Tuesday, February 4, 2014

A. M. U. Intellectuals welcome Kishan Ganj Center

Add caption

علی گڑھ۔مسلم یونیورسٹی کے دانشوروں نے کشن گنج میں یونیورسٹی کے قیام کا خیر مقدم کیا ہے اس کے قیام میں گہری دلچسپی لینے پر یوپی اے چیرپرسن محترمہ سونیا گاندھی، وی سی لیفٹننٹ جنرل (ر) ضمیرالدین شاہ، کشن گنج سے رکن لوک سبھا مولانا اسرالحق قاسمی ، بہار کے وزیراعلا نتیش کمار سمیت تمام متعلقین کو مبارکباد پیش کی ہے۔
ایک مشترکہ بیان میں سینٹر کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف دینیات پروفیسر سعود عالم قاسمی نے کہا کہ یہ پورے علاقے، خاص طورپر مسلمانوں کی تعلیم کے میدان میں ایک اہم قدم ہے۔ یہ سر سید کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ ان کا خواب تھا کہ ملک کے گوشے گوشے میں تعلیم گاہیں قائم ہوں اور مسلمان تعلیم میں آگے بڑھیں۔ اس کے لئے انہوں نے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے تحت پیش قدمی بھی کی تھی۔ اس سینٹر سے علاقے کو نوجوانوں کو تعلیم کے ذریعہ بااختیار بنانے میں مدد ملے گی۔ پروفیسر قاسمی نے مزید کہا کہ مسلم یونیورسٹی نے قوم پر احسان کیاہے اور اس کے لئے مسلم یونیورسٹی کے ذمہ داران اور مرکزی حکومت مبارک باد کے مستحق ہیں۔
یونائٹیڈ مسلم آرگنائزیشن کے جنرل سکریٹری اورسرسید اویرنس فورم کے صدر ڈاکٹر شکیل صمدانی نے کہا کہ یہ قدم تاریخی اہمیت کاحامل ہے ۔کشن گنج سینٹر اس پچھڑے علاقے کو نہ صرف تعلیمی لحاظ سے سہارا دیگا بلکہ معاشی اور اورسیاسی طور پر بھی علاقہ کی ترقی میں معاون ہوگا اور ہندوستان کے نقشے پر ایک خوشحال اور بیدار علاقہ کے طور پر اُبھرے گا۔ ڈاکٹر صمدانی نے مزید کہا کہ جو کورسیز کو وہاں پر پڑھایا جانا ہیں ان سے نوجوانوں کو بہت روز گار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید احمد خاں نے اپنی زندگی قوم کی تعلیم وترقی کے لئے وقف کردی تھی اور ایک ایساادارہ دیا جس نے پوری دنیا میں تعلیم وتربیت کے ساتھ اخلاص ، محبت، رواداری اور حکمت وفراست کا جذبہ پیدا کیا۔ ڈاکٹر صمدانی نے کہا کہ اس سینٹر کے قیام کے لئے نہ صرف سونیا گاندھی بلکہ وائس چانسلر ضمیرالدین شاہ ، بہا ر کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ، مولانا اسرار الحق قاسمی ، ہیومن چین اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اساتذہ ، اولڈ بوائز اور طلبہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ 
قانون فیکلٹی کے سابق ڈین پروفیسر زکریا صدیقی نے کہا کہ مسلم یونیورسٹی کے جتنے زیادہ سے زیادہ سینٹر ہوں وہ بہتر ہے۔ امریکہ اور دوسرے ملکوں میں یونیورسٹیوں کے بہت سے مراکز ہوتے ہیں اور وہ سب کے سب بخوبی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس قدم سے انہیں دلی مسرت ہوئی ہے ۔امید ہے کہ جو بچے علی گڑھ سے وہاں منتقل ہوں گے وہ علی گڑھ کی بنیادی روایات کووہاں بھی قائم کریں گے۔جین گرلس انٹر کالج کی لکچرار انجم تسنیم نے کہا کہ اگر اسی طرح کام ہوتا رہا تو 2017تک مسلم یونیورسٹی یقیناًملک کی ممتاز ترین یونیورسٹیوں میں نمبر ون ہوگی، جیسا کی وائس چانسلر صاحب کی خواہش اور کوشش ہے۔ اے۔سی۔ این گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کے ڈائریکٹر جاوید اختر نے کہاکہ ملک میں جتنے زیادہ سے زیادہ سینٹر ہوں وہ ملک اور قوم دونوں کے لئے مفید ہیں۔ اے۔ ایم۔ یو سٹی ہائی اسکول کے سابق پرنسپل بدرالاسلام نے کہا کہ یہ سینٹر پچھلے دوسالوں سے التوامیں پڑا ہواتھا اور وی سی کوششوں سے اس کا احیا ہو سکا۔ 
خیال رہے کہ اس منصوبے کا سہرا سابق مرکزی وزیر افرادی وسائل جناب ارجن سنگھ، سابق مرکزی وزیر ایم اے اے فاطمی ، جسٹس راجندر سچر کمیٹی اور سابق وی سی جناب پی کے عبدالعزیز کے سر ہے ۔ موجودہ وائس چانسلر ضمیرالدین شاہ نے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے جو دلچسپی لی وہ یقیناًمبارکباد کی مستحق ہے۔

No comments: