Sunday, March 26, 2017

Minority Status of Muslims is not a new phenomenon - by Dr. Zafarul Islam Khan. مسلمان اور مسئلۂ اقلیت


مسلمان اور مسئلۂ اقلیت
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان
مسلمانوں کا بحیثیت اقلیت ہوناکوئی عجیب بات نہیں ہے بلکہ تاریخ میں یہ ایک عمومی کیفیت رہی ہے۔مکہ میں ۱۳سال  مسلمان اقلیت تھے ، حبشہ میں سالوں اقلیت رہے اور مدینہ منورہ میں بھی حضورپاک ﷺ کے باتھوں فتح مکہ سے قبل مسلمان اقلیت میں ہی تھے حالانکہ حکمت کے ذریعے حضور پاکﷺ نے مسلمانوں کی سیادت مدینہ میں دستور مدینہ کے ذریعے قائم کردی تھی۔اسی طرح  اسلامی حکومت کے ختم ہونے کے بعد بھی  اندلس اور صقلیہ میں  مسلمان لمبے عرصے تک اقلیت میں رہے۔ بعد کی صدیوں میں مسلمانوں کا اقلیت کی صورت میں رہنا ایک عام بات ہوگئی اور اسی‌وجہ سے  چین ، روس ، مشرقی یوروپ اور بر صغیروغیرہ میں بڑی مسلم اقلیتیں وجود میں آئیں۔ اقلیت میں رہنے والا اتنا ہی مکمل مسلمان ہے جتنا اکثریت میں رہنے والا ، بالکل اسی طرح جس طرح مکہ کے مسلمان اتنے ہی مکمل  مومن تھے جتنے مدینہ کے مسلمان۔

اسلام سے پہلے بھی عیسائیوں اور یہودیوں کا بھی  بحیثیت اقلیت مختلف ممالک میں رہنا تاریخ کے صفحات پر واضح ہے۔حضرت یوسف نے نہ صرف بحیثیت اقلیت مصر میں رہنا قبول کیا بلکہ بادشاہِ وقت ،یعنی فرعون ، سے وزیر رسدیا وزیر خرانہ کا عہدہ بھی طلب کیا اور اسے بہت عمدہ طریقے سے نبھایا۔ آج بھی مسلمان دنیا کے سو سے زیادہ ملکوں میں بحیثیت اقلیت رہ رہے ہیں جبکہ ۵۸ملکوں میں وہ اکثریت ہیں۔ خود ہمارے ملک ہندوستان  میں دنیا کی سب سے بڑی  مسلم اقلیت رہتی ہے۔

اسلامی حکومتوں میں مذہبی اقلیتوں یعنی اہل ذمہ کے حقوق محفوظ تھے بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک کے لئے حضورپاک ﷺنے شدید تاکید کی تھی۔ یہ سلسلہ اموی، عباسی، فاطمی خلافتوں اور بعد کی اسلامی سلطنتوں میں جاری رہا۔ سلطنت عثمانیہ میں آخر تک ’’ملت سسٹم‘‘ جاری تھا جس کے تحت مذہبی اقلیتوں کو مذہبی خود مختاری حاصل تھی۔

عصر حاضر سے پہلےیوروپین ممالک میں  یہودی اور مسلم اقلیتوں کے ساتھ عمدہ سلوک نہیں ہوتا تھا لیکن بیسویں صدی کے اوائل میں روسی شہنشاہیت اور سلطنت عثمانیہ کے بکھراؤ کے بعد لیگ آف نیشنز پھر یونائٹیڈ نیشنز آرگنائزیشن (تنظیم اقوام متحدہ )کے تحت‌بین الاقوامی قوانین بنے اور متعدد بین الاقوامی معاہدے ہوئے جن  کے تحت  اقلیتوں کو واضح طورپر حقوق دئے گئے، ان کو برابر کا شہری تسلیم کیا گیا اور اب بالعموم تمام ملکوں میں دینی، ثقافتی اور لسانی اقلیتوں کے ساتھ کم از کم قانون کی سطح پر عمدہ سلوک ہوتا ہے۔

سنہ ۱۹۹۲میں اقوام متحدہ نے ایک تاریخی اعلانیہ جاری کر کےاقلیتوں کے حقوق کی تحدید کی۔ اس اعلانیہ  کا نام ہے :
UN Declaration on the Rights of Persons belonging to National or Ethnic, Religious or Linguistic Minorities.
پھر سنہ ۱۹۹۸میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد پاس کرکے حکومتی اور غیر حکومتی ایجنسیوں کے اقلیتوں کے تئیں فرائض کو طے کیا۔اس کے علاوہ شہری ہونے کے ناطے اقلیتوں کو دوسرے مختلف عمومی  بین الاقوامی اعلانیوں کا بھی فائدہ ملتا ہے، مثلا :
- UN Charter, 1945
- Universal Declaration of Human Rights, 1948
- International Covenant of Economic, Cultural and Social Rights, 1966
- Convention on the Elimination of All Forms of Racial Discrimination, 1965
- Declaration on the Elimination of All Forms of Intolerance and Discrimination based on Religion or Belief, 1981
- Declaration & Programme of Action adopted by the World Conference on Human Rights, Vienna, 1993

مغربی ممالک میں اقلیتی حقوق  Minority Rights کے بارے میں پچھلے چند دہو ں میں کافی تحقیقی کام  ہوا ہے اگرچہ ہمارا ملک اس معاملے میں پیچھے ہے۔لندن میں ایک تحقیقی  ادارہ Minority Rights Group اسی مقصد سے ۱۹۶۸  سے قائم ہے۔

 ہمارے دستور نے تمام اقلیتوں کو اپنے دین، کلچر  اور شناخت برقرار رکھنے کے لئے واضح حقوق دئے ہیں (مثلاً  آرٹیکل ۲۵بنیادی حقوق کا تعین کرتا ہے اور آرٹیکل ۳۰ اقلیتی تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے)۔ہمارا فرض ہے کہ حکومتوں اور سرکاری اداروں کو عوامی دباؤ اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے مجبور کریں کہ وہ دستورکی متعلقہ دفعات پرعمل کریں اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری بھی کریں کیونکہ حکومت ہند نے ان پر دستخط کر رکھا ہے۔ بین الاقوامی معاہدے قومی قوانین پر فوقیت رکھتے ہیں۔

بین الا قوامی سماج نے بڑی حد تک اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے لیکن وہ ابھی  تک صہیونیت ا ور ہندوستان کے ظالم طبقاتی نظام کے بارے میں واضح رائے نہیں بنا سکا ہے  جس کے تحت فلسطین کے عربوں اور ہندوستان کے دلتوں اور اد یوا سیوں کے ساتھ برا سلوک کیاجاتا ہے۔ ہندوتوا بھی اسی دائرے میں آتا  ہے کیو نکہ وہ ایک ہی ملک کے شہریوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتا ہے۔ ہندتوا کے بارے میں ہماری سپریم کورٹ نے اگرچہ غلط تاویل کرکے اسے کلچرکا نام دیا تھا لیکن ایک حالیہ فیصلے نے اس فیصلے کو ایک حد تک کالعدم قرار دے  دیا ہے۔ ہندتوا کی حقیقت کو اجاگر کرنے کے لئے بڑی قانونی اور سیاسی لڑائی لڑنی  ہوگی ورنہ اس کی وجہ سے اس ملک میں ہمارے اقلیتی حقوق ختم ہو جائیں گے۔ پچھلے دنوں آر ا یس ا یس  کے ایک بڑے  ذمےدار نے کہا ہے کہ  اگر مسلمان اپنے پرسنل لا پرعمل  کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ووٹ دینے کے حقوق سے محروم ہونا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں شریعت پر عمل کرنے کے لئے مسلمانوں کو اپنے سیاسی حقوق سے دستبردار ہونا ہوگا ۔  

عالمگیریت (عولمۃ یا  globalisation) ایک نئی روایت ہے جو پچھلے چند دہو ں سے شرو ع ہوئی  ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف سامان ا ور افکار بلکہ انسان بھی بڑی تیزی سے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو  رہے ہیں۔ آج کے دور میں ہماری دار الحرب ،دار الکفر اور دار الاسلام کی پرانی اصطلاحات اپنے معنی کھو چکی ہیں۔آج  اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ کے حقوق کا تحفظ ،دین پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا موقعہ آپ کو ایک غیر مسلم ملک میں ملے اور خود اپنے’’مسلم ‘‘ ملک میں نہ ملے ۔غیر مسلم بالخصوص مغربی ممالک میں بالعموم قانون کی با لا  دستی ہے جبکہ  ہمارے مسلم ممالک میں قانون کے بجائے بالعموم حاکم یا حکومت کی بالادستی ہے۔

آخر میں ایک بات:  اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں ضرور بات کریں لیکن کچھ وقت اقلیتوں کے واجبات پر بھی غور کرنے کے لئے صرف کریں کہ  کس طرح ایک اقلیت کسی ملک رہے کہ اس کو بوجھ اور مسئلہ نہ سمجھا جا ئے بلکہ  کس طرح وہ ملک کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی زندگی میں اتنے  اچھے طریقہ سے حصّہ لے کہ  اس کے وجود کو نعمت سمجھا جائے۔ کیا مسلم اقلیتوں کا وجود  غیر مسلم ممالک میں ایسا ہی ہے؟ 

اوائل اسلام میں ہمیں کسی مسلم اقلیت کے اپنے ملک کی حکومت اور فوج پر حملے کی مثال نہیں ملتی ہے۔لیکن پچھلے چند دہوںمیں بعض مسلم اقلیتوں نے اپنے ملک کی حکومت اور فوج کے خلاف ہتھیار اٹھایا ہے جیسے فیلیپینز اور تھائی لینڈ میں، لیکن اس کی وجہ سے وہاں کے مسلمانوں کوآج تک  گھاٹے کے علاوہ کچھ نہیں ملا ہے۔ پچھلے دنوں برما میں روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف فوج کے حملے شروع ہوئے ہیں جس کی وجہ وہاں روہنگیا کے  ایک مسلح گروپ کے فوج پر حملے ہیں  اور نتیجۃ ً  اب روہنگیا مسلمانوں کو القاعدہ اور داعش سے جوڑا جارہا ہے ۔ یہ ایک بڑی نادانی تھی جس کی وجہ سے فوج کے روہنگیا علاقوں پر حملے شروع ہوئے اور کم از کم ۶۰ہزار روہنگیااپنے ملک کو چھوڑ کر بنگلا دیش بھاگنے پر مجبور ہوگئے جبکہ اتنی ہی تعداد  میں خود برما  کے اندر روہنگیا  پناہ گزیں بنے پر مجبور ہوئے ۔ خود ہمارے اپنے ملک میں ہمارے بعض جوشیلے کشمیری بھائیوں نے پچھلے تین دہوں میں بندوق اٹھاکر  تباہی اور گھاٹے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کیا۔اگر وہ سیاسی جدوجہد کرتے تو شائد ان کو بہت فائدہ ملتا۔چند عبث گولیاں چلاکر ہم پولیس اورفوج کو اپنے شہریوں اور علاقوں پر حملے کرنے کا لامحدود جوازفراہم کردیتے ہیں۔ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے اور یہ ایک فطری قانون ہے۔اس لئے ہم کو کوئی عمل کرنے سے پہلے اس کے عواقب پر بھی خوب غور کرلینا چاہئے۔
(ختم)

Thursday, March 16, 2017

Political Empowerment is much more than the election results: Dr. Javed Jamil

Dr. Javed Jamil
 
Following the latest elections, there is renewed frustration and a feeling of hopelessness and desperation in the Muslim community. Like always, our political discussions are always centred on the prospects or results of certain elections. If the party supported by the majority of us wins, we celebrate, if not we mourn and moan. In elections too, our major concern remains nothing more than the performance of Saffron Brigade.
We will have to look beyond the elections.
If we are failing to have any significant say in the political affairs of the country, the reasons are:
(1) The problem is that Muslim masses, leaders as well as social and political activists regard Political Empowerment limited to only the electoral successes. I have been arguing it for several yeras – both in my writings and lectures, that it is much more. It includes (a) the ability to understand and raise the issues in an effective way (b) to properly understand and spell demands and create an environment in favour of them; (c) to generate not only public opinion in favour of the demands but also to put pressure on the political parties; (d) to isolate or effectively counter the elements opposed to us in an effective way through well-planned advocacy; (e) to plan the moves in a way that the demands are met without negatively influencing the outcome of the coming elections and to turn the issues into political support when the election time approaches;
(2) Muslims continue to act and behave as a minority. I have been arguing again for several years and this is the basic theme of my book, “Muslim Vision of Secular India: Destination & Roadmap” that Muslims have three not one status in India. Legally, they are a minority and have the right and duty to seek their rights as minority. Ideologically, they are the second largest majority of the country after Hindus. Socially, they are part of the deprived majority. But our political and social activists as well as thinkers hardly ever try to influence the directions of the national policies in social, economic and international affairs in accordance with our ideological positions. Further, we never raise issues concerned with the common people despite the fact that we are even bigger sufferers of these problems. Still more, we do almost never join the other deprived communities or classes when they suffer or campaign.
Political Empowerment is normally the pivot of the socioeconomic empowerment. But the political structure in India since Independence has had such strange dimensions that it has kept Muslims perpetually engaged in issues related to their security and sentimental religious and cultural issues. Muslims have neither become politically powerful enough to have things in their own hands nor have been able to pressurise others to make any direct impact on their real issues particularly related to their socioeconomic conditions. The problem lies not only in the system and the national political parties all of which have ignored Muslims but also in their own way of planning. Their own political, religious and social leadership has failed to produce any commendable results. The minority complex has kept Muslims as well as their leaders resort to emotional issues. Their decisions in the elections are more often than not driven by the desire to preserve their status as a religious minority. They have failed to become a major player in the governance, something which they ought to do considering their big share in the populace. In an election system where the winning candidates do not get more than 35-40 percent votes, a population of around 15 percent is sure to become a major player if it plays its cards well.  The result of inapt handling of the prevailing conditions is that
1.   They have much less share in parliament than their population demands;
2.   They have much less share in most state assemblies than their populations in those states demand;
3.   They have almost a negligible role as a group in determining the policies of the government – in centre as well as states;
4.   They have not been able to produce any remarkable leaders except very few; there have hardly been any Muslim leaders of national stature in major political parties. The fate of most of the Muslim leaders in these parties depends on the support or disfavour of the leadership of these parties;
5.   They have been unable to create any political group in the country that can rightly claim to be the true representative of Muslims;
6.   Though the country has had several Muslim Presidents, Vice Presidents and Deputy Speakers of Parliament, the country has yet to have a Muslim Prime Minister, Defence Minister or Finance Minister. There have been only a few Muslim Chief Ministers. There have been Chief Ministers in Bihar, Maharashtra and of course Kashmir. But there has been none in Uttar Pradesh, the biggest state of the country with a sizeable Muslim population, nor in Assam and Bengal.
7.   Muslim members of Parliament with a very few exceptions have not figured in parliamentary debates on major national issues. Muslim MPs are not known to have taken important parts in discussions in any budget debate except the allocations to schemes related to minorities. They have not shown any interest in the national affairs except when some of them have happened to be ministers. Even when speaking on Muslim issues, they have normally (with few exceptions) stuck to the party line.
8.   Muslim MPs have never taken any initiative to develop a common line of thinking on issues of national importance including issues concerning Muslims. Some attempts have been made but there has emerged no such trend.
Proactive rather than reactive politics needed
If Muslims want to become the second largest majority in the true sense of the term and part of the deprived majority, they will have to take concrete steps.
1.     They will have to play a significant role in national affairs and will have to be in a position to influence the direction of the country’s policies on all it he issues without exception. They must work for the alleviation of poverty and reducing economic disparity, reducing crime rates, developing a successful health infrastructure and taking part in the development of educational policy. They must influence the international policies and must run campaigns and movements against social evils, injustices of all kinds and corruption.
2.     They must at the same time make sure that their own issues are dealt with utmost promptness. They must refrain from being always driven by sentiments and must think about their socioeconomic empowerment. This does not mean that they should not care about the religious and culture issues. Our religion and culture are extremely important for us and we cannot compromise on them. At the same time we have to learn how our religious principles can be transformed into general programmes for the welfare of the whole mankind and the nation.
3.     We must learn to be issue based in our decisions rather than party/organisation/individual based. If even an otherwise hostile group says something which is in accordance with our line of thinking, we must not hesitate to support it on that particular issue. Similarly even if a party or group or individual considered close to us happens to take a divergent view, we must not hesitate to criticise them on that specific issue.
4.     We should not make permanent commitments to any political party but must weigh our support or opposition on the eve of the elections, and must learn the art of hard bargaining. We must learn that there are no permanent friends or foes in politics. We know it very well by now that no single “secular” party in the country has been good enough towards Indians in general and Muslims in particular. So there is no need to feel sentimentally aligned to any political party or permanently placed against anyone else.
5.     Role of Muslim MPs: Muslim members of Parliament must realise that they are the representatives of the people belonging to their country, their constituency and their community. They must act responsibly in all the three positions. As MPs they are not expected to only speak on minority issues but they must let their opinion be known on all the major issues of the country. At the same time, they must not forget that they are the representatives of a community which expects a lot from them. They may normally be expected to follow the party line in tune with the demands of a multi-party democracy. But there come occasions when one has to rise above the party. This is the time when they can make their presence felt and can emerge as the true leaders of the people. They must take special interest in the Budget. They must understand the aims and objectives of their presence in Parliament. While individual MPs must play their roles in their specific positions, Muslim MPs as a whole must make collective efforts in influencing the direction of the country.
6.     After the establishment of Panchayati Raj, the importance of Pradhans has become paramount. In every district there are big numbers of Pradhans with Muslim Pradhans having a significant share. Pradhans need to be kept informed about not only the needs of the rural areas they represent but also the situation confronting the Muslim community as well as the country as a whole. For any future mobilisation of masses, engagement of Pradhans is essential. The same is true for the members of Municipalities and other civic councils.
 
Semi-political Forum
 
7.     There can be many views regarding the need of a political party dominated by Muslims. But what is urgently required is the creation of a Semi-political Forum that discusses political issues and can use political methods like demonstrations and processions to highlight its demands but does not enter the election fray. This group must have all the Muslim MPs as its members but it should have non-political experts of politics and other relevant fields as office bearers. The forum must conduct regular seminars on important issues particularly before each session of the parliament, and must try to develop a unified strategy. Muslim MPs must be persuaded to agree to a certain strategy at least where it does not have any serious hindrances within their political groups. This forum may also try to build a consensus during the time of national as well as state elections. The forum must have regular updates of the constituencies, Parliamentary as well as Assembly, and the relative strengths of different politically relevant sections of population in each of them. Furthermore, the Forum can have State and District Units. State Units must have MLAs and MLCs as its members along with other important Muslim personalities. District Units must have Pradhans and members of Municipality. To avoid any disturbances the political leaders may only be given the status of patrons and the main units can be largely run by non-political academicians and other persons with good social record.
 
We must understand that we are just 15 pc and we cannot become a politically effective force unless we have the support of at least 15 pc more. This is possible in two ways: either we become passive partners and join the other parties having support of other groups; or we become active players and try to woo 15 pc of the population. This again can be done in two ways. First, we can try to have equal partnership with other social groups like Dalits, OBCs, Jats, etc. Second, by organising big nationwide movements on the issues of common interest like Economic Disparity, Law and Order situation, Social vices, etc hoping to enlist the support of at least 15 pc of the non-Muslims. Ideally, both methods should be tried simultaneously. Ironically, it is the parties like Janata dal, BJP and Shiv Sena, which have run campaigns against issues that should have been our priority like Alcohol, Bar culture, gambling, etc.
Finally, we have to plan things very cleverly. Any government will listen to our demands more in the first two years of its term rather than close to the elections when it fears the wrath of the majority community. So we must run campaigns for our demands as minority in the first two years and should run campaigns on national issues closer to the elections.
(Major parts excerpted from “Muslim Vision of Secular India: Destination & Roadmap” by this writer)

U.P. Election Result: Who sow the seeds, who reap the filed یوپی نچاؤ: فصل کس نے بوئی کس نے کاٹی


Remebraing Syed Shahabuddin and Mohd Mian Samar Dehlavi, Mufti Azam Ahle-Sunnat


Wednesday, March 1, 2017

طلاق بدعی اورنکاح حلالہ سپریم کورٹ میںTriple Talaq, Nikah Halala, Polygamy in SC.

طلاق بدعی اورنکاح حلالہ سپریم کورٹ میں
سید منصورآغا،نئی دہلی
چیف جسٹس آف آنڈیا جسٹس جے ایس کیہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی ایک تین رکنی بنچ نے منگل ، 14فروری کو یہ واضح کردیا ہے کہ طلاق بدعی (ایک مجلس میں تین طلاق) سے متعلق زیر سماعت کیس میں’ یونیفارم سول کوڈ‘زیرغورنہیں ۔ صرف ’طلاق بدعی ،‘ ’نکاح حلالہ ‘اور ’کثرت ازدواج‘ کے قانونی پہلو ہی زیرغورآئیں گے ۔اس سے یقیناًان لوگوں کو مایوسی ہوئی ہوگی جویکساں سول کوڈ کے نام پر شرپھیلاتے اورسیاست کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلم مرد کا حق طلاق محدود کرنے یا اس پر عدالت کی یا کسی اورطرح کی نگرانی کا سوال بھی اس کے پیش نظر نہیں ہے۔اس کیس کی تنقیح کیلئے 30مارچ مقرر ہوئی ہے۔ سماعت پانچ رکنی آئینی بنچ کریگی جس کی تشکیل ابھی نہیں ہوئی۔ توقع ہے کہ یہ سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد ہوگی۔
سپریم کورٹ کی ان وضاحتوں سے وہ تشویش دورہوجانی چاہئے جو ’تحفظ شریعت ‘تحریک سے عوام کے ذہنوں میں پیداہوگئی تھی ۔ اس تحریک کا سارازوراس گمان پرتھا کہ تیاری مسلم عائلی قانون کو ختم کرکے ’یکساں سول کوڈ‘ نافذ کرنے کی ہے۔ جس وقت اس تحریک کا اعلان ہوا، اس کالم میں اس اندیشہ کے بے اصل ہونے پر اصرار کے ساتھ ہم نے یہ لکھا تھا ’’اگرحکومت الٹی بھی لٹک جائے گی تب بھی ہندستان میں یکساں سول کوڈ نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ ‘‘ لیکن نقارخانے میں طوطی کی آواز کہاں سنائی دیتی ہے؟ ہمارے اس خیال کی بنیاد ہندستانی سماج کی یہ حقیقت ہے کہ رسم رواج یہاں ہرچند میل پر بدل جاتے ہیں اوران کوعدالتیں بھی دیگرقوانین پر وزن دیتی ہیں۔ چنانچہ جمہوری ہندستان میں یہ ممکن ہی نہیں کہ’یکساں سول کوڈ نافذ کر دیا جائے۔اس لئے یہ مسئلہ محض اہل اسلام کا نہیں،تمام اقوام کا ہے۔مگر ہمارے ارباب دانش اوربینش نے اس کو بلا وجہ از خود اوڑھ لیا ہے ۔ملک گیرتحریک چلائی گئی جس میں کثیرافرادی اورخطیرمالی وسائل کام میں آئے۔ ہمیں دشمنان اسلام کے آلہ کار بن جانے کے بجائے کھل کر چیلنج کرنا چاہئے کہ’’ حکومت زرا یکساں سول کوڈ کا مسودہ تو پیش کرکے دکھائے! ‘‘ جب سارے ہندوطبقے اس کو قبول کرلیں تب رخ اقلیتوں کی طرف کیا جائے۔ 
طلاق بدعی
طلاق بدعی کے خلاف عدالتوں کے متعدد فیصلے آچکے ہیں۔قانونی حیثیت آج بھی یہی ہے کہ یہ طریقہ قابل قبول نہیں ۔اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ کئی فیصلوں میں طلاق کے باب میں قرآنی تصریحات کو سراہا گیا ہے اورانتہائی معقول تسلیم کیا گیا ہے۔ تعمیر ی بات بھی یہی ہے کہ قرآن میں مذکورطریقہ کار کو چھوڑکر طلاق بدعی کو اختیارکرنا ، اس کی تائید میں تحریک کھڑی کرنا ہرگزپسندیدہ فعل ہے۔ ’طلاق بدعی‘ روزاول سے سخت ناپسندیدہ اورمکروہ طریقہ ہے جس کا چلن نادانی میں پڑ گیا۔ ایک سروے کے مطابق ہندستانی مسلمانوں میں 525طلاقوں میں 349کیس طلاق بدعی کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن نے جو طریقہ تفصیل سے بتایا ہے اس پر عمل کرنے والوں کی تعداد طلاق بدعی کے مقابلے ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی ہے۔جوطلاقیں جذبات کی رومیں بہہ کردی جاتی ہیں ان میں سے اکثرطلاق کی شرعی شرطوں کو بھی پورا نہیں کرتیں۔ ہم حامل قرآن ہیں اور ہماری تشویش کا موضوع یہ ہونا چاہئے کہ عمل قرآنی طریقہ پرہو۔ البتہ اگر کوئی مجبوری لاحق ہوگئی اورکسی نے مکروہ اورمذموم طریقہ اختیارکرلیا ہے تواس کیلئے ملامت کے ساتھ رخصت ہے۔ مگر یہاں معاملہ الٹ گیا ہے۔ سوچئے اس مسئلہ پر جو تحریک اٹھی اس سے حوصلہ افزائی کس طرح کی ذہنیت کی ہورہی ہے؟ کیا یہ بات ہمارے لئے باعث ندامت نہیں کہ قرانی طریقہ کو مقدم رکھنے کے تلقین کے بجائے ،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مذموم طریقہ بے روک وٹوک جاری رہے؟
نکاح حلالہ
طلاق بدعی کی لعنت کے بطن سے ہی ’نکاح حلالہ‘ کے مکروہ طریقے نے جنم لیا۔جب کوئی شخص نادانی میں ایک سانس میں تین طلاق دیدیتا ہے اورکچھ عرصہ بعد پچتاتا ہے اورمفتی صاحب سے بیوی کی واپسی کی ترکیب پوچھتا ہے تو وہ بتادیتے ہیں کہ دوسرے مرد سے نکاح اورہم بستری ہوجائے، اورپھر وہ طلاق دیدے تو بیوی واپس ہوسکتی ہے۔ایک پاکیزہ نفس خاتون کے لئے یہ کتنی بڑی اذیت ہے؟ عورت عورت نہ ہوئی ایک زندہ لاش ہوگئی کہ آج اس کے بستر پر کل اس کے بستر پر۔یہ نکاح تومصنوعی نکاح ہوا۔ اس طرح کا نکاح اوراگلی صبح طلاق کی کراہیت ناقابل بیان ہے۔افسوس کہ اس کج فکری کو شریعت کی منشا قراردے دیاگیا ہے حالانکہ شریعت کی واضح منشاء یہ ہے کہ اگرکسی خاتون کو طلاق ہوگئی، اس نے کسی دوسری جگہ نکاح کرلیا اوراتفاق سے اس کی وہاں بھی گزر نہیں ہوئی، طلاق ہوگئی ،یابیوہ ہوگئی تو اس کیلئے یہ گنجائش ہے کہ سابق شوہر سے پھر نکاح کرلے۔ اس رخصت کو جس طرح حیلہ بناکر نکاح حلالہ تجویزکیا جاتا وہ بے غیرتی نہیں تواورکیا ہے؟ اس بے غیرتی کے موئد کیا ہیں؟ آپ سمجھیں۔ 
کثرت ازدواج
ایسی ہی لاپرواہی نکاح ثانی کے معاملوں میں ہوتی ہے۔ قرآن نے جہاں چارتک نکاح کی حدمقرر کی ہے وہاں تمام بیویوں کے ساتھ عدل و انصا ف اوریکساں سلوک کی ہدایت بھی دی ہے۔ اور یہ بھی فرمادیا ہے کہ اگرتم سب کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو بہتر ہے کہ اکتفاایک پر ہی کرو۔(سورہ نساء: 2) لیکن ہمارے معاشرے میں اکثرنکاح ثانی کرنے والے قرآن کی اس کھلی ہدایت کو توجہ نہیں دیتے۔ ہم جب غیروں سے زورکے ساتھ کہتے ہیں کہ ہماری شریعت نے مرد کو ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دی ہے توہماری یہ ذمہ داری بھی ہے اس سے زیادہ زورسے ہم اپنوں کو خبردارکریں کہ کسی بیوی کے حق تلفی نہ ہونے پائے، کسی کو بیجاتکلیف نہ پہنچائی جائے ۔ اللہ کی پکڑ سے ڈرو۔
دعائے خیر:
اگرآپ ’تحفظ شریعت‘ کا نام لے کر طلاق بدعی، نکاح حلالہ اورکثرت ازدواج کی مروجہ شکل کی وکالت کرتے ہیں تو ہم بس دعائے خیر ہی کرسکتے ہیں۔لیکن یاد رہے وہ دن دورنہیں جب اس عدالت میں حاضری ہوگی جس میں فیصلہ ظاہر پر نہیں، باطن پرہوگا۔جس کی ذات سے زرا بھی شرپھیلا ہوگا اس کی دین پسندی کے وہ لبادے کچھ کام نہ آئیں گے جن سے عوام کومرعوب کیا جاتا ہے۔ اسلام صرف ظاہرداری کا نام نہیں، باطن کی اصلاح اول ہے، جس کی راہ بیشمار صاحب علم وفضل متقی صوفیا ئے کرام اور علمائے عظام نے دکھائی ہے۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے اورصراط مستقیم کی ہدایت دے۔

Triple Talaq, Nikah Halala, polygamy in SC. No issue of Uniform Civil Code