Thursday, November 20, 2014

Imam Jama Masjid, annotation of His Naib and the controversy

احوال عالم

امامت، نیابت اور سیاست

سید منصورآغا،نئی دہلی
جامع مسجد دہلی کے امام سید احمد بخاری نے سید شعبان بخاری کو اپنا نائب مقررکرنے کا اعلان کیا کیا، میڈیا،کج فہم دانشوروں اورسیاست دانوں کو ایک موضوع بحث کا مل گیا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ عموماًہمارے معاشرے میں امام مسجد کو وہ مقام ومرتبہ نہیں ملتا جو امام کی حیثیت سے ان کو ملنا چاہئے۔ مشاہرہ اتنا کم دیا جاتا ہے کہ گزارہ مشکل اور امام صاحبان صبروقناعت کی معصوم تصویر بنے تھوڑے میں گزارا کرلیتے ہیں۔ مسجد کا ہرمصلی امام کواپنا امام نہیں مسجد کا ملازم سمجھتا ہے اور زرا سی بات پر مخالفت پر اترآتا ہے۔ جب مسجد کمیٹی کا کوئی عہدیدار یا محلہ کاکوئی شورہ پشت شورمچاتا ہے توامام کو رخصت کردیا جاتا ہے۔اس کی تقرری اور علیحدگی کا فیصلہ کرنے والوں میں اکثر علم وتقوٰی کے اعتبار سے بھی کمزورلوگ  ہوتے ہیں۔ اس ماحول میں لے دے کر چند مساجد ایسی بچی ہیں جن کے آئمہ اس آزار سے محفوظ ہیں اور ایک بڑاطبقہ ان کی قدرومنزلت کرتا ہے۔ دہلی کی شاہ جہانی جامع مسجد کے امام بھی ان میں ایک ہیں۔ چنانچہ سیاست زدہ ذہنوں کا بس نہیں چلتا کہ کسی طرح مسجد کے نظام امامت پر غلبہ پالیں۔
اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر مغل حکمراں مرزا شہاب الدین محمد’شاہ جہاں‘ نے سنہ1650ء میں شروع کرائی۔ پہلی نماز 24/جولائی سنہ 1656ء مطابق یکم شوال 1066ھ کو ہوئی۔ یہ نماز عیدالفطر تھی۔ امامت سید عبدالغفورشاہؒ نے کی اور بادشاہ سمیت تمام امراء،وزرا، حکومت کے اہل کاروں اوربڑی تعداد میں دہلی والوں نے نماز میں شرکت کی۔منصب امامت کے لئے سید عبدالغفورشاہؒ کو بخارا (ازبکستان)سے بلایا گیا تھا۔اسی نسبت سے یہ خاندان ’بخاری‘ کہلاتا ہے۔ بخارا اس  زمانے میں اہل علم کا مرکز تھا۔ 62سالہ سید عبدالغفورشاہؒ علمائے بخارا میں نہایت معتبر،معزز اور صاحب تقوٰی ہستی تھے۔ وہ اس پرشکوہ مسجد کے پہلے امام مقرر ہوئے۔ ان کو ’شاہی امام‘ کا لقب دیا گیا۔تبھی سے جامع مسجد دہلی کے امام کے لئے ’شاہی امام‘کا لقب اوراسی خاندان سے امام کا تقرر بدستور چلاآتا ہے۔بیشک شاہی دور ختم ہوا، مگریہ لقب ایسا ہی ہے جیسے برادران وطن میں دویدی، ترویدی یا چترویدی کا ہوتا ہے، حالانکہ زبانی یادہونا تو دور دویدی جی نے کبھی دو اورترویدی جی نے تین اور چترویدی جی نے چاروید پڑھے بھی نہیں ہونگے۔ نہ جانے خاندان کے کس بزرگ نے کس زمانے میں اتنے وید زبانی یاد کرلئے ہونگے کہ دویدی، ترویدی، چترویدی کہلائے اب یہ لقب نسل درنسل جاری ہے۔
جامع مسجد دہلی کے ہرامام نے اپنا نائب مقرر کیا جو اس کے بعد منصب امامت پر فائز ہوا۔اسی نظام کے تحت ایک کے بعدایک آٹھ امام صاحبان مغلیہ دور میں، تین انگریزی دور میں اوردو آزادی کے بعد مقرر ہوئے ہیں۔ سابق امام محترم سید عبداللہ بخاری ؒ اس سلسلہ کے بارہویں اور موجودہ امام سید احمد بخاری تیرہویں ہیں۔ روزاول سے ایک ہی طریقہ چلاآتا ہے۔ امام اپنے کسی فرزند کو اپنا نائب تجویزکردیتا ہے۔ امام کی تجویز کو صاد کرنے کے لئے ممتاز علماء اورمعززین شہر کاایک جلسہ ہوتا ہے۔جس میں نائب کی دستار بندی ہوتی ہے۔ دستار بندی کا دستور قدیم ہے جس کو برادران وطن میں ’رسم پگڑی‘کہا جاتا ہے۔یہ گویا ذمہ داری تفویض کئے جانے اور اس کو قبول کئے جانے کا اعلان ہے۔ٹھیک اسی طرح ہمارے مدارس میں ’دستار فضیلت‘اور خانقاہوں میں خلفاء کی دستار بندی ہوتی ہے۔ اس دستور کے تحت جس شخص کو نائب امام بنایا جاتا ہے وہ امام کی عدم موجودگی میں ان کا قائم مقام ہوتا ہے۔ امام کی سبکدوشی یا وفات کی صورت میں امام کے منصب پر فائز ہوتا ہے۔
 یہ طریقہئ کار پونے چارسوسال سے بلاخطاچلاآتا ہے۔ اس درمیان اس طریقہ سے جو امام صاحبان مقرر ہوتے رہے، ان میں کسی کے بارے میں یہ گمان نہیں ہوا کہ اس کے پیش رو سے مردم شناسی میں چوک ہوئی ہے۔چنانچہ جو نظام صدیوں سے چلا آتا ہے اور وقت کی کسوٹی پر کھرا اترا ہے، اس پر انگشت نمائی بے معنیٰ ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ نظام موروثی ہے، جاگیردارانہ ہے، اس لئے بدلا جانا چاہئے۔ یہ جدت پسندی اس غلط تصورپر قائم ہے کہ ہر قدیم طریقہ غلط ہے اور ہر جدید افضل ہے۔ ایک صاحب کی رائے ہے کہ امام کی تقرری الیکشن سے ہونی چاہئے یا سخت انتخاب rigorous selectionکے عمل سے ہونی چاہئے۔ ان کے خیال سے موجودہ طریقہ غیراسلامی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم ان کو یہ فتوٰی دینے کا مجاز کیسے حاصل ہوگیااوروہ کیوں سمجھتے ہیں کہ عام انتخاب سے بہتر امام چنا جاسکتا ہے؟ ان کا غصہ اس بات پر ہے کہ دستار بندی کی مجوزہ تقریب میں مودی کو مدعو نہیں کیا گیا۔  
  ان کا یہ عندیہ بجاہے کہ کسی طریقے کی درستگی کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ شریعت کے مطابق ہو۔ موجودہ طریقے کے شرعی جواز میں اگر کوئی شک ہوتا تو ممکن نہیں تھا  پچھلے 13/ اماموں کی دستار بندی میں اس دور کے جید علما اور فضلا شریک ہوتے اور تقرری کی توثیق فرماتے۔ وہ یقینا اس پر اعتراض درج کراتے۔اعتراض کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب سابق امام سید عبداللہ بخاریؒ نے(جب وہ نائب امام تھے)ضبط ولادت کی بعض تدابیر کے شرعی جواز پر رائے دی اور ان کو جائر قراردیا۔ دہلی کے ہی ایک دیگرجید عالم، صاحب طریقت بزرگ اور عیدگاہ کے امام شیخ ابوالحسن زیدؒ سجادہ نشین درگاہ شاہ ابوالخیرؒنے اس کے بعد اپنے علمی رسالہ ’ضبط ولادت ‘ میں ان کی اس رائے کی توثیق فرمادی۔اس تنازعہ سے قبل مسجد کے پہلے امام سے لیکر سیدعبداللہ بخاری ؒکے والد جناب سید حمید بخاریؒ تک جو گیارہ امام گزرے ہیں،ان کے تقوی اوردینی فراست علمی پر کبھی کوئی انکشت نمائی نہیں ہوئی، جن کے مبارک ہاتھوں ان کے نائبین کی دستار بندی ہوتی رہی۔ ظاہر ہے کہ دین کے معاملے میں علمائے کرام کی صوابدید کو درست قراردیا جائیگا جو پونے چارسو سال سے اس طریقہ کار کی تائید فرماتے رہے، نہ کہ مودی کے مداح کی رائے کو۔ 
اگر کوئی قانونی قباحت ہوتی تو قانون بھی اب تک اپنا کام کرچکا ہوتا۔ ہم یہ منطق سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر، افسر کا بیٹا افسر،تاجر کے خاندان میں پشت درپشت تجارت کا سلسلہ تو چل سکتا ہے، امام کے گھر میں منصب امامت کا اہل کیوں نہیں ہوسکتا؟ اور کیوں ہر بار امام کی تقرری کوکھلے بازار میں ڈالا جائے؟ اس لئے تاکہ کوئی بھی عیار و مکار منصب امامت پر قابض ہوجائے؟ موجودہ طریقہئ کار میں ہرگز کوئی شرعی قباحت نہیں۔ اس پر اعتراض وہی کرتا ہے، جو شرعی ضوابط پر انسان ساختہ قوانین کو ترجیح دینے کی گمراہی میں مبتلا ہوجائے۔
ایک مرکزی وزیر صاحبہ کا اعتراض ہے کہ مسجد کا اندراج کیونکہ وقف بورڈ کے رجسٹر میں ہے،اس لئے امام کا تقرر وقف بورڈ کے اختیار میں ہونا چاہئے۔ یہ دلیل کمزور اور خطرناک نتائج کی حامل ہے۔ کمزوراس لئے ہے کہ عائلی اور مذہبی معاملات میں عدالتیں کتابی قانون پر رواجی قانون کوترجیح دیتی ہیں۔ محترمہ وزیرصاحبہ کو امام کی تقرری میں تو وقف بورڈ کا اختیارنظرآگیا، مساجد کے انتظام وانصرام کی ذمہ داری ادا کرنے میں جو کوتاہیاں وقف بورڈ سے سرزد ہوتی ہیں، وہ نظرنہیں آئیں۔ دوسرے یہ کہ وقف بورڈکی امانت اوردیانت پر کیسے بھروسہ کیا جائے جس کے اہل کار وں کے بارے میں وقف جائدادوں کے خوردبرد کی شکائتیں عام ہیں۔ 
یہ تجویز خطرناک اس لئے ہے کہ وقف بورڈ کے چیرمین اورارکان کی تقرری سرکار کے اختیار میں ہوتی ہے اورعموماً سیاسی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ان کی وفاداریاں اپنی پارٹی اوراپنے ذاتی مفاد سے وابستہ ہوتی ہیں۔ اور اب تو انتظامیہ کے ہرشعبہ میں آر ایس ایس کا سکہ چلنے لگا ہے۔ جو یہ کہتا ہے موجودہ حکومت کو قانون بناکر مساجد کی امامت کے نظام میں دخیل ہونا چاہئے، وہ دراصل یہ کہتا ہے کہ مساجد کے اماموں کی تقرری ناگپور کے اشارے پر ہونی چاہئے۔ ایسی فہم وفراست،دانشوری نہیں نادانی ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ہندستان کے کسی قانون میں کوئی ایسی بندش نہیں کہ جو کام باپ کرتا ہو، اس کا بیٹا اس کا اہل تصور نہیں ہوگا۔ کسی قانون میں مٹھوں، مندروں، مسجدوں اور خانقاہوں میں تقرری کے لئے کوئی ایسی بندش نہیں کہ موجودہ عہدیدار کا بیٹا اس منصب پرفائز نہیں ہوسکتا۔ وقف ایکٹ میں بھی کوئی ایسی شق نہیں۔ 
سیاست اور امامت
جب ملک میں ایمرجنسی لگی اورہرطرف موت کا سناٹا چھاگیا تواس جبر وستم کے خلاف پہلی آواز جامع مسجد کے ممبر سے ہی آئی اور اس وقت سید عبداللہ بخاری ؒ کی یہ آوازسب کو بھلی لگی۔بڑے بڑے سیاست دانوں کی آمد ورفت بڑھ گئی۔ اب اعتراض یہ ہے کہ امام صاحب کو سیاسی امور میں (یا مودی کے خلاف) نہیں بولنا چاہئے۔امام جامع مسجد دہلی کے سیاسی اقدامات اور بیانات سے تواختلاف کیا جاسکتاہے، لیکن ملی اورقومی معاملات میں اپنی رائے کا اظہار ان کا قانونی، دستوری اور جمہوری حق ہے۔ہمارے آئین اور قانون میں کوئی ایسی شق نہیں کہ مذہبی منصب پر فائزافراد کو سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ اگر کوئی ایسا ضابطہ ہے تو اس کا نفاذ سادھو، سنتوں، یوگیوں، سادھویوں اور سوامیوں پر بھی کیوں نہیں ہوتا؟ اگر یوگی،سادھوی، سوامی اور مہاراج سیاست کرسکتے ہیں، ایم ایل اے اور ایم پی ہوسکتے ہیں اور وزیر بن سکتے ہیں، تو ہماری مسجد کا امام سیاسی امور میں اپنی رائے کا اظہار کیوں نہیں کرسکتا؟ یہ بات دیگر ہے کہ جارحانہ انداز سے تنازعات پیدا ہوتے ہیں امام کے لئے تنازعات سے بچے رہنا افضل ہے۔ محترمسید احمد بخاری کے نامزدنائب عزیزم سید شعبان بخاری نہایت نیک خو، سنجیدہ اور ہونہار نوجوان ہیں۔ دعا ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کی اس وراثت کے اہل ثابت ہوں اور تاریخ میں جامع مسجد دہلی کی شایان شان باوقار امام کے طور پر درج ہوں۔آمین۔ ان کے لئے سماجی خدمات کا میدان کھلا ہوا ہے۔ ہم مشورہ دیں گے کہ وہ بلالحاظ مذہب وملت عوام کی خدمت کو اپنا مشغلہ بنائیں جس میں خیر ہی خیر ہے۔ (ختم)
cell: 9818678677


No comments: