Wednesday, December 18, 2013

Indian Woman Diplomat Handcuffed, Stripped and Cavity Searched in New York

ہندستانی خاتون سفارتکارسے امریکا میں بیہودگی
امریکا میں ہندستان کی ایک سینئرخاتون سفارتکار دوے یانی کھوبراگڑے کونیویارک میں ایک ہندستانی گھریلو ملازمہ کی شکایت پر وزارت خارجہ سے متعلق پولیس نے اس وقت گرفتارکرلیا جب وہ اپنے بیٹی کو اسکول چھوڑنے جارہی تھیں۔ ان کو سرراہ ہتھکڑی لگائی گئی توانہوں نے اپنے سفارتی رتبہ کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاج کیا ۔اس پر ان کو اس پولیس کے حوالے کردیا گیا جس کو مارشل کہا جاتا ہے اور جو عام طور سے سفاک جرائم پیشہ ملزمان سے نمٹنے کے لئے تربیت یافتہ ہوتی ہے۔ فطری طور سے یہ ملزم کے ساتھ کرخت رویہ اختیار کرتی ہے اور اس کا حوصلہ پست کرنے کے لئے تلاشی کی نام پر اس کو ننگا کردیتی ہے اور اس کی شرم گاہوں تک میں آلات ڈال کر تلاشی لیتی ہے کہ وہاں کچھ چھپا تو نہیں رکھا۔ چنانچہ اس نے دیوے یانی کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا۔ تھانے لیجاکر ان کو برہنہ کردیا اور مقام بول وبراز میں آلات ڈال کر اندر جھانک کر دیکھا۔ان کوجرائم پیشہ ملزمان کے ساتھ کھڑا رکھا گیا اور اسی کوٹھری میں ڈال دیا گیا جس میں نشہکے عادی اور جسم فروشی کا دھندہ کرنے والے قید تھے۔بعد میں عدالت نے ان کو ڈھائی لاکھ ڈالر کی ضمامت پر چھوڑا۔ 

نیویارک کے قونصل خانے میں نائب قونصلر جنرل کے منصب پر فائز ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ہندستان سے ایک گھریلو ملازمہ کو ساتھ لیجانے کے لئے اس کی ویزا درخواست میں فریب سے کام لیا۔ اس کی تنخواہ 4500ڈالر دکھلائی تھی جب کہ صرف 600ڈالر ماہانہ اجرت دے رہی تھیں۔ کہا گیا کہ اتنی کم اجرت نیویارک کی سرکاری شرح سے بہت کمہے اور یہ امریکی قانون کے مطابق ویزاکے لئے غلط بیانی سنگین جرم ہے جس کی سزا 15تک قید ہے۔ چنانچہ ان کے ساتھ جرم کے مطابق کاروائی کی گئی۔ 
دے ویانی نے اگر کوئی قانون شکنی کی بھی تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے ساتھ ایسا بیہودہ رویہ اختیار کیا جاتا۔ضابطہ میں اس کی اطلاع ہندستانی سفارت خانے کو دی جانی چاہئے تھی ۔ اور حکومت ہند ان کے خلاف مناسب کاروائی کرتی۔ مگر امریکا کہتا ہے جرم کے خلاف کاروائی کرنے کا اس کو حق ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ میں کسی ہندستانی خاتون سفارت کار کے ساتھ نازیبا سلوک ہوا ہو۔ ہندستان کے احتجاج پرپہلے تو امریکا نے صاف کہہ دیا کہ پولیس نے قاعدے قانون کے مطابق کاروائی کی۔مگراب جب نئی دہلینے امریکی سفارت کاروں کو دی جانے والی مراعات کو واپس لینا شروع کیا تو امریکا کا کچھ ہوش آیا ہے اور جانچ کا وعدہ کیا ہے۔ یہ وعدہ ناکافی ہے ۔امریکا کی اس نازیبا حرکت سے پورے ملک میں شدید غم و غصہ ہے اور پارلیمنٹ میں اس پر ایک آواز ہوکر کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 
امریکی پولیس کے اس رویہ سے ظاہرہوتا ہے دنیا بھر کو انسانی حقوق کا سبق سکھانے والا ملک طاقت کے زعم غیرملکیوں کے ساتھ کس قدر وحشی رویہ اختیارکرتا ہے اور عورت ذات کی اس میں کیا جگہ ہے؟ امریکا کے اس زعم ناروا کے ردعمل کے طور پر حکومت ہندجو کاروائی کررہی ہے وہ حق بجانب ہے۔ سرکار کو یشونت سنہا کے اس مشورے پر بھی عمل کرنا چاہئے کہ امریکی سفارتخانے کے ہم جنس پرست عملے کے ساتھیوں کا ویزا منسوخ کرنا چاہئے کیونکہ سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانوناً جرم قرار دے دیا ہے۔
اس واقعہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اعلا سفارتی منصب پرفائز ہونے کے باوجود اگر دے ویانی نے قانون شکنی کی ہے توکیوں کی؟ دراصل قانون کے بے توقیری ہندستانی حکام کا مزاج بن چکی ہے۔ یہ مزاج جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے اخلاقی دیوالیہ پن کا مظہر ہے۔یہ تعلیم انسان کودولت کمانے کی مشین تو بنادیتی ہے، مگرقانون کا احترام کرنا نہیں سکھاتی، اس کو صاحب کردار اوربااخلاق نہیں بناتی۔ عجب اتفاق کہ یہ گرفتاری ایک ہندستانی نسل کے عدالتی افسر (اٹارنی) پریت بھرارا کے حکم پر ہوئی۔ بھرارا پنجابی ہیں اورفیروز پور میں پیداہوئے تھے جبکہ دے ویانی مراٹھی ہیں اور ان کا خاندان ممبئی میں رہتا ہے ۔
گرفتار ملزموں ساتھ امریکا ہی نہیں تمام یورپی ممالک اور بعض عرب ممالک میں جو درندگی برتی جاتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ یہ ممالک سمجھتے ہیں جرائم پر قابوپانے کے لئے جرم کے شک میں گرفتارافراد کے ساتھ ہرطرح کا رویہ روا ہے حالانکہ قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔اسلامی تعلیمات انسان کا احترام کرنے کی تلقین کرتی ہیں، چاہے وہ کیسا ہی شاطر مجرم کیوں ہو۔حتٰی کہ میدان جنگ میں حریفوں کی لاشوں تک کی بے حرمتی منع ہے۔(ختم

No comments: