Wednesday, November 12, 2014

Maulana Azad Library of Aligarh Muslim University not closed for Girl Students,

 ایک مصنوعی تنازعہ کھڑا کرکے میڈیامسلم یونیورسٹی کے خلاف ماحول سازی میں لگ گیا ہے اورافسوس یہ ہے کہ اصلیت پر غورکئے بغیر دومرکزی وزراء نے بھی غیر ضروری بیانات دیکر یونیورسٹی کے داخلی معاملات میں مداخلت کی ہے۔
یونیورسٹی نے ہرگز طالبات کو مرکزی لائبریری میں جانے سے نہیں روکا ہے۔ صرف انڈرگریجوئیٹ طالبات سے کہا گیا ہے کہ وہ مرکزی لائبریری کے ریڈنگ روم کے بجائے اپنے کالج کا ریڈنگ روم استعمال کریں۔ موجودہ حالات میں یہ اقدام انتظامی نقطہ نظر معقول اور درست ہے اور وائس چانسلر کو یہ حق ہے کہ وہ یونیورسٹی اور اس کے طلباء وطالبات کے بہترین مفاد میں ضابطے نافذ کریں۔
 یونیورسٹی میں مرکزی مولانا آزاد لائبریری کے علاوہ مختلف شعبوں میں 90 دیگر لائبریریز ہیں۔ گرلز کالج میں،انڈر گریجوئیٹ طالبات کے لئے بھری پوری لائبریری موجود ہے۔ حال ہی میں وی سی صاحب نے یہ انتظام بھی کردیا ہے اگر کوئی کتاب گرلس کالج کی لائبریری میں دستیاب نہیں اور کسی طالبہ کو اس کی ضرورت ہے تو۴۲ /گھنٹے میں کہیں سے بھی فراہم کرائی جائے۔ اس کے علاوہ بک بینک کے لئے۸۱ /لاکھ روپیہ مختص کیا گیا ہے اور طالبات کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ ان کو کورس کی کتابیں، پورے سیشن کے لئے جاری کردی جائیں۔ 
انڈرگریجوئیٹ طالبات کے لئے یہ نظام گرلس کالج کے قیام سنہ ۶۳۹۱ء سے ہی نافذ ہے کہ وہ مرکزی لائبریری سے کتاب جاری کراسکتی ہیں، مگر مطالعہ اس کے ریڈنگ روم میں نہ کریں۔ حالیہ برسوں میں کورسز کی تعداد بڑھی ہے۔ طلباء کی تعداد بھی بڑھی ہے اس لئے اس ضابطہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے جگہ کی تنگی ہوجاتی ہے اورپوسٹ گریجوئیٹ اور رسرچ طلباء و طالبات کو دشواری ہوتی ہے جب کہ انڈر گریجوئیٹ طالبات کے لئے متبادل اورمحفوظ نظام دستیاب ہے۔چنانچہ انتظامی سہولت کے لئے ان سے کہا گیا ہے کہ ضابطہ کی پیروی کریں اور مطالعہ کے لئے مرکزی لائبریری کے بجائے گرلس کالج کے ریڈنگ روم کو استعمال کریں۔ ابھی ”لو جہاد“ کا شور بلند ہوچکا ہے۔احتیاط لازم ہے۔ وائس چانسلرصاحب یونیورسٹی کے حالات کو زیادہ بہتر طور سے سمجھتے ہیں اور طالبات کے بہترین مربی ہیں۔اگر وہ اپنی بچیوں کو کوئی نصیحت کرتے ہیں تو اس پر ہنگامہ آرائی کی کوئی معقول وجہ نہیں۔

No comments: