Saturday, September 27, 2014

Sangh Paracharak Modi and Muslaman

 مسلمان : مودی کا بیان اور سنگھ کا نظریہ 
سید منصورآغا،نئی دہلی
 نریندرمودی نے ایک امریکی ٹی وی چینل کے لئے فریدزکریا سے کہا کہ ’’مسلمان ملک کے وفادار ہیں، وہ اپنے وطن کے لئے جیتے اورمرتے ہیں ۔ وہ ہندستان کے لئے جان دیدیں گے ،مگراس کا برا نہیں چاہیں گی۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہندستانی مسلمان اس کی خواہش کے مطابق ناچے گا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ مسلمانوں اور ہمارے ملک کے ساتھ ناانصافی کررہا ہی۔‘‘
یہ نغمہ ہمارے کانوں کو بھی بھلالگا، مگرظفرسریش والا اور شاہد صدیقی کی طرح ہماری باچھیں کھل نہیں گئیں۔ ہمارا بچپن گائوں میں گزراہے ۔کبھی کبھی شکار کو بھی چلے جاتے تھی۔ معاً خیال اس چارے کا آیا جومچھلی پکڑنے کے لئے کانٹے میں لگاکر دریا میں ڈالا جاتا ہے یا وہ دانے جو جال بچھا کر زمین پر بکھیردئے جاتے ہیں۔ مودی جی ٹھہرے گھاگ سیاسی شکاری، اس لئے اگر ان کی زبان پراس طرح کی بات آگئی جس کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی، تو اس کی تہہ میں کچھ نہ کچھ مصلحت تو ہوگی۔ ہم نہ خوش گمانی میں مبتلا ہوں اور نہ بدگمانی میں پڑیں ،بلکہ چوکنا رہیں کہ ابھی مہاراشٹراسمبلی کے چنائو سر پر ہیں اورموجودہ سیاسی فضا میں ایک دو فیصد ووٹ کی بھی اہمیت ہی۔
اس بیان پر اگرکسی کو یہ اصرار ہے کہ مودی جی کا دل آئینہ ہوگیا ہے اوراس میں سچائی صاف نظرآنے لگی ہے تو معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ وہ ہماری مظلوم قوم کے حال پر رحم کری۔ مودی وزیراعظم تو چار ماہ سے بنے ہیں، آرایس ایس سے ان کا رشتہ آٹھ سال کی عمر سے ہی۔ اب اس رشتہ کی عمر6 سال ہوچکی ہی۔ وہ آرایس ایس کے معمولی کارکن یا سیوم سیوک نہیں بلکہ بڑے پرچارک ہیں۔ سنگھ کا رنگ ان پر اتنا گہرا چڑھا ہے کہ شادی کے چند ماہ بعد ہی بیوی کو ، جو ایک مثالی ہندستانی خاتون ہیں، چھوڑدیا اور خود کو سنگھ کے نظریات کے پرچار کے لئے وقف کردیا ۔ 
 سنگھ کا نظریہ مسلمانوں کے بارے میں اس کے برعکس ہے جو مودی کے اس بیان سے ظاہرہوتا ہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوتے ہی کوئی سیوم سیوک اس نظریہ سے دامن چھڑاسکتا ہے جوروز قیام سے آرایس ایس کا بنیادی نظریہ ہے اور جس کا پرچار وہ گزشتہ نوے سال سے کررہی ہی؟ ہم نے مودی کا یہ بیان پڑھا تو ایک برہمن مفکر چانکیہ کا نام ذہن میں کوندھا جو سنگھ پریوار کے فکری رہنماکا درجہ رکھتاہی۔ چانکیہ کا زمانہ تقریباً ڈھائی صدی قبل عیسوی کا ہی۔ وہ اپنے سیاسی فلسفہ کی بدولت چندرگپت موریہ کے سیاسی مشیر بن گیا۔چانکیہ کی شخصیت کافی مشہورہے اور اس کا سیاسی نظریہ اب بھی جادودکھاتا ہے جس کا ایک نکتہ یہ ہے کہ زبان پر وہی بات آئے وہ وقتی سیاسی مصلحت کے مطابق ہو۔ سیاست میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ دل کاحال کوئی بھانپ نہ پائی۔جب وقت آئے تو بلاجھجک چال چل جائے تاکہ مخالف مات کھا جائے ۔ ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ مودی کا راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ سے اور اس کا چانکیہ کے نظریات سے اٹوٹ تعلق ہی۔ مودی کی طرح نرسمہا رائو بھی چانکیہ کے چیلے تھی، جن کے دور میں مسجد گرائی جاتی رہی اور وہ آرام فرماتے رہی۔کہنے کو وہ کانگریس کی سیکولر وزیراعظم تھی۔
 مودی کے اس مصنوعی بیان میں اگرکسی کو ’خوشگوار ہوا کا جھونکا‘ کا محسوس ہوا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ گھٹن کے ماحول میں ہوا کی زرا سی رمق بھی اچھی لگتی ہی۔ مگر قوم کو یہ کہہ کر بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا کہ اس ایک بیان نے سترہ کروڑ مسلمانوں کا دل جیت لیا۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب انہی مودی نے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا نعرہ دیا، دس سال کے لئے فرقہ پرستی کی سیاست کوروک دینے کا اعلان کیا مگر ان اعلانات کے باوجود ان کی پارٹی اوران کے ہم خیال جنگجو گروپوں کے کارنامے آپ کے سامنے ہیں۔ سچائی وہ نہیں ہوتی جو صرف زبان پرآئی، وہ ہوتی ہے جو عمل سے دکھائی دی۔ مودی کے ان بیانات کا کوئی مطلب اسی وقت ہوگا جب ساکشی مہاراج، آدتیہ ناتھ، گری راج جیسے پارٹی لیڈروںکی زبان بندی ہوگی اور اجین جیسے واقعات پیش نہیں آئیں گے جہاں مبینہ طور سے بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے کارکنوں نے وکرم یونیورسٹی کے وی سی جواہرلال کول کو اس لئے مارا پیٹا کہ انہوں نے سیلاب زدہ کشمیری طلباء کی مدد کی اپیل کی تھی۔ آخر کشمیری مسلمان بھی تو اسی ملک کاباشندہ ہیں، ان کے خلاف نفرت کا یہ ماحول کس نے پیدا کیا؟ اسی سنگھ پریوار نے جس کے ایک سرپرست خود مودی ہیں۔
 کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ اپنی 66ویں سالگرہ کے موقع پر مودی کے قلب ونظر سے آرایس ایس کا رنگ اترگیا ۔ وہ آرایس ایس کی خوبیوں اور خامیوں کاآئیڈیل مرکب ہیں۔آرایس ایس کا اعلانیہ نظریہ یہ ہے کہ مسلمان غاصب اورحملہ آورقوم ہیں۔ اس دلیل کے ساتھ کہ مسلمان مقامی مقدس مقامات اور پوروجوں کے بجائے بیرون ملک دیکھتے ہیں ، عوام کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف شکوک وشبہات اورنفرت پیدا کرتے ہیں۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ صداقت، انسانیت اوراخلاقی اقدار کو ملکی اور قومی حدودمیں قید نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں صداقت جہاں ملی، اختیار کر لینی چاہئی۔ ہم قرآن اور رسولؐ پاک کی پیروی کرتے ہیں ، مگر ان کی پوجا نہیں کرتے ۔  ہم دیگر مذاہب کی بلند پایہ شخصیات کو حقیر نہیں گردانتی۔ ان کی کی شان میں کستاخی کی ہمارا دین اجازت نہیں دیتا۔وہ ملک سے وفاداری کو بھی اکثریت کے عقائد اور مذہبی رسومات سے جوڑتے ہیں اور چاہتے ہیںکہ ان کی ہی طرح ہم بھی بھارت ماتا کی اور سرسوتی کی وندنا کیا کریں۔ یہی ان کے نزدیک قوم پرستی ہی۔ جب کہ ہمارے لئے حب الوطنی یہ ہے کہ ملک کے ہر باشندے کے جان ومال اورعزت وآبروکی حفاظت ہو، امن وانصا ف کا بول بالا ہو اور کسی بیرونی طاقت کی ہمارے معاملات میں مداخلت نہ ہو۔اس کے لئے ہم نے بڑی بھاری قربانیاں دی ہیں۔ اس کے برعکس ان کے نزدیک مطلوب یہ ہے کہ چاہے حق و انصاف اور مساوات کا خون ہوتا رہی، فتنہ و فساد ہی کیوں نہ برپا کرنا پڑی، ملک کے دروبست پر ایک مخصوص ذہنیت کا قبضہ ہونا چاہئے اور زندگی کے ہرشعبہ پر اسی کی چلنی چاہئے ۔مودی کا یہ ایک بیان جو بطور’میک اپ‘ امریکی دورے سے عین قبل دیا گیا ہی، اس نظریہ کو بدل نہیں سکتا اوراگر نظریہ بدلنے کا گمان بھی ہوا، تو ان کے سامنے لال کرشن آڈوانی کی مثال موجود ہے ۔
 اہم سوال یہ بھی ہے کہ یہ شک صرف مسلمانوں کے بارے میں کیوں کیا گیا؟ ان ہندؤوں کے بارے میں کیوں نہیںکیا گیا جو غیرممالک کے لئے جاسوسی کرتے پکڑے گئی؟ پنجاب اورشمال مشرقی ریاستوں نے ملک کے اقتداراعلا کے خلاف جو طویل جدو جہد کی، جس میں خود ہماری فورسزکے ہاتھوں ہزاروںنوجوان تو پنجاب میں ہی مارے گئی، دربارصاحب پر گولے برسائے گئی، اس کے جواب میں بھنڈران والااوراندرا گاندھی کے قتل میں ملوث افراد کو شہید کا درجہ دیا گیا، ان کے بارے میں امریکی صحافی نے مودی سے سوال کرنے کی ہمت کیوں نہیں کی؟

No comments: