Tuesday, December 2, 2014

In the memory of Allama Sibli Naumani of Azam Garh

علامہ شبلی نعمانی کی یاد میں 

سید منصورآغا،نئی دہلی
گزشتہ صدی میں برصغیر ہندوپاک کی ممتازترین مسلم شخصیات کی اگرمختصر سی فہرست بھی بنائی جائے توعلامہ محمد شبلی نعمانی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔علامہ نعمانی نے صرف 57/سال کی عمر پائی۔ مگر اس مختصرعمر میں علمی، ادبی اور تعلیمی میدان میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے، وہ آج بھی بحث ومطالعہ کا موضوع ہیں۔ ان کی تصنیفات قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور’دارالمصنفین اعظم گڑھ‘ سے ان کی اشاعت کا سلسلہ بدستورجاری ہے۔ علامہ مرحوم نے خود جو آثار چھوڑے ہیں، ان سے زیادہ ان پر لکھا جاچکا ہے اور لکھا جارہا ہے۔پڑھا بھی جاتا ہے۔  
 18/نومبرسنہ 2014کو ان کی وفات کو سوسال پورے ہوگئے۔ چنانچہ ان کی یاد میں ’دارالمصنفین اعظم گڑھ‘ اور ’جامعتہ الفلاح، بلریا گنج‘ میں وقیع مذاکروں کا اہتمام کیاگیا۔ فلاح میں 24و25/اکتوبر کوجو قومی سیمنار منعقد ہوا، اس کی روداد بعنوان ”عصرحاضر میں علامہ شبلی نعمانی کے تعلیمی افکار کی معنویت“ ایک ماہ میں شائع ہوکر منظرعام پر آگئی۔ یہ ایک نادرواقعہ ہے۔ 286صفحات کی یہ دستاویز، جس میں دودرجن سے زیادہ عنوانات کے تحت تمام مقالات اور تقاریر شامل ہیں، ایک دن قبل مجھے موصول ہوئی اور اس کالم کا محرک بنی۔ 
گزشتہ ایک ماہ کے دوران اسلامیان ہند کی چار ممتاز شخصیات، سرسید احمد خاں، علامہ اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد اورعلامہ شبلی نعمانی کوان کے یوم ولادت یا یوم وفات کے تعلق سے یاد کیا گیا۔ یہ شخصیات اس کی مستحق ہیں کہ ان کے افکار و خیالات پرغورفکرکیا جائے۔ ان سے اپنے لئے نقوش راہ تلاش کئے جائیں اور امت کو پستی کے موجودہ دور سے نکالنے کے لئے ان کو اپنے لائحہ عمل میں شامل کیا جائے۔لامحالہ اس لائحہ عمل کا کلیدی نکتہ تعلیم و تربیت ہے۔
علامہ کی ولادت 4/جون سنہ 1857ء کو بنداول، ضلع اعظم گڑھ کے ایک معزز مسلم راجپوت گھرانے میں ہوئی۔ان کے والد ماجد شیخ حبیب اللہ خوشحال اور روشن خیال شخصیت کے مالک تھے،جس کا اندازہ یوں ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے دوبیٹوں کوجو علامہ شبلی سے چھوٹے تھے، اعلا تعلیم کے لئے لندن بھیجا۔ وہ وہاں سے  بیرسٹری کرکے آئے اور الہ آباد ہائی کورٹ میں مصروف کارہوئے۔اس دور میں مسلمانان ہند میں جدید تعلیم کا رجحان مفقود تھا۔ انگریزاستعمار نے ملت اسلامیہ کی چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔ چنانچہ انگریزی پڑھنا اور پڑھنے کے لئے انگلینڈ جانا، سخت معیوب اور دین سے پھر جانا سمجھا جاتا تھا۔ ہرچند کہ علامہ شبلی نے بنیادی طور سے علمائے دین سے ہی فیض علم حاصل کیا مگر ان کی فکر و نظر میں قدامت پسندی اور روایت پرستی نہ تھی۔وہ عقائد صالح،دینی اقدار اور عقلیت پسندی کا معتدل ”معجون مرکب‘‘ تھے اور یہی ”معجون مرکب“وہ ملت کے لئے تجویز کرتے تھے۔
 علامہ شبلی کے اساتذہ میں مولانا ارشاد حسین رام پوری، مولانا فیض الحسن سہارنپوری، مولانا احمد علی سہارنپوری اور مولانا محمدفاروق چریا کوٹی کے اسم ہائے گرامی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ مولانا چریاکوٹی سے قرب وطنی بھی تھا اور فطری مناسبت بھی کہ مولانا فلسفہ اور منطق میں امتیاز رکھتے تھے۔علامہ شبلی جب حج کے لئے حجاز گئے توکچھ عرصہ وہیں رک گئے اور وہاں کے ممتاز علماء کے حلقہ درس سے استفادہ کیا۔
علامہ شبلی سنہ 1882سے 1898تک علی گڑھ میں سرسید احمدخان کے قریب رہے۔ ایم اے اوکالج میں، جو بعد میں ’مسلم یونیورسٹی‘بنا، وہ عربی اور فارسی کے استاد رہے۔ یہیں ان کی ملاقات پروفیسر تھامس آرنالڈسے ہوئی جو دوستی میں بدل گئی۔ یہ وہی پروفیسرآرنالڈ ہیں جنہوں اپنے قیام لاہور کے دوران علامہ اقبال کو متاثر کیا۔ وہ علامہ شبلی کے مایہ ناز شاگرد سیدسلیمان نددوی کے استاد بھی رہے۔ پروفیسر آرنالڈ کے ساتھ علامہ شبلی نے سنہ 1892میں شام، ترکی اور مصر کادورہ کیا جس کی روداد ان کی شہرہ آفاق تصنیف ”سفرنامہ روم، مصروشام‘‘کی صورت میں شائع ہوئی اور جو تاریخ اسلام اورعالم اسلام میں نظام تعلیم کی ایک نایاب اور سبق آموز دستاویز ہے۔علامہ شبلی کے تربیت یافتہ صاحبان فکرودانش کی ایک طویل فہرست ہے، جن میں علامہ حمیدالدین فراہی، مولانا محمد علی جوہر، ظفرعلی خان، سجاد حیدر یلدرم، عزیر مرزا، مسعود علی مہوی، عبدالسلام ندوی، عبدالباری ندوی اور متکلم ندوی وغیرہ کے نام نامی شامل ہیں۔ ان کی تصنیفات میں ’سیرت النبی‘؛ مقدمات سیرت النبی؛ الفاروق؛ سوانح حضرت عمرفاروق؛ الغزالی؛ المامون؛ الفاروق؛ سیرت نعمان؛ سوانح مولانا رومی؛ الکلام؛ علم الکلام؛ سیرت العجم؛ موازنہ انیس ودبیر؛ اورنگزیب عالم گیر پر ایک نظر‘ مشہورہیں۔ ان کے علاوہ فارسی اور اردو میں ان کے شعری مجموعے بھی ہیں۔ بعد میں ا ن کے قدردانوں نے ان کی منتشر تحریروں کو جمع کرکے جو کتابیں ترتیب دیں وہ ان کے علاوہ ہیں۔ 
علامہ شبلی نعمانی کثیرالجہات شخصیت کے مالک تھے مگر ان کا اصل کارنامہ ان کا تعلیمی نظریہ اور نصاب تعلیم و نظام تعلیم میں اصلاح کی جدوجہد ہے۔ اصل میں یہی وہ میدان ہے جو ہماری توجہ کامرکزہے۔ یہی ان کی اصلاحی و علمی زندگی کا نقطہ آغاز ہے۔ان کے پہلے مقالہ کا عنوان ’مسلمانوں کی گذشتہ تعلیم‘ ہے۔ جس کا ذکر پروفیسر اشتیاق احمد ظلّی نے اپنے خطبہ استقبالیہ (فلاح سیمینار)میں کیا ہے اورعلامہ سید سلیمان ندویؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ’اسی مطلع سے ان کی شہرت کا آفتاب پہلی بار نمودارہوا۔‘ یہ پرمغزمقالہ انہوں نے سنہ1887میں لکھنؤ میں پیش کیا تھا۔ تعلیم کے لئے ان کی وارفتگی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے سنہ1883ء میں جب ان کی عمر صرف 26سال تھی، ’نیشنل اسکول، اعظم گڑھ‘ کی بنیاد رکھی، جو اب شبلی نیشنل کالج کے نام سے معروف ہے۔
علامہ شبلی نعمانی تعلیم کے جس ”معجون مرکب“ کا فارمولہ پیش کرتے تھے، اس میں عقائد،فقہ اور تاریخ اسلامی کے ساتھ جملہ جدید علوم کا امتزاج شامل ہے۔ابتدا میں وہ سرسید کی تعلیمی تحریک سے متاثرتھے۔ مگر علی گڑھ میں  16سالہ تجربہ سے ان کے نظریہ میں تبدیلی آئی۔ وہ مسلمانوں کی ایسی ترقی کے قائل نہ تھے جس میں جدیدیت کا اہتمام توبدرجہ کمال ہو اور مسلمانیت برائے نام ہو۔چنانچہ سرسید کی وفات کے بعد وہ سنہ 1898ء میں حیدرآباد چلے گئے اور ریاست کے شعبہ تعلیم میں مشیر مقرر ہوئے۔ ان کی ہی ایما ء پر حیدرآباد یونیورسٹی میں جدید علوم کی تعلیم اردو میں شروع ہوئی۔ دس سال کے بعد وہ لکھنؤ آگئے۔انہوں نے روزاول سے ہی ندوۃ العلماء کے قیام، نظام اور نصاب تعلیم کی ترتیب میں اہم رول ادا کیا۔ پانچ سا ل ندوہ میں رہ کر اعظم گڑھ آگئے۔ دارالمصنفین کی بناڈالی۔ یہیں وفات پائی۔یہیں ایک درخت کے سائے میں ان کی آخری آرام گاہ بنی۔ حق تعالیٰ ان کو اپنے سایہ رحمت میں بلنددرجہ عطا فرمائے۔ آمین۔
 ایک فاضل مقالہ نگارنے فلاح کے سیمنار میں یہ نشاندہی فرمائی ہے کہ کئی بڑے مدارس میں، جہاں ان کے نظریہ سے رہنمائی حاصل کرکے منقولات کے ساتھ معقولات اور روائتی دینی علوم کے ساتھ جدید عصری علوم پڑھائے جارہے ہیں، اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں،جبکہ جدید تعلیمی اداروں میں شبلی نعمانی کے نظریہ تعلیم پر کہیں بھی عمل نہیں ہورہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جدید تعلیمی اداروں کو، جو سرکاری گرانٹ سے چلتے ہیں اوراسی کے نظام کے تحت چلتے ہیں، نصاب تعلیم کی وہ آزادی نصیب نہیں جو مدارس کو حاصل ہے۔ مدارس کے نظام میں اصلاح و ترقی انتظامیہ کے دسترس میں ہے۔ اس لئے توجہ ا ن پر ہی دی جانی چاہئے۔
 شبلی کے نظریہ تعلیم سے فیضیاب اسکالر ابراراحمداصلاحی مکی اور انجنیرطارق اعظم نے حال ہی میں اعظم گڑھ اور نواحی اضلاع میں فروغ تعلیم کی جامع اور مربوط تحریک شروع کی ہے۔ فضاسازی کے لئے حال ہی میں انہوں نے ان اضلاع میں رابطہ مہم چلائی۔کئی بستیوں میں گئے۔جلسے کئے۔ کمیٹیاں بنائیں۔کوشش یہ ہے کہ اس خطے کوتعلیم گاہوں کے خطے  (Education Hub) میں تبدیل کردیا جائے کہ دوردراز سے لوگ تعلیم کے لئے یہاں اسی طرح آئیں، جس طرح امریکا اورآسٹریلیا جاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر جدید علوم کے فروغ کے ساتھ عقائد اوراخلاق کی تعلیم بھی شامل ہے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ جدید علوم کے ساتھ ایک نیا شعبہ ہنرمندی کی تربیت کا بھی شامل ہوناچاہئے۔یہ ضروری نہیں کہ ہرطالب علم اتناذہین ہو کہ اعلا درجہ کا عالم یا اسکالر بن سکے۔ تعلیمی نظام میں گنجائش یہ ہونی چاہئے کہ جن بچوں کا پڑھائی میں زیادہ رجحان نہیں، ان کو کوئی ہنرسکھادیا جائے اور یہ کام اس طرح ہوکہ ہنرمندی کی تربیت کی سرکار سے منظورشدہ سند بھی ان کو حاصل ہو۔ یہ سند اندرون ملک اور بیرون ملک اچھے روزگار کے دروازے کھولتی ہیں۔ ہم نے گزشتہ سال اس کا ایک نمونہ مدرستہ الاصلاح، سرائے میر میں دیکھا۔یہی کام جودھپور میں مارواڑ مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کررہی ہے۔آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ نے بھی، جس کے بانی سیدحامد ہیں، اس پہلو سے ایک کوشش کی ہے۔ مدارس کے ساتھ ایسے تربیتی اداروں کا قیام کچھ مشکل نہیں، جن کو آئی ٹی سی کہا جاتا ہے۔ صرف چندکمرے اور تھوڑا سا سرمایہ درکار ہے۔ موومنٹ نے ان میں دلچسپی رکھنے والے اداروں کی مدد ورہنمائی کی پیش کش کی ہے۔
شبلی نعمانی کا یہ تذکرہ ان کی شخصیت اور ان کے تعلیمی نظریہ کا ذکر بھر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علامہ شبلی کے بعد کی   ایک صدی میں علم کی دنیا میں زبردست انقلاب آیا ہے۔فکرانسانی تحریک واصلاح سے ہی بامقصد رہتی ہے۔ چنانچہ تغیرات زمانہ کا تقاضا ہے کہ نصاب اور نظام تعلیم میں کچھ اورابواب کا اضافہ کیا جائے۔ ضرورت ہے کہ علامہ کے تعلیمی نظریہ کوسامنے رکھ کرآئندہ کے لئے جو لائحہ عمل بنایا جائے اس میں جدید تقاضوں کو شامل کرکے ان کے ’معجون مرکب‘ کا ایک ترقی یافتہ فارمولہ تیار کیا جائے۔ اس کی قبولیت کے امکانات کو تقویت دی جائے۔ یہ کام علمائے کرام اور جدید ماہرین مل جل کر ہی کرسکتے ہیں۔ تعلیم کے معیار اور پھیلاؤ دونوں اعتبار سے ہم اقوام عالم سے کافی پچھڑ گئے ہیں۔ ہمیں ایسی تعلیم درکار ہے جس سے ہم جدید دنیا کے ساتھ قدم ملاکر چل سکیں مگراس طرح کی ہم اپنی قدروں اورآخرت کے تقاضوں سے بے پرواہ نہ ہوں۔بقول شاعر
ہم کو اٹھنا تو منھ اندھیرے تھا
مگر ایک خواب ہم کو گھیرے تھا
رات سر پے ہے اور سفر باقی 
ہم کو چلنا زرا سویرے تھا



No comments: