Tuesday, November 26, 2013

Kashi Ram Medical College, Renaming after Sheikhul Hind Unwise

میڈیکل کالج کے نام کی تبدیلی، یادو سرکار کی بے تدبیری

دارلعلوم دیوبند کے ایک سینراستاد کے نمایاں فوٹو کے ساتھ نصف صفحہ کا ایک اشتہاربعنوان ”تبریک و تحریک“ دہلی کے متعدد اخباروں کے صفحہ اول پر شائع ہوا ہے، جس پر کئی لاکھ روپیہ خرچ کا اندازہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موصوف کی جہد مسلسل سے متاثرہوکر یادو سرکارنے سہارنپور میں زیر 
تعمیر میڈیکل کالج کا نام شیخ الہند مولانا محمود حسن میڈیکل کالج کردیا ہے۔ ’جامعہ اسلامیہ للبنات، دیوبند‘ کی جانب سے شائع اشتہار میں اس ’کارنامہ‘ پرمذکورہ محترم استاد اوراس عنایت پر یادو سرکار کو تہنیت پیش کی گئی ہے۔
اس میڈیکل کالج کا آغاز مایاوتی کے دورمیں ہوا تھا اور اس کا نام ”شری کاشی رام ایلوپیتھک کالج“رکھا گیا تھا۔نام کی اس تبدیلی کا منشا ظاہر ہے مسلمانوں کو بہلانا پھسلانا ہے، مگر یہ صاف نظرآتا ہے کہ یہ نام کی یہ تبدیلی کاشی رام جی کی پیروکاربرادریوں کو شاق گزرے گی۔ جس طرح اپنی بے تدبیری اور بے حسی سے یادو سرکار نے علاقے کے مسلمانوں اور اکثر جاٹوں میں گہری خلیج  پیدا کردی ہے، کیامنشا یہ ہے کہ ویسی ہی خلیج مسلمانوں اور کاشی رام کی پیروکار برادریوں میں بھی پیدا کردی جائے؟
 حیرت اس بات پر ہے کہ حضرت شیخ الہند جیسی برگزیدہ شخصیت سے وابستگی رکھنے  والے،اس تجویز پر کیسے آمادہ ہوگئے کہ کاشی رام کے نام سے منسوب زیر تعمیر ادارے پر شیخ الہند کا نام چسپاں کردیا جائے؟یہ تجویز ہماری دینی حمیت، قومی غیرت اور ہمارے سیاسی مفاد کے قطعاً منافی ہے۔ اس سے ان زخموں پر نمک پاشی ہوگی جو مظفرنگر وشاملی میں مسلمانوں کو لگائے گئے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو ایک کالج کا کیا اگر پورے ضلع کا نام بھی بدل کر کسی مسلم ہستی کے نام کردیں تب بھی ہماری ماں بہنوں کی عصمت دری،گھروں کی آتش زنی، گھر بدری اور قتل و غارت گری کی تلافی ممکن نہیں۔ ملائم سنگھ یادو اور ان کے متوسلین جان لیں کہ دیوبند، سہارنپور، میرٹھ، مظفرنگر، شاملی اور باغپت کے مسلمانوں کو ان حربوں سے خریدانہیں جاسکتا۔  
ایک سوال یہ بھی ہے کہ مذکورہ ’جامعہ اسلامیہ للبنات‘کو صدقات،زکوٰۃ اور دیگر عطیات کی صورت میں جو اعانتیں ملتی ہیں، کیا ان میں سے سیاسی اشتہار بازی اوربلا ضرورت تصویریں چھپوانے پر خرچ کاکوئی شرعی جواز ہے؟ یہ صریحاً امانت میں سرقہ ہے۔ اگر مدرسہ کے ارباب حل وعقد شرعی جواز کے بغیر یہ سب کچھ کررہے ہیں تو یہ کیسا جامعہ ”اسلامیہ“ہے؟ (ختم)

No comments: