Wednesday, October 1, 2014

Modi in USA: Auction of Nation Pride in World Market

احوال عالم
عالمی منڈی میں وقاروطن کی نیلامی
سید منصورآغا،نئی دہلی
تقریبا چارہزارسال قبل آریہ ہندستان آئے اور یہاں کے قدیم باشندوں دراوڑوں کو ’داس‘ اور’دسیو‘(بدروح) قراردیا (رگ وید؛اتھروید)۔اپنی علمی برتری کی بدولت ان کو اپنا ذہنی و عملی غلام بنایا۔ ان پر حکومت کی اور کررہے ہیں۔ زایدازایک ہزارسال قبل مسلمان صوفی سنتوں اورعلماء نے اس خطے کا رخ کیا۔ اسلام نے انسانی ہمدردی اور سماجی انصاف کا جو درس دیا ہے، انہوں نے اس کا مخلصانہ عملی نمونہ پیش کیا، جس سے متاثر ہوکر عوام و خواص نے جوق در جوق اسلام قبول کیا۔ ان کے بعد مسلم فاتحین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہوں نے چاروں طرف پھیلی ہوئی ناانصافیوں اور عدم مساوات کے ماحول میں امن و انصاف قائم کیا۔ سماج کونیم برہنگی کے دورسے نکال کر ایک نئی شائستہ تہذیب سے روشناس کرایا۔اس ملک کو اپنا وطن بنایا اور عوام کی حمایت و تائید سے حکمرانی کی۔وہ یہاں کی دولت کو باہر نہیں لے گئے بلکہ یہیں لگایا۔انہوں نے جو عظیم الشان آثار ورثہ میں چھوڑے ہیں، وہ آج بھی دنیا بھر کے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں اور ان کے وسیلے سے لاکھوں افراد کو روزی ملتی ہے۔ مسلمانوں کے بعد یورپی فاتحین آئے۔ آئے تو تھے تجارت کرنے مگر اپنی عیاری اورمکاری سے ملک کو غلام بنالیا۔ انہوں نے یہاں کے بیش قیمت اثاثوں کولوٹا اوریوروپ لے گئے۔ 
اس تاریخی تناظر میں مسلم دورحکومت کو ’غلامی‘ کا دورشمارکرناکھلی بددیانتی ہے۔ یہ بددیانتی اس ذہنیت کی اختراع ہے جو قوم کو ہندو مسلم میں تقسیم کرکے دیکھتی ہے۔ ہند کو صرف ہندوؤں کا ملک کہتی ہے، مسلمانوں کی قومی خدمات کی منکر ہے۔ مسلمانوں کی طرح آریہ بھی باہر سے آئے اوریہاں آکر اپنا سکہ جمایا، یہاں کے اصل باشندوں کو اچھوت کا درجہ دیا، اپنا غلام بنایا، مگرکوئی مورخ آریوں کی حکمرانی کوغلامی کا دورشمارنہیں کرتا۔ وجہ اس کی یہ ہے آریہ قوم نے اس ملک کو اپنا وطن بنا لیا اور یہیں کے ہورہے۔ اسی قاعدے سے مسلم دورحکومت کو بھی دور غلامی تصورنہیں کیا جاسکتا۔ صرف سنہ1857 سے1947تک کا 90سال کا دور بیشک دور غلامی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کو نہیں بھول سکتی کہ وطن کی آزادی کی حفاظت کے لئے آخری جنگ بہادرشاہ ظفر کی قیادت میں لڑی گئی، حالانکہ وہ بھی اگر چاہتے تو بہت سے دیسی غیر مسلم راجاؤں کی طرح انگریزوں سے مصالحت کرلیتے۔ انگریزوں نے یہ جنگ ہندستانی سپاہیوں کے بل بوتے پرلڑیپنجاب کے سکھ پرنسز نے بھی انگریزوں کو فوج فراہم کی تھی۔ انگریز کیونکہ مسلمانوں سے خائف تھے، اس لئے ان کی فوج میں مسلم خال ہی خال تھے۔یہی وجہ ہے اس معرکہ کی ناکامی کے بد انگریزوں کا عتاب سب سے زیادہ مسلمانوں پر نازل ہوا اور ہزاروں افراد پھانسی پر لٹکادئے گئے۔ ان کی املاک ضبط کرلی گئیں اور بڑی بڑی حویلیوں کو کھنڈر وں میں تبدیل کردیا گیا۔ 
یہ تمہید ہم نے اس لئے باندھی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے نیویارک کے میڈیسون اسکوائر گارڈن کی تقریر میں، جس کا انتظام امریکا میں مقیم سنگھ پریوار کی لابی نے کیا تھا، کہا کہ ہندستان 900سال کے قریب غلام رہا۔مودی کی معلومات تاریخ اورجغرافیہ کے بارے میں کتنی ہے، یہ انتخابی تقریروں سے ظاہر ہوچکاہے۔ لیکن مسلم دورحکومت کے تعلق سے انہوں وہی بات کہی جوآرایس ایس کہتی ہے۔ انہوں نے اس تقریر میں ملک کی آزادی اور ترقی میں مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کاذکر نہیں کیا حالانکہ خاصی تعداد میں گجراتی مسلمان وہاں موجود تھے۔ البتہ سکھوں کو یاد رکھا۔بیشک سکھوں کی خدمات کا ذکر ضرور کیجئے مگرمسلمانوں کو نظرانداز کرنے کا رویہ حقیقت سے انکار اورقومی مفاد کے خلاف ہے۔ 
اس تمہید سے یہ بھی یاددلانا مقصود ہے کہ نہ تو آریہ قوم کو کسی نے ہندستان آنے کی دعوت دی تھی، نہ مسلم فاتحین کو اور نہ انگریز غاصبوں کو۔ اس سے قبل ہمارے کسی وزیراعظم نے چین، جاپان اورامریکا کی منڈیوں میں ہندستانی آبادی کی عظیم نوجوان صلاحیت اورکثرت آبادی کی وجہ سے مصنوعات کی کھپت کے امکانات کو بولی پرنہیں چڑھایاتھا۔ ہمیں فخرہے کہ آریوں کی آمدسے انگریزوں کے چلے جانے تک ہندستان ’سونے کی چڑیا‘رہا اور ہمیشہ غیرملکیوں کو اپنی طرف کھینچا رہا۔ اس سنہری چڑیا کے بال وپر اگر کسی نے نوچے ہیں تووہ ہے فرقہ پرستی کا طوفان، جس نے ہر طرف بدامنی، بداطمینانی اور باشندگان وطن کے درمیان بیر اوردشمنی کے بیج بوئے ہیں۔مودی صاحب! ہمیں بیرون ملک جاکر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں۔ اپنے پریوار کو سنبھالئے، ملک کے ماحول کو درست کیجئے،اندرون ملک بھری پڑی کالی دولت کو نکلوائیے،مٹھوں اور مندروں کے توشہ خانوں میں قید اربوں کھربوں کی دولت کو قومی اثاثہ میں تبدیل کیجئے، ساہوکاروں کی تجوریوں میں بیکارپڑی دولت کوبازار میں ڈلوائیے اور پھر دیکھئے بغیر بیرونی مددملک کہاں سے کہاں پہنچتا ہے۔ دھن دولت انسان کی خدمت کا وسیلہ ہے۔ گردش میں ہے تو سماج میں خوشحال آتی ہے۔ اس کو تہہ خانوں میں قید رکھنے اورخدا کی طرح اس کی پوجا کی ذہنیت کو بدلئے۔ اور ہم جانتے ہیں سنگھی ہونے کے باوجود آپ یہ کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔
زیرتبصرہ تقریر کے مواد، اس جلسہ میں مودی کے لباس اوران کے اندا ز پر بھی غورکیجئے۔ یہ درست ہے کہ صرف 32فیصد رائے دہندگان کے ووٹ سے مودی سیکولر ہندستان کے وزیراعظم بن گئے مگراس جلسہ میں ایسا لگا جیسے وہ صرف ہندتووا نوازوں کے وزیراعظم ہیں حالانکہ ان کو بیرون ملک خود کو سیکولرہندستان کے وزیراعظم کے طور پر ہی پیش کرنا چاہئے تھا۔ اس جلسہ میں ان کی جواہر کٹ کا رنگ وہی ہے جو آدتیہ ناتھ اور ’ساکشی‘ جیسے لوگوں کے لباس کا ہے۔جو خود کو یوگی اور مہاراج کہلاتے ہیں اورسماج میں آگ لگانے کا کام کرتے ہیں۔مودی جی نے ’بھارت ماتا کی جئے‘ سے تقریر شروع کی اوراسی پر ختم کی۔ وہ سبھاش چندر بوس کے نعرے ’جے ہند‘ کو بھلابیٹھے۔پٹیل کے بعد اب وہ دوسرے گجراتی قومی ہیرو گاندھی کو تواپنانے کی کوشش کررہے ہیں مگربنگال کی مایہ نازہستی سبھاش چندربوس کو نظرانداز کررہے ہیں۔ ان کو نو راترے کی مبارکباد تو یاد رہی، عیدالاضحی اور حج کو بھول گئے۔ ہرچند کہ مسلمانوں کے بارے انہوں کچھ اچھی باتیں بھی کہیں، مگراپنے عمل سے نمائندگی، سارے ہندوؤ ں کی بھی نہیں،صرف سنگھ پریوار کی ہی کی۔
آخری بات یہ ہے کہ بقول مسٹر دگ وجے سنگھ، مودی مارکیٹنگ خوب کرلیتے ہیں۔ان کا کمال یہ ہے مال کسی کا ہو، اس پر ٹھپا اپنا لگادیتے ہیں، جیسے منگل یان کی کامیابی پر انہوں نے کیا۔اگراس موقع پر وہ سابقہ حکومت کو بھی مبارکباد دیتے، جس نے اس مشن کو منظوری دی، تو ان کا اپنا قد چھوٹا نہیں ہوجاتا۔ بڑے منصب والوں کو تنگ دلی اور تنگ نظری زیب نہیں دیتی۔ ان کی اس تقریر قومی ترقی کے اعلان شدہ منصوبوں کا تجزیہ کیجئے۔ ہر منصوبے کا سرا سابق کی حکومتوں میں مل جائیگا۔ غیرملکی سرمایہ کاری کے لئے ہند کے بازاروں کو کھولنے کا سہرا بحیثیت ویزر مالیات ڈاکٹر من موہن سنگھ کے سر ہے۔ غیرممالک میں مقیم ہندستانیوں کو راغب کرنے کی پہل باجپئی جی کے دور میں ’پرواسی بھارتیہ فورم‘ سے ہوئی۔ ہندستان کی جمہوریت کوئی نئی چیز نہیں جس کی دہائی دی جائے۔ جن بیرونی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لئے مودی کے دورہٗ جاپان، چینی صدر کے دورہٗ ہند اور اب ان کے دورہ امریکا کے درمیان بڑا شور ہے، اس کا کوئی اثر ابھی تک نظر نہیں آیا۔ ان کے ’ریڈ کارپیٹ‘ میں کشش اسی وقت تک پیدا نہیں ہوگی جب تک ہندستانی سیاست میں گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کااور تنگ نظر، بدعنوان سیاست دانوں کی سرپرستی کا سلسلہ بند نہیں ہو گا۔ یہی بھاجپا اور مودی تھے، جو سابق حکومت کے غیرملکی سرمایہ کاری کے اعلانات پر سخت برہم تھے، یہاں تک اعلان کردیا کہ ہماری حکومت آئیگی تو غیرملکی سرمایہ کاروں کو نکال باہر کریگی۔ کوئلہ بلاکس الاٹمنٹ، جو بھاجپا کی بدولت منسوخ ہوئے، صنعتی ترقی کی راہ کی بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ کوئلہ کھدانوں کی بولی لگے گی تو خریداروں کے اوپر کوئی سماجی ذمہ داری نہیں ہو گی جو منسوخ شدہ الاٹمنٹ کی شرائط میں شامل ہے۔ نیلامی کے نتیجہ میں کوئلہ کی قیمت بڑھے گی توٹرانسپورٹ، بجلی، سمنٹ، لوہا وغیرہ ہرچیز مہنگی ہوگی۔ یہی وہ رویہ ہے جس کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کارتو کیا آئیں گے، ملک کے سرمایہ کار بھی اپنی دولت باہر لیجارہے ہیں۔

نیتن یاہو سے ملاقات

بغیر کسی پیشگی پروگرام نریندرمودی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ ٹھیک ہے اسرائیل سائنسی اعتبار سے ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ مگر مودی سرکار نے کبھی یہ غور بھی کیا کہ ہماری تیل کی ضرورت بشمول ایران جو خلیجی ممالک پوری کرتے ہیں اور جن کے پاس فالتو دولت کے بھی انبار ہیں، کچھ رابطہ ان سے بھی کیا جائے؟ایران میں چاہ بہار بندرگاہ اور وہاں سے افغانستان و یوروپ تک کاریڈور کے منصوبے اٹکے پڑے ہیں۔ ان پر کوئی توجہ نہیں۔ قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے مسلمانوں کے بارے میں اپنے نظریات کے باوجود مسلم ممالک سے تاریخی رشتوں کو مضبوط کیا جائے جہاں سے ہمارے ملک کے لاکھوں گھرانوں کو روزگار ملتا ہے۔

کویتا کرکرے کی یاد میں 

مہاراشٹراے ٹی ایس کے سابق سربراہ ہیمنت کرکرکے کی بیوہ محترمہ کویتا کرکرے 57 سال کی عمر میں ممبئی میں فوت ہوگئیں۔ وہ اپنے شوہر کی طرح ایک لائق احترام اوراصولوں کے لئے بے خطر لڑنے والی خاتون تھیں۔ یہ ہیمنت کرکرے ہی تھے جنہوں نے اپنی ایماندارنہ جانچ سے بھگوا دہشت گردی کا راز فاش کیا اور بھگوادھاری دہشت گردوں کو جیل بھیجا۔چنانچہ وہ ایک مشتبہ سازش کے تحت 26/11 کے ممبئی حملے کے دوران قتل کردئے گئے۔ کویتا نے اس سازش کو بے نقاب کرنے میں اہم کردارادا کیا۔ اس کے بعد وہ پولیس کے ان اہلکاروں کے کنبوں کے حقوق کے لئے خاموشی سے جنگ لڑتی رہیں جو ڈیوٹی کے دوران مارے گئے اورجن کی خدمات کو سرکار نظرانداز کردیتی ہے۔ان کی وفات سے یہ سارے کنبے ایک سچے ہمدرد سے محروم ہوگئے۔ وہ اپنے شوہر کی ناگہانی موت اور سرکار کے رویہ سے آزردہ رہتی تھیں۔ دماغ کی نس پھٹ جانے سے 29ستمبر کو وہ ہندوجا اسپتال میں چل بسیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ہم ان کی وفات پر ان کے اہل خاندان، قدردانوں اوراحباب کو دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔(ختم)

No comments: