Saturday, September 27, 2014

Referendum in Scotland a rare display of democratic norms

اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم
برطانوی جزیر ہ کی شمالی شاہی مملکت ’اسکاٹ لینڈ‘اوربرطانیہ کی شاہی حکومت نے ایک سیاسی معاہدہ کرکے تین صدی قبل سنہ707ء میں’ متحدہ سلطنت برطانیہ‘ United Kingdom of Britain  کا وفاق قائم کیا۔یہ وفاق مضبوطی سے چلتا رہااور اسکاٹ لینڈ کے باشندوں کو کبھی شکوہ نہیں ہوا۔ نہ حکومت برطانیہ نے کبھی معاہدے کی شرائط کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ قومی اقتدار میں وفاق کے دونوں حصے پورے اطمینان سے شریک رہی۔البتہ وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کے رویہ سے بعض شکایات پیدا ہوئیںجن کی تفصیل طویل ہے مگر لب لباب یہ کہ یہ شکایات اسکاٹ لینڈ میںوفاق سے الگ ہوجانے کی تحریک کا سبب بن گئیں۔ اس پر سابق میں بھی ریفرنڈم ہوا مگر وہاں کے باشندوں نے وفاق سے الگ ہونے کے نظریہ کی تائید نہیں گی۔تاہم مہم ختم نہیں ہوئی۔اسی مہم کا نقطہ عروج یہ ہے کہ گزشتہ ہفتہ پھر ایک ریفرنڈم کرایا گیا اور معمولی اکثریت کے ساتھ وفاق کو برقراررکھنے کا فیصلہ ہوا۔
ملک سے علیحدگی کی یہ تحریک کو کچلنے کے لئے ، جو عرصہ سے چل رہی ہی،  نہ تو تحریک کے قائدین کو کبھی گرفتار کیا گیا، نہ ان پر ملک سے غداری اور دشمنی کا الزام لگا، نہ مقامی باشندوں کے شہری حقوق سلب ہوئے اور نہ خصوصی اختیارات کے ساتھ مسلح دستے تعینات کئے گئی، نہ بے نشان قبریں بنیں اور نہ کسی بستی نے برنداون کا منظر پیش آیا کہ ہرطرف بیوائیں ہی نظرآتی ہوں۔ حد یہ ہے کہ تحریک کے قائد کو علاقائی حکومت کے منصب سے ہٹایا بھی نہیں گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ برطانیہ کم از کم اپنی حدود کے اندر جمہوری قدروں کا کس قدرلحاظ کرتا ہی۔ اس طرح کے تنازعات کو حل کرنے کا یہی ایک مہذب طریقہ ہی۔یہ صورتحال اس سے قطعی برعکس ہے جو 1860تا 1865امریکا میں سول وار کی صورت میں نظر آئی۔ یہ جنگ ان سات جنوبی مملکتوں کے خلاف لڑی گئی تھی جنہوں نے اپنا الگ وفاق بناکر ریاستہائے متحدہ امریکا سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔یہ صورتحال اس سے بھی مختلف ہے جس کا مظاہرہ روس نے چیچنیا کے ساتھ کیا یا چین مسلم اکثریتی مقبوضہ علاقہ ترکستان شرقیہ (یوغور ، نیا نام زنجیانگ) کے قوم پرستوں کے ساتھ کر رہا ہی

No comments: