Tuesday, November 7, 2017

To Notes Ban, GST Attack, Manmohan Singh Adds the Bullet Train

AHMEDABAD:  The Congress got out its top gun on the economy on Tuesday, fielding former Prime Minister Dr Manmohan Singh in Gujarat to amplify party vice president Rahul Gandhi's attack on the Narendra Modi government's mega reforms, the notes ban and new national sales tax GST. Dr Singh said the "twin blow is a complete disaster for our economy, it has broken the back of our small businesses." He also slammed the bullet train plan as an "exercise in vanity."

Prime Minister Narendra Modi's ban on high value notes exactly a year ago was a "disastrous policy" thrust on the people," Dr Singh said, calling demonetisation "a reckless step", with none of its objectives achieved. "I repeat what I said in parliament, this was organised loot and legalised plunder," the former Prime Minister and famous economist said.

Congress governments had not resorted to banning high value notes because "coercive steps like demonetisation are ineffective. Nowhere in the world has any nation taken such a drastic step that swept off 86% of the currency," Dr Singh asserted. PM Modi said over the weekend in election speeches in Himachal Pradesh that had former Prime Minister Indira Gandhi of the Congress opted for a notes ban when needed, he would not have had to do so. PM Modi has in speeches emphasized that long-term gains are expected of demonetisation and GST, and has said those who oppose them are weakening the cause of fighting corruption.

Dr Singh was today addressing a meeting of traders and businessmen organised by the Congress in his PM Modi's home state, which votes next month for a new government. Placed next to him at Sardar Patel auditorium in Ahmedabad, was a garlanded photo of Sardar Vallabhai Patel, whose legacy PM Modi and his party have sought to claim, accusing the Congress of not honouring its leaders.

"When undertaking the endeavour of one nation one tax if the PM had taken inspiration from the resolve of great Sardar Patel, the outcome would've been different," said Dr Singh, whose party has accused the Centre of faulty implementation of the Goods and Services Tax or GST.

He also questioned PM Modi's pet project the bullet train, calling it "an exercise in vanity" and asking if the Prime Minister had considered the alternative of "a high speed train by upgrading broad gauge railway?" The former PM said, "By questioning bullet trains does one become anti-development? Does questioning GST and Demonetisation make one a tax evader?"

The Congress is seeking to wrest Gujarat from the BJP, which has ruled the state for the last 22 years straight. Rahul Gandhi has in his Gujarat campaign made aggressive attacks on PM Modi and his government over both the notes ban and GST, which he has labeled the "Gabbar Singh Tax" after the famous villain from Bollywood superhit Sholay. Mr Gandhi says the "two quick shots to the chest," have brought Gujarat's small traders to their knees and they must punish the BJP by voting against it in next month's assembly elections.

Rahul Gandhi has said that GST has its merits, but has accused the government of a hurried and unwieldy roll-out and has promised to revamp it completely if his party is voted to power at the Centre in 2019.

"A well designed GST would have been revolutionary...I appreciated that when despite opposing GST as a Chief Minister he (PM Modi) changed his mind as Prime Minister and decided to go for it...But the loopholes and an ill designed GST have caused hardships," Dr Singh said.

Rahul Gandhi will visit Gujarat again tomorrow and is expected to join his party's protests against the notes ban in Surat, a textile and diamond hub. The Congress has said it is marking November 8, a year since the notes ban, as "black day."

Saturday, November 4, 2017

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیںLive Nations make their way out of mountains

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے نظرآتے رہیں، اس وقت تک مجھے اپنی قوم کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔اس کے برعکس ہماری حالت یہ ہے کہ کھانے، پینے، پہننے، مغرب کی نئی نئی مصنوعات فخر سے خریدنے سے ہم کو فرصت نہیں ہے۔ ایک ہزار سال تک دنیا کو دینے کے بعد پچھلے کئی سو سال سے ہم نے دنیا سے کچھ لیا ہی ہے ، دیا کچھ نہیں ہے۔
ابھی چند دن پہلے خبر آئی ہے کہ مکمل طور سے معذورانگریز سائنس دان سٹیفن ہاکنگ کے ۱۹۶۶ کے پی ایچ ڈی مقالے کو کیمبرج یونیورسٹی نے اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیا تو چند دن کے اندر پانچ ملین  (پچاس لاکھ)  لوگوں نے اس ویب سائٹ پر جاکر اسے پڑھا اور ان میں سے پانچ لاکھ لوگوں نے اس مقالے کو ڈاؤن لوڈ یعنی کاپی بھی کیا۔ کیا اس کی مثال کسی موجودہ عرب یا مسلم سوسائٹی میں مل سکتی ہے؟ ہمارے جرائد ومجلات یکے بعد دیگرے بند ہورہے ہیں۔ ہماری اردو کتابیں جو پہلے ایک ہزار کی تعداد میں چھپتی تھیں، اب صرف پانچ سو کی تعداد میں چھپتی ہیں کیونکہ کوئی خریدتا نہیں ہے۔بڑے سے بڑے مصنف ومحقق ومورخ کی کوئی قدر نہیں اگر وہ کسی بڑے منصب پر نہ بیٹھا ہو۔ہاں ،ہمارے محلّوں میں ریستوران ، کباب کے ٹھیلے اور دوا فروشوں کی دکانیں خوب چل رہی ہیں۔
ہاکنگ کا مذکورہ مقالہ کوئی ناول نہیں ہے بلکہ ’’مسلسل وسعت پانے والی خارجی دنیاؤں کے اوصاف‘‘ (Properties of Expanding Universes) کے بارے میں ہے (یہ وہی نظریہ ہے جسے قرآن پاک میں ’’وانا لموسعون‘‘ (الذاریات۴۷(کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے) ۔ اور یہ مقالہ ایک ایسے آدمی نے لکھا ہے جو چلنے، پھرنے، بولنے اور حتی کہ لکھنے سے بھی قطعاً معذور ہے۔ اس کی عبقریت کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت اور معاشرے نے اس کو ہر طرح کی سہولت بہم پہنچائی ہے جس میں ایک عجیب وغریب کمپیوٹر بھی شامل ہے جو ہاکنگ کی دماغی لہروں کو سمجھ کر اسے کمپیوٹر پر الفاظ کی شکل دے دیتا ہے۔ ہاکنگ کے یہ خیالات نہ صرف سائنسی دنیا میں بہت اہمیت اور دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں بلکہ اکثر اخبارات کی سرخیوں کی زینت بھی بنتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ہاکنگ جیسا شخص کب کا کڑھ کڑھ کر مرچکا ہوتا یا کسی چور اہے پر معذوروں والی گاڑی میں بیٹھا بھیک مانگ رہا ہوتا۔ہمارے معاشرے میں کسی عبقری، جو معذور بھی نہ ہو، کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔ برسوں قبل امریکہ سے طب میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹرہر گوبند کھورا نااپنے ملک کی خدمت کے جذبے سے سرشارہندوستان واپس آگئے توحکومت نے ازراہ کرم خسروی انہیں ایک دیہی علاقے کی کلینک میں بحال کردیا۔ بیچارا اپنا ٹوٹا ہوا دل لے کر پھر امریکہ چلاگیا اور چند سالوں کے بعد جب اسے اپنی تحقیق پر نوبل انعام ملا تو ہندوستان میں اسے بڑے فخریہ انداز میں بیان کیا جانے لگا ۔اس کے جواب میں ڈاکٹر کھورانا نے صرف ایک لائن کا بیان جاری کیا:’’ یہ اعزاز  مجھے ایک امریکی شہری کی حیثیت سے ملا ہے‘‘۔
تقریبا نصف صدی قبل قاہرہ میں ہماری ملاقات ڈاکٹر عبدالقیوم سے ہوئی جو پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں معاشیات کے لکچرر تھے۔ ان کے صدر شعبہ نے اس انتہائی شریف انسان کو اتنا تنگ کیا کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چھوڑ کر مصری گورنمنٹ کے معاشی اکسپرٹ کے طور سے بادل ناخواستہ قاہرہ چلے گئے۔ جلد ہی ان کو قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی نے لکچرر کے طورپر متعین کرلیا۔ کچھ ہی سال بعد امریکہ کی پورٹلینڈ یونیورسٹی نے ان کو پروفیسر کی حیثیت سے بلا لیا۔ برسوں بعد قاہرہ ہی میں ہماری ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی جب وہ تین سال کی مکمل تنخواہ  پر علمی چھٹی (sabbatical) پر تھے جو ان کی یونیورسٹی نے ان کو اپنے ایک معاشی نظریے پر کتاب لکھنے کے لئے دی تھی۔ ڈاکٹر عبدالقیوم کا انتقال جنوری ۲۰۱۶ میں ہوگیا۔ ان کے اعزاز میں ان کی امریکی یونیورسٹی نے ان کے نام پرایک اسکالر شپ جاری کررکھا ہے جو اس یونیورسٹی میں ریسرچ کرنے والے ہندوستانی طلبہ کو دیا جاتا ہے۔یہ ہے ایک امریکی یونیورسٹی کا معاملہ اس استاد کے ساتھ جسے خوداس کی اپنی مادر علمی نے تنگ کرکے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔
اسی طرح کا معاملہ ہمارے ساتھ بھی اپنے وطن عزیز میں پیش آیا۔ میں بھی لندن میں بسی بسائی زندگی چھوڑ کر ۱۸ سال ملک سے باہر رہنے کے بعد آنکھوں میں بہت سے خواب سجائے وطن واپس آگیا۔ قاہرہ یونیورسٹی سے ایم اے اور مانچسٹر یونیورسٹی سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی حاصل کرنے ، مسلم انسٹی ٹیوٹ لندن کا سینئر فیلو ہونے، انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں آٹھ مقالے لکھنے اور بیسیوں انگریزی و عربی کتابوں کے مصنف و مترجم ہونے کے باوجود ہماری یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے مطالعات اسلامی نے ہمیں گھسنے نہیں دیا کہ مبادا اندر براجمان نیم خواندہ چرب زبان مافیائی گروہوں کے تسلط کو خطرہ نہ لاحق ہوجائے۔ اس طرح کے کئی تجربوں کے بعد تقریباً پچیس سال قبل ایک انٹرویو ہال سے نکل کر میں نے وہاں بیٹھے ہوئے دوسرے امیدواروں کے سامنے یہ اعلان کر دیا کہ میں اب کبھی دوبارہ کوئی درخواست نہیں دوں گا۔ان امیدواروں میں سے متعدد آج ’’پروفیسر‘‘ ہیں لیکن میں نے پھر کبھی کوئی درخواست نہیں دی۔ اس سے میرا تو کوئی خاص نقصان نہیں ہوا، لیکن ان اداروں کانقصان ضرور ہوا جہاں مجھے گھسنے نہیں دیا گیا کیونکہ میرے مصر ی اور برطانو ی تعلیمی تجربے سے طلبہ کو ضرور فائدہ ہوتا۔ جن اداروں میں مجھے گھسنے نہیں دیا گیا آج وہیں ریسرچ کے طلبہ کے لئے میری کتاب دلیل الباحث (اردو ایڈیشن:  اصول تحقیق) کا مطالعہ ضروری خیال کیا جاتا ہے۔میری اپنی بات اتفاقیہ طور سے قلم پر آگئی ہے۔ جب میں یہ مضمون لکھنے بیٹھا تو اپنے ذکر کا کوئی ارادہ نہیں تھا حالانکہ اللہ پاک نے مظلوم کو اپنے آواز بلند کرنے کا حق دیا ہے (سورۃ النساء ۱۴۸)۔بہر حال ضرورت ہے کہ ہم اپنے رویوں کو بدلیں۔ حقیقی علم رکھنے والوں اور اس کے متلاشیوں کے لئے راستے کھولیں اور ایسے مشغلے اپنائیں جو ہمیں دنیا کی قوموں کے سامنے سرخروکریں۔آج ہماری پہچان ایک ایسے گروہ کی ہوچکی ہے جو اپنی مادی اور دنیاوی خواہشات کو ہر صحیح اور غلط طریقے سے پورا کرنے میں مست ہے اور دوسروں کے مکمل طور پر خوشہ چیں ہونے پر پوری طرح مطمئن ۔ختم

Wednesday, November 1, 2017

کشمیر میں مذاکرات، ایک پرفریب اقدام Talks in Kashmir a futile and deceptive act

کشمیر میں مذاکرات، ایک پرفریب اقدام

سید منصورآغا، نئی دہلی
گزشتہ ہفتہ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے اعلان کیاکہ ریٹائرڈ آئی پی ایس آفیسر دنیشور شرما کو کشمیرمسئلہ پر بات چیت کے لئے مرکزی حکومت کا نمائندہ مقررکیا گیا ہے۔ مسٹرشرما یکم جنوری 2015سے یکم جنوری 2017تک مودی سرکار کے ابتدائی تین سال آئی بی کے ڈائرکٹررہے۔یہی وہ دورہے جس میں عین عید کے دن ایک منصوبہ بند ’انکاؤنٹر‘ میں برہان وانی ماراگیااورجس پرطویل مدت تک جاری احتجاج کے دوران چھرے والی بندوقوں کے استعمال سے کئی افراد فوت ہوئے،بہت سے زخمی ہوئے اوربینائی سے بھی محروم ہوگئے۔ اسی دورانیہ میں حریت لیڈروں کی پکڑ دھکڑ ہوئی۔ اب ان کو کابینہ سیکریٹری کے مساوی درجہ دے کر کشمیر بھیجا گیا ہے اورزیڈ درجہ کی سیکیورٹی دی گئی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوام سے دوردوررہیں گے۔مسٹرشرما نے کشمیر جاکرملاقاتوں کاسلسلہ شروع کردیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیازخم خوردہ کشمیریوں سے ان کی ملاقاتیں اعتماد کی فضا میں ہوسکیں گیں اورنتیجہ خیز ثابت ہونگیں؟ شایدنہیں۔
ان کی تقرری کے ساتھ یہ خبربھی آئی کہ وہ حریت لیڈروں سے بھی بات چیت سے گریز نہیں کریں گے۔ جو سرکار روز اول سے غیرمشروط بات چیت سے فراراورگولی اورگالی کی زبان سے کشمیر کو زیر کرنے میں لگی رہی، اس کی روش میں یہ تبدیلی بظاہربہت خوب ہے، مگریہ تقرری صورتحال کی پیچیدگی کو حل کرنے میں سرکار کی حکمت عملی، نیت اور ارادے میں کسی بنیادی مثبت تبدیلی کی خبرنہیں دے رہی ہے۔ 
ہمیں مسٹردنیشورشرما کی لیاقت ودیانت پر شک نہیں، لیکن موجودہ صورت میں ان کی یہ تقرری غیرضروری بھی ہے اور غیرموزوں بھی۔غیرضروری اس لئے کہ پہلے بھی مذاکرات کاروہاں بھیجے گئے۔ انہوں نے طویل مشقت کے بعد جو رپورٹیں اور سفارشیں سرکار کو پیش کیں، پہلے ان پرتوجہ دی جانی چاہئے۔حال ہی میں سابق وزیراعظم ڈاکٹرمن موہن سنگھ بھی گئے۔واجپئی کابینہ کے سینئر وزیر مسٹریشونت سنہا کی قیادت میں ایک ٹیم نے تفصیلی دورے کرکے اپنی رپورٹ میںیہ نشاندہی کی کہ سرکارکی پالیسیوں کی بدولت ہندستان نے کشمیریوں کو جذباتی طورسے کھودیاہے اورپرزور واشگاف کیاگیا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ بند ہو۔سابقہ سفارشات کو نافذ کرنے کے بجائے ایک اورفرد کی جائزے کے لئے تقرری غیرضروری ہے۔آخر وہ کونسا پہلو ہے جس کی نشاندہی کے لئے ایک پولیس آفیسرکی خدمات درکار ہیں؟ اگر کوئی پہلو تحقیق طلب ہے تویااس کے لئے مقامی پولیس افسران پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہئے ؟
یہ تقرری غیرموزوں اس اعتبار سے ہے کہ مسئلہ بنیادی طورسے سیاسی ہے اور مسٹرشرماکی لیاقت اور مہارت ایک پولیس افسرکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرکار اب بھی مسئلہ کو امن اور قانون کے معاملہ کی نظرسے دیکھ رہی ہے ۔ اس نے ابھی تک وہ کتاب نہیں کھولی جس کا پہلا باب محترم اٹل بہاری واجپئی نے لکھا تھا۔ باجپئی جی کا دل بھی بڑاتھا اوردماغ بھی۔ پاکستان سے رشتوں اور مسئلہ کشمیرکے معاملہ میں انہوں نے تعصبات سے بلند ہوکر صحیح معنوں میں سیاسی مدبر کا کردار ادا کیا ۔ ان کی جرأت مندی دانشورانہ اور دور اندیشانہ تھی ۔ جب کہ موجودہ قیادت کے دلوں پر زنگ آلود تالے اورآنکھوں پر دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں۔ چاہئے کہ ان تالوں کو توڑ پھینکا جائے ، ان پردوں کو تارتارکردیا جائے اور مذاکرات کی وہ میز جس کو ایک جھٹکے میں الٹ دیا گیا، پھرسے سجائی جائے۔ جب تک پڑوسیوں سے تعلقات کی خوشگواری کو اپنی خودساختہ قوم پرستی پرفوقیت نہیں دی جائے گی، قوم کے حقیقی مفاد میں فیصلے نہیں کئے جائیں گے اور سارک کی جس رواں دواں گاڑی کو، آپ نے جام کردیا ہے ، متحرک نہیں کیاجائیگا تب تک کشمیر میں امن کی طرف پیش قدمی کی توقع نہیں۔ اس میں شمالی پڑوسی سے رشتے بھی ایک اہم فیکٹر ہیں۔

خصوصی درجہ

کشمیر کے معاملہ میں موجودہ حکومت کی نیت اس لئے بھی صاف نہیں لگتی کہ وہ جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ کی گھات میں ہے، حالانکہ آئین کی شق 370ہندسے کشمیر کے الحاق کی اہم بنیاد ہے۔ مسٹرپی چدمبرم نے درست کہاہے جب کشمیر میں آزادی کا نعرہ لگتاہے تواس کا مطلب ہندستان سے الگ ہونانہیں ہوتا ۔ اس کا مطلب داخلی خود مختاری کی بحالی ہے۔ چنانچہ سرکارکو اس غلط فہمی کو ہوا نہیں دینی چاہئے کہ کشمیر ی کسی نئی رعایت کے طالب ہیں۔ وہ صرف اس گمشدہ خودمختاری کے طالب ہیں جس کا عہدوپیماں راجہ ہری سنگھ اور آزاد ہندستان کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بھارت سرکار کی ایما پر کیا تھا۔ ان کا یہ مطالبہ جرم نہیں۔ خلاف آئین نہیں۔ غداری نہیں۔ یہ ان کاعین جمہوری حق ہے۔ کشمیرمیں آزادی کے نعرے کا مطلب اس جبر اور ظلم سے نجات ہے جس میں کشمیری عوام کو ایک مختصر مدت کو چھوڑ کر، دہائیوں سے مبتلا کررکھاگیاہے، جس میںآپ کے دورمیں نئی شدت آگئی۔ کشمیراپنی صدیوں پرانی رواداری،مہمان نوازی اور انسانیت نوازی کی قدروں کی طرف لوٹ جانے کو مچل رہا ہے ،جس کو پیلٹ گنوں، جبری اورمنصوبہ بند انکاؤنٹروں اوربے نشان قبروں نے مجروح کر دیا ہے۔

چدمبرم پرالزام

مسٹرمودی کا بیان جس میں انہوں نے مسٹرچدمبرم کے مذکورہ بالا بیان پر ’’کانگریس پرپاکستان کی بولی‘‘ بولنے کا الزام لگایا ہے انتہائی افسوسناک اور غیرذمہ دارانہ ہے ۔اس سے کشمیر کی فضا اورمکدرہوگی۔ یہ درست ہے کہ کشمیر کے معاملہ میں کانگریس کا دامن بھی پاک نہیں، لیکن سب سے بڑی رکاوٹ وہ تنگ ذہنی ہے جو سنگھیوں نے اختیارکررکھی ہے۔اس کا ایک ثبوت سپریم کورٹ میں دفعہ 35Aکی عذرداری میں مودی سرکار کا موقف ہے۔اس موقف کو بدل لیجئے۔ آدھا مسئلہ حل ہوجائیگا۔تین چوتھائی مسئلہ اس دن حل ہوجائیگا جس دن سرکاراعلان کردیگی کہ سارے معاملات الحاق کے معاہدے کے مطابق حل ہونگے اور تاحال اس میں جو سوراخ کئے گئے ہیں، ان کو پرکیا جائیگا۔ بات چیت کے لئے فضا اس دن سازگارہوجائیگی جس دن آرمڈ فورسز(خصوصی اختیارات ) ایکٹ کووادی میں معطل کردیا جائیگا اور کشمیر کو دیگر ریاستوں میں انتخابات جیتنے کے لئے فرقہ ورانہ ایشو نہیں بنایاجائیگا۔ گجرات اورہماچل پردیش میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل مسٹرشرما کی تقرری اور اجودھیا معاملہ میں ایک بھاجپا نواز نیم مذہبی شخصیت کی مصالحت کی پیش کش اوراس پر رد وقدح کا جوسلسلہ شروع ہوا ہے وہ دراصل سرکارکی سیاسی سفاکی کے اقدامات ہیں اورمسلم قیادت اس میں پھنستی چلی جا رہی ہے۔ کشمیر کے معاملہ پر مودی کا کانگریس پر اعتراض بھی گجرات چناؤ میں عوام کی توجہ کو اصل مسائل سے بھٹکانے اوراپنے قدموں تلے سے کھسکتی ہوئی زمین کو بچانے کے لئے ہے۔کشمیری عوام اوران کے قائد تجربات کے اورحادثات کے ایسے دورسے گزرچکے ہیں کہ اب وہ کسی فریب کے جال میں پھنسنے والے نہیں۔ مودی جی نے اقتدارسنبھالتے ہی جس پیکج کا اعلان کیا تھا اورسیلاب زدگان کی مدد کا جو بھروسہ دلایا اس پر عمل نہیں ہوااس لئے اب زبانی وعدوں اوراعلانوں پر بھروسہ کیسے کیا جاسکتاہے؟

Dharamyudh in Full Swing - by Dr.Javed Jamil

It is ironical indeed that the forces that are least hesitant to useviolence as a means to establish or sustain their hegemony have been most vocalin criticising Jihad and Jihadism in Islam and Muslims. None can beat West inusing force at the cost of the human life aimed at silencing all the challengedto their monopoly. As I have detailed in numerous articles in last fifteenyears, the whole Modern history of West is replete with wars, imposed civilwars and genocides. The memories of the world wars had not yet died down thatthey came up with another “war on terror” that has already consumed severalmillions of lives.

Like West, Indian Hindutva Brigade has been ever busy in labellingMuslims and Islam as the biggest threat to peace. The campaign is becomingincreasingly hostile with every passing day. Poor Muslims including theirintellectuals and “researchers” are always busy at defending Islam and Muslimsand never bother to study or highlight the ideologies and designs of the otherforces. They never question; they are only fond of answering.

Hindutvavadis are not only busy in maligning Muslims but like West are alsobecoming increasingly aggressive in their version of Jihad, the Dharamyudha.While in Islamic vision of Jihad, use of arms is only the last option, in Dharamyudha,use of Shastra is the only option. When they talk of “Dharamyudha” it isnothing but pure use of Shastra (weapons) for the sake of religion. What if notDharamyudha is this that their devotion to their “gau mata” leads to killingMuslims with impunity? What if not Dharamyudha was this when they razed BabriMasjid to the ground and indulged in rioting against Muslims killing hundreds? Whatif not Dharamyudha was this when they went on the killing spree in Gujarat in2002 blaming Muslims for the death of few dozen Kar Sewaks? What if notDharamyudha is this that riots are recurrently organised killing scores of Muslimswith the help of Police? According to various reports, between 30000 and 100000people have been killed in Hindu-Muslim riots since Partition, 75 percent ofthem being Muslims.

There are reasons to believe that they are vigorously planning for amuch bigger, an all-out Dharamyudha. Their well-oiled media machine isconstantly preparing a ground for this by trying to portray Muslims asJihadists who want to convert Hindus by force or through “love Jihad”. Theiraim is to galvanise all Hindus irrespective of their castes against Muslims. Theirspecial attention is directed towards making bureaucrats, police, judiciary andarmy communally polarised. Their intellectual activists and dharamgurus are busyhighlighting the importance of Shastrashastra in Hindu Dharam. While astraapplies to small defensive weapons, shastra applies to lethal attackingweapons. The reports of armed training being given to activists have time andagain appeared in the press.

Despite the avowed principle of Ahimsa(non-violence) that Hinduism appears to preach, Ahimsa has sufficient scope for Himsa(violence). Hindu scriptures are full of grandiose descriptions of wars andbattles. “Mahabharat”, one of themost sacred scriptures of Hindus is in fact all about the “greatest” war thatwas fought on the surface of the earth, under the command of Lord Krishna. “Ramayana”, the other important scripture too has the war between Ram and Ravan as one of the main chapters. The major Hindu festivals like Diwali and Dussehra are celebrated in the memory of the victories in wars. Many Hindu thinkers have been preaching for years the desirability of the use of force against their “enemies”. It will be worthwhile here to quote from an article, “THE REAL HINDU VIEW OF AHIMSA (non-violence)”by Shri Nandan Vyas. He says:

“The Hindu scriptures extol virtues of Ahimsa (non-injury or non- violence) and consider it an essential tenet of and guide for PERSONAL behavior (ONLY). Howeverdestruction of wicked essential for establishing the Dharma (righteousness) isconsidered Ahimsa also……As the Bhagavat tells us: Jivo jivasya jeevanamBhagavat - 1.13.46 .... (1) Knowingly or unknowingly a larger life formconsumes a smaller life form, thence complete Ahimsa is not possible. Also, in this respect one must define right or justifiable Himsa, and unjustifiableHimsa….in the context of the Mahabharat war wherein Bhagawan Krishna repeatedly asks Arjun to fight the righteous war (Tasmat yuddhasya Bharat!)….. Because theHINDU SCRIPTURES CONSIDER UNAVOIDABLE VIOLENCE (HIMSA) RELUCTANTLY UNDERTAKENFOR THE PURPOSE OF ESTABLISHING A RULE OF RIGHTEOUSNESS (DHARMA SANSTHAAPANA)FOR THE BETTERMENT OF SOCIETY AND FOR SUSTENANCE OF ONE'S BODY AS JUSTIFIABLEAND CALL IT AS AHIMSA ALSO. ….Dayaa tiche naav bhutaanche paalan aanikanirdaalan kantakaanche (Tukaram Gatha - Abhanga 129)...(4) Meaning - Compassionis thy name - nurturing all (living) beings AND the destruction of the wicked.…..Even Manusmruti says: Aatatayinaa mayaantam hanyaadevavichaaryan(Manusmruti 8.350) ...(1) Meaning - A wicked, evil aggressor should be killedwithout any hesitation. ….…In fact in Bhagavad Gita, Bhagavan Krishna promises- 'paritraNaaya saadhunaam vinaashaayacha dushkrutaam dharma sansthaapanaarthayasambhavaami yuge yuge (Gita 4.8) ...(7) Meaning - For the protection of thegood, for the destruction of the wicked, and for the establishment of dharma, Iam born age after age…..real popular Hindu view considers destruction of wickedas Ahimsa also. Hindu scriptures are full of incarnations of Vishnu and Shivawith the destruction of wicked demons as their main Avatar karya (reason tobe). It is also more than a coincidence that all Hindu divine images are alwaysbearing arms. Even Hindu goddesses, such as Durga, Bhavani, Kali, carryweapons, and are immortalised in the stories of their destruction of thewicked. Even now during the Dasshera festival Hindus perform puja of theirweapons. This tradition is followed even in the Indian and Nepali armed forces,particularly in the Gorkha regiments. Thus bearing arms and destroying thewicked are considered necessary for the preservation of society and areconsidered as Ahimsa.”

Tuesday, October 31, 2017

The Kashmir Ruse : Posting a police man to talk politicians

EVERY sign in the Modi government’s appointment this week of former Intelligence Bureau chief Dineshwar Sharma as its interlocutor in Jammu and Kashmir (J&K) reveals the ruse. Sharma headed the IB when the valley was in revolt over Burhan Wani’s killing in 2016.
He is the person appointed by the centre to “initiate and carry forward a dialogue with elected representatives, various organisations and concerned individuals in [J&K]”. Precisely because of this sweeping range of participants, designed obviously to sideline it, the Hurriyat had refused to participate in the roundtable conferences in New Delhi.
He will have “sustained interaction and dialogue to understand the legitimate aspirations of a wide cross-section of society”. Azadi, or even restoration of autonomy, is ruled out. He will next “communicate them to the [J&K] government and the centre”. The policeman will perform as a postman. Did either of the governments need him to tell them what the people want?
Sharma is not the person to bring peace to the valley.
On Oct 1, BJP leader Yashwant Sinha said, “We have lost the people emotionally ... You just have to visit the valley to realise that that they have lost faith in us.” Sinha said also that Pakistan is a “necessary third party” to the dispute, a fact that India ignores but Kashmiris assert.
Recently, at least 10 separatist leaders were arrested on charges of illegal financial transactions. On Oct 14, BJP’s Jitendra Singh said that “the militants are on the run”. New Delhi imagines that it can now strike a hard bargain before the 2019 polls. Time is on its side.
Sharma’s remit is unclear. For a dialogue to be sincere and productive, three essentials must be met — readiness to negotiate and compromise; determination to succeed; and a realistic appraisal of the situation in which the dialogue is held. The BJP is against restoring autonomy. Its determination is based on the belief that now it can dictate terms; and its assessment of Kashmiris’ aspirations is controlled by those of the RSS. What has it to offer at all?
In 2000, the Vajpayee government rejected as ‘unacceptable’ a resolution of the J&K Legislative Assembly, which sought merely a return to the constitutional position in 1952 — all in the name of ‘national integration’. In 2001, the Vajpayee government offered “a political dialogue with all sections of the peace-loving people of [J&K] including those who are outside it”. The Hurriyat was specifically invited, but the basis for a dialogue was omitted. Shortly thereafter, Vajpayee invited president Pervez Musharraf for talks. This ended in his reneging on a draft the two had agreed on.
In 2002, Arun Jaitley was asked to hold talks on ‘devolution of powers’, ie revocable at will. He went nowhere. N.N. Vohra was appointed as interlocutor in 2003, but also made no progress. A three-member team was appointed as interlocutors in 2010 “to hold a sustained dialogue with all sections of the people” and “suggest a way forward that truly represents the aspirations of the people of [J&K], especially [the] youth”. They failed miserably on both counts — in understanding the people’s aspirations and on forwarding proposals that they could accept. Read carefully. The Sharma remit follows closely on theirs and will fail as completely.
New Delhi must first take a major policy decision on how far it is prepared to go to meet the Kashmiris’ demands, and then select a negotiator with authority who can win popular support for any settlement that may be reached.
What is needed is a political approach by a senior politician. Sharma worked with a former IB head Ajit Doval, now Modi’s right-hand man, and with Home Minister Rajnath Singh when he was UP chief minister, as head of the state’s intelligence. He will not seek out the Hurriyat, only extend “an open invitation to all ... who are willing to engage in a dialogue”; they have to appear before him.
“Peace must be restored in Kashmir and for that I will talk to all people in an effort to bring about a solution,’’ he said. Has he any mandate to achieve this result? This requires a political figure of standing. A former spy chief is ill equipped for the job, which goes beyond merely assessing the situation. On Oct 24, Sharma said “I have not received anything in writing from the government.” Don Quixote was more cautious. No self-respecting official should allow himself to be treated thus.
The Abdullahs — father and son — have contradicted each other. Mehbooba Mufti was ecstatic as she clutched at the reed thrown at her to save her sinking ship. She and her masters in New Delhi will blame the Hurriyat for the predictable failure of Sharma’s wild adventure in Kashmir.
The writer is an author and lawyer based in Mumbai.
Published in Dawn, October 28th, 2017

Wednesday, October 18, 2017

کم سن بچوں کی اموات کا یہ وحشت ناک سلسلہ Infant and newborn's death, causes in India

کم سن بچوں کی اموات کا یہ وحشت ناک سلسلہ
گزشتہ دنوں گورکھپورکے بی آرڈی اسپتال میں ایک ہی ماہ اگست میں 296 نومولوداورکم سن بچوں کی موت کی خبریں شہ سرخیاں بنیں۔ اس اسپتال میں پچھلے سال میں 1256بچے لقمہ اجل بن گئے۔ یوپی کے ہی فرخ آباد اسپتال میں چند روز میں 50سے زیادہ بچوں کی موت کی خبرآئی۔ جھارکھنڈ کے مختلف اسپتالوں میں 800سے زیادہ بچوں کی اموات ہوئی۔ (TIO-31Aug) ۔ایک ایسی ہی رپورٹ(IE- 16 Oct) اکولہ (مہاراشٹرا) کے باوقارضلع زنانہ اسپتال کی بھی آئی ہے۔ یہ اسپتال مہاراشٹر کا سب سے بڑا اورمشہورزنانہ اسپتال ہے ۔خصوصاً نوزائدہ بچوں کی گہری نگہداشت والی یونٹ (SNCU) خاص ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2016-17 میں اس اسپتال میں 15984 ولادتیں ہوئیں جن میں سے 4170 بچوں کوخصوصی نگہداشت والی یونٹ میں رکھنا پڑا۔ ان میں سے 1472 بچوں کی موت ہوئی۔یہ شرح 35فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ توچندمثالیں تازہ ہیں۔ ہمارے ملک میں گزشتہ سال 8لاکھ 40ہزارکم سن بچے فوت ہوگئے ۔پی آئی بی کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ شرح اموات کم ہوئی ہے مگر 2016میں بھی یہ 34فی ایک ہزار ولادت تھی جو سنہ 2015میں 35فی ہزارتھی۔ایک ترقی پذیرملک کے لئے یہ صورت حال یقیناًسنگین ہے۔
اموات کے اسباب
گورکھپور اسپتال میں بڑی تعداد میں اموات سے جب تہلکہ مچا توانتطامیہ چوکنا ہوگیا۔ نظام کو درست کرنے کے اقدامات کے باوجود اموات کاسلسلہ تھما نہیں۔ ستمبر میں 433بچوں کے مرنے کی خبرہے(NewsClick 6Oct)۔13اکتوبر تک مزید 175بچے فوت ہوئے۔(Pioneer 15Oct (۔ یہ تعداد بھی ماہ کے آخر تک تین سو سے زیادہ ہونے کا اندیشہ ہے۔اس کا مطلب صاف ہے ۔ اسپتالوں میں کوتاہی موت کی واحدوجہ نہیں۔ دوسرے اسباب بھی ہیں، جن پر نظر نہیں جاتی۔
سرکاری اور غیر سرکاری جائزوں سے ظاہرہوتا ہے کہ ان بچوں کی جان زیادہ خطرے میں ہوتی ہے جو کمزور اور کم وزن پیداہوتے ہیں۔ جس کی وجہ دوران حمل ماؤں کو صحت بخش غذاکی کمی ہے ۔ دوسراہم سبب دوران حمل اوربچے کی ولادت کے فوراًبعد ٹیکے نہ لگنا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ننھی سی جان آسانی سے کسی وبائی مرض کا شکار ہوجاتی ہے۔ مرض کے مقابلے کی طاقت اس میں نہیں ہوتی اوروہ زندگی ہارجاتا ہے۔بعض اوقات زچہ بھی فوت ہوجاتی ہے۔اس کے برخلاف جو خواتین دوران حمل صحت بخش غذا کا اور مقررہ ٹیکوں کوخیال رکھتی ہیں ان کے بچے عموماًً محفوظ رہتے ہیں۔ غریب طبقوں میں خصوصاً خواتین کو غذاصحت بخش نہیں ملتی۔ آئرن ، وٹامنس اورپروٹین کی کمی ہوتی ہے۔عوام کو خبرنہیں،خرچ کرنے کوپیسہ نہیں، سرکارکو فکر نہیں ۔ اب ترجیحات میں بلٹ ٹرین توہے، ہرعورت کوصحت بخش غذاپہچانا نہیں ہے۔ البتہ ٹیکوں کے معاملے میں ہماری سرکاریں بہت مستعد رہی ہیں۔ اس سے اگرفائدہ نہیں اٹھایا جاتا تو اور بچے کی موت کسی ایسے مرض سے ہوجاتی ہے جس کی روک تھام ٹیکہ سے ممکن تھی تو کوتاہی سرکار کی نہیں ہماری ہے۔
ٹیکوں کی کامیابی
ٹیکوں کی مہم کی بدولت ،جو کئی دہائیوں سے چلائی جارہی ہے، ہمارے ملک کوکئی جان لیوا بیماریوں سے نجات مل گئی ہے۔ مثال کے طورپرچیچک ،جس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔مصر میں تین ہزار سال پرانی جوممی(دوائیں لگاکر محفوظ کی گئی لاشیں) ملی ہیں ان میں چیچک سے مرنے والوں کی لاشیں بھی ہیں۔یہ وبائی مرض سنہ 50 اور 60 کی دہائی تک ہمارے ملک میں بھی بچوں کی جھولی بھرکرلے جاتا تھا۔جو خوش قسمت بچ جاتے ان کی شکل وصورت بگڑجاتی۔ بہت سوں کی آنکھیں خراب ہو جاتیں۔ ایک برطانوی ڈاکٹر اڈورڈ جینر نے سنہ 1796میں چیچک کاٹیکہ دریافت کرلیا تھامگراس کے عام ہونے میں وقت لگا۔تاہم اس ٹیکے کی بدولت سنہ1970کی دہائی میں اس موذی مرض کا خاتمہ ہوگیا۔ ہماری نئی نسل تواس کانام بھی کم ہی جانتی ہوگی۔
ایساہی ایک مرض پولیوتھا۔ اس کا وائرس بچے کو زندگی بھرکے لئے آپاہج بنا دیتا ہے ،جس کا علاج ممکن نہیں ۔ پولیو سے مثاثرافراد کی موت بھی اکثرجلدہوجاتی ہے۔ سنہ 1995میں جب ہماری سرکار نے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے اس مرض کو مٹانے کیلئے ٹیکہ مہم شروع کی، ہرسال 50 ہزار بچے پولیوسے معذورہوجاتے تھے۔کچھ مربھی جاتے تھے۔یہ مہم اس قدرمستعدی سے چلائی گئی کہ ملک پولیو سے پوری طرح محفوظ ہوگیا۔ عالمی ادارہ صحت سے ہندستان کو فروری 2014 میں پولیو فری ہونے کی سند مل گئی ۔ایساہی ایک مہلک مرض ٹیٹنس بھی تھاجس میں زچہ اور نوازئدہ بچوں کی بڑی تعداد میں موت ہوجاتی تھی۔لیکن ٹیکوں کی بدولت مئی سنہ2015 تک ملک اس مرض بھی محفوظ ہوگیا۔
ٹیکہ محفوظ ہے
ٹیکوں کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ جن کو دورکیا جانا مقصود ہے۔ جس زمانے میں پولیوٹیکے کی مہم زوروں پر تھی،یوپی کے بعض مسلم علاقوں میں یہ افواہ پھیلی کہ یہ بچوں کوناکارہ کرنے کی تدبیرہے تاکہ آگے نسل نہ چلے اورمسلم آبادی کم ہوجائے۔خدابھلا کرے مرحوم محمودالرحمٰن کا جو سنہ 1995تا 2000 مسلم یونیورسٹی کے وی سی رہے، اس غلط فہمی کودورکرنے کیلئے اشتہار دئے، بیانات دلوائے، یونیورسٹی سے جگہ جگہ وفود بھیجے۔ خودگئے ۔ ان کی یہ مہم کامیاب ہوئی۔ ع کوشش کرے انسان تو کیا کام ہے مشکل۔
دوا کے یہ چند قطرے جو ٹیکہ کہلاتے ہیں، کمال کے ہوتے ہیں اور بہت سی جان لیوا اور آپاہج کردینے والی بیماریوں ؂ سے بچاتے ہیں۔ دنیا میں ہرسال کروڑوں بچوں کو ٹیکے لگائے جاتے ہیں اور اب یہ ثابت کرنے کیلئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ ہرٹیکہ محفوظ اورموثرہوتا ہے۔کبھی کبھی ٹیکہ کی دواکے کسی مضراثرکی خبرآتی ہیں۔عموماً اصل وجہ کوئی اور ہوتی ہے اور بغیر تصدیق سنسنی پھیلادی جاتی ہے، جس سے مہم متاثرہوتی ہے۔ ٹیکے کی دوائی اور اس کے استعمال میں آنے والے آلات کی پوری طرح حفاظت کی جاتی ہے۔اس لئے ڈرناغلط ہے۔ بیمار توآدمی کبھی کبھار کھانا کھاکر بھی ہو جاتا ہے۔ اس میں کیا شک کہ آپ کو تواپنے بچے سے پیار ہے، اور جانکار لوگوں پر اطمینان بھی۔ خداپربھروسہ بھی۔اس لئے بے جھجک ٹیکہ مہم کا حصہ بننا چاہئے۔ یہ ہماری اگلی نسل کی بہتر صحت کی گارنٹی ہے۔ ٹیکہ لگانے والے سرکاری کارندے عموماً گھرگھرپہنچتے ہیں۔ ان کے ساتھ تعاون کا مطلب ہے کہ آپ اپنے بچوں کی حفاظت میں مستعد ہیں۔
طب اورصحت کے ماہرین کی مستقل اورپختہ رائے ہے کہ بیمار پڑ کر علاج کرانے سے اچھا یہ ہوتاہے کہ اپنی اورخاص طورسے بچوں کی صحت کی حفاظت کی جائے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی یہی ہے۔ کوئی بڑآدمی بیمارپڑجاتا ہے تو ٹوٹ تو وہ بھی جاتا ہے۔ معصوم بچے توبالکل ہی کمہلا جاتے ہیں۔تھوڑی سی بیماری کا بھی ان پرگہرااثرپڑتا ہے۔ بچہ بیمارہوتا ہے توسارا گھرپریشان ہوتا ہے۔ ماں کو توآرام و چین ملتا ہی نہیں ۔ایسی صورت میں کیا یہ ہمارے بھلے کی بات نہیں کہ ہم وقت کی پابندی سے اپنے اوراپنے پڑوسی بچوں کے ٹیکے کی فکرکریں اورجب سرکاری عملہ ٹیکہ لگانے آئے تواس سے بے رخی نہ برتیں۔اس مہربان کے ساتھ مہمان جیسا سلوک کریں۔ ان کی مددخوداپنی مددہے۔
سو فیصد ٹیکہ مہم
اگرچہ ٹیکوں کی مہم کی بدولت کئی امراض پر قابو پالیا گیاہے۔لیکن ابھی بھی حاملہ عورتوں اور پیدائش سے لے کر18سال کی عمرتک مختلف ٹیکوں کی سفارش کی جاتی ہے۔ سرکارکی طرف سے وقفہ وقفہ سے ٹیکوں کی مہم چلائی جاتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے پروگرام کے مطابق ٹیکوں کا یہ سلسلہ چلتا رہتاہے۔ اس وقت خاص مہم خسرہ روبیلا کے ٹیکوں کی چل رہی ہے۔ اس کے تحت پہلے مرحلے میں 3.3 کروڑ بچوں کو ٹیکے لگائے گئے، دوسرے مرحلے میں 3.4 کروڑ بچوں کو ٹیکے لگائے جانے ہیں۔ ملک بھر میں نو ماہ سے 15 سال تک کے 41 کروڑ بچوں کو یہ ٹیکہ دینے کا ہدف ہے۔حکومت ہند نے مشن اندر دھنش جاری کیا ہے جس کا ہدف ان بچوں تک پہنچنا اور ان کو ٹیکہ کے دائرے میں لانا ہے جن تک عام ٹیکہ کاری مہم کے ذریعے نہیں پہنچا جاتا۔ اس مشن کے تحت ہر ماہ کی سات تاریخ کو سات بیماریوں( بی سی جی، ڈی پی ٹی،خسرہ، جگرکی سوجن (ہپیٹائٹس)، گل گھونٹو(ڈفتھیریا)، دماغی ورم (مینن جائٹس اور انفلوئنزا ) کے ٹیکے ایک ساتھ لگائے جارہے ہیں۔بی سی جی کا ٹیکہ ٹی بی کے لئے ہے۔ ٹی بی سے ہرسال کوئی دولاکھ 20ہزارافراد مرجاتے ہیں۔ اس کا ٹیکہ عام طورسے ان علاقوں میں سب بچوں کولگایا جاتا ہے جہاں ٹی بی عام ہے یا جن بچوں کے گھر خاندان میں کسی کو ٹی بی ہے۔مشن اندردھنش کی خاص توجہ ان محنت کشوں کے بچوں پر ہے جو تعمیراتی سائٹس پر،بھٹوں پر، کارخانوں، فیکٹریوں میں، کھیت کھلیان میں کام کرتے ہیں یا خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے ہیں۔
کچھ لوگ تو مقررہ وقت پربچوں کو ٹیکہ لگوالیتے یں،لیکن پورے سماج میں اس فکر نے جڑنہیں پکڑی ہے کہ ٹیکہ کالگوانا بچوں کی حفاظت کیلئے کس قدرضروری اور خود ہمارے لئے فائدہ مند ہے۔ٹیکے عموماً تمام سرکاری اسپتالوں میں یا پرائیویٹ کلینکس میں بھی لگوائے جاسکتے ہیں۔ ٹیکہ سے جسم میں مرض کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیداہوجاتی ہے۔ جب بھی اس مرض کاوائرس حملہ کرتا ہے، اندرونی طاقت اس حملے کو ناکام کردیتی اوراس طرح صحت کی حفاظت ہوجاتی ہے۔ اگربچہ تندرست ہے، تو اس کادل پڑھائی میں بھی لگتا ہے اورگھرکے کاموں میں بھی ہاتھ بٹاسکتا ہے۔جو کچھ کھائے گا، اس کے جسم کولگے گااوروہ خوشحال زندگی گزارے گا۔ورنہ اس کی روں روں نہ تو آپ کوسکون سے جینے دے گی اورنہ بچے کو جینے کامزاآئے گا۔ آپ کو کیا چیز پسند ہے ، اس کافیصلہ آپ خودکریں گے۔
چلتے چلاتے ایک بات اورعرض کردوں کھانے پینے میں احتیاط اور اپنے جسم، گھر اورمحلے کی صفائی ستھرائی بھی صحت کی حفاظت کیلئے ضروری اورسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی۔ جس پر عمل کرناہی چاہئے ۔
cell: 9818678677

Tuesday, October 17, 2017

Reconciliation of Hamas and Fatah Silence of Israel and Gulf Countries has a meaning

Reconciliation of Hamas and Fatah
Silence of Israel and Gulf Countries has a meaning
Syyed Mansoor Agha
On July 27, 2017, Egypt along with four Gulf countries snapped diplomatic ties with Qatar on the pretext of helping “terrorists groups” and Hamas; the ruling group on Gaza Strip of Palestine was cited as a “terrorists” group. On 9th September Aljazeera flashed the news “Hamas' (head of Political Bureau) Ismail Haniya visits Egypt.” The objective of the visit was, “to discuss 'mechanisms to ease Gaza's siege'.” Mr. Haniya headed a 12-member delegation. Egypt opened Rafah check-post for the troupe, which was shut-down after coup against President Morse. The reason was Hamas allegiance to the ‘Muslim Brotherhood’. The delegation remained busy in talks for 10 days with Egyptian leaders and returned back home on 20th September. In Cairo itself, Hamas announced on 17 September, dissolution of the administrative committee which was governing the besieged Gaza Strip for a decade.
Early in the morning of October 1st, Mr. Haniya received an Egyptian delegation headed by Mr. Hazem Khairat, the Egypt Ambassador in Israel. The delegation included General Sameh Kamel and Brigadier General Hammam Abu-Zeid from the intelligence services arrived in through Northern Gaza crossing of Erez, controlled by Zionist Israel. Within hours the Palestinian Minister of Culture Ehab Bseiso arrived through the same crossing  followed by “an amazing thing that happened – hundreds of Palestinian Authority officials drove from the West Bank to Gaza, through Israeli checkpost, and no one from the government of Israel – not Prime Minister Benjamin Netanyahu, not Defense Minister Avigdor Liberman, not even Education Minister Naftali Bennett, made public statements calling to prevent these Palestinian leaders from embracing their brothers from Hamas in Gaza.” Gershon Baskin reported in ‘The Jerusalem Post.”
This was in line of Egypt brokered fresh reconciliation bid between Hamas and Fatah. Earlier the two parties have signed six reconciliation deals meant to end the split, but none held.
In Gaza city, on Tuesday, 3rd Oct; Palestinian Prime Minister Rami Hamdallah, chaired the reconciliation government cabinet meeting for the first time since 2014, in a further step towards the internationally recognized Palestinian Authority retaking control of the territory.
The meeting in Gaza of the Fatah-led government, based in the occupied West Bank, comes as part of move to end a decade-long split between the Fatah and the Hamas factions of Palestine liberation movement. In the opening speech of ceremonial meeting, Prime Minister Rami Hamdallah renewed his pledge to end the rift. "We are here to turn the page on division, restore the national project to its correct direction and establish the (Palestinian) state," he said.
He also held meetings with senior Hamas figures, including Mr. Ismail Haniya. Briefing to the media Yusuf Al Mahmud, the government’s spokesman said ministers discussed the humanitarian situation in Gaza. He said that a full reconciliation deal would take time. Now leaders of the both factions will go to Cairo for further talks. It is being expected that more than two million people who are living in impoverished Gaza, which has been blockaded by Israel and Egypt for years, will get some relief.
Strangely Israel, the butcher of Gaza and other nations who demonized Hamas as terrorist group did not objected to the process led by Egypt. From 2006 when Hamas first won the Palestinian parliamentary elections until the latest attempt of the Palestinians to form a national consensus government in 2014, the Zionist leaders of Israel have firmly rejected Palestinian reconciliation and threatened the Palestinians that any PA government that was ever backed by Hamas would be cut off and treated as Israel has treated Gaza since the Hamas coup in Gaza in June 2007. Now Hamas has become strong and active partner to deal with Israel. Mr. Haniya, while returning to Gaza, told media persons at Rafah check post, “the talks in Cairo tackled a range of issues, including Palestinian political developments, Hamas-Egypt relations, the security file, Jerusalem and the situation in Gaza.”
Certainly it is a “major step” of Hamas, as Mr. Haniya said, “Hamas took a bold decision by choosing to dissolve its administrative committee so as to allow the [Ramallah-based] unity government to assume governing role in the Gaza Strip, until elections can be held.” He described the move, as “an invitation to the unity government to assume its responsibilities in Gaza”.
This indicates that Hamas aimed at getting legitimacy and participate in national elections without any taint.  Dissolution of the committee also satisfies the precondition of Mahmood Abbas for reconciliation. In the process, Abdel Fattah Sisi, who orchestrated with Zionist regime to heap miseries upon Gaza, has earned praise from Hamas. “We confirmed during our meetings in Egypt that the West Bank cannot be separated from Gaza,” he said. “Ending the [Israeli-Egyptian] siege of Gaza tops our list of priorities.”
Here is an important question, “Why Hamas threw itself in to the Egypt’s arms? And why Egypt allied with “terrorist Hamas” and why gulf nations and Israel are not objecting?
There are certain factors including a strong factor of “Muslim Brotherhood”. Though leaders of MB have been jailed, yet its influence is a cause of concern for many. The Hamas is considered an offshoot of MB. To earn favors of present day regime of Egypt, Hamas, willingly or unwillingly disassociated itself from the Muslim Brotherhood and agreed to combat “Salafist” elements in Gaza and cease all cooperation with anti-Al Sisi elements in Sinai.
Egypt’s other main conditions, for which considerable pressure was applied on Hamas, concerned the extradition of “terrorists” who received shelter in Gaza and that the security forces on the Gaza side of the Rafah crossing into Egypt would be from the PA and not Hamas. It seemed impossible that Hamas would cave in to those demands, but it did.
For easing Zionist Israel resistance Hamas also officially removed antisemitic content from its platform and most importantly. This is aimed to end armed liberation struggle of Hamas. This will also earn more popularity for Hamas in both parts of Palestine as a significant majority of Palestinians is in favor of unity, ending Hamas rule over Gaza, replacing Abbas through elections and returning to negotiations with Israel (although few Palestinians believe that Israel is prepared to negotiate).
As Netanyahu warned, “we won't accept reconciliation at the expense of Israel's existence.” He is opposed to the reconciliations under which Hamas kept its military arm in Gaza.
But it is not all to answer the question. American defeat to dislodge Asad regime in Syria and emerging alliance between Russia, Turkey and Iran has also played a role. Israel, Egypt, USA and several Gulf countries are afraid of Iran and Muslim Brotherhood type force in the region.This development is an effort to take Hamas out of Iran-Turkey influence.