Thursday, May 25, 2017

Donald Trump, World Terror and "Islamic Extremism-1

ونالڈ ٹرمپ ،عالمی دہشت گردی اور ’اسلامی انتہا پسندی

منصور آغا، نئی دہلی

(حصہ -1)



دن ایک ستم، ایک ستم رات کرو ہو


وہ دوست ہو، دشمن کو بھی تم مات کرو ہو



مجھے کلیم عاجز کاؔ یہ شعرامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اس تقریر پر یاد آگیا جوانہوں نے 21مئی بروز اتوار، ریاض(سعودی عرب) میں پچاس مسلم ممالک کے سربراہوں سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ اس میں انہوں نے جو تلقین کی اس کا لب لباب ان کی ہی زبانی سن لیجئے: ’ ’ اس کا مطلب ہے ’اسلامی انتہا پسندی‘ کا اور اس سے جن ’اسلامی دہشت گرد گروپوں‘ کو حوصلہ ملتا ہے، ان کا ایمانداری سے مقابلہ کیا جائے۔ اس کا مطلب ہوگا بے قصورمسلمانوں کی ہلاکتوں، عورتوں پر زیادتیوں، یہودیوں پر ظلم وستم اور عیسائیوں کے قتل کو روکاجاسکے۔ ‘ انہوں نے مزید کہا:’ مذہبی رہنماؤں کو یہ واضح کردینا چاہئے کہ بربریت آپ کو جلال فراہم نہیں کریگی۔ برائی کرنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک آپ کیلئے کوئی وقار نہیں لے آئے گا۔ اگر آپ ’دہشت گردی‘ کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ کی زندگی بے فیض اور مختصر ہو جائے گی اور آپ کی روح سزایاب ہوگی۔مسٹرٹرمپ کی اس تقریر سے یہ گمان ہوتا ہے کہ دنیا میں ظلم صرف مسلمان ہی کررہے ہیں۔ مسلم اقوام پر کوئی ظلم نہیں ہورہاہے۔ دنیا میں ظلم کے لئے صرف ’اسلامی انتہا پسندی‘ اور’اسلامی دہشت گرد گروہ‘ ذمہ دار ہیں۔ عیسائی اوریہودی سب مسلمانوں کے ہی ظلم وستم کا نشانہ ہیں ۔تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ خوداندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ تاثرخلاف واقعہ ہے اوردنیا کی درست تصویرپیش نہیں کرتا۔ مرض کی تشخیص اوراس کے اسباب کی نشاندہی درست نہیں ہوگی توعلاج بے سود رہیگا۔ البتہ اتنا درست ہے کہ بعض مسلم عناصر میں اوربعض خطوں میں بیشک انتہاپسندانہ رجحانات بڑھے ہیں اوروہ تشدد کا باعث بھی ہیں۔ بعض سیاست داں ان کا استعمال سیاسی مقاصد کے بھی کررہے ہیں۔ بیشک ان کی اصلاح ہونی چاہئے۔لیکن اس کے لئے اسلام کو بدنام کرنا غلط ہے۔یہ امربھی قابل لحاظ ہے کہ دین اورانسانیت کے دشمن ان عناصر کے کرتوتوں سے نقصان کا شورزیادہ مچتا ہے جب کہ یہ نقصان اس کے مقابلے حقیر ہے جو امریکااوراس کے حلیف یورپی طاقتوں کے ہاتھوں انسانیت اورخصوصا مسلم دنیا کو پہنچا ہے اورپہنچ رہاہے۔تاریخ کاانکار:مسٹرٹرمپ کا یہ بیان تاریخی حقائق کا سفاکانہ انکار ہے ۔ عیسائیوں کی مظلومیت محض فریب نظرہے۔ سچائی یہ ہے کہ دنیابھرمیں سامراج قائم کرنے اورقائم رکھنے اور قدرتی وسائل کو ہتھیانے کے لئے جتنے مظالم عیسائی اقوام نے کئے ہیں ،ان کی کوئی مثال نہیں۔ لیکن ہم اس کے لئے عیسائیت کو الزام نہیں دیتے۔ بیشک دنیا کے مختلف حصوں میں یہودیوں پر ظلم ہواہے۔ مگریہ ظلم مسلم اقوام نے نہیں کیا۔عیسائیوں نے کیا۔ اسپین پر سنہ711سے جنوری سنہ 1492 تک 780سال مسلم حکمرانی رہی جس میں عیسائی اوریہودی بھی مسلمانوں کے شانہ بشانہ خوب پھلے پھولے۔ان کے ساتھ اسلامی ریاست نے کوئی تعصب نہیں برتا۔ جب کہ وہ مملکت کے خلاف مہمات میں شامل رہے۔سقوط غرناطہ (جنوری 1492) سانحہ کے بعداقتدارپر فردیناند اور اسابیلا[Ferdinand and Isabella] کی سربراہی میں کیتھولک عیسائیوں کو قبضہ ہو گیا۔ اس کے تین ماہ کے اندرہی 31مارچ کو ’الحمرااعلانیہ ‘یا ’حکم نامہ اخراج‘ جاری ہوا، جس میں اسپین اورپرتگال کے تمام یہودی باشندوں کوعیسائی مذہب اختیار کرلینے یا چارماہ کے اندرملک چھوڑدینے کا حکم دیا گیا۔ان کو سامان کے ساتھ نقدی،سونا اورچاندی لیجانے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کے لئے زمین کے راستے بند تھے۔ کوئی پڑوسی عیسائی ملک پناہ دینے کو تیارنہیں تھا۔ چنانچہ ہزاروں ہسپانوی یہودی خاندانوں کو کشتیوں میں بھربھر کر سمند ر میں دھکیل دیا ۔ اس صورت میں ان کی دستگیری کے لئے کوئی اورنہیں ترکی کے مسلم حکمراں آئے اوران کو اپنی مملکت میں ہرطرح کی سہولتیں دے کر بسالیا ۔Eli Barnavi146s کی کتاب "A Historical Atlas of the Jewish People" کے مطابق سلطنت عثمانیہ یہودیوں کے لئے جنت بن گیا۔اس کا یہودیوں نے یہ صلہ دیا کہ جنگ عظیم کے موقع پر ترکی کے خلاف سازشیں کیں اور نقصان پہنچایا۔ اس کے باوجو ترکوں نے ان سے بدلہ نہیں لیا۔یہ تاریخ کی ایک روشن حقیقت ہے جس کو بھلایانہیں جاسکتا ہے۔ یہودیوں پر دوسرابڑاظلم نازی جرمنی میں ہوا۔ شدید سختیوں سے گھبراکر بہت سے یہودی ملک چھوڑ کر فرارہوگئے ۔ دنیا جانتی ہے کہ لاکھوں یہودیوں کو کس بے رحمی کے ساتھ گیس چیمرس میں بند کرکے نازی ہٹلر کے حکم پر موت کے گھاٹ اتاردیاگیا۔ میں یہاں یہودیوں کی اس سرشت اور ان اسباب میں نہیں جاؤنگا جنہوں نے اسپین اورجرمنی کے حکمرانوں کو اتنا سخت قدم اٹھانے پر آمادہ کیا۔ ظلم بہرحال ظلم ہے اوراسپین کے فردیناند،اسابیلا اورجرمنی کے اڈولف ہٹلر مسلمان نہیں عیسائی تھے۔دنیا میں اسوقت یہودی کہیں بھی مظلوم نہیں ،بلکہ 1948ء سے صیہونی یہودی ارض فلسطین میں ظالم کا کردارادا کر رہے ہیں۔امریکی صدر کو مظلوم فلطینیوں کی فکر کرنی چاہئے۔حزب اللہ:صدرٹرمپ نے اپنی تقریر میں حزب اللہ کو مطعون کیا ہے۔ اس تنظیم کاقصوراس کے سوا کیا ہے کہ اس نے مئی سنہ 2000میں لبنان کے اس خطہ کو آزادکرالیا تھا جس پر 1982 میں اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا؟ اس توسیع پسندانہ جارحیت میں بیشک اسرائیل کو امریکا، فرانس اوردیگریورپی ممالک کی پشت پناہی حاصل تھی۔ ان طاقتوں کی ریشہ دوانیوں نے بیروت کا تباہ کردیا جو دنیا کے چوٹی کے شہروں میں شمارہوتا تھا۔اسرائیل نے جس طرح ارض فلسطین کے عربوں کو مظالم کا شکاربنایا اوراب بھی یہ سلسلہ جاری ہے، جس کو دنیا اب نسل پرستانہ دہشت گردی تسلیم کرچکی ہے، امریکا کو نظر آنا چاہئے اور غزہ کی غیرقانونی ناکہ بندی کو کھلوانا چاہئے۔ (جاری ۔ ملاحظہ فرمائیں حصہ -2)

Donald Trump, World Terror and "ISLAMIC EXTREMISM-2"

ونالڈ ٹرمپ ،عالمی دہشت گردی اور ’اسلامی انتہا پسندی‘-2

منصور آغا، نئی دہلی

(حصہ -2)


عالمی سطح پر ہلاکتیں:
انسانی ہلاکتوں اورسفاکانہ مظالم کاعالمی ریکارڈ کسی اورکے نہیں امریکاکے ہی نام ہے۔ گوانٹانامو کی جیل میں غیرقانونی طورسے دنیا بھرسے لائے گئے بے گنتی مسلم باشندوں کے ساتھ جس بربرتا کا سلوک کیا گیا وہ سفاکی میں کسی بھی طرح خود امریکاکی پیداکردہ آئی ایس آئی ایس کی سفاکیوں سے کم نہیں۔ جنگ عظیم۔ 2کے دوران یہودی سائنس دانوں کے عطا کئے ہوئے تحفہ ایٹمی بم سے جاپان کے دو شہروں ہیروشیمااورناگاساکی کے ہزارہاباشندوں کی ہلاکت کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ ’گلوبل رِسرچ‘ میں شائع جیمس اے لیوکاس (
James A Lucas) کی رپورٹ کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد سے دنیا بھر کے37ممالک میں امریکا کی فوجی مداخلت سے کم از کم دوکروڑ افراد مارے جا چکے ہیں۔ نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی دوفلک بوس ٹاورس (بلندی 417 اور 415 میٹر) کی 9نومبر2001 (9/11) میں تباہی میں 2996افراد مارے گئے تھے۔ اس حملے کے چند منٹوں میں ہی بلا تحقیق اس وقت کے صدربش نے افغانستان کے حکمران طالبان کو مورد الزام ٹھہرادیا اوراس کو بہانا بناکر افغانستان پر حملہ کردیا جس میں تاحال7لاکھ 48ہزارافراد مارے جاچکے ہیں اوریہ سلسلہ بدستورجاری ہے۔ عراق پروسیع تباہی والے اسلحہ سازی کا جھوٹا الزام لگاکر حملہ کیا گیا جس میں 50لاکھ سے زیادہ غیرفوجی عراقی مارے جاچکے ہیں۔واٹسن انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی 62,000 افرادہلاک اور67,000 زخمی ہوچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ مسلکی دہشت گردی میں ہزاروں اموات ہوچکی ہیں۔امریکا نے اپنی بالادستی حاصل کرنے کے لئے انڈوچائنا ( ویتنام ، لاؤس اورکمبوڈیا) پر 1954میں جو جنگ مسلط کی تھی اورجو1975 میں امریکا کی شکست کے ساتھ ختم ہوئی 1,450,000 افراد مارے گئے ۔
ان کارستانیوں کاکوئی مقابلہ نام نہاد مسلم دہشت گردی سے نہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ (16 جولائی 2016) کے مطابق یورپی اوردیگرممالک میں آئی ایس آئی ایس کے قاتلہ حملوں سے مرنے والوں کی تعداد صرف 1200 ہے۔ہم ان تمام ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ہمارادین اجازت نہیں دیتاکی ایک بھی جان بنا حق کے لی جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ملک گلے گلے انسانوں اورخاص طور سے مسلمانوں کے خون میں ڈوبا ہے ،اس کو یہ اخلاقی اورقانونی حق کیسے مل گیاکہ وہ ایک دو نہیں دنیاکے پچاس مسلم اکثریتی ممالک کی نصیحت کرے اوربھی اسلام پر دہشت گردی کا بدنما داغ لگاکر۔ بقول جناب کلیم عاجزؔ :
میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو
ہندستان اوردہشت گردی:
مسٹرٹرمپ نے دہشت گردی کے مارے ممالک میں چین اورہندستان کا نام بھی لیا۔ چین نے ایک خودمختارمسلم اکثریتی علاقہ ’ترکستان شرقیہ‘ پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے اوراس کا نام ’زنجیانگ‘ یعنی ’نیاصوبہ‘ رکھا ہے۔ یوں توپورے چین میں مسلم زندگی پابندیوں سے جکڑی ہوئی ہے۔ لیکن ترکستان شرقیہ میں چین کی ریاستی دہشت گردی کی انتہاہے۔ الٹا چین اس خطے کے قدم مسلمانوں باشندوں پر ہی دہشت گردی کا الزام لگا تا رہتا ہے۔ مسٹرٹرمپ کے بیان میں چین کے حوالہ میں اسی غیرمنصفانہ الزام کی گونج سنائی دیتی ہے۔
جہاں تک ہندستان کا سوال ہے،بیشک پڑوسی ملک کے بعض عناصرکی شہ پر جو ہلاکت خیز سرگرمیاں ہوتی ہیں ،ان کو دہشت گردی ہی کہا جائیگا۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کی زد بھی بیچارے مسلمانوں پر ہی زیادہ پڑتی ہے، چاہے وہ کشمیری ہوں، یا کسی اورریاست کے۔ان شیطانی سرگرمیوں نے کشمیر، کشمیریت اورکشمیری باشندوں کوبربادہی کردیا ہے۔ پنجاب کے سکھوں نے بھی اسی طرح کا کرب جھیلا ہے۔علاوہ ازیں سنہ 2001سے ملک بھر میں ایک منظم سازش کے تحت بم دھماکوں کا سلسلہ چلا۔ حکومت کسی بھی رہی ہو،واردات ہوتے ہی کسی ایسی تنظیم یا افرادپرانگلی اٹھادی گئی جس کی شناخت مسلم کے طور ہوتی ہے۔ مختلف واردتوں کے لئے بے شمار نوجوانوں کو گرفتارکیاگیااورایک ایک پر درجنوں کیس لگادئے گئے۔ بیشتر معاملات میں اکثر ملزمان بے قصوربری ہوگئے مگرطویل مدت جیل میں کاٹ لینے کے بعد۔ اس کی تازہ مثال اے ایم یو کے رسرچ اسکالر غلام وانی کی ہے جس کوسابرمتی ٹرین بم دھماکہ کیس میں بلا ثبوت جولائی سنہ 2001 میں دہلی میں گرفتارکیا گیا تھا۔ اس پر ایک دونہیں 21کیس لگائے گئے جن میں 14کیسوں میں وہ بری ہوگیا۔ مگرابھی سات کیس باقی ہیں۔ 44سالہ وانی کے 16بیش قیمت سال جیل میں گزرچکے ہیں اوررہائی نہیں ملی۔ یہ کہانی ایک وانی کی نہیں بلکہ نجانے کتنے افراد کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگربے قصورافراد کو گرفتارکیا گیا تھا تو پھراصل مجرم کون تھے؟ کیا ان کی پردہ پوشی مقصود نہیں تھی؟
غرض یہ کہ افغانستان ہو،یا عراق، پاکستان،شام،یمن یا انڈیا دہشت گرد حملوں کی زد مسلمانوں پر ہی پڑتی ہے ۔ بیشک ان وارداتوں میں بعض بدبخت مسلمان آلہ کار بنتے ہیں اوراصل مجرم پردے میں رہ جاتے ہیں۔ہم ہرطرح کی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہیں ، لیکن دہشت گردی کو اسلام یا کسی اورمذہب سے جوڑنا بھی قابل مذمت شاطری ہے۔
نئے سنٹرکاقیام
سعودی عرب میں انتہاپسندی کی مانیٹرنگ اوراس کی اصلاح کی تدابیر کے لئے اوراعتدال پسندی کو فروغ دینے کے لئے ایک ہائی ٹیک سنٹر کے قیام کااعلان ایک درست قدم ثابت ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس کی توجہات کو سیاست زدگی سے محفوظ رکھا جائے اورجیساکاعندیہ ظاہرکیاگیاتمام اقوام اورانجمنوں کا اس کو تعاون حاصل ہو جائے۔ ان اسباب اورغلط تاویلات کاازالہ ہونا چاہئے جو فکرونظر اورپھر عمل میں انتہاپسندی کا سبب ہیں۔انتہاپسندی کا سب سے بڑاسبب اقوام کے ساتھ اجتماعی ناانصافی اورانصاف سے انکارہے۔
آخری بات:
امریکانے ستمبرسنہ 2001 میں اپنے یورپی حلیفوں کے ساتھ ملک ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ‘ چھیڑی تھی۔ اس جارحانہ کوشش کانتیجہ کیا نکلا؟ دہشت گردی میں کیا کمی آئی یا الٹا اضافہ ہوا؟ کتنے عرب ممالک تباہ ہوگئے؟ کتنوں کے تیل ذخائرپر غیروں کا قبضہ ہوگیا؟اب کسی نئی مہم کو شروع کرنے سے پہلے اس اولین کوشش کا تجزیہ کرلینا چاہئے۔ اس پر اعتراض کا کسی کوحق نہیں کوئی ملک اپنے قومی تقاضے کے پیش نظر کسم ملک سے تعلقات استوارکرتا ہے؟اس وقت ٹرمپ کی امیج کٹرمسلم مخالف کی ہے۔ سعودی عرب میں ان کی جوپذیرائی ہوئی ہے، اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ ان کے رویہ میں مثبت تبدیلی آئیگی اوروہ حقیقت پسندی سے کام لیں گے۔ یقیناًبشمول سعودی عرب،50مسلم ملکوں کی رائے کو امریکا آسانی سے نظرنہیں کریگا۔ ہماری اس تجزیہ کا مقصد یہ ہے کہ دنیامیں جوکچھ ہورہا ہے اس کے لئے اسلام اورمسلمانوں کو مطعون نہیں کیا جاناچاہئے۔ ہم اگراپنے دین کو اللہ اوررسول ﷺ کے لئے خالص رکھتے ہیں، اپنی دینی بنیادوں پر قائم رہتے ہیں تواس پر انتہا پسندی کا طعنہ بے معنی ہے۔ہم اپنی مہمات میں رہنمائی سیرت نبوی ﷺ سے حاصل کریں۔ بیشک اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مخالفین کو مدعو کیا جائے، ان کی ضیافت کی جائے اوران کو حق کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اللہ بہترفرمائیں۔ 

Monday, May 22, 2017

حیدرآباد اسٹیٹ پر پولیس ایکشن کے بارے میں نئی کتاب کا اجراء Police action against Hyderabad State> New book released

حیدرآباد: حیدرآباد اسٹیٹ کے خلاف ۱۹۴۸ میں ہونے والے فوجی حملے کے بارے میں ایک کتاب کا اجراء یہاں پریس کلب میں پچھلے سنیچر کو ہوا۔ اس میں شہر کے ہندو اور مسلمان سب طبقات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سوسائٹی فار پروموشن آف ٹولرنس کے زیر اہتمام اس تقریب میں معروف اسکالر سید علی ہاشمی کی انگریزی کتاب ’’حیدرآباد ۱۹۴۸: ایک قابل احتراز فوج کشی‘‘  Hyderabad 1948: an avoidable invasionکا اجراء عمل میں آیا۔۳۰۰ صفحات پرمشتمل اس کتاب کو دہلی کے معروف پبلشر فاروس میڈیا نے شائع کیا ہے۔اس کتاب میں پہلی بار ۱۹۴۸ میں ہونے والے فوجی حملے کے حالات اور مظالم بیان کئے گئے ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ مذکورہ فوجی حملہ قطعاً غیر ضروری تھا اور وہ اس وقت عمل میں آیا جب نظام حیدرآباد بہت سنجیدگی کے ساتھ حکومت ہند کے ساتھ ریاست کے انڈین یونین میں الحاق کے بارے میں مباحثات کررہے تھے۔

سوسائٹی فار پروموشن آف ٹالرنس کے جنرل سکریٹری سید یاسین ہاشمی نے مہمانوں اور حاضرین کا استقبال کیا اور تنظیم کے نائب صدر انعام الرحمٰن غیور نے جلسے کی صدارت کی جبکہ تقریب کے مہمان خصوصی معروف صحافی کنگشوک ناگ تھے جو ٹائمز آف انڈیا حیدرآباد کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

جن حالات کے دوران اس کتاب کو لکھا گیا ہے، ان کی تفصیل بتاتے ہوئے مصنف نے بتایا کہ یہ کتاب سالوں کی محنت سے تیار ہوئی ہے۔ اس کا کام انہوں نے ۱۹۹۴ میں اپنے ریٹائرمنٹ کے بعد شروع کیا لیکن اس دوران امریکا میں ایک لمبی بیماری کے دوران ان کے کاغذات تلف ہوگئے۔ دراصل وہ ۱۹۹۵میں امریکن لائبریری اسوسی ایشن کی کانفرنس میں شکا گوگئے ۔اس کے بعد وہ ایک لائبریری کے ڈائرکٹر بنادئے گئے اور پھر انہوں نے جارج میسن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے کے لئے داخلہ لے لیا۔اسی دوران ان کو برین ہمریج ہوا اور فیر فاکس اسپتال کے ڈاکٹروں نے اعلان کردیا کہ ان کا دماغ مرچکا ہے۔اعزہ کی خواہش کی وجہ سے ان کو ایک خصوصی طیارے سے حیدرآباد لایا گیا جہاں اپالو اور درشہوار شفاخانوں میں ان کا کامیابی سے علاج ہوا اور وہ دوبارہ صحت یاب ہوگئے ۔اس کے بعد انہوں نے اس کام کو دوبارہ شروع کیا۔

مصنف نے بتایا کہ وہ خود ۱۹۴۸ کے پولیس ایکشن کے ستم زدہ ہیں اور اس وقت کے دردناک حالات کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کہنے کو تو وہ ’’پولیس ایکشن ‘‘تھا لیکن دراصل وہ ایک مکمل فوجی کارروائی تھی۔ کتاب میں انہوں نے اپنے ذاتی مشاہدات درج کئے ہیں اور ساتھ ہی ان حالات کی عینی شاہد رہنے والی متعدد اہم شخصیات کے انٹرویوز بھی کتاب میں ضمیمے کے طورسے شامل کئے ہیں۔

معروف صحافی مسٹر ناگ نے کتاب کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کو شروع کرنے کے بعد چھوڑنے کا دل نہیں چاہتا ہے۔ اس کتاب کا ہر صفحہ پڑھنے کے لائق ہے۔انہوں نے کہا کہ کتاب کے مندرجات کا تقاضا تھا کہ کتاب کا عنوان ذرا اور سخت ہوتا۔

کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی نے کتاب کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نظام کی فوج کا سربراہ غدار تھا۔ انہوں نے کہا کہ نظام کے نائب وزیر اعظم کرشنا ریڈی کا لڑکا بھی غدار تھا جس نے ریاست کے خفیہ راز انڈین یونین کے ایجنٹوں کے حوالے کردئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو یہ کتاب پڑھنی چاہئے۔ انہوں نے مسٹر ناگ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کا عنوان اور سخت ہونا چاہئے تھا جیسے) Rape of Hyderabad حیدرآباد کی عصمت دری)۔انہوں نے کہا کہ انڈین یونین نے رضاکاروں کے مظالم کے بہانے حیدرآباد اسٹیٹ پر فوجی حملہ کیا تھا جبکہ مہاراشٹر کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس رستم جی نے لکھا ہے کہ بمبئی اسٹیٹ نے اپنے بہت سے لوگ ’’رضاکار‘‘ کے بھیس میں حیدرآباد اسٹیٹ میں داخل کئے اور ان لوگوں نے وہاں بہت سے مظالم ڈھائے تاکہ رضاکاروں کوبدنام کیا جاسکے۔

انعام الرحمٰن غیور نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مصنف کے اس انداز بیان سے بہت متاثر ہوئے ہیں کہ وہ ماضی کے واقعات کا مقارنہ حاضر کے واقعات سے بھی کرتے ہیں جس سے ان کے تجزیے کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے ونسٹن چرچل کا قول نقل کیا کہ ’’یہ غلط نہیں ہے کہ ہم مستقبل کے سامنے ماضی کے واقعات کا سبق بیان کردیں ‘‘۔
(ختم)

Monday, May 15, 2017

Another Glass Ceiling Breached: Farhana Bavani Overcomes Deprivation to Score 99.72 % in XII (Science)

There has been good news and cheer after the Gujarat Board released the results of science stream of class 12 on May 11.  PTI reports that the family of Farhana, daughter of a auto rickshaw driver, Farooqbhai who scored 99.72 percentile in medical stream was both thrilled with her achievement yet also worried about future prospects in furthering her education, given severe financial constraints.

Farhana’s mother Shamim Bavani responded emotionally when she said,“Koi khushi nahi hai hume (we are not happy)” she said. The family was unhappy as Gujarati and English medium papers of National Eligibility cum Entrance Test (NEET) were different and the Gujarati medium question paper was more difficult. They said that the combined result would be unfair to Farhana and other thousands of students like her.

They were all disheartened and said that the girl had never considered any other career option. Her mother also said “We have just one wish, the government must separate the Gujarati and English medium results. Maybe then our daughter’s work and dedication will yield results”

Resident of Ahmedabad’s Raikhad area, her mother said “Throughout these four semesters, she had a very good result and studied so hard but what was the point of this? For two years, she forgot to eat or sleep, she spent all her time studying to the extent that I had to feed her myself a lot of times.” Farhana’s childhood dream was to become a doctor, she adamantly chose Science as a subject inspite of her parents encouraging her to consider other options.

Adding to the disparity in the two question papers and the uncertainty of the NEET result, student of F D High School in Jamalpur Farhana said, “The Gujarati medium paper of NEET was very difficult as compared to the English medium one. The rigid rules for NEET exam were unnecessary. We were so sure that my result would be so good that I would get a free seat for MBBS. But the NEET paper surprisingly didn’t go well.”
https://sabrangindia.in/article/another-glass-ceiling-breached-farhana-bavani-overcomes-deprivation-score-9972-xii-science

Adhar a curse for weaker sections: Dr. Manzoor Alam. کمزور طبقات کے لیے نقصان دہ

ڈاکٹر محمدمنظور عالم

یونیک آڈینٹی پروجیکٹ کی کمیوں کو ذہن نشیں کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ آدھار کارڈ ضروری نہیں ہے۔ ادھر کچھ وقت سے ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ سہولیات اور کچھ قانونی حقوق کی حصولیابی کے لیے آدھار کارڈ کو ضروری قرار نہ دیا جائے۔ اس معاملے کی شنوائی کی تاریخوں کا اعلان ہفتوں پہلے کیا جا چکا ہے اور اس کے بعد ہی صحیح تصویر ابھر کر سامنے آئے گی لیکن تب تک سپریم کورٹ کے احکامات کو درکنار کرتے ہوئے مرکزی اور صوبائی حکومتیں من مانے ڈھنگ سے کام کررہی ہیں۔
یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ انفرادیت کا حق بنیادی حق ہے یا نہیں۔ اس بیچ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستاینوں کو انفرادیت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آیا ہندوستانیوں کو اگر انفرادیت کا حق بنیادی حق نہیں ہے تو کیا اس کا انہیں حق بھی ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنسی ضمن میں لوگوں کے کئی ایسے گروپ ہیں جو اپنی شناخت عیاں نہیں کرنا چاہتے۔ مثال کے طور پر کوئی جنسی ورکر اپنے پیشہ کو جسم فروشی کا پیشہ نہیں کہنا چاہتا۔ اسی طرح سڑک پر چلنے والے کال گرل یا اپنے جال میں پھنسانے والے لوگ بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان کے کام کے بارے میں ان کی شناخت ہو۔ کوئی جنسی ورکر کے طور پر اپنی شناخت بتانا نہیں چاہے گا چاہے اسے انسانیت سے گرا ہوا یا اسے بغیر اہمیت والا کیوں نہ بتایا جائے۔ اس طرح کا طبقہ اپنی شناخت کو عوام کے سامنے عیاں نہیں کرنا چاہتا۔ کیونکہ اس سے اس کی بے عزتی ہو سکتی ہے اور اس پر جسمانی حملہ بھی ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ایسے لوگ جن کا جنسی رجحان یا ان کی پسند روایتی نہیں ہے تو وہ بھی نہیں چاہیں گے کہ ان کی شناخت کو عام کیا جائے۔ زنانہ ہم جنس پرستی، مرد اور عورت دونوں کی خصوصیات کے حامل اور جنسی مخالف کی طرح لباس زیب تن کرنے والے ایک جنسی کی بھاری اکثریت کے ذریعہ ان کو پریشان کرنے اور ان کو جسمانی نقصان پہنچایا جانے کی بہ نسبت اپنی چھوٹی برادری میں ہی رہ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
ایسے لوگ جو ایڈز (ہندوستان میں جن کی آبادی دسویں لاکھ ہے) سے متاثر ہیں، وہ اپنی شناخت کو عام نہیں کرنا چاہتے۔ یونیک آڈینٹی پروجیکٹ کے ذریعہ برآمد کیے جانے والا بھاری ڈیٹا بیس لین دین کے سیکڑوں معاملوں میں کئی گنا بڑھ جائے گا۔ اس ضمن میں علاج، معالجہ کے مشورے، بینک کے کاروبار، گھر کی خریداری، ٹیکس کی ریٹرن فائل کرنے، سفر، خریداری اور پین کارڈ کا استعمال بھی شامل ہے جن سے لوگوں کی شناخت از خود باہر آجائے گی۔ ہم نے ابھی اس پر غور ہی نہیں کیا ہے کہ کتنے ایسے راستے ہیں جن کے ذریعہ شہریوں کی انفرادیت نیست ونابود ہو جائے گی۔
حکومت کے ذریعہ ممکنہ بیجا استعمال
یہ سول آزادی کے پیروکاروں کے دل میں گہرا خوف پیدا کرتا ہے جنہیں ڈر ہے کہ ’ملازمین‘ (حکومت) اپنے ’حکمرانوں‘ (عوام) کو برطانیہ کے وزیر داخلہ کے الفاظ میں غلام بنانے کی کوشش کرے گی جس کا ذکر اس سیریز کے پچھلے مضمون میں کیا جا چکا ہے۔ اس میں انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ برطانیہ کس طرح سے حکومت کے ذریعہ شہریوں کو ڈراتی رہتی ہے۔
حکومت کے ذریعہ حاصل کیے گئے اس طرح کے ڈیٹا کے بیجا استعمال کا ہمیشہ خدشہ رہتا ہے۔ ماضی میں بھی گجرات حکومت نے مسلمانوں سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ 2002 میں ہوئے گجرات دنگوں میں فسادیوں نے مسلمانوں کے گھروں کے پتہ اور ان کے کاروبار کے بارے میں تفصیلی پرنٹ آؤٹ حاصل کر کے ان پر حملے کیے تھے۔ سیتارام یچوری نے بتایا ہے کہ کس طرح سے جرمنی میں نازیوں نے یہودی گھروں پر حملہ کرنے کے لیے ان کے گھروں کی نشاندہی کی تھی۔ اس طرح کی جانکاری سے خطرات لاحق ہیں خاص طور سے ایسے میں جب حکومت فاشسٹ جھکاؤ والی ہو۔
ذات ایک بوجھ
ذات ایک وزنی صلیب کی طرح ہے جسے دلت ہزاروں سالوں سے اپنے کندھے پر ڈھو رہے ہیں۔ یہ بے وجہ نہیں ہے کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے مطالبہ کیا اور اپنی ساری زندگی اس کے لیے لگائی جسے وہ ’’ذات کا خاتمہ‘‘ کہتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو اس عنوان کے طلباء اور ماہرین کے لیے سب سے بہتر کتابوں میں سے ایک ہے۔
یہی وجہ ہے رام پنیانی جیسے امبیڈکر وادی تھنکر سنگھ کی موجودہ مہم جاتی سمرستا (ذاتوں کا ضم ہونا) کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ جیسا امبیڈکر چاہتے تھے اس طرح یہ ذات کو ختم نہیں کرتے بلکہ یہ ذات کے نظام کو بنائے رکھنا چاہتی ہے نیز روایتی وسماجی نظام میں ہندو ذاتوں کو اس طرح یکجا کرنا چاہتی ہے کہ یہ معلوم نہ ہو سکے کہ وہ اس کام میں ملوث ہے۔ پنیانی جیسے مفکرین کے بقول یہ دلتوں کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف صرف اکٹھا کرنا ہے اور بی جے پی کے لیے ووٹ مستحکم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دلت ایکٹوسٹ اپنی شناخت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
حالانکہ ملازمتوں اور ترقیوں میں خصوصاً کوٹہ سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن ان میں سے تمام لوگ بغیر کسی وجہ کے اپنی شناخت کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ صفائی کرمچاری آندولن کے قومی صدر بیچ واڑہ ولسن نے انتباہ کیا ہے کہ اگر ذاتوں کی شناخت کا خلاصہ کیا جاتا ہے تو طاقتور گروپ صفائی کرمچاریوں کے پڑھے لکھے بچوں کو صفائی اور مین سول کی صفائی کے لیے انہیں سماجی طور پر اسی کام تک محدود کر دیں گے۔
ولسن نے اپنی خود کی مثال دیتے ہوئے اس کا ثبوت دیا ہے کہ اس ذات کے دلتوں کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے یا کیا ہونے والا ہے؟ اپنی ہائی اسکول کی پڑھائی ختم کرنے کے بعد جب انہوں نے گریجوٹ کے لیے ایک مستقل ملازمت کے لیے عرضی دی تو سرکاری روزگار دفتر نے ان کے معاملے کو ان کی ذات کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے بعد محکمہ صفائی کرمچاری کو بھیج دیا۔ ولسن کبھی بھی صفائی کرمچاری نہیں بننا چاہتے تھے ان ہی کی طرح زیادہ تر ایکٹوسٹ اپنے آباء واجداد کے صفائی کرمچاری کا کام نہیں کرنا چاہتے جو انہیں ان کی ذات کی بنا پر دیا گیا تھا۔ ولسن کی طرح ہزاروں لوگوں کو صفائی کا کام کرنے والے اور مین ہول صاف کرنے والے لوگوں کے طور پر نہیں کہلانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ایک عتاب ہے جو یو آئی ڈی (آدھار) بنائے رکھنا چاہتی ہے۔

(مضمون نگار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ہیں)

طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریریں: ایک مطالعہStudents of Bridge Course at AMU share their expreriences and expactations

محمد علم اللہ ، نئی دہلی
گذشتہ دنوں ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب  کے یہاں جانا ہوا تو ان کے ڈیسک پر ایک انتہائی پر کشش اور دیدہ زیب کتاب پر نگاہ  پڑی اور میری نظریں وہاں ٹک کر رہ گئیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے میری دلچسپی دیکھ کر وہ کتاب میرے حوالے کر دی ۔ یہ کتاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے  طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریروں پر مبنی اظہاریہ تھی ۔ جس کا نام ہے "منزل ما دور نیست" ۔ گھر آتے ہی ورق گردانی شروع کی ۔ ایک کہانی ، دو کہانی ، تین کہانی اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا ایک رات میں تین سو پانچ صفحات  پر مشتمل کتاب چاٹ ڈالی ۔ کتاب اس قدر دلچسپ تھی کہ درمیان میں حاجت کو بھی روک دینا پڑا ۔یہ کتاب در اصل دینی مدارس سے فارغ طلباء کی داستان حیات تھی  جسے انھوں نے خود رقم کیا ہے ۔
 کتاب کو پڑھتے ہوئے احمد فراز کی معروف نظم "خواب مرتے نہیں"گردش کرتی رہی ،جس میں احمد فراز نے کہا تھا : "خواب مرتے نہیں/خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو/ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے/جسم کی موت سے بھی یہ نہ مر جائیں گے/خواب مرتے نہیں/خواب تو روشنی ہیں/نوا  ہیں ہوا ہیں/جو کالے پہاڑوں سے رُکتے نہیں/ظلم کے دوزخوں سے پُھکتے نہیں/ روشنی اور نوا اور ہوا کے عَلم/مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں/خواب تو حرف ہیں/خواب تو نُور ہیں/خواب سُقراط ہیں/خواب منصور ہیں/خواب مرتے نہیں"۔
اس کتاب کو ہم احمد فراز کے اس نظم کی شرح  سے تعبیر کر سکتے ہیں جس میں کل 39 خوابوں کی رودا د اور  خود نوشت  کہانیاں  ہیں اور   ہر کہانی ایک مکمل داستان ہے ۔جس میں درد ہے ، کسک ہے، تڑپ ہے ،  احساس ہے ۔پاکیزہ جذبوں ، آنسووں اور  نیک تمناوں سے مزین یہ کہانیاں  اس وجہ سے بھی دلچسپ اور معلوماتی ہیں  کہ اس میں مدارس دینیہ سے فارغ طلباء کی داستان ہے جن کے بہت سارے خوابوں کو بچپن میں ہی کچل دیا جاتا ہے اور ایک مخصوص ذہن اور کینوس میں ان کی تربیت کی جاتی ہے ۔ لیکن جب وہ دنیا دیکھتے ہیں اور ان کو اپنی اہمیت اور قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے تو کیسے ان کے خواب زندہ ہو جاتے ہیں! اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے وہ  کس قدر بے قرار ہو جاتے ہیں!  یہ کہانیاں مدارس سے فارغ طلباء کو اندھیرے میں اجالے کی  نوید سناتی ہیں  ۔ ان کے سوچ اور ذہن کے پردے پر کس قسم کی تہیں جمی ہوئی تھیں اور اس کو کیسے ان طلباء نے کھرچ کر پھینک دیا! کیسے مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے ماننے والے ایک بینر تلے جمع ہو گئے ! کیسے ان کے اندر دین ، اسلام ، انسانیت اور ملک  و قوم کی خدمت کا جذبہ (اسکول اور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ طلباء کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر )جاگزیں ہوا ! کیسے وہ مسلک اور فرقہ بندی کے قیودسے آزاد ہو کر" ان الدین عند اللہ الاسلام" کی تعبیر بننے کے لئے کوشاں ہوگئے! یہ کتاب یہ سب ایک  دلچسپ انداز میں بیان کرتی ہے ۔
کہانی کاروں میں محمد تمیم،اظہر احسن ،محمد اسمعیل ،نعیم احمد،شرافت حسین،محمد ارشد،محمد عظیم ،فاطمہ اسعد،عتیق الرحمان ،فرخ لودی،محمد سلمان ،ابرار عادل،فرحانہ ناز ،اجمل حسین ،محمد اسلم ،نہال احمد،مشیر احمد،عمیر خان،رقیہ فاطمہ ،روشنی امیر،محمد عادل خان ،ساجد علی ،اصلاح الدین ،عبد الاحد،عمر شمس،فہیم اختر ،محمد ثوبان ،نعمان اختر،اشتیاق احمد ربانی ،محمد نثار احمد،محمد فرمان ،نہال احمد ،عبد الرقیب انصاری،محمد عدنان ،ابو اسامہ ،محمد اسلم ،توصیف احمد،محمد منفعت اورسلیم الٰہی کے نام شامل ہیں جو ہندوستان کے مقتدر اداروں مثلا  ند وۃ العلماء ، دار العلوم دیوبند، جامعہ سلفیہ بنارس ، جامعۃ الصالحات رامپور ، جامعہ حفصہ للبنات لکھنو  وغیرہ سے فارغ التحصیل ہیں ۔
بیشتر طلباء کا تعلق یوپی اور بہار کے ان دور افتاد اور پسماندہ علاقوں سے ہے،  جہاں کے لوگ شاید ہی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں  فکر مند ہوتے ہیں  یا اپنے سپوتوں کو کچھ بڑا بنانے  کے بارے میں سوچتے ہیں ۔اگر بھولے سے کبھی ان کے ذہن میں ایسا کوئی خیال پیدا بھی ہوتا ہے تو وہ اس کو وسائل کی کمی اور غربت کی وجہ سے کچل دیتے ہیں ۔ بعض کہانیاں اس قدر دلدوز اور جذباتی ہیں کہ آپ کے آنکھوں میں آنسو آئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ ان میں سے کسی نے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا ہوا ہے تو کوئی آئی اے ایس افسر بننے کا متمنی ہے ۔کوئی محقق ، کوئی لیڈر تو کوئی قانون داں اور سماجی کارکن  بن کر قوم و ملت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہے۔مدارس سے پڑھنے کے بعد یہ طلباء اپنے خواب کو شر مندہ تعبیر نہیں کر سکتے تھے لیکن اب ان کے لئے راہیں ہموار ہو گئی ہیں بلکہ ان میں سے کچھ طلباء تو ملک کی معتبر یونیورسٹیوں میں اچھے کورسوں میں داخلہ پانے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں ۔
کہانی کا انداز انتہائی سادہ اور دلچسپ ہے جو کہ نوجوانوں کےقلم ،ان کی سوچ اور فکر کو ہی نہیں درشاتا بلکہ بتاتا ہے کہ یہ بہت اونچی اڑان کا خواب دیکھنے والے نوجوان ستاروں پر کمندیں نہ بھی ڈال سکیں تو کم از کم وہاں کی سیر تو کر ہی آئیں گے ۔ نوجوانوں کا فطری انداز صرف قاری کو جذباتی ہی نہیں بناتا ہے بلکہ ان کے چھوٹے چھوٹے  خواب اور  یونیورسٹی آنے سے قبل اور بعد کی داستان آپ کو مسکرانے پر بھی مجبور کر دیتی ہے ۔ ایک جگہ ایک طالب علم محمد اسماعیل انگریزی نہ جاننے اور محفل میں اس سے انگریزی میں سوال کئے جانے پر کیسے اپنے راز کو افشاء نہیں ہونے دیتا، اس بارے میں وہ بتاتا ہے : "باہر چند کر سیاں پڑی ہوئی تھیں ، جن پر لوگ سلیقے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ دیکھنے ہی سے معلوم ہوتا تھا کہ سارے لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ چونکہ میری بچپن سے عادت رہی ہے کہ جہاں پڑھائی لکھائی کی بات ہوتی وہاں میں ضرور بیٹھتا تھا ۔ لہذا میں نے بھی اپنی کرسی کو جنبش دی اور ان کے قریب ہو لیا ۔ وہ لوگ آپس میں کسی موضوع پر بات کر رہے تھے اور درمیان میں انگریزی کے الفاظ بھی استعمال کر رہے تھے ، اس وجہ سے مجھے پوری بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔ خیر میں اس وجہ سے ہاں میں ہاں ملاتا جا رہا تھا کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ میں انگریزی نہیں جانتا ۔آخر ایک صاحب نے Where are you from?  کہ کر میری پول کھولنے کی کوشش کر ہی ڈالی ، لیکن میں بھی  کہاں پیچھے ہٹنے والا تھا، آخر مولوی طبقے سے تعلق رکھتا تھا !چچی کے بلانے کا بہانہ کیا اور وہاں سے کھسک لیا ۔ اس دن  تو میری عزت کسی طرح بچی لیکن جو صدمہ میرے دل پر لگا وہ بہت گہرا تھا اور میں نے اسی دن سے پکاارادہ بنا لیا کہ میں عصری تعلیم ضرور حاصل کروں گا" ۔
اس طرح کے سینکڑوں  ، دلچسپ ، علمی ، معلوماتی اور جذباتی   خوبصورت شہ پارے پوری کتاب میں بکھرے ہوئے ہیں ، جس سے نئی نسل کی فکر ، سوچ اوراس کے  رویے کا اندازہ ہوتا ہے ۔مدارس اور جدید دانش گاہوں کے درمیان دوری اور کھائی پر کرب کا اظہار کرتے ہوئے ایک طالب علم محمد تمیم سوال کھڑے کرتے ہیں اور علی گڑھ کے اپنے اساتذہ کے بارے میں بتاتے ہیں: "یہ بہترین اور اعلیٰ قسم کے دماغ جو موجودہ دور کے تمام جدید علمی ہتھیاروں سے لیس اور اسلامی جذبات سے سر شار ، اپنی صلاحیت ، اسلام اور مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے قربان کرنے کو تیار کھڑے ہیں ، مگر یہ سب کے سب ہمارے تقدس اور دینی و دنیوی علوم کی تفریق کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک الگ دنیا کا باشندہ سمجھتے ہیں اور اپنے انداز ، لب و لہجے ، تہذیب و تمدن اور لائف اسٹائل ہر چیز میں اگر ہم سے الگ کھڑے نظر آتے ہیں تو آخر اس کا ذمہ دار کون ہے ؟   یہ حضرات ہمیں اس قدر تقدس کا حامل سمجھتے ہیں ، پر کیا ہم نے انھیں کبھی گلے لگانے اور مدرسے میں آنے کی دعوت دی ؟  اب معاملہ روز بروز بد تر ہوتا جا رہا ہے ۔  ہم لاکھ اسلام کی غلبے کی دعا کرتے ہیں ، مگر اپنے عمل سے بالکل اس کا الٹا کرتے ہیں ، کہیں بھی دور دور تک کوئی ایسی تحریک نظر نہیں آتی جس سے اسلامی نظام کے برپا ہونے کی امید کی جا سکے اور طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ اوپر سے اہل مدارس اسلام کے تحفظ کے نام پر اسلام کے گرد گھیرا اور تنگ کر رہے ہیں"۔
ایک طالبہ فاطمہ اسعد جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچی اور داخلہ وغیرہ کی کارروائی کے بعدہاسٹل چھوڑ کر  اس کے والد جانے لگے تو اس نے کیسا محسوس کیا ،اس کا منظروہ  کچھ اس طرح جذباتی انداز میں بیان کرتی ہے : "یہ کیا ؟ والد کی آنکھوں میں آنسو؟ یہ میرے لئے نہات حیران کن بات تھی ۔  آج تک اتنی بڑی ہو گئی مگر کبھی والد کو اتنا کمزور نہیں پایا تھا ۔ نہ جانے کیوں آنسو خود بخود آ گئے تھے  اور اس بات کی دلیل دے رہے تھے اور مجھے احساس کرا رہے تھے کہ یہ آنسو ایک بیٹی کے لئے ہے جو ان کے لئے ایک بیٹا ہے اور ان کا فخر، ان کا غرور ۔۔۔جب میری طرف سے انھوں نے اپنی آنکھیں پھیر دیں تو پھر پلٹ کر نہیں دیکھا، کہیں میرے آنسو ان کے پیروں کی بیڑیاں نہ بن جائے ۔ وہ آخری وقت جب والد نے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا جاو اندر!بس اتنا ہی کہا ،نصیحت بھی نہیں کی ۔ یہ کیا کہوں میں ؟ شاید ان کی آواز بھرا سی گئی یا ان کو مجھ پر خود سے سکھانے یا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوئی ۔۔۔"۔
غازیپور کے ایک گاوں سے تعلق رکھنے والی فرحانہ ناز کی کہانی کافی دلپذیر ہے ۔  وہ کہتی ہے : "بچپن کے اس لمحے کو یاد کرکے آنکھو ں میں آنسو بھر لاتی ہو ں  جب میں ڈاکٹر کی ڈریس پہن کر کھیلتی تھی ۔ میرے آس پڑوس کے لوگ مذاق مذاق میں کہتے کہ یہ بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے گی۔ لیکن میں جانتی تھی  کہ یہ نا ممکن ہے ۔ اپنے ماحول کو دیکھتی پھر کالج کی پڑھائی ۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا ۔ اللہ پاک کا ہم پر کرم تھا کہ ہم فضیلت ایک ہاسٹل میں رہ کر کر رہے تھے ۔ اور میں نے وہاں پر بی یو ایم ایس کی کتابیں خرید کر چوری چوری  پڑھنا شروع کر دی تھیں ۔ جب ہاسٹل میں کسی لڑکی کو سر درد ہوتا یا بخار ہوتا تو ہم اسے دوائی دے دیتے تھے ۔ جب مدرسہ کی چھٹی ہوتی تو میں مطالعہ کے درمیان، جب دوسری لڑکیاں کھیل رہی ہوتیں یا بات کر رہی ہوتیں، تو میں یہ سب سیکھتی اور میں نے ڈھیر ساری کتابیں اپنی جیب خرچ سے خریدی تھیں ۔ میرے استاد نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے دعا دی اور کہا : تم ضرور کامیاب ہوگی  انشاء اللہ۔ اور میں نے پاپا کو اگلے دن سب بتا دیا ۔ میرے پاپا مجھے پڑھانا تو چاہتے تھے لیکن پیسے کی کمی تھی کہ اتنا خرچہ ہوتا تھا گھر کا اور میرے بھائی لوگوں کی پڑھائی پر اور میرے چچا زاد بھائی بہن بھی پڑھ رہے تھے ،اس لئے اتنا پیسہ نہ تھا کہ ہم کالج میں پڑھائی کر سکیں ۔اس کے بعد گاوں میں آہستہ آہستہ پڑھانے اور پڑھنے کا رواج عام ہو گیا ۔ جو لوگ اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے تھے وہ اب انھیں پڑھانے لگے ۔ اور میں نے اپنے ایک استاد کی مدد سےایک اسکیم چلائی ۔ گھر گھر میں دوائی سپلائی کرائی ۔اور ہر گھر میں مجبوری کے تحت جن دواوں کی ضرورت ہوتی ان کو رکھوایا ۔ میرا محلہ مجھے ڈاکٹر بٹیا کہنے لگا ۔ اس کے بعد میرے انھیں استاد نے اخبارات میں میرے لئے کھوج شروع کر دی ۔ لیکن میری مارک شیٹ کوئی کالج نہیں مانتا تھا ۔ پھر بھی ہم نے ہمت نہ ہاری اور برابر اپنی کوشش جاری رکھی ۔ اب میرے ساتھ پورا گاوں تھا"۔
ایک اور طالبہ رقیہ فاطمہ، جس کا تعلق اتر پردیش کے ایک قصبہ لونی  سے ہے ،اپنی داستان سناتے  ہوئے کافی پر عزم ہے ۔ وہ کہتی  ہے: "انسانیت جس کرب سے کراہ رہی ہے اسے نجات دلانے کی فکر عمر کے ساتھ ساتھ وسیع ہوتی جا رہی ہے ۔ اسلام نے جو حقوق دئیے تھے مسلم خواتین کے اعتبار سے اس کو معاشرہ نے چھین لیا ۔ مسلم خواتین کو پبلک اسپیس سے بے دخل کر دیا اور گھر کو محدود دائرہ کار بتا کر گھروں میں بند کر دیا ۔ حالانکہ عورتوں کا دائرہ کار اگر صرف گھر ہوتا تو ہماری تاریخ میں عورتوں کے جو نام ملتے ہیں وہ نہ ملتے ۔ اب برج کورس اس پر کام کر رہا ہے کہ مسلم خوتین کی بھی ایک نئی نسل سامنے آئے جو اسی رول کو زندہ کرے جو کہ صد ر اول کی مسلم خواتین نے کیا ۔ لہذا سماجی و فلاحی کاموں کا حصہ بن کر سماج کی انسانیت کی اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہوں  "۔
میں نے یہاں مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر محض چند اقتباسات پر ہی اکتفا کیا ہے، ورنہ  پوری کتاب میں ایسے بے شمار واقعات ، حالات اور رویوں کا ذکر ہے جس سے جوجھتے لڑتےیہ طلباء اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے علی گڑھ پہنچے جہاں انھیں اپنی منزل کی مراد ملتی نظر آئی ۔ طلباء کے اس لازوال خوابوں کی تکمیل کا ذریعہ بنا برج کورس جو معروف مفکر ، عالم دین ، محقق اور متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر راشد شاز کی تمناوں کا مرکز ہے ، جسے انھوں نے  سوچا اوراپنے خون جگر سے سینچا ہے ۔
 کتاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ہی پروفیسر ڈاکٹر کوثر فاطمہ کی نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچی  ہے ۔ معروف عالم دین اور جدید مسلم مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی نے پیش لفظ لکھا ہے  جس میں انھوں نے کتاب کے منصہ شہود پر لانے کی وجوہات بیان کی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : "برج کورس اب طلباء کے مضامین کے اس مجموعہ کو شائع کر رہا ہے تاکہ ملت اسلامیہ ہند کے سامنے خود ان طلباء کی زبانی برج کورس کی افادیت ، اس کی یافت اور اس کے امکانات کی ایک جھلک حقیقی پس منظر کے ساتھ آ جائے اور برج کورس کے بارے میں جو معاندانہ پرو پیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے باعث کچھ حلقے اس کے بارے میں تشویش بے جا کا شکار ہو گئے ہیں اور مدارس اور علماء کے حلقوں میں جو بے جا تحفظات پائے جاتے ہیں ان کا ازالہ ہو سکے اور ان کی غلط فہمیاں اور خدشات دور ہو جائیں"۔کتاب کی اشاعت کا اہتمام   علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  کےمرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ِ ہند  نے کیا ہے۔کتاب عمدہ موٹے کاغذپر مجلد شائع کی گئی ہے ۔
9911701772
alamislahi@gmail.com

Thursday, May 4, 2017

Gujarat pogram 2002 HC upholds life sentence to 12 in Bilkis Bano gang rape case

Gujarat Under Modi - 2002 pogram


Mumbai, May 4 (PTI) The Bombay High Court today upheld the conviction and life imprisonment of 12 people in the Bilkis Bano gang rape case while setting aside the acquittal of seven persons including policemen and doctors.
The court also dismissed an appeal filed by the CBI seeking death penalty for three of the convicts.
Bilkis, who was gang raped in March 2002 at a time when she was pregnant, said her rights as a woman, and mother were violated in the most brutal manner and the verdict "vindicated truth", and "upheld" her faith in the judiciary.
Seven of her family members were also killed in the aftermath of the Godhra riots
A division bench of Justices V K Tahilramani and Mridula Bhatkar said, "The appeal against conviction filed by the 11 convicts (one of them is dead) is dismissed. The conviction and sentence is upheld."
"The appeal filed by the prosecution against the acquittal of seven persons (in the case) is allowed. The acquittal is set aside," the court said.
The seven persons, who include five policemen and two doctors, are convicted for not performing their duties (sections 218) and tampering of evidence (section 201) of the Indian Penal Code (IPC), the bench said.
"We will consider the period undergone in jail of these seven persons as their sentence. But we will impose a fine amount on them," the court said.
Each of the seven persons, who was convicted, has been directed to pay a fine of Rs 20,000 within eight weeks.
The convicted policemen and doctors are Narpat Singh, Idris Abdul Saiyed, Bikabhai Patel, Ramsingh Bhabhor, Sombhai Gori, Arun Kumar Prasad (doctor) and Sangeeta Kumar Prasad (doctor). Now 18 people stand convicted in the case. In a statement to the media, Bilkis said, "My rights, as a human being, as a citizen, woman, and mother were violated in the most brutal manner, but I had trust in the democratic institutions of our country. Now, my family and I feel we can begin to lead our lives again, free of fear.
"I am happy that the State and its officials who emboldened, encouraged, and protected the criminals who destroyed the life of an entire community, are no longer unblemished, but today stand charged with tampering of evidence. For officers of the state, whose sworn duty is to protect citizens and enable justice, this should be their great moral shame, to bear forever," she added.
The court had last year reserved its judgement in the appeals filed by 11 persons convicted in the case and also the appeal filed by CBI for capital punishment to three of them.
A special court had on January 21, 2008, convicted and sentenced to life imprisonment eleven men in the case.
They later approached the High Court here challenging their conviction and sought for the trial courts order to be quashed and set aside.
The CBI had also filed an appeal in the High Court seeking harsher punishment of death for three of the convicted on the grounds that they were the main perpetrators of the crime.
According to the prosecution, on March 3, 2002, Bilkis Banos family was attacked by a mob at Randhikpur village near Ahmedabad during the post-Godhra riots and seven members of her family were killed.
Bilkis, who was five months pregnant at the time, was gang-raped while six other members of her family managed to escape from the mob.
The trial in the case began in Ahmedabad. However, after Bilkis expressed apprehensions that witnesses could be harmed and CBI evidence tampered, the Supreme Court transferred the case to Mumbai in August 2004. The 11 convicted are Jaswantbhai Nai, Govindbhai Nai, Shailesh Bhatt, Radhesham Shah, Bipin Chandra Joshi, Kesarbhai Vohania, Pradeep Mordhiya, Bakabhai Vohania, Rajubhai Soni, Mitesh Bhatt and Ramesh Chandana.
The convicts had challenged the order on three main grounds -- that all evidences in the case were fabricated by CBI, that Bilkis gave birth to a child after the incident proving that she could not have been gang raped, and the failure to discover the bodies of some of her family members proved that they were not killed.
The CBI had sought enhancement of punishment for three of them- Jaswantbhai, Govindbhai and Radhesham Shah? on the grounds that they had raped Bilkis. PTI SP DK NM DV
This is unedited, unformatted feed from the Press Trust of India wir