Wednesday, October 8, 2014

Roar of Cleanliness derive and Gandhi Jee

 صفائی مہم کا شوراورگاندھی جی
سید منصورآغا،نئی دہلی
وزیراعظم نریندر مودی نے گاندھی جی کے یوم پیدائش 2/ اکتوبر کو خود ہاتھ میں جھاڑو پکڑ کر اور اپنے ماتحت وزیروں وافسروں کو جھاڑوپکڑوا کر صفائی کی جس مہم کا شور اٹھایا ہے، اس کی سیاسی اغراض کچھ بھی کیوں نہ ہوں، اس کے کچھ مفید پہلو ضرور ہیں۔ یہ سچ ہے کہ یورپی ممالک کے برعکس ہندستان کا عام مزاج صفائی ستھرائی سے آشنا نہیں۔ عام مقامات پر کوڑا کرکٹ پھیلانا، کھلے میں ضروریات سے فارغ ہولینا اور گھر سے باہرصفائی کو کمتر درجہ کا کام سمجھنا، قدیم ہندستانی کلچرکا حصہ ہے۔ مذہبی عقائدایسے قدیم مراسم پر ابھارتے ہیں جن سے سمندروں، تالابوں اوردریاؤں میں آلودگی بڑھتی ہے۔صفائی کرنے والوں کو ملیچھ، غلیظ اور اچھوت سمجھاجاتا ہے۔ صدیوں کے اس مزاج کو ایک دد ون کی جھاڑو بہاری سے بدلا نہیں جا سکتا۔ اس کے لئے ریاضت درکار ہوگی۔عقائد و مراسم کی اصلاح کا معاملہ تو اور بھی حساس ہے۔ ہندتووا کے نام لیوا تواس کوچے میں قدم بھی رکھنا گوارہ نہیں کریں گے۔ صورتحال کی اس سنگینی کا احساس خود وزیراعظم کو بھی ہوگا۔ اس لئے ان کے حوصلے کی داد دینی ہوگی۔دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ قدیم برہمنی ذہنیت پر پار کس طرح پاتے ہیں جس پر آرایس ایس بھی فخرکرنے کا اصرار کرتی ہے۔
صفائی اور مسلمان 
اس معاملے میں ہمیں خود اپنا اوراپنے گردوپیش کابھی جائزہ لینا چاہئے۔ دنیا کی صفائی پسند اقوام جہاں صرف ظاہری صفائی پرتوجہ دیتی ہیں، اسلام صفائی سے بڑھ کر پاکیزگی اور طہارت پر زور دیتا ہے۔ چنانچہ طہارت کو نصف ایمان قراردیا گیا ہے۔ طہارت میں صرف جسم اورلباس کی نہیں بلکہ فکرونظر اورعمل کی پاکیزگی بھی شامل ہے۔ مگر یہ کیسا افسوس کا مقام ہے کہ ہمیں اسلام میں داخل ہوئے صدیاں گزرگئیں، اس کے باوجود اکثر مزاجوں میں صفائی ستھرائی کی وہ اہمیت نہیں جو ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ اکثر مسلم بسیتوں میں صفائی کی شدید کمی نظر آتی ہے،حالانکہ اپنے جسم، اپنے لباس، اپنے گھر اور اپنے گردوپیش کوصاف ستھرا اور پاکیزہ رکھنا ہمارے لئے عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ ہماری آبادیوں کو صفائی میں مثالی ہونا چاہئے مگرمعاملہ برعکس ہے۔ عوام توعوام، ہمارے خواص بھی اس کی تبلیغ و تلقین اورعمل میں کوتاہ نظرآتے ہیں۔ اب اگر حکومت کی طرف سے وہ آواز آئی ہے جو ہمارے دین کا بھی تقاضا ہے تو ہمیں ازخود آگے بڑھ کر زیادہ بہتر مثال پیش کرنی چاہئے۔جناب سید حامد، سابق وی سی،اے ایم یو نے چند سال قبل یوپی رابطہ کمیٹی کے تحت اسی مقصد سے’صحت کارواں‘ نکالے تھے اور یہ نکتہ ذہن نشین کرانے کی مہم چلائی تھی کہ صفائی ستھرائی حفظان صحت کا بھی اہم حصہ ہے۔ گندگی ہوتی ہے تو امراض پھیلتے ہیں۔ صحت بخش غذاپر متوجہ کرانا بھی اس مہم کا حصہ قرار پایا۔ غذا کا ذایقہ اپنی جگہ مگر اس کا صحت بخش ہونابھی ضروری ہے۔ہمارے یہاں مصالحہ داراور ثقیل غذاؤں کا استعمال عام ہے،حالانکہ ایسی غذائیں صحت کے لئے سخت مضر ہیں۔ تلی ہوئی، بھنی ہوئی غذائیں، جنک فوڈ اور بازار کی بنی ہوئی اشیاء کے مقابلے سادہ کھانا بہتر ہوتاہے۔ اچھا ہوتا کہ مسٹرمودی کی اس صفائی مہم میں کھانے پینے کی اچھی عادتوں پر بھی توجہ دلائی جاتی تاکہ صفائی کے ساتھ حفظان صحت کا یہ اہم پہلوبھی روشن ہوتا۔ مگر یہ اسی وقت ہوتا جب پالیسی سوچ سمجھ کر بنائی جاتی اور مقصد واقعی عوام کی ہمہ جہت بہبود پر مرکوز ہوتا۔
مودی اورگاندھی 
مودی صاحب نے، جو خود آرایس ایس کی پرچارک ہیں، اس مہم کا آغاز گاندھی جی کے یوم پیدائش سے کرکے بڑی صفائی کے ساتھ اس داغ کو دھونے کی کوشش کی ہے جو آرایس ایس پر گاندھی جی کے قتل کے معاملے میں لگتا ہے۔ اس میں کچھ گجراتی عصبیت بھی کارفرما نظرآتی ہے۔ ہندستان کی جدوجہد آزادی میں گاندھی جی اور سردار پٹیل دو اہم گجراتی لیڈروں کے نام آتے ہیں۔ پٹیل کو تو بھاجپا نے پہلے ہی اچک لیا تھا، اب گاندھی جی کو اچکنے کی تدبیر کی جارہی ہے۔ بیشک گاندھی جی کے سیاسی فلسفہ سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ انتہائی مخلص ہندولیڈرتھے۔فرق یہ ہے کہ وہ قدامت پرست نہیں اصلاح پسند ہندوتھے۔وہ برطانیہ میں پڑھے تھے اور جنوبی افریقہ سے سیاست کا سبق سیکھ کر آئے تھے،اس لئے وہ دور کی سوچتے تھے اور اپنے کاز کے لئے ہولے ہولے قدم بڑھانا پسند کرتے۔ وہ فکری اورعملی شدت پسندی کے سخت خلاف تھے۔ ان کی یہی روش تاریک ذہن ہندووادیوں کے طرزعمل سے ٹکرائی جو ان کے قتل کا سبب بنی۔گوڈسے کے چاہنے والے آج بھی کم نہیں۔ چنانچہ جب تک سنگھ پریوار شدت پسندی اورہنسا کی روش سے دامن نہیں چھڑالیتا،مودی لاکھ چاہیں، گاندھی جی ان کے نہیں ہوسکتے۔ 
مودی کی اس مہم کا فوری فائدہ یہ ہواہے کہ مہاراشٹرا اور ہریانہ میں جہاں اسمبلی چناؤ ہورہے ہیں ’اچھے دنوں‘ کے منتظر عوام کی توجہ کچھ وقفہ کے لئے وعدوں کی عدم تکمیل سے ہٹ گئی ہے۔

No comments: