Wednesday, January 22, 2014

BJP may get Muslim Vote if Shuns Anti-Muslim Policy

بل منظور نہ ہوئے تویو پی اے کی ساکھ اور گرے گی
بھاجپا اگرمسلم دشمنی ترک کردے تو اس کو بھی ووٹ دیا جا سکتا ہے: مسلم دانشور


علی گڑھ،:یونائٹیڈ مسلم آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مذاکرہ میں اس خیال کا اطہار کیا گیا کہ اگر بھاجپا مسلم دشمنی کی پالیسی ترک کردے تو اسے بھی مسلم ووٹ مل سکتا ہے۔ یہ مذاکرہ آئندہ پارلیمانی اجلاس میں متوقع طور پر پیش ہونے والے تین بلوں ۔۔ فرقہ وارانہ انسداد بل،وقف انخلاء بل اور خواتین بل ۔۔کے سلسلے میں منعقد ہوا۔مذاکرہ کا افتتاح کرتے ہوئے اے سی این گروپ آف اسنٹی ٹیوششنز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جاوید اختر نے کہا کہ یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہوسکتاہے ۔ اگر حکومت نے فرقہ وارانہ فساد انسداد بل اور وقف انخلاء بل پاس کرالئے تو یہ یو پی اے کے لیے بہتر ہوگا اور اس میں مسلمانوں کا اعتماد بحال ہوگا۔ جس پارٹی کی نیت ہمارے مخصوص مسائل کے سلسلے میں صاف ہو، ووٹ اسی کو ملے گا۔
یو پی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ صرف خانہ پوری کے لئے ایسے بل لانا جن میں خامیاں ہوں، مسئلے کو حل نہیں کرتے اس لئے ان میں کسی قسم کی جھول یا کمی نہیں رہنی چاہئے ۔ صدرجلسہ ڈاکٹر شکیل صمدانی نے کہا کہ یہ اس لوک سبھا کا آخری اجلاس ہوگا۔ چنانچہ یو پی اے بالخصوص کانگریس کو اپنی یقین دہائیوں کو پورا کرنے کا آخری موقعہ ہوگا۔اگر حکومت نے دیانت داری سے یہ بل منظور کرا لئے تو اس کی ساکھ بحال ہوسکتی ہے۔ خواتین ریزرویشن بل کے سلسلے میں انہوں نے کہا اگر اس میں اقلیتوں اور پسماندہ طبقوں کے لیے الگ سے کوٹانہ ہوا تو یہ سمجھا جائیگا کہ پارلمنٹ اور اسمبلی میں ان کی نمائندگی کو کم کی جارہی ہے ۔
مشہور سماجی اور ملی شخصیت ڈاکٹر جراررضوی نے کہا کہ یہ اجلاس نمائشی یا اسٹنٹ نہ ہوبلکہ زیرالتوابل پاس کروانے کا کام ہو ۔ انہوں نے الزام لگایا کانگریس اور بی جے پی عام آدمی پارٹی کو ناکام کرنا چاہتی ہیں اور میڈیا کے ذریعہ کیجری وال اور ان کی ٹیم کو بدنام کر رہی ہیں۔انکم ٹیکس بار ایسو سی ایشن کے نائب صدر راشد عثمانی ،ایڈووکیٹ نے مسلم ممبرانِ پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ پارٹی مفادات سے اوپر اٹھ کر ملی مفادمیں مذکورہ بالا بلوں کو پاس کروانے کی کوشش کریں ۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے سابق رکن پرویز علی خان نے کہا مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار بحال کرنے کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔علی گڑھ ادیوگ ویاپار پرتیندھی منڈل کے نائب صدر محمد اسلم انصاری نے کہا کہ اگر یہ بل پارلیمنٹ سے پاس نہیں ہوتے تو مشترکہ طور پر ہمیں دلی میں تحریک چلانی چاہئے ۔
ریٹائرڈ بینک آفیسر نجم عباسی نے کہا کہ جس طرح راجناتھ سنگھ نے آرٹیکل370پر ایک اطمینان بخش بیان دیا ہے اور سابقہ پالیسی سے انحراف کیا ہے اگر بی جے پی بابری مسجد ،یکساں سول کوڈ اور مسلمانوں کے تئیں فرقہ پرستانہ پالیسی چھوڑ دے تو مسلمان بھی اس کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں۔ سر سید اویئرنیس فورم کے رکن عبداللہ صمدانی نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

No comments: