Tuesday, December 3, 2013

Make second Marriage legal in stead of Lagitemising Immorality of "Live-in-relationship"


’لیو ان رلیشن‘نہیں دوسری شادی کو جائز کیجئے


ہندی لغت میں ’ رکھیل ‘ اور’ سرے تِن‘ عورت کے لئے آیا ہے جو بغیر باضابطہ شادی بیوی کی طرح رکھ لی جائے۔ اس کو ’اُپ پتنی‘ یعنی ’ضمنی بیوی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ کسی ہندودھرم شاسترمیں ایک سے زیادہ شادی کی ممانعت نہیں ، بلکہ کثرت ازدواج کی بیشمار روایات موجود ہیں، مگر مغربی ذہنیت زدہ حکام نے جب ہندوکوڈ بل بنایا تو اس میں دوسری بیوی رکھنے کو جرم قرار دیدیا۔ لاء کمیشن نے اپنی رپورٹ نمبر 227( اگست 2009) میں، جس کا مسودہ ڈاکٹر طاہر محمود نے تیار کیا تھا، اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ بعض حالات میں مرد کے لئے دوسری عورت کا رکھناناگزیر ہوتا ہے، اس لئے قانون پر نظر ثانی ہونی چاہئے۔ ہونا یہ چاہئے کہ استثنائی حالات میں قانون دوسری شادی کی اجازت دے۔ مگر اب ہویہ رہا ہے کہ عدالتیں ’رکھیل‘ کو ’لیو ان رلیشن‘ کا نام دے کر جائز قرار دینے پرآمادہ ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں علیحدہ کئے جانے کی صورت میں ایسی عورتوں کی زبوں حالی اوران سے پیداہونے والے بچوں کی کسمپرسی پر تشویش ظاہر کی ہے اور مرکز سے کہا ہے کہ وہ ان کے حقوق کے لئے قانون بنائے۔ مگر کھنڈوا کی ایک عدالت نے اس سے دوقدم آگے بڑھ کر ایک ایسی ہی خاتون کواصلی بیوی کے ساتھ گھر، گرہستی اور شوہر میں برابر کا شریک بنادیا ۔ دونوں ایک ہی گھر میں رہیں گی، مرد 15-15دن دونوں کے پاس رہیگا۔ دونوں کواس کی منقولہ اور غیرم منقولہ املاک میں برابر کا حق ہوگا۔ دونوں کے بچے بھی ترکے میں حصہ دار ہونگے۔ قانون کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اگریہ شخص اپنے رسم ورواج کے مطابق یا سول ایکٹ کے تحت اس دوسری عورت سے شادی کرلے، تو سزا کا مستحق قرار پائیگا اور جیل جائیگا۔ ’لیو ان رلیشن ‘کے نام پر کس چیز کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے؟ یہی نہ کہ بغیرجائز شادی جنسی تعلق کو قبولیت بخشی جائے اورازدواجی زندگی کو اسی طرح مسخ کردیا جائے جس طرح مغربی معاشرے میں ہورہا ہے ؟ 
ہمارا دین اورہمارا ضمیر ایسے ’ضمنی‘ رشتوں کو گمراہی، سخت گناہ اور حرام قراردیتا ہے ۔ ہم ایسی گمراہی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ہمارا دین ہی نہیں، تمام مذاہب اور ہمارے ملک میں مروجہ رسم و رواج اوراقداربغیر شادی جنسی رشتوں کو گناہ اور عیب تصورکرتے ہیں۔ کسی عدالت کویہ کہنے کا حق نہیں کہ ایسا رشتہ ’گناہ ‘کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالتوں کو اخلاقی معاملات اور گناہ و ثواب پررائے زنی سے گریز کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے ہماری عدلیہ میں جنسی رشتوں میں تقدس کے قدیم نظریہ کے خلاف رجحان پنپ رہا ہے، اسی لئے جسٹس گانگولی جیسے کیس سامنے آرہے ہیں۔ بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ بعض دانشور اس کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ ان کو انسانی حقوق کمیشن ، مغربی بنگال کے چیرمین کے منصب سے استعفا دینے کی ضرورت نہیں۔
اس مسئلہ کا سادہ سا حل یہ ہے سرکار یہ تسلیم کرے کہ ’یک زوجگی ‘ کا اصول ناقص اور ناقابل عمل ہے۔ یہ قانون بے حیائی اور ظلم کے دروازے کھولتا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے بعض حالات میں ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کی اجازت ہونی چاہئے۔ البتہ بیویوں کے حقوق انصاف کے ساتھ ادا ہوں۔

No comments: