Sunday, December 29, 2013

Mahmood Madani-Modi, Arshad Madani-Mulayam rapport analysed


A front page article published in Jadid Khabar, 29 Dec, 2013
مراسلہ
مودی ، ملائم اور مدنی 
مکرمی ایڈیٹر صاحب، روزنامہ جدید خبر، نئی دہلی
’جدید خبر‘ شمارہ 29دسمبر کے صفحہ اول پر آپ کی تحریر کردہ رپورٹ بعنوان ’ ’محمود مدنی مودی کی اور ارشد مدنی ملائم سنگھ کی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں‘پڑھ کر کچھ حیرت نہیں ہوئی۔ اگرچہ محمود مدنی والی رپورٹ غیر مصدقہ ہے اورجن اخباروں میں یہاں شائع ہوئی ان پر کچھ زیادہ اعتبار نہیں کیا جاسکتا تاہم کیونکہ اس کی کوئی تردید پریس میں نظر نہیں آئی اس لئے اس کو مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ جب کہ مولانا ارشد مدنی والی اطلاع مصدقہ ہے، کہ اس کے آپ خود شاہد ہیں اور قرین قیاس بھی ہے۔ 
مودی اور ملائم سنگھ دونوں وزیراعظم کا منصب حاصل کرنے کے لئے جوڑ توڑ کررہے ہیں ۔ان دونوں کو ہی مسلم ووٹوں کی درکار ہے اور وہ جانتے ہیں کہ نمایاں مذہبی افراد پرعوام اعتماد کرتے ہیں (کرنا بھی چاہئے) اس لئے ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسی نمایاں شخصیات کو خوش رکھیں ۔ اگر ان کی تائید حاصل ہوجائے تو کیا کہنا ،اور اگر حمایت نہ بھی کرسکیں مگر اخلاقی دباؤ میں مخالفت سے رکے رہیں، تو بھی فائدہ ہی ہے۔اس لئے ان کو مراعات دے کر اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ بعض مذہبی شخصیات تو اس اثر رسوخ کو عوام کے حق میں استعمال کرتی ہیں جب کہ اکثریت جو نما گندم فروشوں کی ہے اور وہ صرف اپنی ذات، اپنی جماعت اور اپنے اداروں کے لئے مراعات کشید کرنے میں لگی رہتی ہیں ۔عوام کو عقیدت مندی میں دھوکہ کھا جاتے ہیں ، اس لئے سیاسی معاملات میں عقیدت مندی سے بلند ہوکر فیصلہ کرنا چاہئے کہ کونسا رہنما مذہب کے نام پر تجارت کررہا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کو ذاتی، خاندانی یا جماعتی مفادات کے لئے استعمال کررہا ہے اور کون واقعی عوام کے دکھ درد میں شریک ہے۔ 
اس صورت حال کے علی الرغم ہمارے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلمانوں کے کھلے دشمن مودی اور دوغلے دوست ملائم سنگھ ،دونوں ہی مدنی چچا بھتیجے کو سرکاری مہمان بناتے ہیں۔دیکھنا یہ چاہئے کہ مودی اور ملائم کی ضیافت قبول کرنے والے اس قربت سے اپنی اغراض کو پورا کرتے ہیں یا اس سے ملک اور ملت کی دشواریوں کو حل کرانے میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ شاہد ہے کہ آپ نے بڑے سے بڑے دشمن اسلام و امت سے ملاقات میں گریز نہیں فرمایا ۔ اگر نیت اسی سنت پر عمل کرنا ہے تو یہ چچا بھتیجے مودی اور ملائم کی گاڑی میں ہی نہیں ان کی گود میں بھی بیٹھ جائیں تو مستحق گردن زدنی نہیں، یوں تو نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے ، مگر نیت کرنے والوں کے حال اور ماضی سے تو عوام واقف ہیں، ان کو اپنی آنکھیں بیشک کھلی رکھنی چاہئیں۔ 
جہاں تک محمود مدنی صاحب کا تعلق ہے، ہمارا گمان یہ ہے کہ وہ مودی کی حمایت اور تائید کی غلطی نہیں کریں گے۔مودی کسی فرد کا نام نہیں بلکہ وہ ایک شجر کی شاخ ہیں جس کا نام آر ایس ایس ہے اوراس کی نظریاتی بنیاد اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ عناد اور دشمنی پر قایم ہے۔ جہاں تک ملائم سنگھ کا تعلق ہے، ان کو بھی جو لوگ مسلمانوں کا ہمدرد گردانتے ہیں، سخت دھوکے میں ہیں۔ سیاسی فائدے کے لئے وہ کیلان سنگھ سے دوستی کرسکتے ہیں تو مودی سے کیوں نہیں کرسکتے۔ یہ بات بھی واضح ہے وہ آج کل مولانا ارشد مدنی صاحب پر بڑے مہربان ہیں۔ ملائم سنگھ نے خود کہا ہے کہ مولاناارشد مدنی نے جو کچھ فرمایا ہم نے کردیا ہے۔ مولانامحترم کا رجحان و میلان بھی ملائم سنگھ کی طرف صاف نظرآتا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ امکان کم ہے مولانا کے اس رجحان کی بدولت وعدہ خلاف ملائم سنگھ کے بارے میں یو پی کے مسلمانوں کی رائے میں کوئی بہتری آئے گی۔ اس کے باوجود تعلقات کی اس استواری پر بدگمانی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہونی چاہئے۔ اگر یہ رسم و راہ کسی نیک مقصد کے تحت ہے تو خوب ہے اور اگرذاتی اغراض کے تحت ہے تو فیصلہ جلد ہوجائیگا۔
آپ نے تحریر کیا ہے کہ’’ حال ہی میں جب ملائم سنگھ یادو نے رلیف کیمپوں میں رہنے والے لوگوں کے بارے میں یہ کہا کہ وہ فساد متاثرین نہیں بلکہ کانگریس اور بھاجپا کے آدمی ہیں تو مولانا ارشد مدنی نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔‘‘ یہ مشاہدہ صحیح نہیں ہے۔ 26دسمبر کے ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ میں جہاں متعدد مسلم لیڈروں کے مذمتی بیان شائع ہوئے ہیں وہیں اس میں لکھا ہے: 
Amid the criticism, Mulayam got support from Arshad Madani, President of Jamiat Ulema-e-Hind. He said, \"It is true that no victims of communal riots are left in relief camps. Now only those are living who are afraid and all others are living unnecessarily.\"
مذمت کے درمیان ملائم سنگھ کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی سے تائید حاصل ہوئی ہے۔ مولانا نے کہا ہے: ’ یہ حقیقت ہے کہ اب رلیف کیمپوں میں کوئی فساد زدہ نہیں رہا ہے۔ اب صرف وہی لوگ ان میں ہیں جو خوفزدہ ہیں ۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو غیرضروری طور سے رہ رہے ہیں۔‘‘ اسی رپورٹ میں یہی بات مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن ظفریاب جیلانی ، ایڈوکیٹ کے حوالے سے بھی کہی گئی ہے۔ ہماری اطلاع یہ ہے ان دونوں صاحبان نے جو بات کہی ہے وہ صرف جزوی طور درست ہے۔ یہ درست ہے کچھ لوگ امداد کی لالچ میں فسادزدہ بن کر کمپوں میں پڑے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے گاؤوں میں کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔ اطلاعات یہ بھی مل رہی ہیں کہ بعض کیمپ منتظمین ان کو مزید امداد دلانے کا لالچ دلا کر روکے ہوئے ہیں اور خو د بھی امداد سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔لیکن یہ بات درست نہیں ان میں کوئی فسادزدہ باقی نہیں ہے۔ جولوگ خوف کے مارے گھروں کو واپس نہیں جارہے ہیں کیا وہ فساد سے ہی متاثر نہیں ہیں؟ ان کی بحفاظت واپسی کا بندوبست ہونے تک ان کو بھی فسادزدہ ہی کہا جائیگا۔ لیکن اب ماحول کافی بدل چکا ہے۔ خوفزدہ لوگوں کو گھر واپسی کے لئے آمادہ کیاجانا چاہئے اور یہ کام مولانا ارشد مدنی اور ان کے متعلقین بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔رہے وہ لوگ جوجھوٹ موٹ فساد زدہ بن کر آپڑے ہیں ،وہ بھی مدت سے بیروزگار ہیں، اس لئے ایک حد تک امداد کے مستحق ہیں۔ سردی اور امراض کی مار سے بچنے کے لئے حکومت کو ان کی بھرپور طبی امداد فراہم کرنی چاہئے۔ یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کوئی شخص، چاہے فساد زدہ ہو یا نہ ہو، اگر اس کے پاس سردی سے بچنے کا سادھن نہیں تو فراہم کیا جائے ۔یہ لوگ کئی ماہ سے بے روزگار بھی ہیں اس لئے ان کو راشن بھی فراہم کیا جانا چاہئے۔ساتھ ہی سماج کی ذمہ داری ہے کہ وہ کیمپ مافیاؤں کو امدادی سامان پر ہاتھ صاف کرنے سے باز رکھیں، اور مفت خوروں کی حوصلہ افزائی نہ ہونے دیں۔
سید منصور آغا
ابوالفضل انکلیو،جامعہ نگر نئی دہلی۔

No comments: