Wednesday, January 21, 2015

Establishing Educational Institutions : A Noble Cause and a Profitable Buiseness

This writer recently visited over two dozen Educational Institutions in Kerala, Tamil Nadu, Karnataka and Telengana, also attended a workshop organised under the stewardship of Dr. Mumtaz Ahmed Khan, Founder and President of Al-Ameen Education mission in Banglore to work out strategy for boosting establishment of Educational Institutions in UP on the lines of south. That was followed by a summit organized at "Jahagirabad Institute of Technology" facilitated by Al-Ameen Education Society Banglore. Here is an opinion regarding success in South and basic need to replicate same in the North
This article published in several news papers around the country on Tuesday and Wednesday. More papers and magazines are expected to follow


تعلیمی اداروں کا قیام ایک مشن ایک تجارت
شمالی ہند کے جنوبی ہند سے تعاون کی گرانقدر پیش کش
سید منصورآغا

جنوبی ہند کی ریاستوں میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے قیام و انصرام میں جو کامیابیاں ملی ہیں، وہ ہم شمال والوں کے لئے پریوں کے دیس کی کہانیوں سے کم نہیں۔ عرصہ سے خواہش تھی کہ خود جاکر ان اداروں کو دیکھا سمجھا جائے۔ بیشک انسان اگرچاہتا ہے تواللہ اس کی سبیل پیدا کردیتا ہے۔چنانچہ اللہ نے تعلیم کی دنیا کی ایک ممتاز ہستی، الامین ایجوکیشن سوسائٹی بنگلور کے بانی و صدر ڈاکٹرممتاز احمد خان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ جنوب کی ان فتوحات سے شمال کو بھی آشنا کرایا جائے تاکہ وہاں بھی کوئی حرکت پیدا ہو۔ اس جذبہ کی صورت گری اس طرح ہوئی کہ ان کی دعوت پر 19تا21دسمبر، بنگلور سے کوئی 35 کلومیٹر دور ہوسکوٹا میں ’الامین رہائشی کالج‘کے وسیع کمپس میں ایک سہ روزہ ورکشاپ کا انعقاد بعنوان  ”یوپی مسلم ایجوکیشنل ورکشاپ“ ہوا۔ شمالی ہند سے کوئی ایک سو مندوبین نے اس میں شرکت کی۔ جناب سید حامد کی جاری کردہ تحریک ’آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ‘ کے 15رکنی وفدمیں یہ کالم نویس بھی شامل تھا۔
ورکشاپ کے بعد ڈاکٹرفخرالدین، حیدرآبادکی دعوت پر ہمارے وفد نے ایک طویل سفر کیرالہ، کرناٹک، تمل ناڈو اور تلنگانہ کا کیا۔اس 15روزہ مہم کے دوران مختلف تعلیمی اداروں کو دیکھنے اور ان کی کامیابی کے راز کو سمجھنے کا کچھ موقع ملا۔
 الامین ایجوکیشن سوسائٹی بنگلور اورقرب جوار میں کوئی ایک درجن تعلیمی وتکنیکی ادارے کامیابی سے چلارہی ہے۔جبکہ ڈاکٹر فخرالدین’میسکو‘ کے تحت تقریباً اتنے ہی تعلیمی، تکنیکی اورطبی اداروں کے سربراہ اعلا ہیں۔ شمالی ہند میں تعلیم کے فروغ اورادارہ سازی کے لئے عملی تعاون کا ان اصحاب کا یہ جذبہ نہایت قابل قدر ہے جس کے لئے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔ 
ہوسکوٹا ورکشاپ کی روداد اخباروں میں شائع ہوچکی ہے۔ یہاں مقصود اس سفرکی رودادکو بیان کرنا نہیں بلکہ چند تاثرات پیش کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ اطلاع بھی کہ ڈاکٹرممتاز احمد خان نے شمالی ہند میں ادارہ سازی کی حوصلہ افزائی کے لئے عملی قدم بھی اٹھایاہے۔انہوں نے اس کام کے لئے ایک ٹرسٹ بنانے کی تجویز کے ساتھ گرانقدر عطیہ دیا اور اعلان کیا کہ اس خطے میں ادارہ سازی میں بلامعاوضہ تعاون کیا جائیگا۔بقول حفیظ میرٹھی
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں 
ورکشاپ میں تجربہ کار افراد سے استفادہ کا موقع ملا۔ انہوں نے ادارہ قائم کرنے،اس کو کامیابی سے چلانے اور سرکاری اسکیموں سے فائدہ حاصل کرنے کے گر بتائے۔ یہ پیش کش کی گئی کہ بغیر کسی معاوضہ کے رہنمائی اور مدد فراہم کی جائیگی۔ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمارے لئے امکانات کا ایک نیا در کھول دیا ہے۔ اگر اس سے فائدہ نہیں اٹھایا تو یہ بڑی بدنصیبی ہوگی کہ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔
یہ سوال بہت اہم ہے کہ جنوبی ہند کی مسلم اقلیت ادارہ سازی اوران کو موثر طور سے چلانے میں کامیاب کیسے ہوئی اور ہم شمال والے حوصلہ کیوں نہیں کرپاتے؟اس کا بنیادی سبب یہ سمجھ میں آتا ہے شمالی ذہنیت سیاست زدہ ہوکر رہ گئی ہے جب کہ جنوب کے مسلمان تعلیم اور تجارت میں دلچسپی زیادہ رکھتے ہیں۔ ہمارے مقابلہ انہوں نے تعلیم کی اہمیت کوبہتر طور پر سمجھ لیا ہے۔ غریب سے غریب شخص بھی اپنی اولاد کو زیورتعلیم سے آراستہ کرانا چاہتا ہے۔ جب کہ شمالی ہند میں یہ بات ذہن نشین کرائی جانی باقی ہے کہ ہمارے مسائل کا حل سیاسی نعرے بازی اور حکومت سے مطالبات کرنے میں نہیں بلکہ حصول تعلیم کے زریعہ خود کفالت کی مہم کو سرکرنے میں ہے۔ہم جذباتیت کے بھنور سے باہر نکلیں اور ہوشمندی کے ساتھ قدم آگے بڑھائیں گے تو راہیں کھلیں گین
ایک نہایت اہم وجہ یہ ہے کہ جنوبی ہند میں ادارہ قائم کرنے اور چلانے میں فروعی مسلکی اختلافات دیوار نہیں بنتے۔ جبکہ ہمارے یہاں ایک ہی مسلک کے پیروکاروں میں بھی دھڑے بن گئے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی مخالفت اور نیچا دکھانے میں تو مصروف ہوجاتے ہیں، کسی نیک کام میں معاونت پر آمادہ نہیں ہوتے۔اس صورتحال کو بدلنے کی ذمہ داری علمائے کرام کی ہے کہ ان کی نظر کی تنگی ہی اس کے لئے ذمہ دار ہے۔
چوتھی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اداروں کی کامیابی کے اس راز سے خود کو ہم آہنگ نہیں کرسکے جو ان کی کامیابی کا ضامن ہے۔ وہ یہ ہے کہ ادارہ مالی اعتبار سے خود کفیل ہونا چاہئے۔ یہ خود کفالت معیار کے بلندی سے آتی ہے۔اگرنظام چست و درست اور معیار بلند ہوگا، تو اچھی فیس دینے والے بھی مل جائیں گے، جس سے ادارے کا خرچ نکلے گا اور مالی مشکلات کے شکار کچھ ذہین بچوں کی مدد بھی کی جاسکے گی۔اعلا معیار حاصل کرنے کے لئے سیاسی رقابت ورفاقت، ذات برادری کی تفریق اور مسلکی عصبیتوں سے بلند ہوکر کام کرنا ہوگا اورفیصلے اصولوں کی بنیاد پر لینے ہونگے۔ 
 پانچواں اہم نکتہ یہ کہ ہمارے صاحب حیثیت طبقہ نے اس پہلو پر توجہ ہی نہیں دی کہ تعلیمی اداروں کا قیام صرف کارخیر ہی نہیں بلکہ ایک نفع بخش انڈسٹری بھی ہے۔ہمارے پاس جو سرمایہ زاید ہے اس کو فروغ تعلیم پر لگانا چاہئے۔ ایک مرتبہ ادارہ قائم ہوجائے تو اقلیتی اداروں کے لئے سرکاری اسکیموں سے اتنا پیسہ مل جاتا ہے کہ ادارہ بافراغت چل سکے اور ضرورت مند طلباء کی بھرپور اعانت ہوسکے۔اس میں رہنمائی کا وعدہ ڈاکٹر ممتاز صاحب اور ان کے رفقاء نے کیا ہے۔
 بیشک ادارہ قائم کرنے کے لئے سب سے پہلے عمارت کی ضرورت ہے۔فنڈسرکارعمارت کے لئے بھی دیتی ہے۔ لیکن ہمارے دانشور دوست ڈاکٹر سید ظفر محمودکایہ کہنا بھی توجہ کا طالب ہے کہ مسلمانوں کے پاس بڑی بڑی جائدادیں اورکوٹھیاں اب بھی ایسی خالی پڑی ہیں جن میں جھاڑو لگانے والا بھی کوئی نہیں۔ وہ خوشحال بھی ہیں۔ اللہ اگران کو توفیق دے توان عمارتوں کو ملک وملت کی بہبود کی خاطر اسکول اور کالج کھولنے کے لئے فراہم کر دیں۔ اگر مستقل نہیں تو عارضی طور پر فراہم کردہ یہ سہولت ایک بڑی مشکل کوآسان کردیگی۔ بہرائچ میں سید محمود مرحوم ایڈوکیٹ کی کوٹھی میں ان کے صاحبزادگان (طاہر محمود، ظفر محمود، قیصر محمود وغیرہ)نے تعلیمی ادارہ قائم کرکے ایک مثال قائم کی ہے۔ اب یہ ادارہ علاقے کے چوٹی کے کالجوں میں شمار ہوتا ہے۔
آخری مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری قوم میں وہ جذبہ پیدا نہیں ہوا کہ ہم بھوکے رہ کر بھی بچوں کو تعلیم دلائیں گے تاکہ کل کو ہمارے بچے سراٹھاکر جی سکیں۔ تعلیم کے زریعہ خودکفالت کا جو انقلاب آتا ہے وہ کچھ قربانی چاہتا ہے، جس کے لئے ذہنوں کو آمادہ کیا جانا چاہئے۔ہمارا معاملہ یہ کہ ہماری بستیوں میں سیاست زدہ لوگ تو مل جائیں گے، اپنا پتّہ مارکر، دور اندیشی کے ساتھ ملک اورملت کی خدمت کے جذبہ سے کام کرنے والے کم ہی ملیں گے۔
 ایک بلاوجہ کا تنازعہ بعض کوتاہ نظر علماء نے دینی اور جدید علوم کے درمیان تفریق کا کھڑا کردیا ہے۔ حالانکہ ہرنافع علم کا حاصل کرناکارِ ثواب ہے۔ شرط یہ ہے کہ نیت نیک ہو، مقصد بندگان خدا کو نفع پہنچانا ہو۔  اگرنیت نیک نہیں، بدی ذہنوں میں بھری ہے تو پھرقرآن اور سنت کا علم بھی اللہ کی رضاجوئی کا زریعہ نہیں بن سکتا۔ ہر علم نافع خدمت خلق کا موثرزریعہ ہے  اور بلا لحاظ مذہب و ملت، ہرکسی کی خدمت خود ایک عظیم عبادت ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ عصری علوم کے ساتھ دین سے واقفیت بھی لازماً ہو۔ جنوب نے اس نکتہ کو سمجھ لیا ہے کہ تعلیم کیسی ہو اور کیسے ہو؟ وہاں کے ادارے اسی اصول پرچل رہے ہیں۔ ان میں ایم ایس ایجوکیشن سوسائٹی حیدرآباد، مرکز ثقافۃ السنہ کوچین (کیرالہ) اور مولانا علی میاں اکیڈمی اور زیرتکمیل مولانا ابوالحسن علی ’اسلامک‘ یونیورسٹی،بھٹکل کرناٹک کی مساعی قابل قدر ہیں۔ ہمیں یہ ادارے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان میں ابتدائی درجات کے لئے دینی اور عصری علوم کو شامل کر کے جامع کورس کامیابی سے نافذ کئے جا رہے ہیں۔ طلباء جہاں جدید علوم میں مہارت حاصل کرتے ہیں۔ وہیں دینی اقدار کے بھی بہترین نمائندہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہمیں دیکھنے کا موقع نہیں مل سکا، تاہم اطلاع یہ ہے کہ ایسی ہی گرانقدر خدمات ادارہ دینیات ممبئی بھی انجام دے رہا ہے۔
عصری علوم کے ساتھ دینی علوم پر خصوصی توجہ الامین ایجوکیشن سوسائٹی کے اداروں کا بھی طرہ امتیاز ہے۔ ہمیں جنوبی ہند میں کوئی ادارہ ایسا نہیں ملاجہاں جدید علوم تو پڑھائے جاتے ہوں مگر مبادیات دین کی تعلیم کو اہمیت نہ دی جارہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان اداروں کے فارغین جدید فنی علوم میں مہارت، اعلااخلاق اور اسلامی اقدار سے گہری وابستگی کی بدولت عزت و دولت بھی کمارہے ہیں اور دین مبین کی سفارت بھی کر رہے ہیں۔ جبکہ ہمارے علاقے کے ادارے،  اس اعتبار سے ناقص ہیں کہ بیشتر مدارس کے فارغین دور جدید کے تقاضوں سے بے خبر ہیں اور کالجوں میں پڑھنے والے اپنی آخرت سے بے پرواہ۔ ہم ایسے انسان نہیں تراشتے جو دین مبین میں مطلوب انسان کی تعبیر ہوں۔
بنگلور کی تین روزہ ورکشاپ میں طے یہ ہوا کہ شمالی ہند، خصوصاً یوپی اوربہار میں ادارہ سازی کے لئے ایک منظم کوشش کی جائیگی۔ اس کی ذمہ داری ایک باصلاحیت، فعال اور حوصلہ مند نوجوان دوست برادرم کلیم الحفیظ کے سپرد کی گئی ہے۔ ان کی معاونت ایک اور باخبر دوست ڈاکٹرمظفرغزالی کررہے ہیں۔ سرپرستوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک سابق ممتازاستاد جناب خالد سیف اللہ کا نام نامی شامل ہے۔ امید یہ ہے کہ ایک اچھی ٹیم بن جائیگی جو اس مشن کوآگے بڑھائے گی۔ انشاء اللہ۔
 اس سلسلہ کا پہلا قدم یہ اٹھایا گیا جہانگیرآباد ایجوکیشنل ٹرسٹ گروپ آف انسٹی ٹیوشنس (ضلع بارہ بنکی) کی دعوت پر جہانگیر آباد انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں 17اور18جنوری کو ایک دو روزہ کانفرنس ہوئی۔ اگرچہ شدید کہرے کی وجہ سے بہت سے مندوبین یا تو تاخیر سے پہنچے یا پہنچ ہی نہیں سکے،مگر یہ پہلا قدم بھی بڑا حوصلہ افزا رہا۔یہ انسٹی ٹیوٹ ایک قدیم قلعہ میں قائم کیا گیا ہے جس کو امریکا میں مقیم ایک صاحب خیر جناب منصور غوری نے مالکان سے خرید کر نئی زندگی عطا کی اورایک ٹرسٹ بناکر اس میں کئی تکنیکی ادارے قائم کردئے۔ نوجوان ڈائرکٹر ڈاکٹرخواجہ محمد رفیع کی رہنمائی میں یہ ادارہ نہایت خوش اسلوبی سے کامیابی کی منزلیں طے کررہا ہے۔ اس پرفضا کمپس میں جن طلباء، اساتذہ اور دیگر کارکنان سے ملے،سب کو بلند حوصلہ، خوش اخلاق اور اعلا اقدار کا پاسدار پایا۔ 
اگرشمالی ہندستان کے صاحب ثروت افراد کمر کس لیں اور علمائے کرام مسلکی عناد سے بازآجائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس خطے کے مسلمانوں کو اس لئے شرمندہ ہونا پڑے کہ ان کا مقام و معیار ہندستانی معاشرے میں اسی سی اور ایس ٹی سے بھی کمتر ہے۔ 
Cell: 9818678677

No comments: