Wednesday, November 12, 2014

Darul-Uloom Deoband's support to "Sawach Bharat" mission justifeid

دارالعلوم دیوبندکے حوالے سے نیا شر
سید منصورآغا،نئی دہلی
کئی جگہ سے بیک وقت شائع ہونے والے اردوکے ایک بڑے اخبار کے دہلی ایڈیشن میں ۰۱/نومبرکو ایک رپورٹ سہ منزلہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی ہے:۔ سرخیاں یہ ہیں: ”وزیر اعظم مودی کی تعریف کئے جانے پر دارالعلوم پھر سرخیوں میں // دارالعلوم دیوبند ایک دینی ادارہ ہے، جس کو سیاسی بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے/ /دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم کے ذریعہ ”سوچھ بھارت“ مہم کی حمایت کرنے پر مولانا ارشد مدنی کاردعمل۔“ 
چارکالمی خبر پر شرانگیزتین منزلہ سرخی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے ایک سنجیدہ اخبار نے سنسنی خیزی کے لئے ایک لچررپورٹ کونمایاں کردیا ہے۔ خبر کا متن غیرمعیاری ہے اور صاف ظاہر کررہا ہے رپورٹر دیوبند میں بس رہتے ہیں، ان کو نہ تو دین کی اساسی ہدایات کی کچھ سدھ بدھ ہے، نہ سیرت نبوی ؐپر نظر ہے اور نہ علمائے دیوبند کی قومی وعالمی سطح پر سیاسی سرگرمیوں اور قربانیوں سے کچھ واقفیت ہے۔ 
خبر کا ابتدایہ ملاحظہ فرمائیں: ’دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کے ذریعہ وزیراعظم نریندرمودی کے ’سوچھ بھارت‘ مہم کی تعریف کرتے ہوئے ان کو مبارکبادپر علمائے دیوبند نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور سرکردہ علماء نے کہا ہے کہ دارالعلوم کو ایسے غیر مناسب سیاسی بیانات سے گریز کرنا چاہئے۔“اور یہ کہ ”علماء کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔“
 اس ا بتدائیہ کا تقاضا یہ تھا کہ ان علماء کی نشاندہی کی جاتی اور ان کا’سخت رد عمل‘ بیان کیاجاتا۔ لیکن خبر میں صرف مولانا ارشد مدنی مدظلہ سے منسوب کرکے ایک بات کہی گئی ہے۔ دوسرا نام مولانا عبدالعلیم فاوقی کا لیا ہے،جنہوں نے صاف کہہ دیا ”مجھے اس سلسلہ میں کچھ معلوم نہیں اور بلاتصدیق میں کچھ نہیں کہوں گا۔“ضابطہ کا تقاضا یہ تھا کہ مفتی صاحب سے بھی بات کی جاتی اوران کے بیان کو شامل کیا جاتا۔ اس سے کیا سمجھا جائے؟
خبر میں اس تنازعہ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو عرصہ قبل مولاناغلام محمد وستانوی کے اس بیان پر اٹھ کھڑا ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ”گجرات میں جو ترقیاتی کام ہوئے ہیں (سڑکیں وغیرہ بنی ہیں) ان کا فائدہ عام ہے۔ اور یہ کہ مسلمانوں کو آگے کے بارے میں فکرکرنی چاہئے۔“
مولانا ارشد صاحب کے حوالہ سے جو بات نقل کی گئی ہے ا س میں موصوف نے یہ نہیں فرمایا کہ دارالعلوم کیونکہ دینی ادارہ ہے اس لئے سیاسی بیان سے گریز کرنا چاہئے۔ گمان یہ ہوتا ہے کہ یہ بات خبرنویس یا سرخی بنانے والے کے ذہن کی اختراع ہے۔ مولانا ارشدصاحب یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں جب کہ وہ خود سیاسی بیانات اور اقدامات میں مصروف رہتے ہیں، ان کے والد ماجد مولوی حسین احمد ؒ اور والدکے استادِ محترم شیخ الہند محمود حسن ؒدیوبندی سیاسی وجوہ سے ہی مکہ مکرمہ سے گرفتارکرکے تقریبا ساڑھے چارسال مالٹا میں قید رکھے گئے تھے۔ ان کے بڑے بھائی مولانا سید اسعد مدنی کانگریس کے ٹکٹ پر طویل مدت تک راجیہ سبھا کے رکن رہے۔تقسیم ملک کے وقت دیوبند مکتبہ فکر کے علماء نے ہی یہ اہم سیاسی فیصلہ کیا تھا کہ ہم پاکستان نہیں جائیں گے۔ اگر فیصلہ جانے کا ہوجاتا تو اس خطے کے مسلمانوں کے قدم اکھڑ جاتے اوراپنے وطن میں رکے رہنا دشوار ہوجاتا۔جدوجہد آزادی میں علمائے کرام کا رول ناقابل فراموش ہے۔ 
سیاسی معاملات میں ملت کی رہنمائی صرف دیوبندی علماء تک محدود نہیں، علماء اہلحدیث، شیعہ علماء اور بریلوی مسلک کے علماء اورمشائخ بھی رہنمائی فرماتے رہے ہیں۔ آج بھی ہرمکتبہء فکر کے ہزارہا علماء سیاسی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اسلام میں دین اوردنیا کی کوئی تفریق نہیں۔ سیاست بھی قبول بارگاہ ایزدی ہے بشرطیکہ انہی اصولوں پر کاربند ہو جن کے نقوش سیرت نبویؐ اور خلفائے راشدین کی حیات مبارکہ میں ملتے ہیں۔ بقول اقبالؒ
جلال بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اس لئے یہ خیال سراسر غلط ہے کہ مہتمم دارالعلوم کے لئے سیاسی بیان دینا معیوب ہے یا مفتی صاحب سے کوئی لغزش ہوئی ہے۔ 

اصل بات کیا ہے

ماہ ستمبر میں مرکزی وزیر شہری ترقیات ونکیہ نائیڈو نے مولانا نعمانی کو ایک خط لکھ کر ’سوچھ بھارت‘ مہم کی تائید چاہی۔ اس کا جواب ۰۳/اکتوبر کودیا۔ جس میں اسلام میں صفائی کی اہمیت اور دارالعلوم میں اس کے اہتمام کے تذکرہ کے ساتھ بجا طور پر فرمایا ہے:”گندگی اورعدم صفائی ہمارے ملک کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ یہ جہاں ایک سماجی لعنت ہے، وہیں انسانی صحت اور ماحول پر اس کے برے اثر پڑتے ہیں۔یہ افسوس کی بات ہے کہ آزادی کے ۷۶/ سال بعد بھی ہم اس برائی سے نجات نہیں پاسکے ہیں۔ وزیراعظم کی طرف سے ”صاف ستھرا بھارت“کی مہم ایک قابل تحسین کام ہے اگرچہ یہ کافی دیر سے اٹھایا گیا قدم ہے۔“ موصوف نے اس مہم کی تائید فرمائی اور اس کے لئے وزیراعظم ہند کو رسمی مبارکباد دی ہے۔ لیکن انہوں نے ایک بیان میں یہ وضاحت بھی فرمادی ہے کہ ان کی تائید صفائی مہم کے لئے ہے، وہ مودی کی موئد نہیں۔ (انڈین ایکسپریس: ۰۱/نومبر) مفتی صاحب نے داعیانہ کردارادا کرتے ہوئے توجہ دلائی ہے: دعا ہے کہ ظاہری صفائی ستھرائی کے ساتھ اللہ قلب و باطن کی صفائی کی بھی توفیق عطا فرمائے۔“
 یہ بات عام مسلمان کو بھی معلوم ہے کہ صفائی اور پاکیزگی کی ہمارے لئے کس قدراہمیت ہے۔ نبی کریم ؐ کا فرمان ہے”صفائی نصف ایمان ہے۔“ اس فرمان کے باوجود بدقسمتی سے ہم اس معاملے میں کوتاہ ثابت ہوئے ہیں۔ مشاہدہ یہ ہے کہ عام طور سے مسلم محلوں میں صفائی ستھرائی پر توجہ نہیں دی جاتی۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ ہمارے گھر اور بستیاں صفائی ستھرائی کی مثال بنتیں۔ اب اگر کوئی شخص صفائی کی مہم چلاتا ہے توہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ اس کا خیرمقدم کریں۔ عمل میں کوتاہی کے باوجود ہمارے قلب ونظرمیں فرمان رسول ؐ کی پامالی کی ہرگز گنجائش نہیں۔مولانا نعمانی ہی نہیں ایک عام مسلمان بھی یہی کہے گا کہ صفائی ہونی چاہئے۔ اس مہم سے اس لئے منھ موڑنا درست نہیں کہ آواز غیر کی طرف سے آئی ہے۔
 اب اگرکل کو مودی نے ’دخترکشی‘ کے خلاف ایسی ہی مہم چھیڑی اور حضرت مولانا ارشد مدنی اور ملت کے دیگر محترم علماء کرام کو اس مہم میں معاونت کے لئے پکارا تو کیا کہہ دیا جائیگا کہ ہم دخترکشی کے خلاف مہم میں شریک نہ ہونگے؟ حالانکہ نبی کریم ؐنے ابتدائی مکی دور میں، جب کہ مسلمان گنتی کے چند تھے، عرب کے بعض قبائل میں مروج اس شقاوت قلبی کے خلاف مہم چھیڑی اورقرآن (سورہ انعام: ۳۷۱، ۰۴۱، التکویر۸، ۹)نے اس پر سخت گرفت کی ہے۔ہرگز نہیں، اس مہم سے انکار ہمارے علماء سے نہیں ہوگاچاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر کے کیوں نہ ہوں۔
 جہاں تک مودی کی صفائی مہم کا تعلق ہے، ہونا یہ چاہئے تھا کہ یہ مہم ہمارے روزمرہ میں شامل ہوتی۔ ہم دوسروں کے لئے مثال بنتے۔ اب اگر کوئی غیر آواز دے رہا ہے تو اس کو اس لئے رد نہیں کیا جاسکتا کہ یہ آواز ایک ایسے شخص کی طرف سے آئی ہے جس نے ہماری قوم کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ بات اپنی سوچ سے نہیں کہی جارہی ہے۔ قرآن کریم میں واضح رہنمائی موجودہے: ”اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس وجہ سے زیادتی پر آمادہ نہ کردے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا، اوردیکھو بھلائی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرواور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرواور اللہ سے ڈرتے رہو، کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (المائدہ: ۲)
یہ قرآن کا اعجاز ہے اوراس کے آفاقی اورآسمانی ہونے کی دلیل ہے ہم آج جن حالات سے گزررہے ہیں ان میں ایسی کھلی رہنمائی فرمادی ہے۔ پہلے ذکرفرمایا ان ظالموں کا جنہوں نے مسجد حرام سے روکا اورپھرفرمایا دیکھو نیکی اوربھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ، البتہ برائیوں سے بچو۔“ ہمارے لئے کیا نیکی ہے اور کیا برائی ہے،اس کا فیصلہ ہم اپنی پسندوناپسند سے نہیں کریں گے۔ اس کا پیمانہ اللہ کا کلام اوررسول کا فرمان ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے رسول ؐ نے اپنے مکی دور میں بھی اورمدنی دور میں نیکی اور بھلائی کے کاموں میں مخالفین اور دشمنان اسلام سے تعاون سے پرہیز نہیں کیا۔ میثاق مدینہ اور اس کے تحت پہلی اسلامی ریاست کا قیام اس کی زریں مثال ہے۔اس لئے اگرمولانامفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب نے نائڈو کے خط کا جواب اثبات میں دیا ہے تواس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے حق کی ترجمانی فرمائی ہے۔ رہا صفائی مہم پر یہ سوالیہ اعتراض کہ ”کیا بھارت پہلے گندگی میں تھا“ بے معنی ہے۔ ہم توہرروزدیکھتے ہیں کہ لوگ گھروں سے کوڑا کچرا نکال کرراستوں میں پھینک دیتے ہیں۔ہرطرف بکھری ہوئی گندگی اور کوڑے کے یہ ڈھیر تو بس اسی کو نظر نہیں آئیں گے جو دیکھنے کی طرح دیکھنا نہ چاہے۔ یا جو ان کا عادی ہوگیا ہو۔ 
افسوس کی بات یہ ہے کہ ’نصف ایمان ’کے تقاضے صفائی کی مہم کی تائید کے خلاف نیا فتنہ دیوبند سے اٹھا ہے اور جس نے فتنہ اٹھایا ہے وہ ’ہاشمی‘خانوادے سے متعلق ہے جس کی عظمت ہمارے دلوں میں بسی ہے۔اس کے باوجود ہم اس کو بدنیتی پر نہیں کوتاہ نظری پر محمول کریں گے۔ ہمارے صحافی دوستوں پر بڑی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اسلام کی روح کودھندلا نہ کریں۔ اگرکوئی غلط روی نظرآئے تو گرفت ضرور کیجئے مگر دینی شخصیات اوراداروں کے وقار کا بھی خیال رکھئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ مفتی صاحب کے موقف کی تائید اس طرح ہونی چاہئے کہ ہرشہر میں مقامی طور پر مسلمان خود اپنی کمیٹیاں بنائیں اور ایسی صفائی مہم چلائیں کہ ان کے محلوں کا نام روشن ہوجائیں۔ہم پر لازم ہے کہ نماز،روزہ اور دیگر عبادات کے ساتھ صفائی کو بھی دامے، درمے، سخنے اپنے معمول میں داخل کریں تاکہ ایمان کا یہ نصف شعبہ نظروں سے اوجھل نہ رہنے پائے۔

No comments: