Tuesday, October 14, 2014

Revolving story of a Hindu Girl Teacher of Meerut and punctured balloon of "Love Jihad"

احوال عالم
میرٹھ مدرسہ کی استانی اور’لووجہاد‘ کی کہانی
سید منصورآغا،نئی دہلی
ضلع میرٹھ کی تحصیل کھرکھوداکے ایک چھوٹے سے گاؤں سراواکاامن وسکون گزشتہ ماہ اگست میں اس وقت تباہ ہوگیا تھا جب ایک مقامی مکتب /مدرسہ میں ہندی اور انگریزی کی ایک بیس سالہ غیرمسلم ٹیچرلڑکی ماہ 23/جولائی کو گھر سے غائب ہوگئی اور چندروز بعد واپس آکر یہ الزام لگایا کہ اس کو اغواکرلیاگیا تھا۔ اس کی پہلے ہاپوڑ کے ایک مدرسہ میں اور پھر مظفرنگر کے ایک مدرسہ میں اجتماعی آبرو ریزی کی گئی، اس سے مذہب تبدیل کرنے کے حلف نامہ پر جبری دستخط کرائے گئے۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ مظفر نگر کے مدرسہ میں، جہاں سے وہ کسی طرح نکل بھاگنے میں کامیاب ہوگئی، اور بھی کئی غیرمسلم خواتین اغواکرکے جبراًرکھی گئی ہیں۔
 اس کے اس سنسی خیزبیان پر پورے علاقے کی فضا مکدر ہوگئی۔ مودی جی کی بھاجپا اوران کے سنگھ پریوارکے دیگرگروپوں نے اس پر ”لوو جہاد“ کا لیبل چسپاں کرکے فرقہ ورانہ کشیدگی پھیلائی۔ اس لڑکی نے یہ الزام بھی لگایا کہ مظفرنگر میں اس کا جبری آپریشن ہوا۔ فسادی ذہنیتوں نے شورمچایا کہ اس کے اعضاء نکالے گئے ہیں۔ لیکن پولیس کی چھان بین میں پتہ چلافتنہ کی مرکز یہ لڑکی خود 23/جولائی کو میرٹھ میڈیکل کالج اسپتال گئی تھی۔ اس کے ساتھ ایک مقامی نوجوان کلیم تھا، جس کو اس نے اپنا شوہر لکھوایا۔وہاں اس کا اس لئے فوری آپریشن کیا گیا کہ وہ 45/دن سے زیادہ کی حاملہ تھی اور اس کا جنین مادررحم کے بجائے اس سے باہر’فیلوپین ٹیوب‘ میں پنپ رہا تھا، جو ایک خطرناک میڈیکل صورت ہوتی ہے،جس میں فوری آپریشن ضروری ہوتا ہے۔ اسپتال سے اس کو 27/ جولائی کو چھٹی مل گئی۔ اس نے گھر سے اپنی غیرحاضری کی اسی مدت میں خود کو اغوا کرلئے جانے اور اجتماعی آبرو ریزی کے الزامات عائد کئے۔ اگرچہ اسپتال کی رپورٹ اور پولیس کی جانچ سے اس کے الزاموں کا بے بنیاد ہونا ظاہرتھا مگر بھاجپا اوراس کی ہم نوادیگر تنظیموں کے دباؤ میں پولیس نے اس کے مبینہ شوہر کلیم اور گاؤں کے پردھان، مدرسہ کے صدر مدرس،اس کی ایک مسلم دوست لڑکی نشاط سمیت دس افراد کو جیل میں ڈالدیا۔ نشاط کی والدہ وسیلہ کا بیان ہے کہ مذکورہ لڑکی کے طورطریقے اچھے نہیں تھے اس لئے اس نے اس کو چھ ماہ قبل اپنے گھرآنے سے روک دیا تھا، اسی لئے اس نے نشاط کو بھی ساتھ میں پھنسایا۔
سراوا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں تقریباً ایک سوگھر ہیں۔ ساٹھ فیصد آبادی مسلم اور باقی غیرمسلم تیاگی رہتے ہیں۔ ان کے درمیان اس واقعہ سے قبل کبھی کوئی فرقہ ورانہ کشیدگی یا شکایت نہیں رہی۔ یہی وجہ تھی کہ ایک اردو میڈیم مکتب اورمدرسہ میں ایک غیرمسلم لڑکی کو بلا تکلف ٹیچر رکھ لیا گیا۔ اس واقعہ سے قبل اس کے والدین نے بھی مدرس کے اساتذہ یا انتظامیہ کے بارے میں کوئی شکایت نہیں کی۔ مگر یہ واقعہ پیش آتے ہی وہ بھی ’لوو جہاد‘ کی کہانی سنانے لگا اور اہل مدرسہ کو مطعون کرنے لگا۔
اب یہ واقعہ ایک بارپھر سرخیوں میں آگیا ہے۔یہ لڑکی اتوار، 12/ اکتوبر کی صبح ’مہلا تھانے‘ پہنچی اور ایک تحریر دی کہ اس نے سابق میں زورزبردستی، اغوا اور اجتماعی آبروریزی کے جو الزامات مدرسہ والوں پر لگائے تھے،وہ سب غلط تھے۔ اس جرم کے لئے بھاجپا کے ایک لیڈر ونیت اگروال نے، جو علاقہ کے ویاپار منڈل کے صدر بھی ہیں، اس کے والد کو 25ہزارروپیہ دئے تھے اور مزید رقم دیتے رہنے کا بھروسہ دلایا تھا۔ لیکن اب یہ پیسہ ملنا بند ہوگیا ہے،جس سے اس کے والد اس سے سخت ناراض ہیں۔ چنانچہ گھر پر اب اس کی جان کو خطرہ ہے۔ اس لئے وہ اپنے یا کسی رشتہ دارکے گھر جانا نہیں چاہتی۔ پولیس نے مجسٹریٹ کے سامنے اس کو پیش کیا، اس کا بیان درج کیا گیا اور عدالت کی ہدایت پر اس کو ناری نکیتن بھیج دیا گیا۔
اس تفصیل سے پہلی ہی نظر میں یہ ظاہر ہوگیا کہ ضمنی انتخابات سے قبل ریاست کی فرقہ ورانہ فضا کو مکدرکرنے کے لئے بھاجپا نے کیا کچھ حربے استعمال نہیں کئے۔ اگر اس لڑکی کے بیان کے مطابق اس کو اب بھی کچھ پیسہ ملتا رہتا تو خاموش رہتی۔ وغیرہ۔ اس واقعہ کی تفصیلات اور بھی بہت کچھ ہیں۔ یہاں ان سب کا بیان مقصود نہیں۔ بلکہ ہم اس کے چند دیگر پہلوؤں پر غورکرنے کی دعوت دینا چاہتے ہیں۔
سراوا کے جس مدرسہ یا مکتب میں وہ پڑھاتی تھی، اس میں تعلیم مفت تھی۔ 150سے زیادہ بچے پڑھتے تھے۔ اب ان کی تعداد صرف 50رہ گئی ہے۔ ہمارے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ یہ لڑکی اسی گاؤں میں پیدا ہوئی، پلی اوربڑھی ہے۔ وہ اگر اب جھوٹ بول رہی ہے، تو جھوٹ بولنا لازماًاس کی عادت میں شامل رہاہوگا۔  منتظمین نے اس کوٹیچر رکھتے وقت اس کی اس انتہائی شنیع اخلاقی کمزوری پر، جو تمام عیبوں کی جڑ ہے، غورکیوں نہیں کیا؟کیا ان کی نظر میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی تربیت اہم نہیں ہوتی؟ اگر ہوتی ہے تو انہوں نے کیوں کمسن طلباء کے لئے ایسی کذب گو ٹیچر کی تقرری کرلی؟
 دوسرا پہلو یہ ہے کہ منتظمین نے اپنے مدرسہ میں غیرشادی شدہ 19، 20سال کی لڑکی کی موجودگی اور مردعملے کے ساتھ اس کے بے حجابانہ اور بے تکلف اختلاط کو کیونکر روا جانا اور قرآن کی ہدایت ’ولاتقربوالزنیٰ انہ کان فاحشہ وساء سبیلا‘ (اورزنا کی پاس بھی نہ پھٹکو، یہ کھلی بے حیائی ہے اور نہایت بری راہ ہے: سورہ بنی اسرائیل: 32) ان کی نظروں سے اوجھل کیوں ہوگئی؟
اہل مدارس سے معذرت کے ساتھ سوال ہے اگر دین کے ان ”قلعوں“ میں ہی دین کی بنیادوں کی مسماری ہورہی ہے تواس کا ادبار پوری قوم پر کیوں نازل نہیں ہوگا؟ ایک نوجوان صحافی دوست نے جو ملک کے ایک مایہ ناز مدرسہ کی پردڈکٹ ہیں، فیس بک پر میری ایک پوسٹ پر بڑے ہی کرب کے ساتھ لکھا ہے کہ مدارس کی خدمات اپنی جگہ، لیکن اگران کے اندر کے ماحول پر سے پردہ اٹھادیا جائے توطلبہ کے ساتھ جبروزیادتی کا نہایت تکلیف دہ منظر نظرآئے گا۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ مدارس میں اغلام بازی کی وبا عام ہے۔مجھے عرض یہ کرنا ہے دین کے چھوٹے چھوٹے اصولوں سے ’وقتی ضرورت‘ یا ’مصلحت‘کے نام پرہماری اداروں  اور گھروں میں انحراف سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ 
جس ماحول میں ہم آج گھرے ہوئے ہیں کہ زرازرا سی بات کو بہانا بناکر پوری ملت کو مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے، یہ ضروری ہے کہ ہم خود محتاط رہیں اور اپنے اخلاق، عادات و اطوار کی اور اپنے اداروں کی اس طرح حفاظت کریں جس طرح انکا حق ہے؟ 

No comments: