Monday, October 14, 2013

Odisha Cyclone Phailin, Than and Now. Obamas with Malala. Ram Mandir and S.P., Rehana Murder

اڈیسہ کا طوفان ، تب اور اب
سید منصور آغا، نئی دہلی
اڈیسہ کا طوفان ، تب اور اب
سید منصور آغا، نئی دہلی
اڑیسہ اور اندھرا پردیش کے ساحلوں پرجو شدید طوفان ’فالین‘ تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اتور کی شب ٹکرایاتھا، وہ پیشگی اطلاع کی بنیاد پر پختہ احتیاطی تدابیر کی وجہ سے بغیر کسی بڑے جانی نقصان کے بخیر گزرگیا۔کچے مکانوںکے تباہ ہوجانی، سڑکوں پر درختوں اور بجلی کی کھمبوں گرجانے سے جومالی نقصان ہوا، سو ہوا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ سنہ ۹۹۹۱ء کے طوفان میں،جو شدت میں  اس سے کم تھا، دس ہزار سے زیادہ افراد کی جانیں گئی تھیں ،جب کہ اس بار صرف ۲۲ کے مرنے کی خبر ہی۔ اس بڑے فرق کی ظاہری وجہ یہ ہے کہ اُس وقت کے وزیراعلا گردھر گومانگ نے محکمہ موسمیات کی اطلاعات پر احتیاطی تدابیر پر توجہ دینے کے بجائے جیوتشیوں کی رائے پر انحصار کیا، جنہوں کہہ دیا تھا ساحل سے ٹکرانے سے پہلے طوفان دو حصوں میں ٹوٹ کر بے اثر ہو جائیگا۔مرکز میں اسوقت این ڈی اے کی سرکار تھی۔ اس نے بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ اس مرتبہ محکمہ موسمیات سے خطرے کی اطلاع ملتے ہیں وزیر اعلا نوین پٹنائک نے انتظامیہ کو مستعد کردیا۔ سیاسی تحفظات کو بالائے طاق رکھ کر وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور وزیر دفاع اے کے انٹونی کو فون کرکے مدد طلب کی۔ مرکز نے بھی بلاتاخیر کاروائی کی۔ ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے فو ج کو مستعد کردیا گیا اور طوفان آنے سے دو دن پہلے ہی نیشنل ڈیزاسٹر منجمنٹ فورس(آفات کے وقت راحت کاکام کرنے والی خصوصی مرکزی فورس)کے عملے کو اڈیسہ پہنچادیا گیا۔ دونوں ریاستوں میں بارہ لاکھ سے زیادہ افراد کو طوفان آنے سے قبل محفوظ مقامات پر پہنچانے کا بڑا کارنامہ بڑی مستعدی سے انجام دیا گیا۔سرکاری کوششوں کی بدولت ماحول ایسا بنا کہ دولاکھ سے زیادہ افراد اپنے وسائل سے خود محفوظ مقامات پر چلے گئی۔ دوسری صبح طوفان کمزور پڑتے ہی،لوگوں نے گھروں کو واپسی شروع کردی۔ سڑکوں پر گرے ہوئے درختوں اور بجلی کے کھمبوں کو ہٹانے کا کام شروع ہوگیا اور شام تک ۰۹ فیصد سے زیادہ راستے کھول دئے گئی۔جزوی طور پر ٹرین سروس بھی بحال ہوگئی، بجلی کی بحالی کا کام جنگی سطح پر ہورہا ہی۔ لوگ اپنے کاروبار کی طرف متوجہ ہوگئی۔ بعض مقامات پر دسہرہ بھی حسب معمول منایا گیا۔ مرکزی حکومت کا تعاون اور ریاستی حکومت کی مستعدی اور احتیاطی پیش بندی لائق ستائش ہی۔ اس کے برخلاف جب سنہ ۹۹۹اء میں جیوتشیوں کی پیش گوئی کی خبریں پھیلیں اور وزیراعلا نے خود ان پراطمینان کرلیا تو نہ انتظامیہ نے لوگوں کو ساحلی علاقوں سے ہٹانے پر ایسی توجہ دی اور نہ لوگ خود جانے پر آمادہ ہوئی۔ نتیجہ تباہی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ان واقعات کی پیش نظر آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ یہ ہم آپ پر چھوڑے دیتے ہیں۔
مندر میں بھگڈر
اس کے برخلاف مدھیہ پردیش کے ضلع دتیا کے ایک مندر میں عقیدتمندوں کی عجلت پسندی اور سرکاری انتظامات کی کوتاہی کی وجہ سے ایک بڑا سانحہ پیش آگیا جس میں تقریباًسوا سو افراد مارے گئے اور ان سے زیادہ زخمی ہوگئی۔یہ مندر ایک دریا کے پاس ہے جس پر پل اتنا کشادہ نہیں کہ وجے دشمی جیسے موقع پر لاکھوں کا ہجوم اس سے آرام سے گزر سکی۔پولیس بندوبست ناقص تھا اور پل پر ٹریکٹر ٹرالی اورکاروں کے آمنے سامنے آجانے سے جام لگ گیا۔ اسی دوران یہ افواہ پھیل گئی کہ پل ٹوٹنے والا ہی، جس سے بھگڈر مچ گئی۔چند سال پہلے بھی یہاں حادثہ پیش آچکا تھا ،جس کے پیش نظر یہ ضروری تھا کہ تہوار کے موقع پردریا پر مضبوط عارضی پل بناکر ون وے ٹریفک کیا جاتا۔ یہ سراسر ریاست کی بھاجپا سرکار کی ناکامی ہی۔ الیکشن کے عین موقع پر اس انتظامی نااہلی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے بھاجپا نواز ٹی وی چینلز پر یہ خبر اڑادی گئی کہ کانگریس نوجوان رائے دہندگان کوراغب کرنے کے لئے پرینکا گاندھی کوچنائو میدان میں اتارنے کا منصوبہ بنارہی ہی۔چنانچہ اناًفاناًبحث کا موضوع بھگڈر کا مصدقہ سانحہ نہیں، بلکہ پرینکا کی غیر مصدقہ خبر بن گئی ۔  
ملائم سنگھ کا خواب 
یوپی میں یادو سرکار کی پے درپے ناکامیوں سے ریاست کے عوام پوری طرح بدظن ہوگئے ہیں۔ خصوصاً مظفرنگر اور شاملی کے دیہات میں منصوبہ بند مسلم کشی کے بعد مسلم رائے دہندگان پارٹی سے بدظن ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود ملائم سنگھ یادو تیسرے مورچہ کے قیام اور اس میں اپنے لئے اہم مقام کا خواب دیکھ رہے ہیں۔سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ یہ خواب کس بنیاد پر دیکھ رہے ہیں؟ مجوزہ چوراسی کوسی پریکرما سے قبل ان کی ڈھائی گھنٹہ کی اشوک سنگھل سے ملاقات اور اس کے بعد اب یہ خبر کہ یادو سرکار ’سومناتھ کے طرز پر رام مندر کی تعمیر‘ کے منصوبہ پر غور و خوض کررہی ہی، اشارہ کررہی ہے کہ مظفرنگر میں فساد سے ریاست میں جو فضا بن گئی ہے اس سے ملائم سنگھ  کس طرح فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں؟سونیا گاندھی کے خلاف سنگھیوں سے ساز باز کا انکشاف خو دایل کے آڈوانی کرچکے ہیں۔ملائم سنگھ ایک مرتبہ او بی سی لیڈر کے ناطے کلیان سنگھ سے ہاتھ ملاچکے ہیں، حالانکہ بابری مسجد کی شہادت میںان کاخاص کردارتھا۔ او بی سی لیڈر ہونے کے ناطے اگر وہ مودی سے بھی ہاتھ ملالیں تو عجب نہیں۔ ’خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے ملائم ،مودی ، کلیان۔‘

مندر کا منصوبہ

 یوپی سرکار نے ۴۱اکتوبر کواعلا افسران کی ایک میٹنگ کے لئے ایک خط جاری کیا تھا، جس کا موضوع ’سومناتھ کے طرز پر رام مندرکی تعمیر‘درج ہی۔یہ سرکلر ریاست کے ہوم سیکریٹری سرویش مشرا نے جاری کیا۔ میٹنگ کی صدارت ریاست کو پرنسپل سیکریٹری کو کرنی تھی۔یہ خط اس ذہنیت کا عکاس ہے جس سے ریاستی انتظامیہ کام کررہی ہی۔ مظفرنگر کا فساد بھی اسی ذہنیت کا نتیجہ ہے ۔یادو سرکار ، اس پر قابو پانے میں قطعی طور سے ناکام ہی۔ اتفاق سے یہ سرکلر جو بعض ضلع افسران کوبھی گیا تھا ،میڈیا میں لیک ہوگیا۔اس پر یادو سرکار نے یہ پھس پھسی صفائی دی ہے کہ سرکلر کا جو موضوع(سبجیکٹ ) لکھا گیا وہ غلطی سے لکھا گیا۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ مذکورہ میٹنگ آخر کس مقصد سے بلائی گئی ؟ خبر میڈیا میں آجانے پر پہلے متعلقہ سیکشن آفیسر کو معطل اورمسٹر سرویش کا تبادلہ کیا گیا بعد میں ان کو معطل کردیا گیا۔ یہ معطلیاں تو چند روزہ ہوتی ہی۔جیسا کہ آئی اے ایس خاتون افسر درگا شکتی ناگپال کے ساتھ ہو۔ پہلے ان کو آناًفاناً بغیر نوٹس معطل کرنے کا ڈرامہ کیا گیا اور پھر بحال کردیا گیا۔ مظفر نگر کے فساد اور اب رام مندر تعمیر کے اس مشتبہ منصوبہ سازی سے کیا یہ نہ پتہ نہیں چل رہا ہے   کہ یادو خاندان اب یوپی کی سیاست میں سنگھیوں کی بی ٹیم کا کردار ادا کررہا ہے اور مودی کے ساتھ مفاہمت کی راہ ہموار کررہا ہی؟
حاجی علیم کی اہلیہ کا قتل
گزشتہ بدھ(۹۔اکتوبر) بلند شہر سے بی ایس پی کے ایم ایل اے حاجی علیم چودھری
کی تیسری اہلیہ ریحانہ کادہلی میں قتل ہوگیا۔ حاجی علیم ، اپنے بھائی کے ساتھ ایک سرکس چلاتے ہیں۔ دونوں بھائی’ہسٹری شیٹر ‘ ہیں۔علیم کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ ہیں وہ قتل اور عصمت دری سمیت کئی مقدمات میں مطلوب ہیں۔ ریحانہ سے حاجی علیم کی ملاقات ۰۹۹۱ء  ایک میلے میں ہوئی تھی، جس میں اس نے رقص پیش کیا تھا۔ریحانہ پہلے شوہر سے طلاق لے چکی تھی۔ علیم سے ملاقات کے بعد دوسرے شوہر سے بھی طلاق لے لی اور علیم سے تیسری شادی کرلی۔ قتل کے الزام میں علیم کے ڈرائور ندیم کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہی۔ علیم کی پہلی بیوی قمر جہا ں عرف کہکشاںسے دو بیٹوں دانش اور انس کی تلاش جاری ہی۔ ان پر شک اس لئے ہوا کہ وہ تدفین میں شریک نہیںہوئے اور لاپتہ ہوگئی۔پولیس بیان کے مطابق ان کے یہ بیٹے ریحانہ سے اس لئے خارکھائے ہوئے تھے کہ علیم ان کی ماں کو نظر انداز کرتے تھے اور دہلی میں جائداد بھی ریحانہ کے نام خریدی تھی۔ حاجی علیم چودھری نے اسلام میں ایک سے زیادہ شادی کی رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر قرآن کے اس حکم کو پیش نظر رکھا ہوتا، جو اس رخصت کے ساتھ ہی بیان کیا گیا’’اور اگر ڈر ہو کہ تم ان کے ساتھ برابر کا سلوک نہ کرسکوگے تو ایک پر ہی بس کرو‘ (سورۃ نسائ: ۳)تو ان کے خاندان کو اس سانحہ کا سامنا کرنا نہ پڑتا۔دوسری شادی کرنے والے اکثر اس حکم عدل کے خلاف ورزی کرتے ہیں، جو معاشرتی زندگی میں تو مسائل کا باعث ہوتا ہی ہے ،آخرت میں بھی جوابدہی مشکل ہوجائیگی۔اس واردات سے دو ہی دن پہلے حاجی علیم سفر حج پر گئے تھی، مگر واپس آنا پڑا۔ان لوگوں کے لئے یقینا مشکلات ہیں جو نہ دنیا کے قانون پر عمل ضروری سمجھتے ہیں اور نہ اللہ کے قانون سے ڈرتے ہیں۔ 
ملالہ کی پذیرائی

ملالہ یوسف زئی کی جس طرح یورپی سیاسی حلقوں میں پذیرائی ہورہی ہے وہ حیرت انگیز ہی۔انہوں نے اپنے وطن خیبر پختونخواہ میں کوئی ایساکارنامہ انجام دیا تھا کہ ایسی پذیراتی کی مستحق گرانی جاتیں۔ا لبتہ وہ جنونی طالبان کے خلاف تعلیم نسواں مہم کی ایک علامت ضروربن گئی ہیں۔ ان کو برطانیہ کی رانی نے بکنگھم پیلیس میں مدعو کیا ہے جو ایک بڑا اعزاز ہی۔ ابھی ان کو ایک عالمی اعزاز یہ ملا کہ صدر امریکا نے ان کوا پنے خاندان کے مہمان کے طور پر اپنی سرکاری رہائش گاہ مدعو کیا اور ان کو ویسے ہی اعزاز اپنے بازو میں کرسی دی جیسی سرکاری معزز مہمانوں کو دی جاتی ہی۔ امریکا کی خاتون اول ہیں اوران کی بیٹی بھی اس ملاقات میںموجود رہیں۔ صدر اوبامہ نے ملالہ کی ستائش کی اور کچھ سوال بھی پوچھی۔ اس موقع پر ملالہ نے اپنے آبائی خطے پر امریکی ڈرون حملوں پر اپنا اختلاف درج کرانے  ہمت کا مظاہرہ بھی کیا۔ ہمیں یہ دیکھ کرایک گونہ اطمینان ہوا کہ ملالہ نے اپنے خطے کی روائتی کلچر کو خیرباد نہیں کہا ہی۔ وہ ایک مسلم خاتون کی صور ت سا تر لباس اور سر سے چادر اوڑھ کر صدر اوبامہ کے ساتھ اس ملاقات میں بیٹھیں۔اس فوٹو کو اس دنیا نے بھی دیکھا ہوگا جو اسلامی اقدار سے خداواسطے کا بیر رکھتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کا کیا اثر قبول کرتے ہیں۔ (ختم) 
  Phone: 9819678677. 
email: vpaiem@yahoo.com

No comments: