Thursday, January 30, 2014

One Hundred Journalilsts Killed in One year


يك  سال مين ايك سو صحافيون كا قتل


سہیل انجم
صحافت یا جرنلزم کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ اس چوتھے ستون کو دنیا بھر میں خطرات لاحق ہیں۔ کہیں زیادہ تو کہیں کم۔ جن ملکوں میں جمہوریت مستحکم اور مضبوط ہے وہاں کم خطرات ہیں اور جہاں جمہوریت کمزور ہے یا ہے ہی نہیں وہاں خطرات زیادہ ہیں۔ ہندوستان میں چونکہ جمہوریت کی جڑیں سماج میں زیادہ گہرائی تک پیوست ہیں اس لیے یہاں صحافیوں کو زیادہ خطرات نہیں ہیں، گوکہ یہاں بھی گزشتہ سال کئی صحافیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ لیکن یہاں دوسری نوعیت کی خرابیاں زیادہ ہیں۔ جیسے پیڈ نیوز یا میڈیا ٹرائل وغیرہ۔ لیکن ہمارا ہمسایہ ملک پاکستان صحافیوں کے تحفظ کے سلسلے میں کہیں زیادہ مخدوش ہے۔ متعدد صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک بن گیا ہے۔ اور خطۂ وزیرستان پاکستان کا سب سے مخدوش علاقہ ہے جہاں صحافیوں کو اپنی جان ہتھیلی پر لے کر چلنا پڑتا ہے۔
لیکن گزرے ہوئے سال میں سب سے زیادہ صحافیوں کی ہلاکت شام میں ہوئی ہے۔ شام ایک عرصے سے خانہ جنگی میں مبتلا ہے۔ وہاں پوری دنیا کا میڈیا موجود ہے جو پل پل کی رپورٹنگ کر رہا ہے۔ وہاں پچھلے سال کم از کم 30صحافی مارے گئے ہیں جن میں ملکی و غیر ملکی دونوں شامل ہیں، البتہ فری لانسر زیادہ مارے گئے ہیں۔ اس کے بعد عراق کا نمبر ہے جہاں 12صحافی مارے گئے جن میں مقامی صحافی زیادہ ہیں۔ پاکستان میں 11، فلپینس میں 7، مصر میں 6، ہندوستان میں 5، صومالیہ میں 5، برازیل میں 4، افغانستان میں 3 اور دوسرے ملکوں میں ایک ایک دو دو صحافی مارے گئے ہیں۔
ہندوستان میں مارے جانے والے صحافیوں کی تفصیل یوں ہے: نیمی چند جین چھتیس گڑھ فری لانسر 12فروری، جتیندر سنگھ جھارکھنڈ پربھات خبر 27اپریل، راکیش شرما اٹاوہ آج 23اگست، نریندر ڈابھولکر پونے سادھناچینل 20اگست، سائی ریڈی بیجاپور دیش بندھو 6دسمبر اور راجیش ورما مظفر نگر آئی بی این سیون 7دسمبر۔ 
پاکستان جس قسم کی اندرونی وبیرونی سازشوں کا شکار ہے اور جس نوعیت کی جنگوں میں ملوث ہے وہ نہ تو کسی تعمیری کاز کے لیے سازگار ہیں اور نہ ہی صحافتی فرائض کی ادائیگی کے لیے۔ لیکن اس کے باوجود صحافیوں کا طبقہ اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں تن من دھن سے مصروف ہے۔ دو سال قبل پاکستان کے ایک دیدہ ور، باخبر، غیر جانبدار اور سینئر صحافی سید سلیم شہزاد کے وحشیانہ قتل نے پوری دنیا کی توجہ پاکستان میں صحافیوں کو لاحق خطرات کی جانب مبذول کرائی تھی۔ لیکن لا حاصل۔ کیونکہ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ تھما نہیں ہے۔ سلیم شہزاد کے فوراً بعد ایک قبائلی صحافی نصر اللہ آفریدی کو وحشیانہ انداز میں ہلاک کیا گیا تھا۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو چند دہائیوں کے دوران پاکستان میں تقریباً سوا سو صحافیوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑی ہیں۔ سال 2011ء میں نصف درجن، 2012ء میں ایک درجن سے زائد اور 2013ء میں گیارہ صحافیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
2014ء بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے۔ سال کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کو 146146اب تک145145 ٹی وی چینل کے رپورٹر شان داہر کو لاڑکانہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ صحافتی او رانسای حقوق کے اداروں کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کو کسی ایک طرف سے نہیں بلکہ چوطرفہ خطرات لاحق ہیں۔ یہ خطرے سیکورٹی ایجنسیوں، بعض سیاسی جماعتوں، طالبان ملیشیا، علاحدگی پسند گروپوں او رجرائم پیشہ افراد کی جانب سے لاحق ہیں۔ گزشتہ سال جو گیارہ صحافی مارے گئے ان میں سے پانچ کو بم دھماکوں کی رپورٹنگ کے دوران اور چھ کو نشانہ بند حملوں میں ہلاک کیا گیا۔ ساؤتھ ایشیا میڈیا کمیشن نے صحافیوں کی ہلاکت سے متعلق اپنی رپورٹ میں پاکستان کو سرِفہرست رکھا ہے۔ 179ممالک کی فہرست میں اس کا نمبر 159واں ہے۔
صحافیوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق نیو یارک کی ایک تنظیم Committee to Protect Journalists کے ایشیا پروگرام ڈائرکٹر Bob Dietz کے مطابق پاکستان میں گو کہ پچھلے سال نشانہ بند حملوں کے دوران صحافیوں کی ہلاکت کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن خطرات اب بھی بدستور ہیں اور کسی ایک جانب سے نہیں بلکہ کئی گوشوں سے یہ خطرات لاحق ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سے وابستہ ایک پاکستانی تحقیق کار مصطفی قادری کہتے ہیں کہ بم دھماکوں کی کوریج کے دوران پاکستانی فوج کی نکتہ چینی یا طالبان کی نکتہ چینی پر فوجی اہلکار، طالبان اور دیگر عسکریت پسند سخت ناراض ہوتے ہیں اور رپورٹروں کو رپورٹنگ کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ دشمنوں کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں۔ بہت سے جرائم پیشہ افراد بھی انھیں نشانہ بناتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو خواتین کے خلاف جرائم کی رپورٹنگ کو اپنے خلاف رپورٹنگ سمجھتے ہیں۔ 
فاٹا اور خیبر پختونخوا سے رپورٹنگ کرنا تو سب سے خطرناک ہے۔ وہاں گویا اپنی جان کو ہتھیلی پر لے کر چلنا ہے۔ ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں جن میں صحافیوں کو دوڑا دوڑا کر مارا گیا ہے اور ان پر حملے کیے گئے ہیں۔ قادری کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کم از کم تین صحافیوں کو پشاور میں اسلم درانی، نارتھ وزیرستان میں ممتاز ملک اور کراک میں ایوب خٹک کو ان کی رپورٹنگ سے ناراض ہو کر قتل کر دیا گیا۔ بہت سے صحافیوں کا اغوا بھی کیا جاتا ہے او ران کو طرح طرح سے پریشان کرنے کے علاوہ دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ 
اس خطرناک صورت حال کی وجہ سے بعض اوقات رپورٹنگ کی کوالٹی سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ داؤد خٹک کے مطابق ایک رپورٹر کی زندگی رپورٹ سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔ وہ پراگ کے ایک ریڈیو Free Europe/Radio Library\'s Pashto Mashaal Radio کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا سے رپورٹنگ کرنا 146146تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے145145۔ اور جس تلوار پر چلنا ہے وہ دو دھاری ہے۔ کسی بھی طرف سے کوئی تحفظ نہیں، نشانہ بہر حال بننا ہے۔ وہاں صحافیوں کو مارنا پیٹنا، اغوا کرنا، گمنام کال کے ذریعے دھمکیاں دینا اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دینا عام بات ہے۔
Tribal Union of Journalists کے ساوتھ وزیرستان کے سکریٹری جنرل زماں محسود بھی صحافیوں کو لاحق خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری رپورٹنگ سے اگر کسی کو یہ محسوس ہو کہ ہم اس کی حمایت نہیں کر رہے یا کسی او رکی حمایت کر رہے ہیں تو ہم مارے جا سکتے ہیں۔ بلوچستان کے حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ سلامتی خدشات کے پیش نظر متعدد مقامی پریس کلب بند ہو گئے ہیں۔ گوادر کے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ اسے اور اس کے رفقا کو مسلح افواج کی جانب سے دھمکیاں ملتی ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ 146146شہید145145 یا 146146ہلاک145145 لکھنا بھی بے حد خطرناک ہے۔ کیونکہ ہر گروپ اپنے ہلاک شدہ شخص کو شہید لکھوانا چاہتا ہے۔ مسلح افواج ناکافی رپورٹنگ یا رپورٹنگ نہ ہونے سے بھی ناراض ہو جاتی ہیں۔ ایک نیوز ویب سائٹ Baloch Hal کے ایڈیٹر ملک سراج اکبر کے خیال میں بلوچستان میں مختلف لوگوں کی جانب سے خطرات ہیں۔ جن میں انٹلی جنس ایجنسیاں، بلوچ قوم پرست، انڈر گراونڈ خود کش دستے اور لشکر جھنگوی جیسے مسلکی گروپ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان ہائی کورٹ میڈیا کو کنٹرول کرنے کی مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے۔ 
صحافیوں کو مسلک کی بنیاد پر بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ شیعہ افراد سنی صحافیوں کو اور سنی شیعہ صحافیوں کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔ کوئٹہ کے ایک صحافی امجد حسین کو جو کہ ہزارہ شیعہ ہیں، اتنی دھمکیاں ملیں کہ انھیں پاکستان سے بھاگ کر آسٹریلیا میں پناہ لینی پڑی ہے۔ کراچی کی بھی صورت حال تقریباً ایسی ہی ہے۔ صحافیوں کو لاحق خطرات کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ 2011میں ایک امریکی صحافی ڈینیل پرل کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس کیس میں 2002میں کارروائی ہوئی اور قصورواروں کو سزا دی گئی لیکن اس کے بعد آج تک کسی بھی ایسے شخص کو جو کسی صحافی کے قتل کا ذمہ دار ہو کوئی سزا نہیں دی گئی۔ کسی کے خلاف کوئی کارروائی تک نہیں ہوتی۔
اس طرح یوں تو پوری دنیا ہی صحافیوں کے لیے خطرناک ہے لیکن پاکستان میں زیادہ خطرات ہیں۔ اس کے باوجود وہاں کے صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی میں جسم وجان سے مصروف ہیں جو بلا شبہ قابل قدر و قابل ستائش ہے۔
sanjumdelhgi@gmail.com

No comments: