Wednesday, February 4, 2015

Hindu women and Muslim Women; and their right place in Society

جناب ظفرآغا کی تحریر: جو 31 جنوری کو روزمانہ سیاست حیدرآباد میں بعنوان

ہندوخواتین ہر شعبہ میں سربلند، مسلم خواتین گھروںمیں قید

 شائع ہوئی۔اس کے جواب میں جناب شمیم اقبال خان ، لکھنو کا پرمغز مراسلہ، جو 5 فروری کو روزنامہ جدید خبر دہلی میں شائع ہوا۔ نظر قارئین ہیں۔
A Muslim Woman with her laptop
پوجا ٹھاکر کا نام امریکی صدر بارک اوباما کے دورہ ہندوستان کے ساتھ ہی خبروں میں چھا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ پوجا ٹھاکر وہ پہلی ہندوستانی خاتون ہیں، جن کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انھوں نے بارک اوباما کو دیئے جانے والے گارڈ آف آنر کی قیادت کی۔ پوجا سے قبل یہ کام محض کسی مرد کو ہی سونپا جاتا تھا، لیکن پوجا ٹھاکر پہلی ہندوستانی خاتون ہیں، جنھوں نے گارڈ آف آنر کی قیادت کرکے ہندوستانی خواتین کی ترقی کی تاریخ رقم کی اور اس طرح ہندوستانی ایرفورس کی یہ خاتون افسر خبروں میں چھا گئی۔ ظاہر ہے کہ پوجا کے اس اقدام نے یہ ظاہر کردیا کہ ہندوستانی خواتین ہر کام انجام دے سکتی ہیں۔
لیکن یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ یہ کام صرف ایک ہندو عورت ہی انجام دے سکتی ہے، کیونکہ اگر پوجا ٹھاکر کی جگہ یہ کام کسی مسلم خاتون نے انجام دیا ہوتا تو اس کے خلاف نہ جانے کتنے فتوے آجاتے اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج کردیا جاتا۔ آج اس ملک کی ہندو عورت دنیا کا ہر کام کر رہی ہے، وہ ڈاکٹر ہے، انجینئر ہے، تاجر ہے، سائنٹسٹ ہے، فوجی افسر ہے، پولیسمیں اعلی ترین عہدوں پر فائز ہے، یہاں تک کہ ہندو خواتین ملک کی وزیر اعظم اور وزیر اعلی بھی رہ چکی ہیں۔ اس کے برخلاف اسی ہندوستان میں مسلم خواتین پر ہر طرح کی پابندی ہے، وہ گھر کی چہار دیواری میں قید ہیں۔ آج بھی ہندوستانی لڑکیوں کی اکثریت اسکولوں میں داخلہ سے محروم ہے۔ اگر کسی طرح مسلم لڑکیاں اسکول پہنچ جاتی ہیں تو کالج تک پہنچتے پہنچتے ان کو گھر بٹھا دیا جاتا ہے۔ مسلم ماں باپ کو یہ فکر کم ہوتی ہے کہ ان کی بیٹی بہتر سے بہتر تعلیم حاصل کرکے خود اپنے پیروں پر کھڑی ہو، بلکہ انھیں یہ فکر زیادہ ہوتی ہے کہ اس کی شادی جلد از جلد ہوجائے، خواہ اس کا شوہر نکما ہی کیوں نہ ہو۔ یہ تعلیم ہی کا نتیجہ ہے کہ ہندو سماج پوجا ٹھاکر جیسی تاریخ رقم کرنے والی عورت پیدا کر رہا ہے، جب کہ مسلم سماج میں عورتوں کی اکثریت آج بھی گھروں میں قید ہے۔کمال تو یہ ہے کہ یہ وہی مسلم سماج ہے جس کے رسول اور قرآن نے دنیا کو آزادی نسواں کا تصور دیا تھا، جب کہ اسلام سے قبل دنیا کے کسی بھی نظام میں منظم طریقے سے حقوق نسواں کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ قرآن کریم دنیا کی وہ پہلی کتاب ہے، جس نے عورتوں کے حقوق متعین کئے اور سماج میں ان کو برابری کا درجہ دیا۔ابھی چند روز قبل ہندوستانی حکومت کی جانب سے لڑکیوں کے تعلق سے ایک پروگرام شروع کیا گیا، جس کا عنوان ’’لڑکی بچاؤ، لڑکی پڑھاؤ‘‘ تھا۔ اس مہم کی شروعات خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ہاتھوں سے کی تھی، جس کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانی سماج میں آج بھی کچھ حلقوں میں بچیوں کو شکم مادر میں ہی زائل کردیا جاتا ہے۔ اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے حکومت ہند کی جانب سے ’’لڑکی بچاؤ، لڑکی پڑھاؤ‘‘ جیسا پروگرام شروع کیا گیا۔
اب ذرا اسلامی احکام پر بھی غور کرلیجئے۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام سے قبل عربوں کی اکثریت اپنی لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیتے تھے۔ قرآن پاک نے اس امر کو حرام قرار دیا اور یہ لعنت عرب سے ختم ہو گئی۔ یہ قرآن اور اسلام کا انسانیت کے لئے پیغام تھا کہ زندگی خواہ لڑکے کی ہو یا لڑکی کی، دونوں کی زندگی برابر ہے اور دونوں کے حقوق برابر ہیں۔ اسی طرح اسلام سے قبل کسی مذہب نے عورت کو یہ حق نہیں دیا تھا کہ وہ اپنی شادی خود کرسکے، لیکن اسلام نے مرد کی طرح عورت کو بھی حق دیا ہے۔ اگر مرد کو طلاق کا اختیار دیا گیا ہے تو عورت کو بھی خلع کا اختیار دے کر مرد کے برابر کردیا۔ پھر اسلام ہی وہ مذہب ہے جو نکاح کے وقت پہلے عورت کی مرضی طلب کرتا ہے، تاکہ شادی کے لئے عورت کے ساتھ اگر زبردستی کی گئی ہے تو وہ بوقت نکاح شادی کرنے سے انکار کرسکتی ہے۔ اسلام پہلا مذہب ہے، جس نے ترکہ میں عورت کا حق واضح کیا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تاجر خاتون حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا سے عقد کیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کو بھی روزی روٹی اور کام کاج کا حق دیا گیا ہے۔
پوجا ٹھاکر کو اکیسویں صدی میں یہ مرتبہ حاصل ہوا کہ دوسرے فوجیوں کے ساتھ بارک اوباما کو اس نے بھی سلامی دی، لیکن آج مسلم عورت دنیا کے تقریباً ہر قسم کے حقوق سے محروم ہے۔ آج کا اسلامی معاشرہ عورت کی جگہ گھر کی چہار دیواری اور باورچی خانہ سے باہر تصور کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، جب کہ ہمارا مذہب یہ کہتا ہے کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی سب کچھ کرسکتی ہیں، اس کے باوجود مسلم معاشرہ نے عورتوں کو گھر میں قید کردیا۔
عوتوں کو گھر کی چہار دیواری تک محدود رکھنے کی رسم محض مسلم معاشرہ میں ہی نہیں پائی جاتی ہے، بلکہ سائنسی اور صنعتی انقلاب سے قبل یہ رواج دنیا کے ہر سماج میں پایا جاتا تھا۔ زمیندارانہ دور میں عورت کو مرد کا تابعدار قرار دیا گیا تھا، اس لئے زمیندارانہ معاشرہ میں عورت کو مرد سے کمتر سمجھا جاتا تھا اور اسے صرف چہار دیواری کے اندر رکھا جاتا تھا۔ لیکن جب صنعتی انقلاب اور جدید تعلیم نے زمیندارانہ نظام کو ختم کیا تو مردوں کے حقوق کے ساتھ عورتوں کے حقوق پر بھی بحث شروع ہوئی اور دنیا میں پہلی بار آزادی نسواں کے لئے آواز بلند کی گئی۔ واضح رہے کہ دنیا نے انیسویں اور اکیسویں صدی میں جس آزادی نسواں کا پرچم بلند کیا، وہ تمام حقوق اسلام ساتویں صدی عیسوی میں عورتوں کو عطا کرچکا تھا، لیکن افسوس کہ اسلام کے اولین دور کے بعد آہستہ آہستہ مسلم معاشرہ شاہی نظام کے تحت زمیندارانہ معاشرہ میں تبدیل ہو چکا تھا اور یہ مسلم معاشرہ اسلامی قدروں کی بجائے زمیندارانہ قدروں میں جکڑ گیا تھا، جس میں عورت کے حقوق نہ کے برابر تھے۔ دنیا کے دیگر معاشرے ترقی کے ساتھ ان قدروں کو ترک کرکے حقوق نسواں کو تسلیم کیا، لیکن جس مذہب نے حقوق نسواں کا تصور دیا، اس کے ماننے والے آج تک زمیندارانہ قدروں کو ہی اصل اسلام سمجھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مسلم خواتین گھر میں بیٹھی ہوئی ہیں اور پوجا ٹھاکر بارک اوباما کو سلامی دے رہی ہے۔

جناب شمیم اقبال خان،  لکھنو  کا مراسلہ


  آپ کا مضمون’ہندو خواتین ہر شعبہ میں سر بلند، مسلم خواتیں گھروں میں قید‘ آپ کے قلم سے اچھا نہیں لگا۔آپ کی سمجھ سے مسلمان مردوں نے کتنا تیر مار لیا ہے، یا حکومت مسلمان مردوں کے لیے روزگار کے کتنے مواقع فراہم کرتی ہے یا کر چکی ہے جو اب مسلم عورتوں کو یہ مواقع فراہم کیے جانے ہیں۔کیا مسلمان عورت کی تعلیم اُسی وقت کارآمد مانی جائے گی جب وہ ملازمت کرے۔ آپ نے اپنے مضمون کے تیسرے پیرا گراف میں اسلام اور عورت کے حقوق کے بارے جو تحریر کیا ہے سب بجا ہے بس ایک چیز آپ کے نوک قلم میں آنے سے رہ گئی وہ ہے عورت و مرد دونوں کے کاموں کے علاقے۔مرد کے کام کا علاقہ گھر کے باہرہے اور عورت کے کام کا علاقہ گھر کے اندرہے لیکن ضرورت کے وقت باہر بھی جا سکتی ہے،محض قیدی نہیں ہے۔یہ نظام اللہ تعالی کا قائم کیا ہوا ہے۔اس نظام سے ہٹ کر ہمیں اہل بیت میں بھی کوئی نظیر نہیں ملتی۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ’آروشی تلوار‘کا قتل کیوں کر ہوا؟ماں بھی باپ کے کندھے سے کندھا ملا کار کام کرتی تھی، گھر میں اس کی حفاظت کے لیے کوئی نہیں تھا۔ دِل دہلا دینے والا دہلی کے بس کا واقعہ، ممبئی کے شکتی مل کا واقعہ وغیرہ وغیرہ اور پھر وغیرہ وغیرہ۔اسلامی تعلیمات ہماری بھلائی کے لیے ہیں اور اسی نظریہ سے ہمیں سوچنا بھی چاہئے۔مذہبی پابندی ان کے(پوجا ٹھاکرکے) یہاں بھی ہے۔کوئی نہ مانے تو اس کاکیا علاج؟

= چونکہ برہما نے تم کو عورت بنایا ہے اس لیے نظریں نیچی رکھو، اوپر نہیں۔ اپنے پیروں کو سمیٹے ہوئے رکھو۔ ایسا لباس پہنو کہ کوئی تمہارا  جسم نہ دیکھ سکے۔    (رِگ وید:۸:۳۳:۹۱)
 =     وہاں تم سب سے اچھی گھر والی بنواور شوہر کے گھر میں رہتے ہوئے گھر کے نوکروں پر راج کرو۔اے عورت! شوہر کے گھرمیں ماں بن کر آرام سے رہو۔ شوہر سے محبت قائم کرو اور بڑھاپے کی عمر تک اپنے گھر میں حکمرانی کرو۔        (رِگ وید ۰۱:۸۵:۵۲-۷۲)
یہ خاکسار پولیس فورس سے سبکدوش ہے، ملازم پیشہ عورتوں کے مسائل بہت قریب سے دیکھے ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ ’دورکے ڈھول سہاؤنے لگتے ہیں‘۔ لیکن’گھر‘ عورت کے لیے ایک ایسا کار خانہ ہوتا ہے جس کی جنرل منیجر بھی عورت ہوتی ہے اور مزدور بھی وہی عورت ہوتی ہے جو سال میں ۵۶۳/ دن، مہینے میں ۰۳/ دن، ہفتہ کے ۷/ دن، اور دن کے
چوبیس گھنٹہ کام کرتی رہتی ہے۔سوتے وقت بھی وہ ڈیوٹی پرہی رہتی ہے، کوئی چھٹی نہیں،کوئی متبادل نہیں۔ یہی عورت اپنے گھر کی انسپکٹر ہے جو اپنے کام کا معائنہ کرتی ہے،  وہی اپنے گھر کی پلانر (Planner) ہے جو اگلے کاموں کو ترتیب دیتی ہے۔یہی اپنے گھر کی فائننس کنٹرولر (Finance Controller)ہے جوآمد اور خرچ پرنظررکھتی ہے۔ وہ اپنے گھر کی سفیر ہے جو رشتہ داروں میں تال میل بنائے رکھتی ہے۔ بہت سے اہم معاملات میں جج کی طرح فیصلے بھی لیتی ہے۔ منشی کی طرح بچوں کی فیس، دھوبی، دودھ،سبزی وغیرہ کا حساب رکھتی ہے۔ وہ ایک اچھی کُک ہے جو ذائکہ دار کھانا بناتی ہے، وہ ایک اچھی ویٹر بھی ہے جو سلیقے  سے کھانا پروسنے کا ہنر رکھتی ہے اور برتن صاف کرتے وقت آیا بھی بن جاتی ہے۔گھر میں ضرورت پڑنے پر نرس(Nurs)  کے فرائض بھی انجام دیتی ہے۔ ایک محافظ کی طرح گھر کی حفاظت بھی کرتی ہے، ایک اچھی ائیر ہوسٹس یا رسپشنسٹ کی طرح گھر میں داخل ہوتے ہوئے شوہر کی مسکراہٹ کے ساتھ خیر مقدم کرتی ہے۔اسی عورت کی گود بچوں کی پہلی تعلیم گا ہ  ہے اور ان کی اچھی دوست بھی ہوتی ہے جس سے بچے کُھل کر باتیں کرتے ہیں۔یہی عورتیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت دے  کر ایک اچھا شہری بناتی ہیں اس لیے یہ سماج کی معمارہوتی ہے۔
تعلیم کے معاملہ میں مسلم خواتین بہت پیچھے ہیں۔حالانکہ اللہ تبارک تعالی نے’مومن مرد اور مومن عورت پر تعلیم فرض  فرمایا ہے‘۔ بہت سے لوگ اس حکم سے لا علم ہیں ہمیں اس کی تبلیغ کرنی چاہئے۔آج کے زمانے میں لوگوں کو تعلیم کی اہمیت  معلوم ہوتے ہوئے بھی بہت سے لوگ غربت کی  وجہ سے اپنے بچوں خاص طور لڑکیوں کو تعلیم نہیں دلا پاتے ہیں۔ایسی حالت  میں کم سے کم ایک بچے کی تعلیم کی ذمہ داری ہم کو لینی چاہئے۔تعلیم کا مقصد نوکری نہ ہونا چاہئے معاشرہ کا سدھار ہونا چاہئے۔
آغا صاحب! مسلمان اپنی ذمہ داریوں سے بھٹک کر ہی پریشان ہے۔جب ہم ہی گھر کی عزت کوگھر کا قیدی بتائیں گے تو لوگ نمک مرچ لگا کر بیان کرنے میں بڑی دلچسپی دکھائیں گے۔
 
                                       شمیم اقبال خاں 
                                ۰۶۱ /۳۲  پرکاش لوک وستار، اندرا نگر، لکھنؤ


No comments: