Thursday, February 13, 2014

Anti-Riots Bill and Politics of Riots in India

انسداد فساد بل اور فساد کی سیاست

سید منصورآغا، نئی دہلی
انسداد فساد بل کا جو حشر متوقع تھا وہ ہوگیا۔ملی جماعتیں ایک عرصہ سے اس قانون کا مطالبہ کررہی تھیں۔ ان کو شاید یہ خوش گمانی تھی کہ اگریہ قانون بن گیا توفساد رک جائیں گے، ناگزیر صورتوں میں مرکزکو مداخلت کا جواز مل جائیگا اور مقامی افسران کو فساد کے لئے ذمہ دار ٹھہرا کر فسادات پر بند لگایا جاسکے گا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فسادات روکنے اور خطاکاروں کو سزا دلانے کے لئے موجودہ قانون بھی کافی ہیں۔نئے قانون کی نہیں، ضرورت سیاسی عزم کی ہے۔ فساد ازخود نہیں ہوجاتے۔ نہ افسران کراتے ہیں، بلکہ ہر فساد کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی مفاد کارفرما ہوتا ہے۔ فسادیوں کو تحفظ قانون نہیں دیتا بلکہ سیاسی آقادیتے ہیں۔ کوئی نیا یا مزیدسخت قانون مسئلہ کا حل نہیں۔ روز کا مشاہدہ ہے کہ سیاسی نیت میں فساد کی بدولت قوانین کی زدالٹے بے قصوروں پرہی پڑجاتی ہے اور قصوروار سیاسی پناہ میں اس کی زد سے بچے رہتے ہیں۔ٹاڈا، پوٹا اور ان کے بعد یو اے پی اے سب مرکزی قانون ہی تھے،جن کے تحت سینکڑوں بے قصور جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں بند ہیں۔ جن فسادات کو 148فرقہ ورانہ فساد 147کہا جاتا ہے، ان کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو ان کی تہہ میں کوئی نہ کوئی سیاسی فساد مل جائے گا۔
مغربی بنگال میں 34سال تک بائیں بازو حکومت نے اور اب دو سال سے ممتا بنرجی نے نہیں چاہا تو فساد نہیں ہوتے۔ بہار میں لالو کے راج میں، اوراب نتیش کمارکے راج میں فساد نہیں ہوئے۔یوپی میں مایاوتی نے فسادات نہیں ہونے دئے۔ یہ سب مروجہ قوانین کی بدولت ہوسکا۔ اب بھی قانون وہی ہیں، انتظامیہ وہی ہے، مگر یادووں کی سرکار آتے ہی یوپی میں فسادات کی جھڑی سی لگ گئی۔ چنانچہ کمی قانون کی ہے یا سیاسی عزم اور صلاحیت کی ہے؟
بیشک گجرات میں 2002 کی مسلم کشی نہایت سنگین اور ناقابل فراموش واقعہ ہے۔ مگر کیا یہ بھلایا جاسکتا ہے کانگریسی سرکاروں کی سرپرستی میں گجرات میں، اترپردیش میں، مغربی بنگال اور بہارمیں بدترین مسلم کش فسادات ہوتے رہے ہیں۔ آسام کے نیلی میں 18فروری 1983کی رات میں 16گاؤوں میں پانچ ہزار سے زیادہ بے بس مسلمانوں کو موت کی نیند سلادیا گیا۔کیا کسی کو سزا ملی؟ اگست 2012میں آسام کے بوڈو علاقے میں تقریباً ایک سومحنت کش مسلمان مارے گئے اور ایسا ماحول بنایا گیا کہ چار لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے۔ مظفرنگر اور شاملی اضلاع کے واقعات تازہ ہیں۔ فساد کے نام پر سرکاری سرپرستی میں مسلم کشی کے یہ واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ سازش،نااہلی اور غفلت سیاسی آقاؤں کی ہوتی ہے یا خطاصرف سول انتظامیہ اور پولیس فورس کی ہوتی ہے؟ خبریں یہ بھی ہیں کہ فرض شناس اور مستعد افسران کی سرزنش ہوتی ہے اور خطاکاافسروں کو ترقیاں اور میڈل دئے جاتے ہیں۔
دراصل فسادات کرانا اور فسادات نہ ہونے دینا، دونوں کے اپنے اپنے سیاسی فائدے ہیں۔ مغربی بنگال کی بائیں بازو سرکار اور بہار میں لالو کی سرکا مسلمانوں کو فساد روکنے کے حوالے سے اپنا ووٹ بنک بنائے رہیں اور مسلمانوں کو پسماندگی کے غار میں دھکیلتی رہیں۔ آر ایس ایس تو ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت مسلم کشی کے لئے فضا بناتی ہے۔ یہ تنظیم ممبرسازی نہیں کرتی۔ بس ذہن سازی کرتی ہے۔ چنانچہ سارا گناہ افراد کے سرتھوپ کر خود پاک صاف ہوجاتی ہے۔ جو کچھ فتنہ فساد ہوتا ہے اس میں تنظیم کا ہاتھ نظر نہیں آتا، بلکہ اس کے وہ گرگے نظرآتے ہیں،جن کے ذہنوں کو اس نے مسموم کردیا، جو اس کے اشاروں پر کام کرتے ہیں اور واہ واہی بھی پاتے ہیں۔مظفرنگر کے خطاکاروں کو عوامی اعزاز اس کی تازہ مثال ہے۔ 
یہ فسادی ذہنیت ہرپارٹی میں اور ہرشعبہ میں موجود ہے، کسی ایک پارٹی تک محدود نہیں۔ چنانچہ کہیں کوئی قانون کی گرفت میں آجاتا ہے تو سنگھی ذہنیت سے ہم آہنگ میڈیا، وکلا اور سیاست داں آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔یہی وہ عناصر ہیں جو اقلیتی فرقہ کے بے خطا ملزمان کی عدالت میں پیروی تک میں مزاحم ہوتے ہیں۔ فسادات کی تاریخ شاہد ہے کہ ایک چھوٹے سے واقعہ کو بہانا بناکر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔ یہ سارا کام منصوبہ بندسازش کے تحت ہوتا ہے اور پولیس و سول انتظامیہ سیاسی دباؤ میں اپنی قانونی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کرکے فتنہ و فساد میں ملوّث ہوتی ہے۔ چنانچہ ہمارا مسئلہ قانون سازی نہیں قانون کی حکمرانی ہے جو یوم آزادی سے مفقود ہے۔
انسداد فسادات بل پر پارلیمنٹ میں بی جے پی نے تو حسب توقع رول ادا کیا۔ مگر ملائم سنگھ یادو کی پارٹی سمیت سیکولر کہی جانے والی دوسری کئی پارٹیاں بھی بے نقاب ہوگئیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکار نے بھی ووٹ بنک کی سیاست کھیلی ہے۔ کہنے کو ہوگیا کہ مسلم تنظیموں کا مطالبہ پورا کرنے کی کوشش تو ہوئی۔
اس بل پر انڈین ایکسپریس کی کالم نویس تولین سنگھ نے گزشتہ اتوار 148اے لاء فور اے ووٹ بنک147 عنوان سے سخت تبصرہ کیا ہے۔ ان کی سبھی باتوں کی تو تائید نہیں کی جاسکتی مگر بعض مشاہدات بڑے چشم کشا ہیں۔مثلاً انہوں نے میرٹھ کے ہاشم پورہ اور ملیانہ کے واقعات کے حوالے سے لکھا ہے:1987 میں پی اے سی کے وردی پوش ٹھگوں نے میرٹھ کے پاس اپنی تحویل میں ایک ٹرک بھر مسلمانوں کو گولیوں سے بھون ڈالا مگر کیا کسی کو اس کے لئے سزادی گئی؟ ہرگز نہیں۔ لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے قانون میں اس جرم کی سزا نہیں یا اس طرح کے واقعات کو روکا نہیں جاسکتا تھا، بلکہ یہ ہے کہ خطاکارافسران کو سیاسی قیادت کی پشت پناہی حاصل تھی اور سیاست داں فسادات اور اجتماعی قتل کی ان وارداتوں کو کمزور طبقوں کو اپنا ووٹ بنک بناکر رکھنے میں حربہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔147
تولین سنگھ کی بات میں ہم اتنا اضافہ کریں گے کہ مروجہ قوانین کی بدولت ہی گجرات میں مودی کے چٹوں بٹوں کو، جن میں ان کی سابق وزیر مایابین کوڈنانی بھی شامل ہیں، سزائیں دی جاسکیں، باوجودیکہ ریاستی سرکار پوری طرح خطاکاروں کو بچانے کے درپے رہی۔چنانچہ خطاکاروں کو سزادلانے کے لئے قانون کم نہیں ہیں، کمی اور خامی سیاسی نیت کی ہے۔ 
اگر اس پشت پناہی کی تفصیل بیان کی جائے، جس کا میرٹھ کے حوالے سے تولین سنگھ نے ذکرکیا ہے، تو بات بہت دور تک جائیگی۔ اس دوران
محترمہ محسنہ قدوائی لوک سبھا میں میرٹھ کی نمائندگی کرتی تھیں۔ اسی پارٹی کے ویر بہادر سنگھ یوپی کے وزیراعلا تھے۔ محترمہ قدوائی ایک اعلا ظرف، شریف النفس اور حساس لیڈر ہیں۔فساد کی اطلاع ملتے ہی وہ میرٹھ پہنچ گئیں۔مگران کومتاثرہ محلوں میں نہیں جانے دیا گیا۔میرٹھ کے گیسٹ ہاؤس میں وہ اس کمرے میں آگئیں جس میں وزیراعلا افسران سے میٹنگ کر رہے تھے تو وزیراعلا نے ان کووہاں ٹکنے نہیں دیا۔ آخر وہ کونسی بات تھی جو اس علاقے کے ایم پی سے چھپائی جارہی تھی، جس میں پولیس اور پی اے سی کی سرپرستی میں مسلم کشی ہورہی تھی؟اس دور کے یوپی پولیس کے ایک اعلا افسر سے جب ہم نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا، تو انہوں نے کہا:148پولیس اور فوج ڈسپلنڈ فورس ہے۔ اوپر سے اشارے کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔145145 دراصل یہ اوپر کا اشارہ ہی فساد کی جڑ ہے جو قانون کو نافذ نہیں ہونے دیتا۔ یہ ٹھیک ہے محترمہ قدوائی کی پارٹی سے وابستگی گہری ہے لیکن اگر وہ ان واقعات کو قلم بند کردیں تو قوم پر احسان ہوگا اور مستقبل کے مورخ کو صحیح صورت کااندازہ ہوسکے گا۔منظرعام پر یہ بات آنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اقلیت کا حوصلہ توڑنے کی جو تدبیر میرٹھ میں اختیار کی گئی، الٹی پڑی اورسیٹ پارٹی کے ہاتھ نکل گئی۔ یہی بابری مسجد کے معاملے میں ہوا۔ شلانیاس، مسجد کا انہدام اور اس کے بعد ملک گیر فسادات سے یقینا مسلمانوں نے سبق لیا ہے، مگر ان فسادی حرکتوں کی سرپرستی جنہوں نے کی تھی ان کا حشر بھی خراب ہوا۔ انسداد فسادات بل کے چلتے کچھ اور چہرے بے نقاب ہوگئے۔ بقول خاطرؔ غزنوی-
گو زرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
یوں تو وہ میری رگِ جاں سے بھی تھے نزدیک تر
آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے
اب آنسوؤں کی دھند ہٹ جانی چاہئے تاکہ ہرچہرہ پہچانا جاسکے

No comments: