Thursday, November 21, 2013

Congress and BJP for Muslim Vote/ Maldive Elects Pro-Islam President

کانگریس کو مسلم ووٹ کی فکر


کانگریس کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ اس کو مسلمانوں کی توفکر نہیں، البتہ مسلم ووٹوں کی فکر رہتی ہے۔اسی فکر مندی کے تحت گزشتہ ہفتہ(16نومبر) کوتین مرکزی وزیروں جناب کے رحمٰن خاں، جے رام رمیش اورراجیو شکلا نے اردو اخبارنویسوں سے خصوصی ملاقات کی، لیکن یہ ملاقات تشنہ ہی رہی۔ وزیروں کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ کچھ دیر رکتے اور کھل کرگفتگو کرتے، چنانچہ اپنی بات کہہ کر دو ایک سوالوں کے جواب دئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسٹر جے رام رمیش نے جس صاف گوئی کے ساتھ گفتگوکی اس پرتوقدرے تسلی ہوئی، البتہ مسلم مسائل کے حل کے لئے سرکاری اقدامات اور ان کے نتائج پراقلتی امور کے وزیر نے جو روشنی ڈالی، ان سے کسی کے چہرے پر بشاشت نظر نہیں آئی۔

ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی کانگریس سے شکایات محض حکایات نہیں بلکہ ان میں صداقت ہے، خصوصاً ریاستی سرکاروں کا رویہ دیگر پارٹیوں کی ریاستی سرکاروں سے بھی بدتر ہے ۔ مرکزی سرکار کا معاملہ اب قدرے بہتر ہواہے ۔ اس نے بعض مثبت اقدامات کئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو ملک کی دوسری بڑی اکثریت کی بہبود کا خیال آیاہے لیکن اقلیتی امور کے وزیر مسٹر رحمٰن خان نے خودتسلیم کیا کہ اعلان شدہ اسکیموں کا نفاذاطمینان بخش نہیں ہے ۔ انہوں نے بھروسہ دلایا کہ ایسی تدابیر کی جارہی ہے کہ جن سے مطلوبہ فائدہ مستحقین تک پہنچ سکے۔یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ آئندہ یہ تدابیر کتنی کارگر ثابت ہوتی ہیں؟تاہم ایک بات توصاف ہے کہ بھاجپاکمزور مسلم طبقوں کی بہبود کی ہر پہل کو ان کی ’منھ بھرائی ‘ قرار دیکر سخت مخالفت کرتی ہے اوربرادران وطن کو ان کے خلاف اکساتی ہے۔ اس کے زیر حکومت ریاستوں میں ، خصوصاً گجرات میں ان اسکیموں کا نفاذ نہیں ہوا ہے۔ اگر سنہ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی الیکشن میں بھاجپااقتدار پر قابض ہوگئی تو ان اسکیموں کو کالعدم کردیا جانا یقینی ہے۔اب جو شکوہ اور جواب شکوہ کانگریس سے ہوتا ہے، وہ سلسلہ بھی ختم ہوجائیگا۔ 

مظفرنگرفسادزدگان پر آئی ایس آئی کی نظر ہونے کے تعلق سے راہل گاندھی کے بیان پرایک سوال کے جواب میں مسٹر جے رام رمیش نے بلاجھجک تسلیم کیا کہ راہل کا انداز نامناسب تھا، البتہ انہوں نے یہ دلیل دی کہ راہل کامقصد یہ بتانا تھا کہ فسادات سے ملک دشمن طاقتیں فائدہ اٹھاکر نوجوانوں کو ورغلاتی ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ وضاحت راہل کو خود کرنی چاہئے۔ انہوں نے وثوق کے ساتھ کہا کہ راہل کی نیت میں کھوٹ نہیں تھا۔ راہل گاندھی صاف ذہن کے لیڈرہیں اور دبے کچلے طبقوں کے لئے فکر مند ہیں۔ہمارے خیال سے اس وضاحت میں سچائی ہے کیونکہ ایک موقع پر راہل گاندھی سے ایک طویل نجی ملاقات کے بعد ہمارابھی یہی تاثربنا تھاکہ وہ مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ اپنی والدہ سونیا گاندھی کی طرح ہی وہ کانگریس کی اس سوچ سے محفوظ ہیں جس میں ’نرم ہندتوا‘کی آمیزش ہے۔ 
مظفرنگر کے فسادزدگان کی بازآبادکاری اترکھنڈ اور اڑیسہ کی قدرتی آفات کے متاثرین کے طرح کئے جانے کے سوال پر جے رام رمیش نے کہا، مرکزی سرکار تمام متاثرین کے لئے مکان فراہم کرسکتی ہے ، مگر ضابطہ یہ ہے کہ تجویز ریاستی حکومت بھیجے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یوپی کی سماجوادی سرکار کو ، جس کے نااہلی سے یہ فساد ہوا، فوری طور مرکز سے اندراآواس یوجنا کے تحت متاثرین کے لئے مکانوں کی طلب کرنی چاہئے۔
صحافیوں نے ایک سوال ان بے قصورنوجوانوں کی رہائی اور بازآبادکاری کابھی اٹھایا جن کودہشت گردی کے الزامات میں مصائب کا سامنا ہے۔ کہا گیا کہ جس طرح پوٹا کیسوں پر نظر ثانی (Review )کے لئے باجپئی سرکار نے کمیٹی تشکیل دی تھی ،ویسی ہی کمیٹی ’یو اے پی اے‘ کے تحت قیدافراد کے کیسوں کی جانچ کے لئے بھی بنائی جائے ،تو مسٹر رحمٰن خاں نے یہ دلیل دی کہ ایسے متاثرین کی بازآبادکاری کے لئے قانون موجود نہیں، البتہ اگر متاثرین عدالت سے رجوع کریں اور کوئی عدالتی آرڈر حاصل کرلیں تو وہ نظیری قانون بن جائیگا۔ہم نہیں سمجھتے کہ وزیر محترم کے اس مشورے میں کوئی جاذبیت ہے۔ جس شخص کو دہشت گردی کے الزام میں برسوں جیل کاٹنی پڑی ہو، اس میں اور اس کے اہل خاندان میں اتنی سکت کہاں رہتی ہے کہ وہ بازآبادکاری کے لئے عدالت سے رجوع کرے اور مدتوں عدالتوں کے چکر کاٹیں خصوصاً ایسی صورت میں جب کہ عدالتوں سے موافق حکم مل جانے کی کوئی گارنٹی نہ ہو۔
بی جے پی اور مسلم ووٹ
مسلم ووٹوں کو راغب کرنے کے لئے بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری نے بھی پیر ۱۸ ؍ نومبر کو نئی دہلی میں اردوصحافیوں سے ملاقات کی، جس کی روداد بعض اخباروں میں شائع ہوئی ہے۔ دلیل یہ دی گئی کہ سنہ2002ء کے گجرات فسادات کے بعد بی جے پی کی سرکاروالی کسی ریاست میں کوئی دنگا نہیں ہوا۔چلئے مان لیا، مگر مظفرنگر فساد میں کلیدی رول کے ملزمان کی پارٹی کی طرف سے پہلے مظفرنگر میں حوصلہ افزائی اور اب آگرہ میں مودی کی ریلی میں عزت افزائی کیا مسلم کش فساد پرست ذہنیت کی کارستانی نہیں؟ بی جے پی سے مسلمانوں کے عدم اتفاق کا واحد سبب گجرات فساد ہی نہیں ہے بلکہ بنیادی سبب اس کی فکر کا فساد ہے۔اس کے حقیقی نظریہ کی عکاسی اخباری بیانات سے نہیں ہوتی بلکہ سنگھ کے لٹریچر اوربھاجپا کی ویب سائٹ پرشائع مضامین سے ہوتی ہے جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلمان اپنی ملی شناخت سے دستبردار ہوجائیں،ہندونام رکھیں، عورتیں منگل سوتر پہنیں،حج و عمرہ ، زیارت روضہ نبوی و دیگر مقامات مقدسہ کربلائے معلٰی وغیرہ جانا چھوڑ دیں۔ اپنے انبیاء ، اولیاء اور اسلاف کو بھول جائیں اور مقامی مذہبی شخصیات کو اپنا رہنمااور مربی جانیں ۔وغیرہ۔جو لوگ ذاتی فائدے کے لئے بھاجپا کے گن گاتے ہیں،ان کو اصلیت کا ادراک کرنا چاہئے۔ 
باجپئی کا دور ختم ہوتے ہی، بھاجپا پوری طرح آرایس ایس کی گرفت میں آ چکی ہے ۔ مودی آرایس ایس کے معمولی کارکن نہیں بلکہ تیزطرار پرچارک رہے ہیں۔ گجرات کی مسلم اقلیت کو کنارے لگاکر انہوں نے سنگھ کے خوابوں کو ساکار کردیا ہے۔ اب ان کو آگے بڑھاکراور جھوٹ و فریب پھیلاکرمرکز پر قابض ہونے کی تیاری ہے۔کارپوریٹ سیکٹر ان کی ہواباندھنے کے لئے بے دریغ دولت خرچ کررہا ہے۔ یہ صورت حال نہ عوام کے مفاد میں ہے ،نہ ملک کے جمہوری نظام کے حق میں ہے۔یہ وہی تدابیر ہیں جو ہٹلر نے اپنی تاناشاہی قائم کرنے لئے اپنائی تھیں۔
انتخابی حکمت عملی
اپنی انتخابی حکمت عملی طے کرتے ہوئے مسلم رائے دہندگان کو دو باتوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ اول یہ کہ اس بار آر ایس ایس براہ راست اقتدار پر قابض ہونے کے لئے میدان میں ہے۔ اس لئے افواہوں کا زور ہوگا۔ فسادات کرانے کی کوشش ہوگی۔ ان سے بچیں۔دوسرے یہ کہ علاقائی پارٹیاں ناقابل اعتبار ہیں۔ اگر نیشنل کانفرنس، بی ایس پی، ترنمول، جے ڈی یو، ٹی ڈی پی وغیرہ سابق میں بھاجپا کے ساتھ گٹھ جوڑ کرچکی ہیں تو آئندہ ان پر کیسے بھروسہ کیا جائے؟ وعدوں پر عمل نہ کرنے کے معاملے میںیادو سرکار کا ریکارڈ سامنے ہے۔ملائم سنگھ سیاسی فائدے کے لئے اگر کلیان سنگھ کو گلے لگاسکتے ہیں تو مودی کو بھی لگا سکتے ہیں۔ سنہ۱۹۷۷ء سے سنہ ۲۰۱۱ء تک مغربی بنگال میں کمیونسٹوں کی حکومت میں مسلمانوں کو کس حال میں پہچادیا گیا، کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے۔ اس لئے ووٹ سوچ سمجھ کر دیں۔ضائع نہ کریں
تندولکر کو بھارت رتن
کرکٹ اسٹار سچن تندولکر کی عوامی مقبولیت کا کرشمہ ہے کہ کھیل کے میدان سے ہٹتے ہی ان کو آناً فاناً ’بھارت رتن ‘قراردیدیاگیا۔ قسمت ہوتو ایسی ۔جمعہ کو تندولکر کا آخری کھیل ختم ہوتے ہی سر شام پی ایم او آفس نے صدرجمہوریہ کو اپنی سفارش بھیج دی اور صدرجمہوریہ نے بھی دوسرے ہی دن منظوری دیدی۔ اس مستعدی کا سہرا انتخابی ماحول کے سر باندھا جارہا ہے۔تندولکر کویہ اعزاز دینے کے لئے مقررہ ضابطے چند ماہ پہلے ہی بدل دئے گئے تھے۔ فیصلہ کی خانہ پوری حسب روایت کسی کمیٹی سے نہیں کرائی گئی، بلکہ پی ایم او آفس نے خود ہی فیصلہ کرلیا۔اکتوبر میں تندولکر کے اس اعلان کے بعد کہ وہ دو سوواں ٹسٹ کھیل کر کرکٹ کو الوداع کہہ دیں گے، بی سی سی آئی نے ویسٹ انڈیز کو اس دورے کے لئے مدعو کیاتاکہ وہ اپنا الوداعی کھیل ہندمیں ہی ایک کمزور ٹیم کے ساتھ کھیل سکیں۔ آخری میچ تندولکرکے ہوم گراؤنڈ ممبئی میں رکھا گیا، جہاں وہ 74رن بناسکے ۔ کلکتہ میں ان کے بلے سے صرف دس رن نکلے ۔ ان دونوں ٹسٹ میچوں میں نوخیزبلے بازوں نے دو دو شاندارسنچریاں بنائیں، جن میں ایک گیند باز تھا۔ تندولکر نے 24سال کرکٹ کھیلا جو ایک غیرمعمولی بات ہے اور خوب نام بھی کمایا۔ وہ اچھے اخلاق کے مالک ہیں اور نئے کھلاڑیوں کی خوب حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہی ان کی اہمیت ہے۔ حال ہی میں کئی نئے ستارے ابھرے ہیں جو شاندار کھیل دکھارہے ہیں۔ اس لئے ان کے رخصت ہونے کے بعدمیدان میں ان کی کمی تو محسوس ہوگی مگر ٹیم کمزور نہیں ہوگی۔
تندولکر’بھارت رتن‘ اعزاز کے اہل تھے یا نہیں، یہ الگ سوال ہے،لیکن جس سرکار نے ان کو ایوارڈ دینے کے لئے قاعدے اور ضابطے بدلے ، اس کو یہ آخری میچ دودرشن پر دکھانے کے مقررہ ضابطے بدلنے سے کس نے روکا تھا؟ شائقین کی دلچسپی کا تو یہ تقاضا تھا کہ میچ لائیو دکھائے جاتے۔جس طرح اس ایوارڈ اعلان ہوا اس سے بھی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور عذرداری عدالت میں پہنچ چکی ہے۔آواز یہ بھی اٹھی ہے کہ باجپئی جی کو نظرانداز کیوں کیا جارہاہے؟آخر ان کامرتبہ تندولکر سے کم تو نہیں۔ ممکن ہے اب وہ اس ایوارڈ کو قبول کرنے سبکی محسوس کریں۔لیکن قوم یہ نہیں بھولے گی کہ پاکستان اور چین کے ساتھ ہند کے تعلقات کی نئی تاریخ کا اولین باب ان کے ہی سر ہے۔ علاوہ ازیں یہ بہتر ہوگا کہ کھلاڑیوں کے لئے پدم شری، پدم وبھوشن اوربھارت رتن کی طرز پر کھیل شری، کھیل وبھوشن اور کھیل رتن کی نئی ایوارڈ سریز قائم کی جائے اورسرکار دھیان چند کا بھی کچھ دھیان کرے۔ پہلا کھیل رتن ایوارڈ ان کو ہی ملنا چاہئے۔

مالدیب میں چناؤ

Abdullah Yameen arrives with his wife for taking oath.
آخر کار مالدیپ میں کچھ رکاوٹوں کے بعد صدارتی الیکشن ہوگیا اور عبداللہ یامین عبدالقیوم نے اتوار، 17نومبرکو ملک کے چھٹے صدر کی حیثیت سے اپنا منصب سنبھال لیا۔ سابق صدرنشید کی شکست اور عبداللہ یامین کی فتح سے مبصرین حیرت زدہ ہیں کہ پہلے مرحلے کی پولنگ میں مسٹرنشید کوتقریباً 47 فیصد اور مسٹر یامین کو 26فیصد سے بھی کم ووٹ ملے تھے۔ دوسرے مرحلے میں صدریامین کو تقریباً ساڑھے 51فیصد اور مسٹر نشیدکو ساڑھے 48فیصد ووٹ ملے۔ مغرب زدہ میڈیا حیران اور پریشان ہے کہ مسٹریامین کے دور اقتدار میں ’اسلام پسندی‘ میں اضافہ ہوگاکیونکہ نئی خاتون اول بیگم یامین اسکارف اور ساترلباس زیب تن کرتی ہیں۔ مسٹر یامین نے آخری مرحلہ میں ملک کے اسلام پسندطبقہ سے حمایت مانگی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ اسلامی اقدار کی پامالی کوروکا جائیگا۔ مسٹر نشید کے دور حکومت میں سیاحوں کی دل بستگی کے لئے نائٹ کلب، شراب نوشی کے اڈے اور کیسینو کھلنے لگے تھے اور سمندری ساحلوں پر نیم برہنہ مغربی خواتین نظرآنے لگی تھیں ۔ان کے دورحکومت میں کچھ نوجوانوں کے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے طرف راغب ہونے کی خبریں بھی مغربی میڈیا نے دی تھیں۔ مالدیپ کے اسلام داعیوں کو اپنی حکمت عملی بناتے وقت یہ خیال رکھنا ہوگا کہ دعوت اسلام کی دی جائے اور کسی خاص مسلک پر اصرار نہ کیا جائے۔اسلام امن اوراعتدال پسندی کا دین ہے۔ زورزبردستی ، کٹرپن اور تشدد کی ہرگزگنجائش نہیں۔ (ختم)
Women voters wait for their turn in Maldive's Presidential Elections

No comments: