Wednesday, January 1, 2014

Learn Urdu to be Polite: Karnataka C.M. tells Police


شائستہ گفتگو کے لئے اردو پڑھیں: وزیراعلا کرنا ٹک

کرناٹک کے وزیراعلا سدارمیاہ نے پولیس کو عوام کے ساتھ شائستہ اور شریفانہ انداز اختیار کرنے کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے اپنی ریاست کی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ عوام سے شائستہ انداز میں گفتگو کرنے کے لئے اردو سیکھیں۔انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ (31جنوری)کے مطابق وزیراعلا نے پولیس افسران سے خطاب میں کہا: ان کو اردو لازماً سیکھنی چاہئے، تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ شائستہ اور مہذب انداز گفتگو کیا ہے ، جس سے عوام ان کے قریب آئیں اوروہ ان کے دل جیت سکیں ۔ اگر وہ اردو سیکھ لیں گے تو عوام کی تائید اور تعریف ان کو حاصل ہوگی۔ آپ ہرانسان کے ساتھ ایک جیسا ہی انداز گفتگو اختیار نہیں کرسکتے۔‘‘
کرناٹک کے وزیراعلا کی یہ اردو شناسی لائق صد تحسین ہے اور اس پر وسیع تر عمل آج ہمارے سماج کی اہم ضرورت ہے۔ اردو ایک بولی ہی نہیں بلکہ ایک شائستہ تہذیب بھی ہے۔اس تہذیب کو گزشتہ صدی میں تعلیم یافتہ غیر مسلم طبقوں نے بڑا ہی فروغ دیاتھا۔اردو تہذیب کی ایک نمائندہ ہستی پنڈت پنڈت گلزارزتشی دہلوی کا قول ہے کہ ایک زمانہ میں کائستھ برادری اردو تہذیب کی بڑی دلدادہ تھی اور شادی بیاہ کی رسموں میں یہ تہذیب نمایاں حیثیت رکھتی تھی ۔آج بھی شادیوں میں شیروانی کا چلن اسی تہذیب کی علامت ہے۔ مگر افسوس کہ اب یہ تہذیب اور یہ روایات انحطاط پذیر ہیں۔ گزشتہ صدی کے نصف آخرکی دوتین دہائیوں میں مغل اعظم، میرے محبوب، تاج محل، پاکیزہ، امراؤ جان اور نکاح جیسی درجنوں فلمیں اس لئے مقبول ہوئیں کہ ان میں اسی تہذیب کی عکاسی تھی۔فلمی اور غیرفلمی اردو غزل کی مقبولیت آج بھی ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں فلموں، سیریلس اور بچوں کے کارٹونس میں جو زبان استعمال ہورہی ہے ،وہ نہایت غیر شائستہ بلکہ بیہودہ ہے۔جس سے نئی نسل پر خراب اثر پڑرہا ہے۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تفنن طبع کی ان جدید سہولتوں کی زد مطالعہ کے ذوق وشوق پر بھی پڑی ہے، خصوصاً ادب کا مطالعہ تقریبا معدوم ہوگیا ہے ۔ ادب عالیہ محض تفریح نہیں بلکہ بقول معروف دانشور سید حامد، ادب کا مطالعہ تہذیب و اخلاق کے گر سکھاتا ہے اور ذہنی افق کو بلند کرتا ہے۔اردو ادب ان خوبیوں سے مالا مال ہے۔ ہم جناب سدارمیاہ کو اس اردوشناسی کے لئے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں دیگر حکمراں بھی اس نکتہ پر توجہ دیں گے جو انہوں نے بیان کیا ہے۔

Karnataka Chief Minister Siddaramaiah has asked Bangalore police to start learning Urdu to understand how to be polite in speaking to the public.
Addressing a function to celebrate 50 years of Bangalore police and to mark the opening of a Rs 23-crore hi-tech traffic management centre in the city, he said buildings and equipment would amount to nothing if people did not feel secure.
"The police must learn to use the Urdu language to understand how to be polite. If they learn to use Urdu, they can win support of the people. You cannot use the same language with all people,'' Siddaramaiah said.
The Chief Minister asked the traffic police to curb speaking on phones while driving, jumping signals and other offences. "These are small issues but if small issues of law are addressed a lot of traffic problems can be solved. Even the educated take small liberties with traffic laws,'' he said.
Referring to the unplanned expansion of Bangalore, Siddaramaiah said: "Planned growth would not have caused these problems (of traffic jam).''

The Chief Minister said there was bound to be more crime as a city grows. "The police are doing a good job but they need to work harder. There is the recent ATM attack case, for example. The issue of security at ATMs should have been addressed before the attack,'' he said.

No comments: