجریوال کو کیا کچھ نہیں کہا؟ ان کے الفاظ کو دوہرانا بھی غیر شریفانہ ہے۔ لیکن پارٹی کی لٹیا ڈوبتے، وہ کیجریوال کو گلے لگانے کے لئے بیتاب نظرآئے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح لوک سبھا نتائج کے بعد امریکا نے ان کے لئے باہیں کھول دیں۔ فوراً کیجریوال کو مبارکباد کا فون کیا۔ حالانکہ انتخابی جلسوں میں وہ خود اوران کے پیدل  ان پر کیچڑ اچھالتے رہے اورکل رات تک اپنی فتح مبین کے امکانات گنواتے رہے تھے۔ اس پرایک صاحب نے کہا:
ملے نہ پھول تو کانٹوں سے دوستی کرلی
مختارعباس نقوی نے شعر پڑھا:
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گریگا جو گھٹنوں کے بل گرے
ایک صاحب نے یہ قطعہ ارسال فرمایا:
دیکھو تو ایک پہاڑ سے ریزہ الجھ گیا
جوش جنون میں شیر سے مچھر الجھ گیا
ہمت تو دیکھو آپ کی اس انتخاب میں
لاکھوں کے سوٹ بوٹ سے مفلر الجھ گیا
کانگریس کے ترجمان میم افضل نے اس الیکشن میں کانگریس کی شکست پر ملال جتایا مگر ساتھ ہی بھاجپا کی شکست فاش پر چٹکی بھی لی۔ جس طرح اس نے جارحانہ انداز میں چناؤ لڑااورانتخابی مہم میں اسٹار  پرچارک مودی سمیت بھاجپا لیڈروں نے شائستہ کلامی کو تیاگ دیا اور گالم گلوچ پراترآئے، رام زادوں اورحرام زادوں کا نعرہ لگایا، گھرواپسی کی پکار لگائی، فرقہ ورانہ فساد کرائے، عیسائی عبادت گاہوں پر حملے کرائے، کانگریس اور کیجریوال پر کیچڑ اچھالی، وعدوں کا وہی مایا جال پھیلایا جو لوک سبھا چناؤ میں بچھایا گیا مگر کچھ کام نہ آیا۔ یہاں تک امریکا کے دورے اور صدراوبامہ کی آماد کو ووٹوں میں بھنانا چاہا، وہ سب رائیگاں گیا۔ بقول میر:
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
امت شاہ نے ہندستان بھر سے بھاجپا لیڈروں کو چناؤمہم میں اتارا۔ ہرسیٹ پر ایک وزیر اور کئی ایم پی لگائے گئے تھے۔آرایس ایس نے بھی اپنے پرچارک اتارے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مقامی کارکن پس پردہ چلے گئے اور اجنبی گلی کوچوں میں بھٹکتے رہے۔ یہاں تک کہ مقامی لیڈر بھی نالاں ہوکر کنارہ کربیٹھے۔ ادھر ارن جیٹلی، جو خود مودی لہر کے باوجود اپنا چناؤ ہارگئے تھے، انتخابی مہم کی نگرانی میں لگادئے گئے۔ ان کے ہی مشورے پر کرن بیدی کولاکر وزیراعلا کا امیدوار بنایا گیا۔ لیکن یہ تدبیر الٹی پڑ گئی۔ کرن بیدی خودایسی سیٹ سے چناؤ ہارگئیں جو مدت سے بھاجپا کا مضبوط قلعہ سمجھ جاتی تھی۔شاید اس لئے ان کا تعلق اقلیتی فرقہ سے ہے۔ اس کا افسوس ضرور ہوا۔ اس صورت حال پر ایک صاحب نے لکھ بھیجا: تقدیر بلوان، تدبیر ناکام۔
لیکن ان سب کے درمیان اہم سوال یہ ہے ستر رکنی اسمبلی میں ایسی زبردست اکثریت کہ اپوزیشن کو وجود ہی عملاً ختم ہوجائے، کیا جمہوریت کے لئے نیک شگون ہے؟عام آدمی پارٹی کے67 کے مقابلے اپوزیشن کے 3ممبرکیا صحت مند جمہوریت کی علامت ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ جس طرح کے نتائج لوک سبھا میں مودی کے حق میں آئے تھے، اب اسی طرح کے دہلی اسمبلی میں کیجریوال کے حق میں آگئے۔ باخبرلوگ جانتے ہیں کہ لوک سبھا میں ان نتائج کا حکمرانی پر کیا اثرپڑرہا ہے اور کس طرح ایک فرد کی من مانی چل رہی ہے اوراعلا ترین عہدوں پر فائز افسران کوبری طرح برطرف کیا جارہا ہے۔
دہلی میں یہ کرن بیدی کی شکست ہے، مودی کی شکست ہے یا امت شاہ کی یا پوری پارٹی کی، یہ سوال غیر اہم ہوجاتا جب ہم اس پہلو پر غورکرتے ہیں اقتدارو اختیار کا ایسا ارتکازجمہوریت کی روح کو پامال کرتا ہے اور آمریت کو تقویت پہنچاتا ہے۔ چنانچہ اسمبلی میں بھاجپا کی شکست اور آپ کی فتح اورلوک سبھا میں بھاجپا کی فتح اورکانگریس کی شکست کے معنے بدل جاتے ہیں۔
ایک دوسرا پہلو بھی غورطلب ہے۔ پارلیمانی چناؤ میں بھاجپا کو 28.2فیصد ووٹ ملے لیکن کل 541میں سے اس کو 281سیٹ مل گئیں۔ سوال یہ ہے 72 فیصد لوگوں کی آواز کیا ہوئی؟ان کے حصے میں آدھے سے بھی کم صرف 260سیٹ آئیں۔ اس سے موجودہ انتخابی نظام کی یہ خرابی اجاگر ہوتی ہے کہ ایوان میں عوام کی رائے کی عکاسی نہیں ہوتی۔
اب دہلی اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کو 53فیصد ووٹ ملا۔ مگر سیٹیں 70 میں سے 67آگئیں۔باقی 47فیصد کو صرف 3 سیٹ ملیں۔ کیا یہ اسمبلی دہلی کے عوام کی نمائندہ اسمبلی ہوگی اوران کی رائے کی عکاس ہوگی؟
ایک نکتہ یہ بھی ہے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو دہلی میں 33.7فیصد ووٹ ملے تھے، اور ساتوں سیٹیں ایک لاکھ سے زیادہ مارجن سے جیت گئی۔اس الیکشن میں اس کا ووٹ فیصد کم نہیں ہوا، مگر اسمبلی کی کل تین سیٹ ملی ہیں۔ کانگریس کو 8فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ ملا،مگر اس کوایک بھی سیٹ نہیں ملی۔جوامیدوار گزشتہ چناؤ میں 25ہزارووٹ سے جیتا اس کو اس بار ایک ہزار ووٹ بھی نہیں ملے۔ جس پارٹی نے 15 سال سرکار چلائی اور دہلی کا رنگ روپ بدلا اس کی یہ بے قدری بھی بڑی بے رحمانہ ہے۔ کانگریس سے پہلے دہلی میں آٹھ، دس گھنٹے بجلی کاگل رہنا، وولٹیج کم زیادہ ہوتے رہنا، بسوں میں سفر کا انتہائی تکلیف دہ ہونا، سب کو یاد ہے۔ آج میٹرو دوڑتی ہے اورعام آدمی آرام سے اے سی بسوں اورمیٹرو میں سفرکرتا ہے۔اس کے باوجودکانگریس سے خفا ہوگئے اور ہوا میں بہہ گئے۔ لوک سبھا چناؤ میں مودی کے ساتھ اور اس اسمبلی چناؤ میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ۔ لوگوں کا یہ جو رخ پلٹا ہے سوشل سائنس اور سیاسیات کے طلبا کو دعوت مطالعہ دیتا ہے۔ بیشک دہلی میں پانی کا مسئلہ ہے۔غیر مجاز کالونیوں کے قانونی حق کا مسئلہ ہے۔ جن کو حل کرنے میں سابقہ حکومتیں ناکام رہیں۔ بجلی کی شرحیں بھی بڑھی ہیں۔ جس سے عوام نالاں ہیں۔ لیکن یہ تو سب کو ہی تسلیم ہے کہ شیلا دیکشت کے دورحکومت میں چوطرفہ ریکارڈ ڈولپمنٹ ہوا۔ اس کے باوجود رائے دہندگان کی یہ بے رخی آخر کیوں؟
عام آدمی پارٹی کی طرف عوام کے یہ غیرمعمولی رجحان دراصل طمانچہ ہے فرقہ ورانہ سیاست کرنے والوں کے رخ سیاہ پر۔ یہ جواب ہے ان بیہودگیوں کا جو بھاجپا کے لیڈروں نے انتخابی مہم کے دوران کی ہیں۔ یہ جواب ہے اس منفی مہم کا جس سے کانگریس بھی محفوظ نہیں رہی۔ لوگ سبھا نتائج کے بعد کٹرفرقہ پرست عناصر کے حوصلے بلند ہوئے۔ ان کو کہیں لوو جہاد نظرآتا ہے، کہیں ملک کی ترقی  دیش کے ہندوکرن میں نظرآتی ہے اور کہیں 5-5 لاکھ میں لوگوں کا ایمان خریدنے کی مہم چلائی جاتی ہے۔ عوام نے اس طرح کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔ لیکن عام آدمی پارٹی کے طرف یہ بے تحاشارجحان حکمرانوں کی آمریت کے علاوہ ایک اورخطرے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہ وہ خطرہ ہے جو حدامکان سے زیادہ توقعات باندھ لینے سے پیدا ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہم نے اس کا دوبارہ مشاہدہ کیا ہے۔ اس سے قبل مودی کے غیر حقیقی وعدوں پر عوام نے بے تحاشا توقعات باندھ لیں۔ مگر ان کا سحر چند ماہ میں ہی ٹوٹنا شروع ہوگیا۔ اب دہلی کے عوام نے عام آدمی پارٹی سے اس سے بھی بڑھ کر توقعات باندھ لی ہیں۔ جب توقعات پوری نہیں ہوتیں تو بددلی پیدا ہوتی ہے، غم اور غصہ پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ کیفیت فرد اور معاشرہ دونوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ خداکرے دہلی والوں کے ساتھ ایسا نہ ہو۔اندیشہ اس بات کا ہے کہ مرکز وریاست کے درمیان وہ سرد جنگ چھڑ جائے جس کا عندیہ بھاجپا لیڈروں نے انتخابی مہم کے دوران دیا تھا۔ مودی صاحب نے تمام تلخ کلامیوں کے باوجود صبح سویرے اروند کیجریوال کو فون کرکے مبارکباد دی۔ دہلی کے مسائل حل کرنے میں ہرطرح کے تعاون کا بھی یقین دلایا ہے اور چائے پر بھی بلایا ہے۔ ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ مگر اس بات کو کیسے بھول جائیں کہ اپنی رسم حلف برداری میں انہوں نے نوازشریف کو بھی بلایا تھا اور بہت گرم جوشی دکھائی تھی۔دنیا نے اس کی تعریف بھی کی مگر بعد میں جو کچھ ہوا اس پر: ’اس رنگ بدلتی دنیا میں انسان کی نیت ٹھیک نہیں‘  کا مکھڑاصادق آتا ہے۔ ساتھ یہ خدا کی یہ قدرت بھی مودی سرکار نے یوم جمہوریہ کی تقریب میں اروین کیجریوال کو دعوت نامہ نہیں بھجوایا تھا جب کہ کرن بیدی کو اگلی صف میں بٹھایا تھا۔ حالانکہ سابق وزیراعلا کا یہ حق تھا کہ اس کو مدعو کیا جاتا۔ اب قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے۔ کرن بیدی اپنے گھر بیٹھیں گی اوراروند کیجریوال راج کریں گے۔ ذکر راہل بھیا بھی کرنا چاہئے۔ اب وہ آرام سے یوروپ اورامریکا  سیرسپاٹے کو جاسکتے ہیں اور ہم جنس پرستوں کے حق میں مہم چلاسکتے ہیں، جن سے ان کو بڑی ہمدردی ہے۔کاش ان کو ہندستانی معاشرے کی اوراس کی اقدار کی بھی  تھوڑی بہت سمجھ ہوتی۔ (ختم)

cell: 9818678677

No comments: