Tuesday, September 16, 2014

Carvan Taleem o Traqqi in Azamgarh and Jaunpur

اعظم گڑھ میں کارواں تعلیم و ترقی کا منصوبہ
سید منصورآغا،نئی دہلی
اعظم گڑھ ایک مردم خیزخطہ ہی۔کسب معاش کے لئے وہاں کے باشندے بڑی تعداد میں ممالک غیرمیں مقیم ہیں۔مگروطن سے دورہونے کے باوجود وطن کے لئے فکرمند رہتے ہیں۔ اگرچہ معاشی طور پر اکثرگھرانے خوشحال ہیں مگر تعلیمی اور معاشرتی اعتبار سے بہت کچھ کئے جانے کی گنجائش ہی۔ چنانچہ کل ہندسطح پر آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ سے وابستہ ہمارے دو ایسے ہی دوستوں ابراراحمد اصلاحی (مکہ مکرمہ) اور طارق اعظم ، انجنئر (ملائیشیا) نے اعظم گڑھ اور جونپور میں فروغ تعلیم وترقی کے لئے ایک ولوہ انگیز منصوبہ بنایا ہے ۔ اس منصوبے کاکلیدی نکتہ یہ ہے امت مسلمہ میں خیرامت کے قرآنی تصور کو ازسر نو متحرک کیا جائی۔ اس کا آغاز وہ اپنے اعظم گڑھ اور جونپور اضلاع کے بعض علاقوں سے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اپنے اس منصوبے اور نصب العین سے اہل علاقہ کو روشناس کرانے کے لئے 12اکتوبر تا 22اکتوبرایک کارواں نکالنے کا پروگرام بنایا گیا ہی۔ذیل میں ایک مکتوب کی صورت میں اس کا خاکہ پیش ہی۔ اس امید کے ساتھ اس مہم میں دوسرے اہل فکرونظر بھی شامل ہوں اور اسی طرح کی کوششیں ملک کے دیگر حصوں میں بھی کی جائیں گی۔ امید کہ اس اخبار کے ذی شعور قارئین اس پرتوجہ فرمائیں گی۔ 
مکرمی! السلام علیکم۔ کاروانِ تعلیم و ترقی 2014 ملت کی مجموعی حالت میں مثبت تبدیلی لانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہی۔ہمارابنیادی نصب العین یہ ہے کہ ملت کو خیرامت کے قرآنی تصور سے ہم آہنگ کیا جائے ۔ اس میں جذبہ خیر کے ساتھ اتنی اہلیت و صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ بحسن خوبی پوری لگن اور اخلاص کے ساتھ خیرامت کے اس فریضہ کو انجام دے سکے جس کو اللہ نے اس کی ذمہ داری قراردیا ہی۔خیرامت کا مطلب یہ ہے ہم بس اپنا،اپنا ہی بھلا نہ چاہیں، بلکہ پوری انسانیت کے خیرخواہ بنیں۔ اس پیغام کو عام کرنے کے لئے پہلے ایک متعین خطے کا انتخاب کیا گیا ہے اور کوشش یہ ہوگی کہ اس میں ہرفرد تک اس کو پہنچایا جاسکی۔ اسی مقصد سے یہ کارواں نکالا جارہا ہی۔ 
ملت کو خیرامت کے قرآنی تصور سے آگاہ کرنے اور اس میں اس کی ادائیگی کا شوق اور صلاحیت نکھارنے کے لئے یہ ضروری ہے نوجوان نسل کو ایسی تعلیم سے آراستہ کیا جائے جس کی بدولت وہ دنیا میں اپنی اصل حیثیت کو پہچاننے لگے اوراس کے مطابق اقدام کی فکر کرنے لگے ۔ناخواندگی ، کم علمی اور دیگروجوہ سے معاشرے میں پھیلی ہوئی خرابیوں کو دور کیا جائے ۔ ان کی معاشی حالت کو بہتر کیا جائے اوران میں ایسا سماجی و سیاسی شعور بیدار کیا جائے جس سے وہ قومی زندگی میں اپنا بہترین کردارادا کرسکیں۔ اس کے لئے معیاری تعلیم کا بندوبست سرفہرست ہی۔ تعلیمی نصاب ایسا ہو جس میں دینی اور عصری دونوںعلوم کا بہترین امتزاج موجودہو۔ ہمارے نوجوان دین کے پاسبان بھی بنیں اور عالم اسباب میں بھی خالی ہاتھ نہ رہیں بلکہ دنیا کی نبض کو پہچانیں اور دیگراقوام کے شانہ بشانہ جدید علوم وفنون میں بلندمقام اور مرتبہ حاصل کریں۔ 
 ہمارا پہلا ہدف یہ ہے کہ مسلم خواندگی کی شرح، جو ملک میں سب سے کم ہے ، بڑھ کر صدفیصد ہو ۔ اس کے لئے ہر بچہ کا اسکول میں داخلہ ہو۔ دوسرا ہدف یہ ہوگا کہ بچے چند جماعتیں پڑھ کر اسکول نہ چھوڑ دیں۔ اس کے لئے تعلیم کے طریقہء کار میں ایسی اصلاحات لانی ہونگیں کہ بچہ ذوق و شوق سے اسکول جائے اور اساتذہ کرام کو ایسی تربیت دینی ہوگی کہ وہ تعلیم میں بچوں کے لئے دلچسپی پیداکریں۔ تعلیم ان کے لئے بوجھ نہ بن جائی۔ 
اس سلسلے میں کرنے کا تیسرا اہم کام یہ ہے کہ تعلیم کا شوق رکھنے والا کوئی محنتی اور ذہین بچہ مالی یا کسی دیگر دشواری سے تعلیم سے محروم نہ رہ جائی۔ ان بچوں کے لئے خصوصی سرپرستی اور نگرانی کا بندوبست نہایت اہم ہی۔ ہماری کوشش یہ بھی ہوگی کہ طلباء اور اسکولوں کے لئے سرکاری امدادی اسکیموں اور وظایف سے جہاں تک ہوسکے فائدہ اٹھایا جائی۔ اس کے لئے ان تمام اسکیموں اور سہولتوں پر نظررکھی جائے گی تاکہ بروقت مستحقین کو باخبر کیا جائے اور ان کی رہنمائی کی جائے کہ وہ کس طرح ضروری کاروائی مکمل کرکے ان سے فائدہ اٹھائیں۔
 ایک کام یہ بھی کرنا ہوگا کہ جو طلباء تعلیم میں بہت آگے جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ان کو ایسے ہنرسکھادئے جائیں جن کی ملک کے اندراور باہر طلب ہے تاکہ وہ معاشی طور پر خوشحال ہوسکیں۔
ہمارے پیش نظرایک بڑا کام یہ ہے کہ اپنے علاقے میں کثرت سے ایسے اعلا تعلیمی ادارے قائم کریں تاکہ ہمارا میدان کار ایک تعلیمی صنعت گاہ کا منظر پیش کرنے لگے اور جس طرح آج دنیا بھر سے طلباء امریکا، فرانس، آسٹریلیا وغیرہ کا رخ کرتے ہیں،ملک اور بیرون ملک سے طلباء ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں آئیں۔ کوئی وجہ نہیں مشرقی یوپی میں بنگلور جیسے نمونے پیش نہیں کئے جاسکتے ۔یہ ایک بڑا معاشی منصوبہ ہے جس پر اہل ثروت کو متوجہ کیا جائے گا۔
یہ ہے وہ مشن اور نصب العین جس کے پیش نظر ’’کاروان تعلیم و ترقی ‘‘ نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں یہ کارواں انشا اللہ اس سال 12 تا 22 اکتوبر مشرقی یوپی کے درج ذیل مقامات پر جائیگا ۔ کارکنان کارواں اجتماعی ملاقاتوں کے علاوہ تعلیم سے دلچسپی رکھنے والے مقامی افراد سے خصوصی ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ مشن کو فروغ دینے کی کوئی جامع عملی صورت بن سکی۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق یہ کارواں اعظم گڑھ شہر ، مبارکپور ، مئو شہر، محمد پور ، سنجرپور ، سراے میر ، پھولپور ، لاہی ڈیہ بازار ، شاہ گنج اور جونپور شہر جائیگا۔ 
ہمارے پیش نظرایک کام یہ ہے کہ کارواں کے دائرے میں آنے والے علاقوں میں گاؤں ، قصبہ اور شہری وارڈکی بنیاد پرایسے افراد کو منظم کیا جائے جو درج ذیل صلاحیتوں کے حامل ہیں: ـ ملی اور سماجی کارکن، مساجد کے امام و خطیب،مدارس کے ناظم و مہتمم اور عالم دین جو معاشرے تک موثرانداز میں بات کو پہنچاسکیں، تعلیمی مشغلہ جیسے اسکول ،کالج کے منیجر، ممبر،پرنسپل، ہیڈماسٹر وغیرہ، مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد جیسے منیجر، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، پردھان، تاجر وغیرہ 
15تا 25 افراد پر مشتمل یہ ٹیمیں اپنے دائرہ اثر میں کام کریںگی، اپنے علاقوں کی نمائندگی کریں گی اور ملت کی تعلیم وہمہ جہت ترقی کے لئے کام کریں گی۔ہماری دلی خواہش ہے کہ ہم اور آپ مل کرملک وملت کی تعلیم و ترقی کے لئے کام کریں۔ آپ سے تعاون کی درخواست ہی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کامیابی سے سرفراز فرمائے آمین
مکتوب منجانب ابرار اصلاحی ، طارق اعظم واحباب معرفت سید منصورآغا، نائب صدر، آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ۔نئی دہلی:10025
فون: 9818678677

No comments: