Tuesday, December 3, 2013

Article 370 and Modi's Ignorance


آئین کی دفعہ 370اور مودی کی بے خبری

ہندستان کے دستور کے مطابق لوک سبھا میں اکثریت کا لیڈر وزیراعظم اور اسمبلی میں اکثریت کا لیڈر وزیراعلامقرر کیا جاتا ہے۔چنانچہ منتحب ممبران کا ہی یہ آئینی حق ہے کہ وہ وزیراعظم اور وزیر اعلا کا انتخاب کریں۔ لیکن کیونکہ بھاجپا دستوری نظام میں یقین نہیں رکھتی، اس لئے رائے عامہ کو ورغلانے کے لئے وہ چناؤ سے پہلے ہی اپنے وزیراعظم اور وزیراعلاکے امیدوارکا اعلان کردیتی ہے۔ اس مرتبہ اس نے وزیراعظم کے منصب کے لے ایک ایسے شخص کا نام اچھالا ہے جو اچھل کود کے سوااور کچھ نہیں جانتا۔ آئین کی دفعہ 370پر اس کا حالیہ بیان پڑھ کر نریش اگروال کی وہ پھبتی ذہن میں تازہ ہوگئی جو انہوں نے مودی کے ماضی کے حوالے سے کسی تھی۔ مودی کو معلوم ہی نہیں کہ دفعہ 370کیا ہے اور اس کو کیوں ختم نہیں کیا جاسکتا؟اس کو ختم کرنے کا مطلب آئین کی بنیادی ساخت میں تبدیلی ہوگی جو سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے ممکن نہیں۔ مودی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کشمیر کا باضابطہ ایک معاہدے کے تحت ہند کے ساتھ الحاق ہوا ہے،دیگر دیسی ریاستوں کی طرح انضمام نہیں ہوا ہے۔اس معاہدے کو بدلا نہیں جاسکتا۔ بھاجپا کو ساری تکلیف اس بات کی ہے کہ اس دفعہ کی وجہ سے کشمیر میں دیگر اقوا م کے لوگوں کو لیجاکر نہیں بسایا جاسکتا اور اس طرح اس کی موجودہ اکثریت کو اقلیت کو میں
تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
 مودی کو یہ بھی معلوم نہیں مرکزمیں این ڈی اے کے برسراقتدار آتے ہی
سنگھیوں کے مطالبہ پر ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا ،جس کے سپرد آئین میں تبدیلیاں تجویزکرنا تھا۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تبدیلیوں کی تجاویز کو مسترد کردیا تھا ،جن کا مطالبہ بھاجپاکرتی رہتی ہے، ان میں دفعہ 370کا کاالعدم کیا جانا بھی شامل تھا۔مودی کے اس بیان پر کشمیر نے ایک آواز ہوکر ان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ وزیراعلا عمر عبدللہ نے کہا ہے کہ مودی ’یا تو حقائق سے ناواقف ہیں یا جھوٹ بول رہے ہیں۔ ‘ہمارا مشاہدہ ہے کہ مودی میں یہ دونوں صفات موجود ہیں۔ وہ حقائق سے ناواقف ہیں اور غلط بیانی سے کام لینے کے عادی ہیں۔ان کا نظریہ قومی سطح کا نہیں ۔ ان کی تقریروں کامعیار پست ہے اور اس سے قومی سیاست کا وقار گرا ہے۔ جن لوگوں نے ان کو اپنا لیڈر چنا ہے، ان کے بارے میں کیا کہاجائے؟ ان کی پسند بھی دروغ گوئی ،عدم واقفیت اور پست ذہنیت ہی ہے۔ان کو قوم کاوقار نہیں بلکہ اقتدار عزیز ہے۔(ختم)

No comments: