Thursday, January 30, 2014

Shakeel Samadani welcomes SC order on LGBT


ہم جنس پرستی کے خلاف سپریم کورٹ کے موقف کی تائید
علی گڑھ،29جنوری:ہم جنس پرستی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کو مسترد کرنے کا جو فیصلہ سپریم کورٹ نے لیا ہے وہ نہ صرف قانونی اور آئینی طور پر درست ہے بلکہ یہ ہندوستان کی اخلاقی روایت کے ہم آہنگ بھی ہے۔سپریم کورٹ نے ناز فاؤنڈیشن اور مرکزی حکومت کی نظر ثانی کی درخواست کو مسترد کرکے 99فیصدی سے زیادہ ہندوستانیوں کے جذبات کا احترام کیا ہے۔اس فیصلے کا جتنا بھی خیر مقدم کیا جائے کم ہے۔ان خیالات کا اظہار سر سید اویئر نیس فورم کے صدر ڈاکٹر شکیل صمدانی نے کیا۔
انہوں نے کہاکہ دہلی ہائی کورٹ نے 2009میں دفعہ377کے تحت ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال کر جو غلطی کی تھی اسے سپریم کورٹ نے درست کر دیا اور ہم جنس پرستی کو جرم قراردیدیا ۔اس فیصلے کا خیر مقدم سارے مذاہب کے ماننے والوں نے کیا کہ اس بے حیائی اور بے شرمی کے نظام کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ لیکن چند بے حیا اور بے شرم لوگوں کو خوش کرنے کے لیے مرکز کی یو پی اے سرکار نے نہ صرف اس فیصلے کے خلاف بیان دیا بلکہ کابینہ سے پاس کرواکر عدالتِ عظمی میں نظر ثانی کی درخواست داخل کر دی۔
ڈاکٹر شکیل صمدانی نے مزید کہا کہ جس طرح سونیا گاندھی اور راہل گاندھی، کپل سبل اور جے رام رمیشن وغیرہ نے ہم جنس پرستوں اور ان کے ہم نواؤں کے حق میں بیانات دیے اور ان کا دفاع کیا اسے یہ ثابت ہو گیا کہ کانگریس پارٹی شاید پوری طرح بد حواس ہو گئی ہے اور اس کی عقل بھی جاتی رہی ہے، کیوں کہ جس فیصلے کا سارے مذاہب کے مذہبی پیشوا استقبال کر رہے ہیں ، جو سارے مذاہب کی تعلیمات کے مطابق ہے اور جو اخلاقی اعتبار سے بھی درست ہے۔ اس کی مخالفت کرکے کانگریس پارٹی یہی ثابت کر رہی ہے کہ اسے نہ مذہب کی پرواہ ہے نہ اخلاقیت کی پرواہ ہے اور نہ ہی عوام کے جذبات کی پرواہ ہے۔
اخیر میں ڈاکٹر شکیل صمدانی نے کہا کہ اگر کانگریس پارٹی نے دوبارہ یہ غلطی کی اور پارلیمنٹ سے اس کے حق میں کوئی قانون بنوانے کی کوشش کی تو اس کی ملک گیر مخالفت کی جائے گی اور حکومت کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس سلسلے میں کوئی بھی قدم نہ اٹھائے ورنہ اسکے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے مسلم مبرانِ پارلیمنٹ اور مسلم وزراء سے خصوصی درخواست کی کہ وہ پارلیمنٹ میں ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف متحد ہو جائیں اور ہم جنس پرستوں کے ہم نواؤں کو شکستِ فاش دیں ۔انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ سوشل سائٹس و فیس بک پر اس فیصلے کے حق میں انے جذبات کا اظہار کریں اور راہل گاندھی ، سونیا گاندھی، منموہن سنگھ اور صدر جمہوریہ ہند کو بذریعہ اے میل اور پیغامات اپنے جذبات سے آگاہ کرائیں، اگر انہوں نے ایسا کیا تو انشاء اللہ گمراہ ہم جنس پرستوں اور ان کے بے حیا حامیوں کو شکستِ فاش ہوگی۔

No comments: