Wednesday, December 25, 2013

Mulayam Statement on Riots Victims, Rahul's Visit Flayed


مظفرنگر فساد پر سیاست

سید منصورآغا، نئی دہلی
7اور 8ستمبر کو مغربی یوپی کے ضلع مظفرنگر اور اس سے کاٹ کر حال ہی میں بنائے گئے ضلع شاملی کے بعض گاؤوں میں سیاسی سازش کے تحت حیوانیت کے جو افسوسناک واقعات پیش آئے تھے اور جن سے متاثر ہوکر بہت سے دیگر گاؤوں کے بھی کوئی ایک لاکھ افراد اپنے گھروں سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے، ان کی مشکلات کا ابھی تک خاتمہ نہیں ہوا۔ ان واقعات کی شدید زد علاقے کی مسلم اقلیت پرتو پڑی ہی کہ ان کی سکون کی زندگی تباہ ہوگئی اور وہ گھر بدر ہوئے، لیکن یہ سمجھنا غلط ہے کہ اس کا ہندو جاٹ اکثریت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ یہ خطہ صدیوں سے امن اور بھائی چارے کا گہوارہ رہا ہے۔ان واقعات کے بعد باہمی اعتماد کی فضا مسموم ہوگئی۔ ہندو جاٹ بیشتر کاشتکار ہیں اور بیشتر مسلمان زرعی مزدور یا مختلف پیشوں سے وابستہ ہیں۔ چنانچہ کاشتکاری کا کام مسلم طبقہ کی معاونت سے ہی چلتا ہے۔ مگر مذہب کی بنیاد پر ارتکازی سیاست کا جو کھیل کھیلا گیا اس سے جہاں مسلم اقلیت خوفزدہ ہوکر گھروں سے نکل بھاگی ،وہیں کاشتکار اس افرادی قوت سے محروم ہوگئے ہیں جن کے دم سے ان کے کھیتوں میں رونق رہتی تھی۔اس لئے عام ہندوجاٹوں میں، جو فطرتاً غیر فرقہ پرست ہیں، یہ بات چل پڑی ہے کہ جوہوا وہ برا ہوا، جو مسلمان گاؤں چھوڑ کر چلے گئے ،ان سب کو واپس آجانا چاہئے۔ علاقے کے کچھ سنجیدہ ہندؤوں اور مسلمانوں نے مسلسل کوششیں کیں، چنانچہ بیشتر لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے گئے ہیں ،تاہم چندہزار افراد مختلف وجوہ سے واپس جانے پر آمادہ نہیں اوررلیف کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان میں کچھ تو وہ متاثرین ہیں جن کا جانی اور مالی نقصان ہوا ، ان کے گھر یا تو تباہ و برباد ہوئے یا شورہ پشتوں نے ان پر قبضہ کرلیا یا ان کی آبادی گاؤں میں بہت کم تھی اور مقامی فرقہ پرست عناصر سے وہ خوف زدہ ہیں۔یادو سرکار کی پولیس ان کو تحفظ فراہم نہیں کرارہی ہے۔ کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے قتل، آتش زنی اور آبروزیری کے واقعات کی رپورٹیں درج کرائی ہیں اور ان میں گاؤں کے ہی لوگ نامزد ہیں۔ پولیس کاروائی نہیں
Congress V.P. Mr. Rahul Gandhi interacting riot victims at a camp 
کررہی ہے، چنانچہ مستقل خوف اور دشمنی کی فضا پید اہوگئی ہے۔
اترپردیش میں ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ فسادات کے بعد قائم ہونے والے مقدمات کا عموماًکوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ۔ مظلوم نہ تو مقدموں کی پیروی مستعدی سے کرپاتے ہیں اور نہ ان کو گواہ ملتے ہیں۔ جب کہ فرقہ پرستی کی پشت پناہی کرنے والے ان کے خلاف مستعد ہوتے ہیں اورعدالتوں میں ان کے رسوخ ہوتے ہیں۔ چنانچہ کئی معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ مظلوم پر ہی مختلف الزامات لگاکر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ بات منطقی ہے کہ ظلم کرنے والوں کو سزادلائی جائے ،مگر عملاً یہ ممکن نہیں ہوپاتا تاوقتیکہ کوئی ایسی صورت نہ ہو جیسی سپریم کورٹ کی نگرانی میں گجرات میں ہوئی۔ بصورت دیگر ان کوششوں کا نتیجہ خراب ہی نکلتا ہے۔خصوصاً یادؤں کی سرکار کا ریکارڈ اس معاملے بہت ہی خراب ہے۔ میرٹھ میں ہاشم پورہ اورملیانہ کے مقدمات اس کے گواہ ہیں۔ اس لئے اگر کچھ لوگ یہ مشورہ دے رہے ہیں یا مطالبہ کررہے ہیں کہ ایف آئی آر واپس لی جائیں، تو امن اور سلامتی کے وسیع تر مفاد میں،میرٹ کے مد نظر ہر کیس پر الگ الگ غور کیا جانا چاہئے تاکہ کوئی ایسی سبیل نکالی جاسکے کہ پولیس اور مقامی آبادی ان کوتحفظ کی گارنٹی دے اور متاثرین باعزت اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔
راہل گاندھی کا دورہ
Some locals stopped Rahul's Car to enter Kandhla riots victims camp
انسداد فسادات بل کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دئے جانے کے بعد کانگریس کے نائب صدرراہل گاندھی اچانک اس علاقے میں پہنچے اور ملک پور، گھرگاؤں، برناوی اورسنہٹی کے کمپوں کا دورہ کیا۔وہ کاندھلہ بھی گئے جہاں ان کو ایک چھوٹے سے گروپ کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ تو یہ ہے کہ یہ لوگ راہل گاندھی کے اس غیردانشمندانہ بیان کا حوالہ دے رہے تھے جس میں انہوں نے دعوا کیا تھا کہ آئی ایس آئی اس خطے میں سرگرم ہے اور فساد متاثرین پر ڈورے ڈال رہی ہے۔اس بیان کی اتنی مذمت ہوچکی ہیکہ اب اس حوالے سے ان کا راستہ روکنے میں کوئی معقولیت نہیں تھی۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ ان کی موجودگی کا فائدہ اٹھاکر ان کو وہاں کے حالات سے آگاہ کیاجاتا ، تاکہ مرکزی حکومت تک پہنچتی۔ بات چیت کے دوران اگر اس بیان پر اپنے ردعمل سے بھی آگاہ کردیا جاتا تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ ہماری یہ تہذیب نہیں ہے کہ گھرآئے ہوئے مہمان کی بات نہ سنی جائے اور بے عزتی کرکے دروازے سے لوٹا دیا جائے۔ معلوم یہ ہوا ہے کہ اس بیہودگی میں کچھ ایسے لوگ محرک تھے جو مقامی سطح پر اپنی برادری میں اپنا سیاسی قد بڑھانا چاہتے ہیں۔ان لوگوں نے اکھلیش یادو کی آمد کے موقع پر ایسی ہی حرکت کرنی چاہی تھی مگر کر نہیں سکے تھے۔ بدقسمتی سے گاؤں کی گلیوں سے لیکر پارلیمنٹ کے گلیاروں تک اب یہ وبا عام ہورہی ہے کہ بات نہ سنو، ہنگامہ کرو اور عقل و دانش کا مظاہرہ کرنے کے بجائے دھینگا مشتی میں اپنی جیت جانو۔ اس کی مذمت کی جانی چاہئے۔

دورے پرسیاست

راہل کے اس دورے پر ملائم سنگھ یادو کا جو بیان آیا ہے وہ ان کی گھٹیا سوچ کا مظہر ہے۔ پارلی منٹ کے رواں اجلاس کے دوران ان کمپوں میں سردی سے بڑی تعداد میں بچوں کی اموات پر ہنگامہ ہوچکا تھا۔ میڈیا نے کمپوں کی زبوں حالی کی تصویر یں پیش کی تھی۔مگر ملائم سنگھ کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ خود جاکر صورتحال دیکھ لیتے۔ اب راہل کے دورے پر وہ چراغ پا ہیں ۔یہ صحیح ہے کہ کانگریس نے بحیثیت ایک تنظیم فسادزدگان کے لئے کبھی کوئی رلیف نہیں بھیجی۔ لیکن اس میں کیا حرج ہے کہ راہل گاندھی نے کمپوں میں جاکر بجشم خود ان کا حال دیکھا، متاثرین سے باتیں کیں، ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی۔ اس کے بعد انہوں نے اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے کمپوں کی حالت کا انتہائی خراب بتایا جن میں بچے مررہے ہیں۔ اکھلیش یادو کو مشورہ دیا کہ وہ خود اس پر توجہ دیں اور لوگوں میں مفاہمت کرائیں تاکہ باقی ماندہ لوگ گھروں کو واپس جا سکیں۔ انہوں نے کیمپوں میں پڑے ہوئے لوگوں کو بھی گھرواپس جانے کی تلقین کی اور کہا کہ اگر آپ واپس نہیں جاتے تو اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھائیں گے جنہوں نے فساد کرایا۔‘‘ اس میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جس پر ملائم بھڑک اٹھے۔
راہل گاندھی ایک سیاسی لیڈر ہیں اس لئے یہ کہنا فضول ہے کہ ان کا یہ دورہ سیاسی تھا۔ اکھلیش نے ان کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئیمعقول انداز اختیار کیا اور کہا:ہرشخص یہ چاہتا ہے کہ یہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ہم نے ان کی ہر طرح سے مدد کی اور ہم کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی بھی سیاسی پارٹی کوئی مشورہ دیتی ہے تو ہم اس پر توجہ دیں گے۔ اگر راہل کو متاثرین سے کوئی تجویز ملی ہے یا ان کے پاس کوئی تجویز ہے ،ہم اس پر بھی غورکرنے کو تیار ہیں۔ ہم خود بھی مفاہمت کا ماحول بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہر کوشش کا خیرم قدم کرتے ہیں۔‘‘
Women told Rahul there pathetic condition in a camp in Shamli
اس کے برخلاف ملائم سنگھ یادو نے لکھنؤ میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ کمپوں میں جو لوگ رہ رہے ہیں وہ فسادزدگان نہیں ہیں۔بلکہ کانگریس اور بھاجپا کے آدمی ہیں، جو ہمیں بدنام کررہے ہیں۔ انہوں نے راہل گاندھی اور کانگریس کارکنوں پر الزام لگایا کہ وہ لوگوں کو ورغلارہے ہیں کہ وہ اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں، تاکہ آئندہ پارلیمانی الیکشن میں اس کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ‘مسٹر یادو نے گھٹیا سیاسی زبان کا استعمال کرتے ہوے یہاں تک کہہ دیا کہ راہل چوروں کی طرح رات میں وہاں گئے، اور یہ کہ جب فساد ہورہا تھا تو وہ کہاں تھے؟ ملائم سنگھ نے دعوا کیا کہ ہم نے جتنا کچھ فساد متاثرین کی مالی امداد کی اتنی کبھی نہیں ہوئی۔ انہوں نے مولانا ارشد مدنی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ وہ گواہ ہیں، جو کچھ انہوں نے کہا ہم نے مان لیا۔‘‘ 
ملائم سنگھ کے اس بیان پر کئی مسلم قائدین کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے البتہ مولانا ارشد مدنی صاحب اور ظفریاب جیلانی صاحب ملائم سنگھ کے بیان کی تائید کی ہے۔ ہم اپنی ذاتی معلومات کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ متعدد کیمپوں میں مختلف وجوہ سے اب بھی ہزاروں فساد متاثرین پڑے ہوئے ہیں اوریادوسرکار ان کی خبرگیری میں کوتاہی برت رہی ہے۔ اس کو یہ فکر بھی نہیں کہ ان لوگوں کی گھر واپسی کا بندوبست کیا جائے۔ ملائم سنگھ یادہ کا یہ بیان ان کو بوکھلاہٹ کا مظہر ہے۔ اس فساد نے ان کی پارٹی کی مقبولیت کو خاک کوملادیا مگر وہ اب بھی وزیراعظم بن جانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اس میٹنگ میں بھی کہا ’’میں کوئی سادھو نہیں ہوں، میں بھی وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہوں۔‘‘

ایک دوسرا پہلو

ان فسادات کے بعد صاحب خیر افراد نے بڑی مقدار میں رلیف کا جو سامان اور نقدی ان کمپوں میں بھیجی،بعض جگہ سے ان میں کثیرمقدار میں خورد و برد کئے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔ باخبر اور ثقہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر رلیف کی وہ ساری رقم اور سامان متاثرین میں تقسیم ہوجاتا جو صاحب خیر افراد نے بھیجا تو سرکاری امداد کے لئے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔اسی لالچ میں بعض کمپوں کے منتظمین نہیں چاہتے کہ کیمپ پوری طرح خالی ہوجائیں۔ یہ ایک انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک صورتحال ہے کہ منتظم حضرات عوام کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں اور اپنی بددیانتی سے اپنے لئے جہنم بھی کمارہے ہیں۔اللہ تعالی ان کو سچی توبہ کی توفیق دے۔ آمین۔

No comments: